"مرجع تقلید" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
(قدرت اور تاثیر)
(مرجعیت)
سطر 9: سطر 9:
  
 
== مرجعیت ==
 
== مرجعیت ==
مرجعیت، شیعہ معاشرے میں سب سے اہم اجتماعی اور مذہبی مقام ہے۔ مرجع تقلید وہ مجتہد ہے جس کی شیعوں میں سے ایک تعداد تقلید کرتی ہے یعنی اپنے دینی اعمال ان کے فقہی نظریات اور فتوے کے مطابق انجام دیتے ہیں اور مالی شرعی واجبات کو ان کو یا انکے نمایندوں کے حوالے کرتے ہیں۔ اس طرح سے کسی عالم کی پیروی کرنے کو تقلید کہا جاتا ہے۔<ref>مراجعہ کریں: طباطبایی یزدی، العروة الوثقی، ۱۴۰۹ق، ج۱، ص۴؛ رحمان ستایش، «تقلید»، ص۷۸۹.</ref>
+
مرجعیت، [[شیعہ]] معاشرے میں سب سے اہم اجتماعی اور مذہبی مقام ہے۔ مرجع تقلید وہ مجتہد ہے جس کی شیعوں میں سے ایک تعداد [[تقلید]] کرتی ہے یعنی اپنے دینی اعمال ان کے فقہی نظریات اور فتوے کے مطابق انجام دیتے ہیں اور مالی شرعی واجبات کو ان کو یا انکے نمایندوں کے حوالے کرتے ہیں۔ اس طرح سے کسی عالم کی پیروی کرنے کو تقلید کہا جاتا ہے۔<ref>مراجعہ کریں: طباطبایی یزدی، العروة الوثقی، ۱۴۰۹ق، ج۱، ص۴؛ رحمان ستایش، «تقلید»، ص۷۸۹.</ref>
  
 
کسی بھی مرجع تقلید کی اجتماعی تاثیر اور نفوذ ان کے مقلدوں اور تقلید کرنے والوں کی تعداد سے ہے اور مالی وجوہات شرعی کا ان کے اختیار میں رکھنا بھی ان کی مالی امکانات میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔ مراجع تقلید ان مبالغ کو دین کی ترویج اور دینی مدارس (حوزہ علمیہ) کی پیشرفت، نادار لوگوں کی مدد اور عام المنفعت امور میں خرچ کرتے ہیں۔
 
کسی بھی مرجع تقلید کی اجتماعی تاثیر اور نفوذ ان کے مقلدوں اور تقلید کرنے والوں کی تعداد سے ہے اور مالی وجوہات شرعی کا ان کے اختیار میں رکھنا بھی ان کی مالی امکانات میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔ مراجع تقلید ان مبالغ کو دین کی ترویج اور دینی مدارس (حوزہ علمیہ) کی پیشرفت، نادار لوگوں کی مدد اور عام المنفعت امور میں خرچ کرتے ہیں۔
 
===شرایط===
 
===شرایط===
وہ [[مجتهد]] مرجع تقلید بن سکتا ہے جس میں تقلید کی شرائط پائی جاتی ہوں؛ یعنی دوسروں کو ان کے فقہی نظریات پر عمل کرنا جائز ہو۔ اس مقام تک پہنچنے کے لیے بھی کچھ شرائط ہیں کہ جن میں سے اہم ترین شرط باقی جامع الشرائط مجتہدوں سے ان کا اعلم ہونا، عادل ہونا، مرد ہونا اور بالغ اور عاقل ہونا ہیں۔<ref>طباطبایی یزدی، عروة الوثقی، ۱۴۰۹ق، ج۱، ص۲۶-۲۷، مسئله ۲۲.</ref>
+
وہ [[مجتہد]] مرجع تقلید بن سکتا ہے جس میں تقلید کی شرائط پائی جاتی ہوں؛ یعنی دوسروں کو ان کے فقہی نظریات پر عمل کرنا جائز ہو۔ اس مقام تک پہنچنے کے لیے بھی کچھ شرائط ہیں کہ جن میں سے اہم ترین شرط باقی جامع الشرائط مجتہدوں سے ان کا اعلم ہونا، عادل ہونا، مرد ہونا اور بالغ اور عاقل ہونا ہیں۔<ref>طباطبایی یزدی، عروة الوثقی، ۱۴۰۹ق، ج۱، ص۲۶-۲۷، مسئله ۲۲.</ref>
  
 
===انتخاب کا طریقہ===
 
===انتخاب کا طریقہ===

نسخہ بمطابق 11:41، 3 مارچ 2018ء

مرجع تقلید، اس مجتہد کو کہا جاتا ہے جس کے فتوے کے مطابق فقہی مسائل میں شیعوں کا ایک گروہ عمل کرتا ہے اور مالی شرعی واجبات اس کے حوالے کرتا ہے۔ شیعہ اثنا عشری میں مرجعیت سب سے اعلی مقام ہے اور یہ مقام انتصابی اور کسی کی طرف سے منصوب کرنا نہیں بلکہ شیعہ اپنے ان علما سے جو اس امر کی شناخت کی صلاحیت رکھتے ہیں ان سے سوال جواب اور تحقیق کے بعد کسی کو اس مقام کا اہل قرار دیتے ہیں۔ اس مقام کی سب سے اہم شرط دوسرے مجتہدوں سے اعلم ہونا ہے۔ اور جو لوگ ان کی پیروی کرتے ہیں انہیں مقلد کہا جاتا ہے۔ مراجع تقلید کے فقہی نظریات اکثر اوقات توضیح المسائل نامی کتاب میں منتشر ہوتے ہیں۔

شیعہ آبادی کی کثرت اور جغرافیایی وسعت کے پیش نظر ہر دور میں کئی مجتہد اس منصب پر فائز ہوتے ہیں۔اور بہت کم موارد میں ایسا بھی ہوتا ہے کہ شیعوں میں سے صرف ایک شخص مرجع تقلید کے طور پر موجود ہو۔ ان افراد کو بعض محترم عناوین جیسے؛ آیت اللہ العظمی اور آیت اللہ کے لقب سے پکارتے ہیں۔ شیعہ اکثر مراجع تقلید، عراق میں (نجف، کربلا،‌ سامرا) اور ایران میں (قم،‌ مشہد،‌ اصفہان اور تہران) میں ہوتے ہیں۔

متاخرین میں نامور ترین مراجع تقلید، محمد حسن نجفی؛ صاحب جواہر، شیخ مرتضی انصاری، سید محمد حسن شیرازی (تحریم تنباکو کا فتوای دینے والی شخصیت)، آخوند خراسانی، سید حسین طباطبائی بروجردی،‌ سید محسن حکیم و سید روح‌الله موسوی خمینی (انقلاب اسلامی ایران کے بانی) شمار ہوتے ہیں۔

شیعہ مراجع تقلید کا شیعہ عوام میں بڑا اثر رسوخ ہے اور بعض اوقات ان کے نظریات نے اپنے مقلدوں میں اجتماعی، سیاسی، اور معاشرتی تحریکیں ایجاد کی ہیں۔ روس کے خلاف جنگ، تنباکو کی تحریم، تحریک مشروطہ ایران، عراق میں انقلاب عشرین اور ایران کا اسلامی انقلاب شیعہ مراجع تقلید کی اہم تاثیرات میں سے ہیں۔

مرجعیت

مرجعیت، شیعہ معاشرے میں سب سے اہم اجتماعی اور مذہبی مقام ہے۔ مرجع تقلید وہ مجتہد ہے جس کی شیعوں میں سے ایک تعداد تقلید کرتی ہے یعنی اپنے دینی اعمال ان کے فقہی نظریات اور فتوے کے مطابق انجام دیتے ہیں اور مالی شرعی واجبات کو ان کو یا انکے نمایندوں کے حوالے کرتے ہیں۔ اس طرح سے کسی عالم کی پیروی کرنے کو تقلید کہا جاتا ہے۔[1]

کسی بھی مرجع تقلید کی اجتماعی تاثیر اور نفوذ ان کے مقلدوں اور تقلید کرنے والوں کی تعداد سے ہے اور مالی وجوہات شرعی کا ان کے اختیار میں رکھنا بھی ان کی مالی امکانات میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔ مراجع تقلید ان مبالغ کو دین کی ترویج اور دینی مدارس (حوزہ علمیہ) کی پیشرفت، نادار لوگوں کی مدد اور عام المنفعت امور میں خرچ کرتے ہیں۔

شرایط

وہ مجتہد مرجع تقلید بن سکتا ہے جس میں تقلید کی شرائط پائی جاتی ہوں؛ یعنی دوسروں کو ان کے فقہی نظریات پر عمل کرنا جائز ہو۔ اس مقام تک پہنچنے کے لیے بھی کچھ شرائط ہیں کہ جن میں سے اہم ترین شرط باقی جامع الشرائط مجتہدوں سے ان کا اعلم ہونا، عادل ہونا، مرد ہونا اور بالغ اور عاقل ہونا ہیں۔[2]

انتخاب کا طریقہ

مرجعیت انتصابی مقام نہیں ہے۔ وہ شخص مرجع تقلید بنتا ہے لوگ جس کی تقلید کریں اور اسے مرجع تقلید سمجھیں۔توضیح المسائل کی کتابوں میں مرجع تقلید کی پہچان کے بعض راستے معرفی ہوئے ہیں جو مندرجہ ذیل ہیں: خود مقلد کو اعلم ہونے کا علم ہو یا دو عادل ان کی اعلمیت پر گواہی دیں، یا اعلم ہونے میں مشہور ہو۔[3] یا عالموں کا ایک گروہ کسی کو مرجع تقلید کے عنوان سے معرفی کریں اور ان کی باتوں سے انسان کو اس شخص کا اعلم ہونے کے بارے میں علم حاصل ہوجائے۔[4]

ذمہ داریاں

مرجع تقلید کی سب سے اہم ذمہ داری دینی اور مذہبی امور میں مقلدوں کے لیے فتوا دینا ہے۔ لیکن مرجع تقلید کی منزلت صرف فتوای تک منحصر نہیں اور محدود نہیں ہے بلکہ مراجع تقلید حوزہ علمیہ کے مشہور اور معروف اساتذہ میں سے شمار ہوتے ہیں اور حوزہ علیمہ بھی انہی کے نظریات کے تحت چلتے ہیں۔

مالی ذرائع

مرجعیت مالی اعتبار سے شرعی مالی واجبات اور لوگوں کے تعاون اور نذورات پر مبتنی ہے۔

قدرت اور تاثیر

شیعہ مراجع تقلید اپنے مقلدوں اور شیعوں کے درمیاں بہت موثر ہیں اور اسی طریقے سے اپنے اجتماعی اور سیاسی نظریات کو عملیاتی کرتے ہیں۔[5]مثلا: سید محمد مجاهد کے فتوے کے مطابق شیعوں کا ایک بڑا گروہ روس کے خلاف جنگ کرنے چلا۔[6]میرزای شیرازی کا تحریم تنباکو والے فتوے سے ایران میں تنباکو حرام ہوا۔[7]اور قیام ۱۵ خرداد۱۳۴۲شمسی ہجری بمطابق (5 جون 1963) کو ایران میں آیت الله خمینی کی گرفتاری پر واقع ہوا۔[8]

اہل سنت کے عالم دین محمد رشیدرضا کے کہنے کے مطابق اہل سنت کے علما اکیلے میں یا گروہ کی شکل میں، شیعہ مجتہدوں خاص کر نجفی علما کے برابر نفوذ نہیں رکھتے ہیں۔انہوں نے اسی حوالے سے میرزا شیرازی کے ذریعے سے ملک فیصل کے دور میں عراق میں انتخابات سے بایکاٹ، تحریم تنباکو، کی مثال دیتے ہیں۔[9] ساموئل بنیا مین جو امریکہ کی طرف سے ایران ایلچی کے طور پر بھیجا گیا وہ ایک جگہ کہتا ہے کہ تہران کے مجتہدین اگر چہ رفت و آمد کے لیے خچر سواری کرتے ہیں اور ایک خادم سے زیادہ کوئی نہیں ہوتا ہے لیکن ایک کلمے کے ذریعے بادشاہ کو سلطنت سے عزل کرسکتے ہیں۔[10]

ادوار مرجعیت

فراز و فرود مرجعیت شیعه و جابجایی آن در مناطق مختلف تابع عوامل گوناگونی چون دخالت حکومت‌ها، علائق قومی، حوادث سیاسی، امکان ارتباطات و نیز قوت و ضعف حوزه‌های علمیه بوده است. در یک نگاه می‌توان تاریخ مرجعیت شیعه را در نه دوره دسته‌بندی کرد.

پیش از قرن ۱۳ ق

  1. مراجعہ کریں: طباطبایی یزدی، العروة الوثقی، ۱۴۰۹ق، ج۱، ص۴؛ رحمان ستایش، «تقلید»، ص۷۸۹.
  2. طباطبایی یزدی، عروة الوثقی، ۱۴۰۹ق، ج۱، ص۲۶-۲۷، مسئله ۲۲.
  3. طباطبایی یزدی، عروة الوثقی، ۱۴۰۹ق، ج۱، ص۲۴-۲۵
  4. خمینی، توضیح المسائل، ص۱۲، مسئله۳
  5. مراجعہ کریں: نقیب‌زاده و امانی، نقش روحانیت شیعه در پیروزی انقلاب اسلامی، ۱۳۸۲ش، ص۸۱-۸۲
  6. نقیب‌زاده و امانی، نقش روحانیت شیعه در پیروزی انقلاب اسلامی، ۱۳۸۲ش، ص۹۹-۱۰۰
  7. نقیب‌زاده و امانی، نقش روحانیت شیعه در پیروزی انقلاب اسلامی، ۱۳۸۲ش، ص۱۰۲
  8. نقیب‌زاده و امانی، نقش روحانیت شیعه در پیروزی انقلاب اسلامی، ۱۳۸۲ش، ص۱۰۳
  9. رشید رضا،الخلافة او الامامة العظمی، ۱۹۹۶م، ص۹۰
  10. آبراهامیان، تاریخ ایران مدرن، ۱۳۹۲ش، ص۴۱