"محمد بن عمر کشی" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
م
سطر 32: سطر 32:
 
}}
 
}}
  
'''ابو عمرو محمد بن عمر بن عبد العزیز کشی'''، کشی کے لقب سے معروف علمائ شیعہ میں سے ہیں۔ نقل حدیث کے سلسلہ کی معتبر شخصیت اور ماہر علم رجال ہیں۔
+
'''ابو عمرو محمد بن عمر بن عبد العزیز کشی'''، کشی کے لقب سے معروف علمائے شیعہ میں سے ہیں۔ نقل حدیث کے سلسلہ کی معتبر شخصیت اور ماہر علم رجال ہیں۔
  
 
==سوانح عمری==
 
==سوانح عمری==
  
ابو عمر محمد بن عمر بن عبد العزیز کا لقب کشی ہے۔ ان کا تعلق کش (ما ورائ النہر کا ایک شہر جو نخشب سے نزدیک اور سبز کے نام سے مشہور ہے) سے ہے۔<ref>«کش»، لغت‌ نامه دهخدا</ref>  یہ علاقہ اس وقت ریاست ازبکستان کے جنوب میں واقع ہے۔
+
ابو عمر محمد بن عمر بن عبد العزیز کا لقب کشی ہے۔ ان کا تعلق کش (ما وراء النہر کا ایک شہر جو نخشب سے نزدیک اور سبز کے نام سے مشہور ہے) سے ہے۔<ref>«کش»، لغت‌ نامه دهخدا</ref>  یہ علاقہ اس وقت ریاست ازبکستان کے جنوب میں واقع ہے۔
  
چوتھی صدی ہجری کے نیمہ اول میں کشی [[شیخ کلینی]] کے معاصر ہیں اور ان کے اور [[شیخ کلینی]] کے بہت سے اساتذہ اور تلامذہ مشترک ہیں۔<ref>اختیار معرفه الرجال، مقدمه، ص۴</ref> ان کی وفات ۳۴۰ ہجری قمری کے قریب ذکر کی گئی ہے۔<ref>حسینی دشتی، معارف و معاریف، ج۸، ص۵۱۶؛ نقل از تنقیح المقال و اعلام زرکلی.</ref>
+
چوتھی صدی ہجری کے نیمہ اول میں کشی [[شیخ کلینی]] کے معاصر ہیں اور ان کے اور [[شیخ کلینی]] کے بہت سے اساتذہ اور تلامذہ مشترک ہیں۔<ref>اختیار معرفت الرجال، مقدمہ، ص۴</ref> ان کی وفات ۳۴۰ ہجری قمری کے قریب ذکر کی گئی ہے۔<ref>حسینی دشتی، معارف و معاریف، ج۸، ص۵۱۶؛ نقل از تنقیح المقال و اعلام زرکلی.</ref>
  
 
==نقل حدیث میں مقام==
 
==نقل حدیث میں مقام==
  
شیعوں کی رجالی کتب اور منابع میں کشی کو ایک ثقہ و معتبر راوی، روایات اور علم رجال سے آگاہ اور صاحب علم کثیر ذکر کیا گیا ہے۔ البتہ ان سب کے باوجود اس بات پر بھی تاکید کی گئی ہے کہ انہوں نے ضعیف راویوں سے بھی روایات نقل کی ہیں۔<ref>الفهرست، طوسی، ص۱۴۱؛ رجال شیخ طوسی، ص۴۹۷خلاصه الاقوال، حلی، ص۱۴۶؛ رجال نجاشی، ص۳۷۲، نقل از منتهی المقال، ابوعلی حائری، ج۶، ص۱۴۴</ref>
+
شیعوں کی رجالی کتب اور منابع میں کشی کو ایک ثقہ و معتبر راوی، روایات اور علم رجال سے آگاہ اور صاحب علم کثیر ذکر کیا گیا ہے۔ البتہ ان سب کے باوجود اس بات پر بھی تاکید کی گئی ہے کہ انہوں نے ضعیف راویوں سے بھی روایات نقل کی ہیں۔<ref>الفہرست، طوسی، ص۱۴۱؛ رجال شیخ طوسی، ص۴۹۷خلاصہ الاقوال، حلی، ص۱۴۶؛ رجال نجاشی، ص۳۷۲، نقل از منتهی المقال، ابوعلی حائری، ج۶، ص۱۴۴</ref>
  
 
==مذہب==
 
==مذہب==
  
علمائے رجال نے کشی کے مسلک کے بارے حسن الاعتقاد و مستقیم المذہب جیسی تعبیرات استعمال کی ہیں کہ جو ان کے شیعہ ہونے کو بیان کرتی ہیں۔<ref>الفهرست، طوسی، ص۱۴۱؛ رجال شیخ طوسی، ص۴۹۷ خلاصه الاقوال، حلی، ص۱۴۶ نقل از منتهی المقال، ابوعلی حائری، ج۶، ص۱۴۴</ref> [[نجاشی]] کہتے ہیں: کشی نے [[عیاشی]] کے گھر میں علم حاصل کیا ہے جو شیعوں کی رفت و آمد کا مقام تھا۔ <ref>رجال نجاشی، ص۳۷۲، نقل از منتہی المقال، ابوعلی حائری، ج۶، ص۱۴۴</ref>
+
علمائے رجال نے کشی کے مسلک کے بارے حسن الاعتقاد و مستقیم المذہب جیسی تعبیرات استعمال کی ہیں کہ جو ان کے شیعہ ہونے کو بیان کرتی ہیں۔<ref>الفہرست، طوسی، ص۱۴۱؛ رجال شیخ طوسی، ص۴۹۷ خلاصہ الاقوال، حلی، ص۱۴۶ نقل از منتہی المقال، ابوعلی حائری، ج۶، ص۱۴۴</ref> [[نجاشی]] کہتے ہیں: کشی نے [[عیاشی]] کے گھر میں علم حاصل کیا ہے جو شیعوں کی رفت و آمد کا مقام تھا۔ <ref>رجال نجاشی، ص۳۷۲، نقل از منتہی المقال، ابو علی حائری، ج۶، ص۱۴۴</ref>
  
 
==مشایخ و اساتذہ==
 
==مشایخ و اساتذہ==
  
کشی کے استاد کے طور پر فقط [[عیاشی]] کا نام ذکر کیا گیا ہے<ref>رجال نجاشی، ص۳۷۲؛ رجال شیخ طوسی، ص۴۹۷خلاصه الاقوال، حلی، ص۱۴۶ نقل از منتهی المقال، ابوعلی حائری، ج۶، ص۱۴۴</ref> اور ان کے دوسرے اساتذۃ کے نام کا کوئی ذکر نہیں ہوا ہے۔ البتہ ان کے بعض  مشایخ، جن سے انہوں نے روایات نقل کی ہیں، کا شمار ان کے استادوں میں کیا جا سکتا ہے۔ ان میں بعض وہ جن کے اسما خود رجال کشی میں ذکر ہوئے ہیں، ذیل الذکر ہیں:
+
کشی کے استاد کے طور پر فقط [[عیاشی]] کا نام ذکر کیا گیا ہے<ref>رجال نجاشی، ص۳۷۲؛ رجال شیخ طوسی، ص۴۹۷خلاصہ الاقوال، حلی، ص۱۴۶ نقل از منتہی المقال، ابو علی حائری، ج۶، ص۱۴۴</ref> اور ان کے دوسرے اساتذۃ کے نام کا کوئی ذکر نہیں ہوا ہے۔ البتہ ان کے بعض  مشایخ، جن سے انہوں نے روایات نقل کی ہیں، کا شمار ان کے استادوں میں کیا جا سکتا ہے۔ ان میں بعض وہ جن کے اسما خود رجال کشی میں ذکر ہوئے ہیں، ذیل الذکر ہیں:
 
{{ستون آ|2}}
 
{{ستون آ|2}}
 
*آدم بن محمد قلانسی بلخی
 
*آدم بن محمد قلانسی بلخی
سطر 64: سطر 64:
 
==تالیف==
 
==تالیف==
  
کشی [[اختیار معرفۃ الرجال|معرفۃ الناقلین عن الائمۃ الصادقین]] نامی کتاب کے مولف ہیں۔ جس میں رجال شیعہ و غیر شیعہ کو جمع کیا گیا ہے اور [[شیخ طوسی]] نے اس کا خلاصہ [[اختیار معرفۃ الرجال]] کے نام سے کیا ہے۔ اس وقت صرف وہی خلاصہ موجود ہے اور اصل کتاب دسترسی میں نہیں ہے۔<ref>الامین، اعیان الشیعة، ج۱۰، ص ۲۷-۲۸.</ref>
+
کشی [[اختیار معرفۃ الرجال|معرفۃ الناقلین عن الائمۃ الصادقین]] نامی کتاب کے مولف ہیں۔ جس میں رجال [[شیعہ]] و غیر شیعہ کو جمع کیا گیا ہے اور [[شیخ طوسی]] نے اس کا خلاصہ [[اختیار معرفۃ الرجال]] کے نام سے کیا ہے۔ اس وقت صرف وہی خلاصہ موجود ہے اور اصل کتاب دسترسی میں نہیں ہے۔<ref>الامین، اعیان الشیعo، ج۱۰، ص ۲۷-۲۸.</ref>
  
 
==حوالہ جات==
 
==حوالہ جات==
سطر 74: سطر 74:
 
*ابو علی حائری، منتهی المقال، اول، موسسه آل البیت، قم، ۱۴۱۶ق.
 
*ابو علی حائری، منتهی المقال، اول، موسسه آل البیت، قم، ۱۴۱۶ق.
 
*طوسی، اختیار معرفه الرجال، مقدمه حسن مصطفوی، دانشگاه مشهد، ۱۳۴۸ش.
 
*طوسی، اختیار معرفه الرجال، مقدمه حسن مصطفوی، دانشگاه مشهد، ۱۳۴۸ش.
 +
 +
{{علمائے رجال}}
  
 
[[fa:محمد بن عمر کشی]]
 
[[fa:محمد بن عمر کشی]]

نسخہ بمطابق 21:50، 31 جولائی 2018ء

محمد بن عمر کشی
کوائف
مکمل نام محمد بن عمر بن عبد العزیز کشی
لقب/کنیت کشی، ابو عمرو
تاریخ وفات ۳۴۰ ق کے قریب
علمی معلومات
اساتذہ عیاشی
اجازہ روایت از محمد بن قولویہ قمی
تالیفات معرفۃ الناقلین عن الائمۃ الصادقین
خدمات


ابو عمرو محمد بن عمر بن عبد العزیز کشی، کشی کے لقب سے معروف علمائے شیعہ میں سے ہیں۔ نقل حدیث کے سلسلہ کی معتبر شخصیت اور ماہر علم رجال ہیں۔

سوانح عمری

ابو عمر محمد بن عمر بن عبد العزیز کا لقب کشی ہے۔ ان کا تعلق کش (ما وراء النہر کا ایک شہر جو نخشب سے نزدیک اور سبز کے نام سے مشہور ہے) سے ہے۔[1] یہ علاقہ اس وقت ریاست ازبکستان کے جنوب میں واقع ہے۔

چوتھی صدی ہجری کے نیمہ اول میں کشی شیخ کلینی کے معاصر ہیں اور ان کے اور شیخ کلینی کے بہت سے اساتذہ اور تلامذہ مشترک ہیں۔[2] ان کی وفات ۳۴۰ ہجری قمری کے قریب ذکر کی گئی ہے۔[3]

نقل حدیث میں مقام

شیعوں کی رجالی کتب اور منابع میں کشی کو ایک ثقہ و معتبر راوی، روایات اور علم رجال سے آگاہ اور صاحب علم کثیر ذکر کیا گیا ہے۔ البتہ ان سب کے باوجود اس بات پر بھی تاکید کی گئی ہے کہ انہوں نے ضعیف راویوں سے بھی روایات نقل کی ہیں۔[4]

مذہب

علمائے رجال نے کشی کے مسلک کے بارے حسن الاعتقاد و مستقیم المذہب جیسی تعبیرات استعمال کی ہیں کہ جو ان کے شیعہ ہونے کو بیان کرتی ہیں۔[5] نجاشی کہتے ہیں: کشی نے عیاشی کے گھر میں علم حاصل کیا ہے جو شیعوں کی رفت و آمد کا مقام تھا۔ [6]

مشایخ و اساتذہ

کشی کے استاد کے طور پر فقط عیاشی کا نام ذکر کیا گیا ہے[7] اور ان کے دوسرے اساتذۃ کے نام کا کوئی ذکر نہیں ہوا ہے۔ البتہ ان کے بعض مشایخ، جن سے انہوں نے روایات نقل کی ہیں، کا شمار ان کے استادوں میں کیا جا سکتا ہے۔ ان میں بعض وہ جن کے اسما خود رجال کشی میں ذکر ہوئے ہیں، ذیل الذکر ہیں:

تالیف

کشی معرفۃ الناقلین عن الائمۃ الصادقین نامی کتاب کے مولف ہیں۔ جس میں رجال شیعہ و غیر شیعہ کو جمع کیا گیا ہے اور شیخ طوسی نے اس کا خلاصہ اختیار معرفۃ الرجال کے نام سے کیا ہے۔ اس وقت صرف وہی خلاصہ موجود ہے اور اصل کتاب دسترسی میں نہیں ہے۔[8]

حوالہ جات

  1. «کش»، لغت‌ نامه دهخدا
  2. اختیار معرفت الرجال، مقدمہ، ص۴
  3. حسینی دشتی، معارف و معاریف، ج۸، ص۵۱۶؛ نقل از تنقیح المقال و اعلام زرکلی.
  4. الفہرست، طوسی، ص۱۴۱؛ رجال شیخ طوسی، ص۴۹۷خلاصہ الاقوال، حلی، ص۱۴۶؛ رجال نجاشی، ص۳۷۲، نقل از منتهی المقال، ابوعلی حائری، ج۶، ص۱۴۴
  5. الفہرست، طوسی، ص۱۴۱؛ رجال شیخ طوسی، ص۴۹۷ خلاصہ الاقوال، حلی، ص۱۴۶ نقل از منتہی المقال، ابوعلی حائری، ج۶، ص۱۴۴
  6. رجال نجاشی، ص۳۷۲، نقل از منتہی المقال، ابو علی حائری، ج۶، ص۱۴۴
  7. رجال نجاشی، ص۳۷۲؛ رجال شیخ طوسی، ص۴۹۷خلاصہ الاقوال، حلی، ص۱۴۶ نقل از منتہی المقال، ابو علی حائری، ج۶، ص۱۴۴
  8. الامین، اعیان الشیعo، ج۱۰، ص ۲۷-۲۸.


منابع

  • الامین، السید محسن، اعیان الشیعة، ج۱۰، حققه واخرجه: حسن الامین، بیروت: دارالتعارف للمطبوعات، ۱۴۰۶ق-۱۹۸۶م.
  • حسینی دشتی، سید مصطفی، معارف و معاریف: دایرة المعارف جامع اسلامی، تهران: مؤسسه فرهنگی آرایه، ۱۳۷۹ش.
  • ابو علی حائری، منتهی المقال، اول، موسسه آل البیت، قم، ۱۴۱۶ق.
  • طوسی، اختیار معرفه الرجال، مقدمه حسن مصطفوی، دانشگاه مشهد، ۱۳۴۸ش.