"کف العباس" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
م (حوالہ جات)
سطر 1: سطر 1:
 
[[ملف:کف العباس، مقام دست راست.jpg|تصغیر|دائیں ہاتھ کا مقام]]
 
[[ملف:کف العباس، مقام دست راست.jpg|تصغیر|دائیں ہاتھ کا مقام]]
'''کف العباس''' یا مقام کف العباس دو ایسے مقاموں کے نام ہیں  کہ جن کے متعلق کہا جاتا ہے کہ [[عاشور]] کے دن ان مقامات پر [[امام حسین(ع)]] کے بھائی [[عباس بن علی|عباس بن علی(ع)]] کے بازو بدن سے جدا ہوئے اور آپ(ع) زمین پر گرے. یہ دو مقام جو کہ حضرت عباس(ع) کے دائیں اور بائیں ہاتھ سے مشہور ہیں۔ حضرت عباس(ع) کے حرم سے  باہر بازار مانند گلی کے اندر شمالی مشرق اور جنوبی مشرق کی جانب واقع جگہ ہے. ان مقامات پر چھوٹی ضریع بنی ہوئی ہے جہاں پر زوار [[زیارت]] کرنے جاتے ہیں. <ref>سید احمد علوی، راهنمای مصور سفر زیارتی عراق، قم، نشر معروف، ۱۳۹۱ش.</ref>
+
'''کف العباس''' یا مقام کف العباس دو ایسے مقاموں کے نام ہیں  کہ جن کے متعلق کہا جاتا ہے کہ [[عاشور]] کے دن ان مقامات پر [[امام حسینؑ]] کے بھائی [[عباس بن علی|عباس بن علیؑ]] کے بازو بدن سے جدا ہوئے اور آپؑ زمین پر گرے. یہ دو مقام جو کہ حضرت عباسؑ کے دائیں اور بائیں ہاتھ سے مشہور ہیں۔ حضرت عباسؑ کے حرم سے  باہر بازار مانند گلی کے اندر شمالی مشرق اور جنوبی مشرق کی جانب واقع جگہ ہے. ان مقامات پر چھوٹی ضریع بنی ہوئی ہے جہاں پر زوار [[زیارت]] کرنے جاتے ہیں. <ref>سید احمد علوی، راہنمای مصور سفر زیارتی عراق، قم، نشر معروف، ۱۳۹۱ش.</ref>
  
 
تیرھویں صدی کے وسط میں نہر علقمہ کے کنارے جو نہر مقبرہ العباس کے نام سے مشہور تھی،  دائیں ہاتھ کا مقام بنایا گیا. اور سنہ ١٣٢٧ق میں بائیں ہاتھ کا مقام بنایا گیا ۔ ایک شخص  نے اس کے متعلق خواب دیکھا تھا. اس نے اپنے گھر کی دیوار کو گرا کر وہاں اس مقام کو بنایا.
 
تیرھویں صدی کے وسط میں نہر علقمہ کے کنارے جو نہر مقبرہ العباس کے نام سے مشہور تھی،  دائیں ہاتھ کا مقام بنایا گیا. اور سنہ ١٣٢٧ق میں بائیں ہاتھ کا مقام بنایا گیا ۔ ایک شخص  نے اس کے متعلق خواب دیکھا تھا. اس نے اپنے گھر کی دیوار کو گرا کر وہاں اس مقام کو بنایا.
 
[[ملف:کف العباس، مقام دست چپ.jpg|تصغیر|بائیں ہاتھ کا مقام]]
 
[[ملف:کف العباس، مقام دست چپ.jpg|تصغیر|بائیں ہاتھ کا مقام]]
  
حضرت عباس(ع) کے دائیں ہاتھ والے مقام پر ایک کانسی کا پنجرہ ہے اور الصخنی نامی گلی  میں باب العلقمی کے نزدیک ہے جس مقام کے اوپر دو کٹے ہاتھوں پینٹنگ کی گئی ہے اور اس کے نیچے لکھا گیا ہے ''اس جگہ پر ابوالفضل العباس(ع) کے ہاتھوں کو قلم کیا گیا ہے'' اور بائیں ہاتھ والے مقام پر بھی ایک کانسی پنجرہ ہے جس پر شیشے سے کام ہوا ہے اور اس کے اوپر عربی زبان میں اشعار اور دعا لکھی گئی ہیں یہ اشعار، شاعر کربلائی [[شیخ محمد سراج]] کے لکھے ہوئے ہیں. <ref>سلمان هادی آل طعمه، تراث کربلاء، نشر مشعر، ۱۳۹۳ش.</ref>
+
حضرت عباسؑ کے دائیں ہاتھ والے مقام پر ایک کانسی کا پنجرہ ہے اور الصخنی نامی گلی  میں باب العلقمی کے نزدیک ہے جس مقام کے اوپر دو کٹے ہاتھوں پینٹنگ کی گئی ہے اور اس کے نیچے لکھا گیا ہے ''اس جگہ پر ابوالفضل العباسؑ کے ہاتھوں کو قلم کیا گیا ہے'' اور بائیں ہاتھ والے مقام پر بھی ایک کانسی پنجرہ ہے جس پر شیشے سے کام ہوا ہے اور اس کے اوپر عربی زبان میں اشعار اور دعا لکھی گئی ہیں یہ اشعار، شاعر کربلائی [[شیخ محمد سراج]] کے لکھے ہوئے ہیں. <ref>سلمان ہادی آل طعمہ، تراث کربلاء، نشر مشعر، ۱۳۹۳ش.</ref>
  
جیسے کہ تاریخ کے مورخین نے بیان کیا ہے کہ یہ دو مقام یقینی نہیں ہیں. <ref>مقدس، احسان، راهنمای اماکن زیارتی و سیاحتی در عراق، تهران، مشعر، ۱۳۸۸</ref>  
+
جیسے کہ تاریخ کے مورخین نے بیان کیا ہے کہ یہ دو مقام یقینی نہیں ہیں. <ref>مقدس، احسان، راہنمای اماکن زیارتی و سیاحتی در عراق، تہران، مشعر، ۱۳۸۸</ref>  
  
  

نسخہ بمطابق 08:55، 21 اپريل 2018ء

دائیں ہاتھ کا مقام

کف العباس یا مقام کف العباس دو ایسے مقاموں کے نام ہیں کہ جن کے متعلق کہا جاتا ہے کہ عاشور کے دن ان مقامات پر امام حسینؑ کے بھائی عباس بن علیؑ کے بازو بدن سے جدا ہوئے اور آپؑ زمین پر گرے. یہ دو مقام جو کہ حضرت عباسؑ کے دائیں اور بائیں ہاتھ سے مشہور ہیں۔ حضرت عباسؑ کے حرم سے باہر بازار مانند گلی کے اندر شمالی مشرق اور جنوبی مشرق کی جانب واقع جگہ ہے. ان مقامات پر چھوٹی ضریع بنی ہوئی ہے جہاں پر زوار زیارت کرنے جاتے ہیں. [1]

تیرھویں صدی کے وسط میں نہر علقمہ کے کنارے جو نہر مقبرہ العباس کے نام سے مشہور تھی، دائیں ہاتھ کا مقام بنایا گیا. اور سنہ ١٣٢٧ق میں بائیں ہاتھ کا مقام بنایا گیا ۔ ایک شخص نے اس کے متعلق خواب دیکھا تھا. اس نے اپنے گھر کی دیوار کو گرا کر وہاں اس مقام کو بنایا.

بائیں ہاتھ کا مقام

حضرت عباسؑ کے دائیں ہاتھ والے مقام پر ایک کانسی کا پنجرہ ہے اور الصخنی نامی گلی میں باب العلقمی کے نزدیک ہے جس مقام کے اوپر دو کٹے ہاتھوں پینٹنگ کی گئی ہے اور اس کے نیچے لکھا گیا ہے اس جگہ پر ابوالفضل العباسؑ کے ہاتھوں کو قلم کیا گیا ہے اور بائیں ہاتھ والے مقام پر بھی ایک کانسی پنجرہ ہے جس پر شیشے سے کام ہوا ہے اور اس کے اوپر عربی زبان میں اشعار اور دعا لکھی گئی ہیں یہ اشعار، شاعر کربلائی شیخ محمد سراج کے لکھے ہوئے ہیں. [2]

جیسے کہ تاریخ کے مورخین نے بیان کیا ہے کہ یہ دو مقام یقینی نہیں ہیں. [3]


حوالہ جات

  1. سید احمد علوی، راہنمای مصور سفر زیارتی عراق، قم، نشر معروف، ۱۳۹۱ش.
  2. سلمان ہادی آل طعمہ، تراث کربلاء، نشر مشعر، ۱۳۹۳ش.
  3. مقدس، احسان، راہنمای اماکن زیارتی و سیاحتی در عراق، تہران، مشعر، ۱۳۸۸