کتابت حدیث کی تاریخ

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

عصر نبوی میں امام علی(ع) اور بعض صحابہ احادیث رسول(ص) کی کتابت کرتے تھے۔ وصال رسول(ص) کے بعد کتابت حدیث کی حالت اہل تشیع اور اہل سنت کے ہاں بالکل مختلف ہوئی۔ خلیفۂ اول، خلیفۂ ثانی اور ان کے بعد خلیفۂ ثالث نے حدیث کی نقل و کتابت و تدوین کی مخالفت کی رسمی سرکاری سیاست (پالیسی) کو جاری رکھا حتی کہ ان حضرات نے بہت سے جوامع اور مکتوبات حدیث کو نذر آتش کیا۔

عمر بن عبدالعزیز نے دوسری صدی ہجری کے آغاز میں اس سرکاری پالیسی کو تبدیل کردیا اور تدوین حدیث کا سلسلہ شروع ہوا۔ چوتھی صدی ہجری تک صحاح ستہ لکھی گئیں لیکن چونکہ ایک صدی تک کتابت ممنوع رہی تھی چنانچہ منقولہ احادیث کی اصلیت کو کافی حد سوالات کا سامنا تھا۔

شیعیان اہل بیت(ع) نے رسول اللہ(ص) کے دور سے ہی کتابت حدیث کا سلسلہ جاری رکھا تھا جو ائمۂ معصومین(ع) کے زمانے سے غیبت صغری کے زمانے تک جاری رہا۔ امیرالمؤمنین(ع) کی کتابیں کتاب علی(ع) جامعۂ علی(ع) ... اور اصحاب ائمہ کی اصول اربعمائہ اسی دور کے حدیثی مجموعے ہیں۔ بعد کی صدیوں میں روایات و احادیث کی تدوین و تالیف کا کام انجام پایا۔ کتب اربعہ پانچویں صدی ہجری کے آغاز تک تالیف ہوئیں اور بعدازاں محدثین نے زيادہ تر توجہ روایات کی تجمیع اور زمرہ بندی کا اہتمام کیا۔

شیعہ حلقوں میں کتابت حدیث کا اہتمام

امیرالمؤمنین(ع) اور بعض دیگر صحابہ نے رسول اللہ(ص) کی ذاتی ہدایت پر آپ(ص) کے زمانۂ حیات میں ہی کتابت حدیث کا اہتمام کیا۔ امیرالمؤمنین علی علیہ السلام نے رسول خدا(ص) کی سنتوں پر مشتمل متعدد کتابیں تصنیف کیں جن میں سے اہم ترین کے نام درج ذیل ہیں:


کتاب علی(ع)

مفصل مضمون: کتاب علی علیہ السلام یہ کتاب ـ جس کا ذکر بہت سے روایات میں آتا ہے اور اس کے بعض قطعات روایات احادیث کی صورت میں ہم تک پہنچی ہے ـ فقہی موضوعات پر مشتمل تھی۔ یہ کتاب ائمہ(ع) کے پاس تھی اور اس وقت امام زمانہ(عج) کے پاس ہے۔[1]۔[2] امام صادق(ع) سے منقولہ ایک روایت کے مطابق امام زین العابدین(ع) اکثر کتاب علی کی طرف رجوع کرتے تھے۔[3] کچھ احادیث اس متن کی طرف ائمہ(ع) کے بغیر دوسرے افراد کی رسائی پر دلالت کرتی ہیں۔[4]۔[5]

جامعہ

جامعہ ایسی کتاب ہے جس کو پیغمبر(ص) نے املا فرمایا اور امیرالمؤمنین(ع) اس کو اپنے قلم سے تحریر کیا۔ شیعیان آل رسول(ص) کا عقیدہ ہے کہ یہ کتاب ائمہ(ع) کے پاس پیغمبر(ص) کے علمی ورثے کی علامت ہے۔ اس کتاب کا ذکر بارہا امامیہ اور اہل سنت کی کتابوں میں آیا ہے اور بعض مواقع پر اس کو کتاب علی ہی قرار دیا گیا ہے۔


کتاب الفرائض

کتاب الفرائض یا کتاب علی کا ایک حصہ، یا ایک متن ـ جو کتاب علی کے ساتھ ہمآہنگ تھا اور کتاب علی کا اجمال اس میں تفصیل کی طرف مائل ہوا ہے۔[6]

یہ متن دوسری صدی ہجری میں میں زرارہ، یونس بن عبد الرحمن اور ابن فضال کی دسترس میں تھا۔[7]

کتاب الدیات

امیرالمؤمنین(ع) کی تصنیف کردہ ایک کتاب کا نام "کتاب الدیات" ہے جس کو اس کے راویوں کی مناسبت سے "کتاب عبداللہ بن ابجر"[8] یا "دیات ظریف بن ناصح"[9] بھی کہا گیا ہے اور اس کتاب کا پورا متن کتب اربعہ میں نقل ہوا ہے۔[10]۔[11]۔[12]۔[13] متن کے دیباچے کے مطابق، یہ متن دیت کے بارے میں امیرالمؤمنین(ع) کے فتاوی کا مجموعہ ہے جو آپ(ع) کے ایک صحابی نے اکٹھے کرکے لکھ لئے ہیں۔ اس کو حکم دیا گیا تھا کہ اس کتاب کے نسخے آپ(ع) کے کارگزاروں کے لئے بھجوا دے۔[14]۔[15]

مناہی النبی(ص)

یہ مناہی النبی(ص) نامی متن ہے جس کا مضمون فقہی اور اخلاقی ہے؛ متن کے آغاز میں مندرجہ دیباچے سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ رسول اللہ(ص) کے املائات کا مجموعہ ہے جو امیرالمؤمنین(ع) کے قلم سے زیور کتابت سے آراستہ ہوا ہے۔ اس مجموعے کے راوی کا نام شعیب بن واقد ہے اور یہ مجموعہ محدود سطح پر امامیہ کے ہاں رائج تھا۔[16]۔[17] قابل ذکر ہے کہ مسعودی نے بھی ایک صحیفہ کی طرف اشارہ کیا ہے جو رسول اللہ کی املاء اورامیرالمؤمنین(ع) کی کتابت سے تالیف ہوئی ہے۔[18]۔[19] بالفاظ دیگر، اہل سنت کی روایات میں صحیفۂ علی(ع) کا نام لیا گیا ہے جو دیت، غلاموں کی آزاد اور کافر کے مقابلے میں مؤمن کے قتل کے عدم جواز جیسے امور کے احکام پر مشتمل ہے۔[20]۔[21]۔[22]۔[23]

دوسرے ائمہ کی کتابیں

ائمہ معصومین(ع) کی کتابیں:

امام علی بن الحسین(ع)

  • صحیفۂ سجادیہ
    یہ ایک اخلاقی متن ہے جو امام سجاد(ع) سے منسوب ہے اور امام سجاد(ع) کی دعاؤں پر مشتمل ہے؛ یہ کتاب تاریخ کے تمام ادوار میں امامیہ کے نزدیک را‏ئج ترین کتب میں سے ایک تھی۔ گوکہ اس کے نسخوں میں اختلاف ہے لیکن اس کی اصلیت محفوظ ہے اور اس کے طرق اور اسناد متنوع اور ثبت و ضبط صحیح اور دقیق ہے۔

امام صادق(ع)

امام صادق(ع) کی کاوشوں میں درج ذیل کتب کی طرف اشارہ کیا جاسکتا ہے:

اصحاب ائمہ کی کتب

اگلے مرحلے میں ان تالیفات کی طرف اشارہ کرنا چاہئے جو مآخذ و منابع کی روایت کے مطابق، امیرالمؤمنین(ع) کے بعض اصحاب کے ہاتھوں تدوین تدوین کے مراحل سے گذری ہیں۔ آپ(ع) کے اصحاب میں سے سلیم بن قیس ہلالی، عبید اللہ بن ابی رفیع اور ان کے بھائی علی بن ابی رافع، سب نے احادیث کی تالیف و تحریر کا اہتمام کیا اور بعض تالیفات و مکتوبات کو فراہم کیا؛[26] اور آج ان کتب میں سے صرف سلیم بن قیس ہلالی کی کتاب (اسرار آل محمد) دستیاب ہے؛ گوکہ اس کتاب کے موجودہ متن اور اس کے اصل متن کے درمیان کے درمیان مطابقت پر گفتگو ہوتی رہتی ہے؛ تاہم امامت اور اسلام کے صدر اول کے وقائع و حوادث کے بارے میں شیعہ اور اہل سنت کے درمیان اختلافات سے متعلق احادیث اس کتاب کا موضوع ہیں۔ اسی زمانے میں آپ(ع) کے دوسرے اصحاب ـ منجملہ اصبغ بن نباتہ اور زید بن وہب جہنی ـ نے امیرالمؤمنین(ع) کے خطبات اور مکاتیب کی تدوین کا کام سرانجام دیا۔[27]۔[28]

  • زیدی حلقوں کے نزدیک ـ دوسری صدی ہجری کے ابتدائی برسوں میں تالیف شدہ مجموعہ حدیث ہے جس میں مندرجہ احادیث زیدیہ کے پیشوا زید بن علی (مقتول سنہ 122 ہجری/740 عیسوی) سے نقل ہوئی ہیں۔ یہ مجموعہ زید بن علی کے شاگرد ابو خالد واسطی (بعد از 145ہجری قمری/762 عیسوی) کا تدوین کردہ ہے اور آج تک کے اس عرصے میں زیدیوں کے نزدیک مستند ترین ماخذ حدیث ہے۔ یہ کتاب مسند زید اور الجموع الفقہی کے عنوان سے بھی پہچانی جاتی ہے۔ یہ کتاب پیغمبر(ص) اور امیرالمؤمنین(ع) کی حدیث کا مجموعہ ہے اور ان کا مضمون فقہی ہے۔[29] علاوہ ازیں احادیث کے دوسرے مجامیع بھی ہیں جن کی تالیف ابوخالد سے منسوب ہے اور متقدمہ صدیوں (ساتویں صدی ہجری سے قبل) شیعیان زیدیہ اور امامیہ کے درمیان رائج تھے۔
  • رسالۃ فی حقوق اللہ، یہ متن زید بن علی(ع) سے منسوب ہے، اور معلوم ہوا ہے کہ اس کے بعض نسخے ویٹکن میں محفوظ ہیں۔ شاید یہ رسالہ شاید ان کے والد ماجد امام سجاد(ع) کے رسالۂ حقوق ہی کی روایت ہے۔

اصول اربعمائہ

مفصل مضمون: اصول اربعمائہ

اصول اربعمائہ چار سو مجامیع حدیث کا دوسرا نام ہے جو اسلام کی ابتدائی صدیوں کے راویوں ان احادیث کو لکھ کر تدوین کئے تھے جو وہ براہ راست ائمۂ معصومین(ع) سے سنتے تھے۔ یہ اصول بعد کی کتب حدیث کا منبع و ماخذ قرار پائیں۔

شیعہ جوامع حدیث کی تدوین

چوتھی صدی ہجری اور پانچویں صدی ہجری کا زمانہ شیعہ حدیث کی بالیدگی کا زمانہ ہے اور اس زمانے میں سابقہ مجموعوں کو مختلف جوامع حدیث ـ منجملہ کتب اربعہ، نہج البلاغہ، بصائر الدرجات، تحف العقول وغیرہ ـ کی صورت میں تالیف کیا گیا اور یہی کتب ـ ان دو صدیوں میں تالیف ہونے والی فقہی اور تفسیری کتب کے ساتھ مل کر ـ علماء کی علمی ضرورت کے پورا کرنے میں ممد و معاون ثابت ہوئیں جس کی وجہ سے کئی صدیوں تک حدیث سمیت بعض علمی شعبوں میں رکود و جمود کا عارض ہوا۔

تاہم دسویں صدی ہجری ـ بالخصوص شیعہ حوزات علمیہ میں اخباریت نامی تفکر کے رائج ہونے ـ کے بعد، ایک بار پھر بڑے بڑے محدثین ظہور پذیر ہوئے جنہوں نے حدیث کے شعبے میں نئی کاوشوں کو معرض وجود میں لایا۔ اس دور میں قدماء کی بعض تالیفات کا احیاء کیا گیا، کتب اربعہ کی احادیث کی نئے سرے سے زمرہ بندی کی گئی اور مکرر روایات کو حذف کیا گیا نیز بعض مستدرکات بھی قلمبند ہوئے۔ شیخ حر عاملی (متوفٰی 1104ہجری قمری) نے کتب اربعہ کی فقہی احادیث کو یکجا کیا اور بعض متروکہ اور فراموش شدہ کتب (جن کی تعداد 70 تک پہنچتی ہے) کو بھی اس ملحق کیا جس کے نتیجے میں ان کا مشہور مجموعۂ حدیث تفصیل وسائل الشیعہ الی تحصیل مسائل الشریعہ معرض وجود میں آیا۔ یہ کتاب بلا شک فقہی روایات کا عظیم دائرۃ المعارف ہے جو اپنی تالیف کے زمانے سے آج تک فتوی کا محور و مدار ہے۔

اسی زمانے میں ملا محسن فیض کاشانی (متوفٰی سنہ 1091 ہجری قمری) نے کتب اربعہ میں مندرجہ احادیث کو اکٹھا کیا، مکررہ روایات کو حذف کیا اور کتاب "مفاتیح الشرائع" کو مرتب کرکے کتب اربعہ کے تمام مندرجات کو یکجا کیا اور بعض احادیث کے ذیل میں مفید وضاحت دے کر قارئین اور محققین و محدثین کو کتب اربعہ سے رجوع کرنے سے بےنیاز کردیا۔

اسی عصر میں علامہ محمد باقر مجلسی (متوفٰی 1111ہجری قمری) نے بہت زیادہ اخراجات برداشت کرکے بہت سے متروک اور فراموش شدہ شیعہ کتب کو دور افتادہ علاقوں سے اکٹھا کرکے، خاص نظم و ترتیب کے ساتھ ان کے موضوعات و متون کو عظیم دائرۃ المعارف ـ یعنی بحار الانوار الجامعۃ لدرر أخبار الائمۃ الاطہار ـ میں مرتب کیا۔ یہ کتاب جر بلا شک ر شبہہ شیعہ اور سنی کتب حدیث میں سب سے بڑا خزانۂ حدیث ہے، صرف حدیث کے لئے مختص نہیں ہے بلکہ حدیثی، قرآنی، تفسیری، تاریخی اور کلامی مجموعہ ہے جس کا مطالعہ کرکے قارئین بہت سے شیعہ اور سنی محدثین، مفسرین، فقہاء اور زمرہ:مؤرخین کی کاوشوں سے آگہی حاصل کرسکتے ہیں۔

واضح رہے کہ اسی زمانے میں دوسرے بڑے محدثین بھی تھے جنہوں نے ـ خاص طور پر تفسیری احادیث کے سلسلے میں ـ اپنے بعد گرانقدر آثار چھوڑے ہیں؛ جن میں سے صاحب البرہان فی تفسیر القرآن، سید ہاشم بحرانی (متوفٰی سنہ 1109ہجری قمری) اور صاحب تفسیر نور الثقلین، عبد علی حویزی (متوفٰی سنہ 1112 ہجری) کی طرف اشارہ کیا جاسکتا ہے۔

آخر کار میرزا حسین نوری، المعروف "محدث نوری" نے حدیث شیعہ میں ایک نئے سنہری باب کا اضافہ کیا اور مستدرک وسائل الشیعہ کو تالیف کرکے ان احادیث و روایات پر اپنی توجہ مبذول کردی جن کو شیخ حر عاملی نے توجہ نہیں دی تھی۔ اور انھوں نے مجموعہ احادیث کے ضعف یا قوت کو مدنظر نہیں رکھا۔

متاخر علماء کا دور متقدمین کی کاوشوں کی طبقہ بندی، زمرہ بندی، تفسیر اور تکمیل کا دور تھا۔

سافٹ ویئر نور الاحادیث

یہ ایک برقی مجوعہ ہے جو "نور اسلامی علوم کے کمپیوٹر تحقیقی مرکز" (مرکز تحقیقات کامپیوتری علوم اسلامی) کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ یہ سافٹ ویئر 1142 مجلدات پر مشتمل 427 کتب کے مکمل متن کا مجموعہ ہے جس میں تمام کتب حدیث بمع فارسی ترجمہ و شرح، کو اکٹھا کیا گیا ہے اور تراجم اور شروح متن کے ساتھ ساتھ قابل مشاہد ہیں۔ متون میں الفاظ کے "مادے" کے ذریعے جستجو کی سہولت سادہ اور پیشرفتہ صورت میں موجود ہے۔ تلاش کو سانچوں، ترکیبات اور مادۂ الفاظ کے ذریعے آسان بنایا گیا ہے۔ آیات کی تفسیر کو احادیث کے قلمرو (Domain) میں پیش کیا گیا ہے؛ کتب، مؤلفین، متون کی نسخہ شناسی یا مطالعۂ مخطوطات (Codicology)، نمائش کی حدود میں صارف کے تعریف کردہ قلمرو اور کتب میں آیات کی تلاش سے متعلق اہم معلومات کے علاوہ 62 مجلدات پر مشتمل 10 عربی ـ فارسی لغتنامے بھی اس سافٹ ویئر میں شامل ہیں جن میں تلاش کی قابلیت رکھی گئی ہے اور حدیث سے متعلق بہترین اور مکمل ترین سافٹ ویئر ہے۔

دیدہ زیب صارف انٹرفیس، استعمال کی سادگی اور مآخذ کی وسعت اس برقی کتب خانے کی ممتاز خصوصیت ہے۔

علوم اسلامی کے سافٹ ویئر اور برقی نسخے انٹرنیٹ پر ـ تنصیب کی ضرورت کے بغیر ـ یہاں دستیاب ہیں۔

سافٹ ویئر مکتبۃ اہل البیت

مکتبة اهل البیت نامی سافٹ ویئر ایک بےمثل برقی کتب خانہ ہے جس کا تازہ ترین نسخہ تمام اسلامی مذاہب کی 7000 مجلدات پر مشتمل ہے۔ ان کتب کا تعلق حدیث، تفسیر، فقہ، اصول فقہ، عقائد، تاریخ، اور رسول اللہ(ص) اور ائمہ(ع) کی سیرت جیسے موضوعات سے ہے۔

یہ برقی کتب خانہ "جامع الاحادیث" سے زیادہ وسیع اور غنی ہے لیکن اس کا صارف انٹرفیس زیادہ دیدہ زيب اور تلاش کا کام زیادہ آسان، نہیں ہے۔

اہل سنت کے ہاں ثبت و کتابت حدیث

حدیث کی دنیا میں ایک قدیم تنازعہ، کتابت حدیث کا تنازعہ تھا جس کے عصر صحابہ میں حامی تھے تو مخالفین بھی تھے اور اس تنازعے کے نتیجے میں رسول اللہ(ص) سے متضاد ہدایات و فرامین کی نسبت دی جاتی تھی۔

کتابت حدیث رسول خدا(ص) کے زمانے میں

متعدد شواہد موجود ہیں کہ رسول خدا(ص) کے زمانے میں آپ(ص) سے بالمشافہہ حدیث نقل ہوتی تھی اور حاضرین اس کو غائبین تک پہنچاتے تھے۔ یہ قرائن مجموعی طور پر نقل حدیث کے بارے میں آپ(ص) کی مثبت رائے کی عکاسی کرتے ہیں۔

ان شواہد کے باوجود اہل سنت کے بعض محدثین کا خیال ہے کہ پیغمبر(ص) اپنی حیات کے ایک حصے میں کتابت حدیث کے مخالف تھے اور حتی کہ اصحاب کو اس کام سے باز رکھتے تھے۔ اس سلسلے میں ان کی اہم ترین دلیل ابو سعید خدری سے منقولہ روایت ہے جو کچھ یوں ہے:

"قال رسول الله(ص): لا تكتبوا عني شيئاً الا القرآن و من كتب عني شيئاً غير القرآن فليمحه"
مجھ سے قرآن کے سوا کچھ بھی نقل کرکے مت لکھو اور کسی نے مجھ سے قرآن کے سوا کچھ نقل کرکے لکھا ہے تو اس کو محو کردے [اور مٹا دے]۔ [33]۔[34]

حالانکہ دین اسلام میں جزئی ترین مالی مسائل میں سند اور قرارداد لکھنے اور قرض کی مقدار اور وقت ادائیگی ثبت کرنے مکتوب کرنے کا حکم ہے اور فرمان ہے کہ لکھنے والے دو عادل افراد ہونے چاہئے، اور یہ سب اس دین کے آئین اور اساسی قانون ـ یعنی قرآن مجید میں!؛ جہاں خداوند متعال مسلمانوں کو حکم دیتا ہے:

"يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ إِذَا تَدَايَنتُم بِدَيْنٍ إِلَى أَجَلٍ مُّسَمًّى فَاكْتُبُوهُ وَلْيَكْتُب بَّيْنَكُمْ كَاتِبٌ بِالْعَدْلِ وَلاَ يَأْبَ كَاتِبٌ أَنْ يَكْتُبَ كَمَا عَلَّمَهُ اللّهُ فَلْيَكْتُبْ وَلْيُمْلِلِ الَّذِي عَلَيْهِ الْحَقُّ وَلْيَتَّقِ اللّهَ رَبَّهُ وَلاَ يَبْخَسْ مِنْهُ شَيْئاً..."
ترجمہ: اے ایمان لانے والو!جب کسی مقررہ مدت کے لیے آپس میں قرض کا لین دین کرو تو اسے تحریر میں لے آیا کرو اور چاہیے کہ کوئی لکھنے والا تمہارے درمیان منصفانہ شرائط کی تحریر لکھے اور کسی کاتب کو جسے کہ اللہ نے علم کی دولت اسے عنایت کی ہے لکھنے سے انکار نہ کرنا چاہیے، لہذا چاہیے کہ وہ لکھ دے اور جس کے اوپر قرضہ سے حق عائد ہو رہا ہے اسے چاہیے کہ مضمون تحریر لکھوا دے اور اپنے پروردگار کا خوف دل میں رکھے اور اس میں سے کچھ کم نہ کرے۔[35]

اور بعدازاں اس کتابت و تحریر کا فلسفہ بیان کرتا ہے اور فرماتا ہے:

"ذَلِكُمْ أَقْسَطُ عِندَ اللّهِ وَأَقْومُ لِلشَّهَادَةِ وَأَدْنَى أَلاَّ تَرْتَابُواْ..."
ترجمہ: یہ اللہ کے نزدیک زیادہ انصاف کی صورت ہے اور گواہی کے لیے زیادہ ٹھیک انتظام ہے اور اس کا زیادہ سامان ہے کہ شک وشبہ میں نہ پڑو...۔[36]

لیکن یہ باور کرنا کیونکر ممکن ہے کہ رسول اللہ(ص) اپنے کلام کی نابودی کا حکم دیں جو درحقیقت قرآن کی تفسیر ہے اور امت کے اختلاف ختم کرنے کا سبب اتمّ ہے؟!!

خلفاء کے زمانے میں نقل و کتابت حدیث

رسول اللہ(ص) کی رحلت کے بعد بعض صحابہ نے حدیث کی نقل و کتابت کی مخالفتیں کیں؛ ان مخالفین کے سر فہرست دو پہلے خلفاء تھے جنہوں نے "مسلمانوں کے درمیان اختلاف کا سد باب"،[37] "رسول اللہ(ص) کو جھوٹی نسبتیں دیئے جانے کا اندیشہ"،[38] "مسلمین کی ہدایت کے لئے قرآن کا کافی ہونا"[39] اور "مسلمانوں کی حدیث میں مصروف ہونے کی وجہ سے ان کی قرآن سے روگردانی کا خدشہ"[40] جیسے اندیشے بیان کرکے مسلمانوں کو تدوین حدیث سے منع کیا اور انہیں حکم دیا کہ بہت سے مکتوبات ـ جو رسول اللہ(ص) کی احادیث پر مشتمل تھے ـ کو جلا کر نیست و نابود کریں۔

شواہد کے مطابق، خلیفۂ ثالث نے بھی ان دو خلفاء کی پیروی کی اور اپنی خلافت کے دوران ان احادیث و روایات کے نقل کرنے پر تاکید کی جو ان دونوں کے زمانے میں نقل کی جاتی تھیں۔[41] بعض قرائن و شواہد کے مطابق عمر اپنے پیشرو کی نسبت نقل حدیث پر ممانعت کے حوالے سے زیادہ سخت گیر تھے۔

"ابن قتیبہ دینوری" لکھتے ہیں: "عمر ان افراد کے ساتھ نہایت سختی اور شدت سے پیش آتے تھے جو بکثرت حدیث نقل کرتے تھے یا اپنی منقولہ حدیث کے لئے شاہد نہیں لاتے تھے...۔[42] عمر نے اسی بنا پر بعض صحابۂ رسول(ص) ـ منجملہ ابن مسعود، ابو درداء، ابو مسعود انصاری [43] اور شواہد کے مطابق عبداللہ بن حذیفہ، ابوذر اور عقبہ بن عامر[44] پر، نقل نقل حدیث کے بموجب، دباؤ ڈالا اور انہیں مدینہ میں روکے رکھا۔

انھوں نے اس کے علاوہ، والیوں اور اپنے کارگزاروں کو ہدایت کی کہ اپنی عملداریوں میں لوگوں کو قرآن کی طرف توجہ دینے اور نقل حدیث سے اجتناب کرنے کی دعوت دیں،[45] یہاں تک کہ انھوں نے ان احادیث کو اپنے ہاتھ سے تلف کیا جو ان کے پاس محفوظ تھیں۔[46]۔[47]

ناگفتہ نہ رہے کہ محققین کی رائے کے مطابق نقل حدیث اور اس کی کتابت و تدوین کی ممانعت کے مسئلے میں اس تفکر کے پیشرو افراد یا اہل سنت کے علماء سے منقولہ محرکات و اسباب، حقیقی نہیں ہیں،[48] بلکہ مذکورہ ممانعت کا تعلق ان واقعات اور حوادث سے ہے جو رسول اللہ(ص) کے وصال کے بعد رونما ہوئے اور وہ سیاسی واقعات ـ خلافت رسول(ص) کے تنازعے اور اہل بیت(ع) کو مسلمانوں کو مسلمین کی قیادت و زعامت سے محروم کرنے ـ کے سوا کچھ اور نہ تھے۔

اس سلسلے میں حدیث کے مانعین کا اصل اور اہم مقصد ان احادیث کا خاتمہ کرنا تو جو اہل بیت(ع) کے فضائل اور ان کے دشمنوں کے رذائل اور پستیوں کو بیان کرتی تھیں اور یہ سب رسول اللہ(ص) سے منقول تھیں؛[49]۔[50] اس بات کی ایک دلیل یہ ہے کہ رسول اللہ(ص) سے منقولہ فقہی احادیث کے سلسلے میں اس قدر حساسیت نہیں پائی جاتی تھی؛ چنانچہ ابن کثیر لکھتے ہیں:

" كان عمر يقول: اقلّوا الرواية عن رسول الله الا فيما یُعمل به؛"
ترجمہ: عمر کہا کرتے تھے کہ "رسول اللہ(ص) سے کم از کم حدیث نقل کرو، سوائے ان احکام کے جن پر عمل کیا جاتا ہے"۔[51]

اسی حقیقت کی بنا پر ہی عثمان نے اپنے زمانۂ خلافات میں اعلان کیا کہ کسی کے لئے بھی جائز نہیں ہے کہ رسول اللہ(ص) کی حدیث نقل کریں سوائے ان حدیثوں کے جو ابوبکر اور عمر کے زمانے میں سنی گئی ہیں۔[52]

اس زمانے میں صحابہ کا رد عمل اور ان کے بعد تابعین کا رد عمل یکسان نہ تھا؛ بعض نے نقل و کتابت حدیث کی ممانعت کے حکمل کی تعمیل کی اور نقل حدیث، بالخصوص کتابت کو ترک کیا،[53] بعض نے احادیث کو ازبر کردیا لیکن اس کی تدوین سے پرہیز کیا یا مکتوب احادیث کو تلف کردیا،[54] بعض دوسرے اس سرکاری فرمان کے سامنے مزاحمت کی راہ پر گامزن ہوئے اور نقل حدیث کو جاری رکھا، جن میں مشہور ترین صحابی ابو ذر ہیں۔[55] لیکن ممانعت کا یہ سرکاری منصوبہ تدریجی طور پر احادیث نبوی کا بڑا حصہ تلف ہونے پر منتج ہوا یا پھر ان کا مضمون جعل و تحریف سے آلودہ ہوا۔[56]۔[57]

امیرالمؤمنین(ع) کی شہادت کے بعد حدیث کی نقل و کتابت کا منصوبہ معاویہ نے از سر نو شروع کیا۔[58]۔[59] اس زمانے میں اموی سرکار نے خلفائے ثلاثہ کی مداحی اور امیرالمؤمنین(ع) کی مذمت میں حدیثیں وضع کرنے (گھڑنے) کا حکم دیا اور یہ کام معاویہ کی طرف سے متعدد بار حکم نامہ جاری کرکے نافذ کرایا گیا۔[60] معاویہ نے اس کام کے لئے ابو ہریرہ، عمرو بن عاص، مغیرہ بن شعبہ اور عروہ بن زبیر جیسے صحابہ و تابعین کی خدمات حاصل کیں۔ ان کے علاوہ اسرائیلیات کی ترویج اور اسلامی تعلیمات کو آلودہ کرنے کے لئے بعض نو مسلم اہل کتاب افراد ـ جن میں کعب الاحبار اور تمیم داری سرفہرست تھے ـ کے ہاتھ کھلے چھوڑ دیئے گئے۔[61]

اہل سنت کے ہاں باضابطہ تدوین حدیث

سنہ 99 ہجری میں عمر بن عبدالعزیز نہ عہدہ خلافت سنبھالا تو انھوں نے ایک فرمان مدینہ کے والی کے نام جاری کیا اور اس سے تقاضا کیا کہ حدیث و سنت رسول اللہ(ص) کی کتابت و تدوین کے لئے اقدام کرے۔[62]

یوں تدوین حدیث ـ جو قبل ازاں غیر منظم طریقے سے یا ذاتی مسئلے کے طور پر محدثین انجام پاتی تھی ـ باضابطہ طور پر شروع ہوئی۔[63]۔[64]

تدوین حدیث کی رفتار ابتداء میں سست تھی اور کیفیت کے لحاظ سے بھی مرتب اور منظم نہ تھی اور محدثین اپنے تمام موضوعات و مسائل کو ایک مجموعوں کی صورت میں لکھ دیتے تھے؛ لیکن اموی سلطنت کے زوال اور عباسی سلطنت کے آغاز کے بعد تدوین حدیث میں تبدیلیاں رونما ہوئیں اور علماء نے تمام شہروں میں تدوین و تصنیف کا کام شروع کیا۔[65]۔[66] اور وقت کے ساتھ ساتھ مختلف قسم کی تالیفات منظر عام پر آئیں۔

سب سے پہلے مالک بن انس کی کتاب الموطأ تالیف ہوئی اور بعدازاں متعدد مسانید تالیف ہوئیں جن میں اہم مسند احمد بن حنبل کی ہے جو ہمارے زمانے تک باقی ہے۔

اخبار و احادیث کے انتخاب اور تنقیح و تہذیب اور نظر ثانی کے مرحلے میں محدثین نے مختصر کتب کی تالیف کا اہتمام کیا؛ جن میں انھوں نے وہ احادیث اکٹھی کردیں جو ان کے اپنے قواعد کے مطابق صحیح تھیں۔ بخاری و مسلم اور ان دو افراد کے تابعین مؤلفین کے اسی زمرے میں شمار ہوتے ہیں۔ اہل سنت کی بنیادی کتب حدیث کی تالیف چوتھی صدی ہجری کے آغاز تک مکمل ہوچکی تھی۔[67]

اہل سنت کی بنیادی کتب (صحاح ستہ):

یہ دو کتب "صحیحین" کے نام سے بھی مشہور ہیں۔

یہ چار کتابیں "سنن اربعہ" کے نام سے مشہور ہیں۔

مذکورہ چھ کتب کو مشترکہ طور پر صحاح ستہ کہا جاتا ہے۔

واضح رہے کہ سوائے ابو داؤد سجستانی کے ـ جو عرب نژاد ایرانی تھے ـ، اہل سنت کے باقی پانچ ائمۂ حدیث فارسی اور ایرانی تھے۔

نیز مالک بن انس کی الموطأ اور احمد بن حنبل کی المسند بھی اہل سنت کی اہم کتابوں میں شمار ہوتی ہیں۔

تدوین حدیث کا سلسلہ، صحاح ستہ کے بعد

چوتھی صدی ہجری اور پانچویں صدی ہجری میں ان احادیث کی طرف توجہ دی گئی جو سابقہ محدثین کے ہاں قابل توجہ نہیں ٹہری تھیں اور ان احادیث کو نئی تالیفات کے سانچے میں مرتب کیا گیا۔ ان دو صدیوں کے مشہور محدثین کے نام درج ذیل ہیں:

  • یعقوب بن اسحاق المعروف بہ ابو عَوانہ اسفرائنی (متوفٰی 316ہجری)، صاحبِ مُسند یا صحیح؛
  • محمّد بن حبّان ابن احمد المعروف بہ ابن حبّان (متوفٰی 354ہجری قمری)، صاحب المُسنَد الصحیح یا الانواع و التقاسیم
  • ابوالقاسم سلیمان بن احمد طَبَرانی (متوفٰی 360ہجری قمری)، صاحب معاجم ثلاثہ: مُعْجَم کبیر، معجم اوسط، معجم صغیر
  • ابوالحسن علی بن عمر المعروف بہ دارَقُطْنی صاحب الزامات، کہ جو درحقیقت مستدرک ہے صحیحین پر۔
  • ابو عبداللہ محمّد بن عبداللہ المعروف بہ حاکم نیشابوری (متوفٰی 405ہجری قمری) صاحب کتاب المستدرک علی الصحیحین
  • ابوبکر احمد بن حسین خسروجردی المعروف بہ بیہقی (متوفٰی 458ہجری قمری) کتاب السنن الکبری اور السنن الصغری کے مؤلف ہیں جو "معارف، عمومی تاریخ اور حدیث" پر مشتمل ہیں۔
  • حاکم نیشابوری نے اپنی کتاب المستدرک علی الصحیحین کو صحیح بخاری اور صحیح مسلم کے تکملے کے عنوان سے ان ہی ضوابط کے تحت تالیف کیا جو ان دو کے نزدیک صحیح تھے۔ یعنی انھوں نے ایسی احادیث کو اس کتاب میں اکٹھا کیا جو ان دو کے معیار کے مطابق صحیح سمجھی جاسکتی تھیں لیکن ان دونوں نے کسی بھی وجہ سے انہیں نقل نہیں کیا تھا۔

پانچویں صدی ہجری اہل سنت کے متقدمین کی تدوین حدیث کا آخری دور سمجھی جاتی ہے۔ اس صدی میں ان مصادر کی تجمیع کا سلسلہ رک گیا جن کی خصوصیت یہ تھی کہ ان کی سند مؤلف سے پیغمبر(ص) تک متصل ہوتی تھی، اور ائمہ حدیث نے ان حدیثوں کو قبول کرنے سے انکار کیا جو سابقہ محدثین نے نقل نہیں کی تھیں؛ چنانچہ بعد میں ابن صلاح (متوفٰی سنہ 624ہجری قمری) نے کہا کہ اگر آج کوئی شخص کوئی حدیث لائے جو سابقہ محدثین نے نقل نہ کی ہو، تو قابل قبول نہ ہوگی۔[68]۔[69]

اہل سنت کے متاخرین کے دور میں جوامع حدیث کی تدوین

جوامع حدیث سے مراد وہ کتب ہیں جن کو بنیادی کتب ـ منجملہ صحاح ستہ، موطأ مالک اور مسند احمد بن حنبل ـ کی روشنی میں تدوین کیا گیا ہے۔ یہ کتب چند زمروں میں تقسیم ہوتی ہیں:

  • وہ کتب جن میں صرف صحیحین کی روایات اکٹھی کی گئی ہیں؛
  • وہ جن میں صحاح و اہم سنن و مسانید کی احادیث جمع کی گئی ہیں اور
  • وہ جن میں مؤخر الذکر مآخذ سے استفادہ کرکے صرف فقہی روایات کو اکٹھا کیا گیا ہے۔[70]۔[71]

مصابیح السنہ کے مؤلف "بغوی" نے صحاح ستہ اور مالک بن انس کی الموطّأ کی احادیث جمع کرنے کا اہتمام کیا۔[72]

التجرید للصحاح و السنن کے مؤلف، احمد بن زرین بن معاویہ (متوفٰی سنہ 535ہجری قمری) نے صرف صحاح ستہ میں سے صرف صحیح روایات کو جمع کیا گوکہ انھوں نے سن ابن ماجہ کو حذف کیا اور اس کے بجائے مالک بن انس کی الموطأ کو شش گانہ کتب کا جزء قرار دیا۔[73]

ابوالسعادات مجدالدین مبارک بن ابی الکرم محمّد المعروف بہ ابن اثیر الجزری (متوفٰی سنہ 606 ہجری قمری) نے کتاب جامع الاصول من احادیث الرسول کو مرتب کیا۔

ابوالفرج عبدالرحمن بن علی الجوزی المعروف بہ ابن جوزی (متوفٰی سنہ 597ہجری قمری) کتاب جامع المسانید والالقاب، کے مؤلف ہیں۔ انھوں نے اس کتاب میں صحیحین، مسند احمد بن حنبل اور جامع ترمذی کی احادیث کو مسانید کی ترتیب سے جمع کیا اور بعد میں محبّ الدین طبری (متوفٰی سنہ 694ہجری قمری) اس کتاب کو نئے سرے سے تدوین اور مرتب کیا۔[74]۔[75]

اسمعیل بن عمر بن کثیر الدمشقی المعروف بہ ابن کثیر دمشقی (متوفٰی سنہ 744ہجری قمری) کتاب جامع المسانید والسنن الهادی لاقوم السنن، کے مؤلف ہیں جس میں انھوں نے صحاح ستہ، مسند احمد بن حنبل، مسند ابی بکر بزاز، مسند ابی یعلی اور المعجم الکبیر طبرانی کو مسانید کی روش پر جمع اور تدوین کیا۔ یہ کتاب تقریبا ایک لاکھ حدیثوں پر مشتمل اور صحیح، حسن اور ضعیف حدیثوں کا مجموعہ تھی،[76] گوکہ اس کتاب کا اس زمانے میں دستیاب نسخہ صرف 35321 حدیثوں کا مجموعہ ہے۔

عبدالرحمن بن ابی بکر جلال الدین سیوطی کتاب جمع الجوامع یا جامع کبیر نیز جامع صغیر جیسی کتب کے مؤلف ہیں۔

علاءالدین علی بن حسام المعروف بہ متقی ہندی كنز العمال في سنن الاقوال والافعال کے مؤلف ہیں؛ ان کی اس کتاب کی بنیاد سیوطی کی کتاب جمع الجوامع ہے، فرق یہ ہے کہ کنز العمال حروفِ الفباء اور فقہی موضوعات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ متقی ہندی نے الجامع الصغیر کی احادیث کو اسی روش سے مرتب کیا اور اس کو منہج العمال فی سنن الاقوال کا عنوان دیا۔[77]

متعلقہ مآخذ

حوالہ جات

  1. مثلاً دیکھیں: کلینی، الکافی، ج3 صص9، 175، 505۔
  2. طوسی، تهذیب الاحکام، ص6 ص343، ج10 ص146۔
  3. دیکھیں: کلینی، الکافی، ج8 ص163۔
  4. صفار، بصائرالدرجات، 165، 182۔
  5. کلینی، الکافی، 6/ 219۔
  6. مثلاً "کتاب علی" سے منقولہ حصے کے لئے رجوع کریں: کلینی، الکافی ج7 ص77، حاشیۀ 1، جو قابل تقابل ہے "‌کتاب الفرائض‌" کے ساتھ رجوع کریں: ص214، سطر 15-16۔
  7. کلینی، الکافی، ج7 صص81، 94، 330۔
  8. نجاشی، الرجال، 217۔
  9. طوسی، الفهرست، 112۔
  10. کلینی، 7/330-342، 342-343۔
  11. ابن بابویه، من لا یحضره الفقیه...، 4/ 75-92۔
  12. طوسی، تهذیب، 10/ 295- 308۔
  13. نیز یہ متن "الاصول الستة عشر" کے ضمن میں بھی شائع ہوا ہے: صفحات 134 تا 148۔
  14. کلینی، الکافی، ج7 ص330۔
  15. طوسی، تهذیب الاحکام، ج10 ص295۔
  16. متن کے لئے رجوع کریں: ابن بابویه، ج4، ص18۔
  17. ابن بابویه، الامالی، 509- 518۔
  18. مسعودی، مروج الذهب، ج4 ص86۔
  19. الاصفہانی، ابوالفرج، مقاتل الطالبیيين، ص142۔
  20. بخاری جعفی، صحیح، ج 1، ص 36۔
  21. ابن حنبل، المسند، ج 1، ص 79، 81، 100، 102، 110، ج 2، ص 35، 121۔
  22. شافعی، محمد بن ادریس، اختلاف الحدیث، ص 221۔
  23. امام علی علیہ السلام کی کتاب احادیث کا مجموعہ ہے۔
  24. رسالے کا متن، رجوع کریں‍: ابن بابویه، من لایحضره الفقیه، ج2 ص618 تا 626۔
  25. اصفہانی، ابو نعیم، حلیة الاولیاء، ج3 ج138۔
  26. نجاشی، 4- 8؛ GAS, I/86۔
  27. نجاشی، رجال، ص8۔
  28. طوسی، الفهرست، ص97۔
  29. ط بیروت، 1966عیسوی۔
  30. طوسی، الفهرست، 98۔
  31. ابن غضائری، الرجال، 61۔
  32. ابن غضائری، 119۔
  33. دارمی، السنن، ج1 ص119۔
  34. ترمذی، سنن، ج5 ص38۔
  35. سورہ بقرہ آیت 182۔
  36. سورہ بقرہ وہی آیت۔
  37. ذهبی، تذکرة الحفاظ، ج1 ص3 ابوبکر کے قول کے حوالے سے۔
  38. ذهبی، تذکرة الحفاظ، ج1 ص5 بحوالۂ ابوبکر۔
  39. بخاری، صحیح، ج1 ص120 بحوالۂ عمر۔
  40. ابن عبدالبر، جامع بیان العلم و فضله، ج1 ص64۔ بحوالۂ عمر۔
  41. ابوریه، محمود، اضواء علی السنة المحمدیه، 54۔
  42. دینوری، عبدالله بن مسلم بن قتیبه، تأویل مختلف الحدیث، ص41۔
  43. ابوریه، اضواء... 54۔
  44. حسین جلالی، تدوین السنة الشریفه، ص437 بحوالہ از، متقی ہندی، کنز العمال۔
  45. طبری، تاریخ الامم و الملوک، ج4 ص204۔
  46. ذهبی، تذکرة الحفاظ، ج1 ص5۔
  47. خطیب بغدادی، تقیید العلم، 48 - 52۔
  48. شهرستانی، منع تدوین الحدیث، 17-39۔
  49. عسکری، نقش ائمه در احیاء دین، ج2 ص64۔
  50. الحسنی، هاشم معروف، دراسات فی الحدیث و المحدثین، ص22۔
  51. ابوریه، اضواء...، ص55 بحوالہ از ابن کثیر، البدایة والنهایة، ج8 ص115۔
  52. ابوریه، اضواء ... ص54۔
  53. سیوطی، تدریب الراوی، 2/61۔
  54. خطیب بغدادی، تقیید العلم، 64 الی 69۔
  55. دارمی، السنن، 1/128۔
  56. حسین جلالی، تدوین السنة الشریفه، 481۔
  57. معارف، مجید، تاریخ عمومی حدیث، 151۔
  58. مسلم، صحیح، ج3 ص1210۔
  59. حسین جلالی، تدوین السنة الشریفه، 274۔
  60. ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ج11 ص44 تا 46۔
  61. ابوریه، محمود، اضواء...، ص148۔
  62. دارمی، السنن، ج1 ص126۔
  63. صبحی صالح، علوم الحدیث و مصطلحه، 36۔
  64. ابو شهبه، محمد، الوسیط فی علوم و مصطلح الحدیث ، ص65۔
  65. سیوطی، تدریب...، ص261۔
  66. عسقلانی، هدی الساری، ص6۔
  67. ابوریه، 267 و 268 مختصر سی تلخیص کے ساتھ۔
  68. ابن صلاح، عثمان بن عبدالرحمن، معرفة انواع علم الحدیث، ص108۔
  69. مرعشلی، یوسف عبدالرحمن، ص17۔
  70. معارف، تاریخ عمومی حدیث، ص174ـ166۔
  71. ابو زهو، الحدیث و المحدثون، ص430ـ447۔
  72. ابو زهو، الحدیث و...، ص431۔
  73. کتانی، محمّد جعفر، الرسالة المستطرفه، ص142۔
  74. ابو زهو، الحدیث و المحدثون، ص431۔
  75. کتانی، الرسالة المستطرفه ص132۔
  76. کتانی، الرسالة المستطرفه، ص131۔
  77. ابو زهو، 446۔


مآخذ

  • ابن ابی الحدید، عزالدین، شرح نهج البلاغه، بیروت، داراحیاء التراث العربی، 1378 ہجری قمری۔
  • ابن اثیر، عزالدین اسدالغابه فی معرفة الصحابه، بیروت، دارالفکر، 1409 ہجری قمری۔
  • ابن سعد، محمّد بن سعد، الطبقات الکبری، بیروت، دارالکتب العلمیه، 1418 ہجری قمری۔
  • ابن صلاح، عثمان بن عبدالرحمن، معرفة انواع علم الحدیث (مقدمه)، بیروت، دارالکتب العلمیه، 2002 عیسوی۔
  • ابن عبدالبر، یوسف، جامع بیان العلم و فضله، بیروت، دارالکتب العلمیه۔
  • ابن ماجه قزوینی، محمّد بن یزید، السنن۔ بیروت، دارالکتاب العلمیه، 1407 ہجری قمری۔
  • ابن ‏غضائری، احمد، الرجال، به کوشش محمدرضا جلالی، قم، 1422 ہجری قمری۔
  • ‏ابوالفرج‏ اصفهانی، مقاتل الطالبیین، نجف، 1385 ہجری قمری/ 1965عیسوی۔
  • ابوریه، محمود، اضواء علی السنة المحمدیه، بیروت، موسسه اعلمی للمطبوعات (بی‌تا)۔
  • ابوزهو، محمد، الحدیث و المحدثون، ریاض، 1404 ہجری قمری/1984 عیسوی۔
  • اعظمی، محمّد مصطفی، دراسات فی الحدیث النبوی و تاریخ تدوینه، بیروت، المکتب الاسلامی، 1413 ہجری قمری۔
  • بخاری، محمّد بن اسماعیل، الصحیح، بیروت، دارالقلم، 1401ہجری قمری/ 1981عیسوی۔
  • ترمذی، محمّد بن عیسی، الجامع الصحیح، بیروت، دارالکتاب العلمیه، 1408 ہجری قمری۔
  • حسنی، هاشم معروف، دراسات فی الحدیث و المحدثین، بیروت، دارالتعارف (بی‌تا)۔
  • حسین جلالی، محمّد رضا، تدوین السنة الشریفه، دفتر تبلیغات اسلامی، 1413 ہجری شمسی۔
  • خطیب بغدادی، احمد بن علی، تقیید العلم، داراحیاء السنة النبوی، 1974 ہجری قمری۔
  • خویی، سید ابوالقاسم (آیة الله)، البیان فی تفسیر القرآن، بیروت، دارالزهراء، (بی‌تا)
  • دارمی، عبدالله بن عبدالرحمن، السنن، نشر استانبول، 1401 ہجری قمری۔
  • دینوری، عبدالله بن مسلم بن قتیبه، تأویل مختلف الحدیث، بیروت، دارالکتب العلمیه (بی‌تا)۔
  • ذهبی، شمس الدین، تذکرة الحفاظ، بیروت، دارالکتب العلمیه، 1374 ہجری قمری۔
  • رامیار، محمود، تاریخ قرآن، انتشارات امیرکبیر، ط 2، 1362 ہجری شمسی۔
  • سیوطی، جلال الدین تدریب الراوی، بیروت، دارالکتب العربی، 1405ہجری قمری۔
  • شرف الدین، سید عبدالحسین، المراجعات، مصر، موسسة النجاح، 1399 ہجری قمری۔
  • شهرستانی، علی، منع تدوین الحدیث، بیروت، موسسه اعلمی للمطبوعات (بی‌تا)
  • صبحی صالح، علوم الحدیث و مصطلحه، قم منشورات رضی، 1363 ہجری شمسی۔
  • ابو شهبه، محمد، الوسیط فی علوم و مصطلح الحدیث، قاهره 1403ہجری قمری/ 1982عیسوی۔
  • صدر، سید حسن، تأسیس الشیعة، منشورات اعلمی، (بی‌تا)۔
  • صدوق، محمّد بن علی، معانی الاخبار، بیروت، دارالمعرفه، 1399 ہجری قمری۔
  • صفار، محمّد بن حسن، بصائر الدرجات، تهران، مؤسسه اعلمی، 1362ہجری شمسی۔
  • طباطبایی، سید محمّد حسین، قرآن در اسلام، تهران، دارالکتب الاسلامیه، 1353 ہجری شمسی
  • طبری، محمّد بن جریر، تاریخ الامم و الملوک، بیروت، دارالمعرفة، (بی‌تا)۔
  • عجاج خطیب، محمّد، السنة قبل التدوین، بیروت، دارالفکر، 1401 ہجری قمری۔
  • عسقلانی، احمد بن علی، تهذیب التهذیب، بیروت، دارالفکر، 1404 ہجری قمری۔
  • عسقلانی، فتح الباری بشرح صحیح البخاری، بیروت، دارامعرفة (بی‌تا)۔
  • عسقلانی، هدی الساری، بیروت، دارالمعرفة، (بی‌تا)۔
  • عسکری، سید مرتضی، نقش ائمه در احیاء دین، نشر مجمع علمی، 1357 ہجری شمسی۔
  • قاسمی، جمال الدین قاسمی، قواعد التحدیث، بیروت دارالکتب العلمیه، 1399 ہجری قمری۔
  • کتانی، محمّد جعفر، الرسالة المستطرفه، بیروت، دارالبشائر، 1414 ہجری قمری۔
  • کلینی، محمّد بن یعقوب، الکافی، تهران، دارالکتب الاسلامیه، 1363 ہجری شمسی۔
  • مجلسی، محمّد باقر، بحار النوار الجامعة لدرر اخبار الائمة الاطهار، بیروت، موسسه الوفا، 1402 ہجری قمری۔
  • محمّد ابو زهو، محمّد الحدیث و المحدثون، بیروت، دارالکتب العربی، 1404 ہجری قمری۔
  • معارف، مجید، پژوهشی در تاریخ حدیث شیعه، انتشارات ضریح، 1374 ہجری شمسی۔
  • معارف، مجید، تاریخ عمومی حدیث، انتشارات کویر، 1377 ہجری شمسی۔
  • معارف، مجید، تدوین حدیث در میان اهل سنّت، دانشنامه جهان اسلام، ج6، 1380 ہجری شمسی۔
  • نجاشی، احمد، رجال، به‏ کوشش‏ موسی‏ شبیری‏ زنجانی، قم، 1407 ہجری قمری‏۔
  • نیشابوری، مسلم بن حجاج، الصحیح، بیروت، داراحیاء التراث العربی، 1972عیسوی۔
  • ابن حنبل ، العلل و معرفة الرجال ، مطبوعه وصی اللّه بن محمود عباس ، بیروت 1408ہجری قمری۔
  • محمدبن ادریس شافعی ، اختلاف الحدیث، مطبوعه محمداحمد عبدالعزیز، بیروت 1406 ہجری قمری/1986 عیسوی۔
  • ابن كثير، اسماعيل، البداية والنهاية، حققه علي شيري، دار إحياء التراث العربي، 1408ہجری قمری/ 1988عیسوی۔
  • مرعشلی، یوسف عبدالرحمان، علم فهرسة الحدیث: نشأته، تطوّره، اشهر ما دوّن فیه، بیروت 1406 ہجری قمری/ 1986عیسوی۔

بیرونی ربط

اقتباس از سایت تبیان و دایرة المعارف بزرگ اسلامی

حدیثیات
حدیث متواتر متفق علیہ مشہور عزیز غریب حدیث حسن
حدیث متصل حدیث صحیح حدیث منکر
حدیث مسند بلحاظ سند علم الحدیث بلحاظ متن حدیث متروک
خبر آحاد حدیث ضعیف حدیث مدرج
حدیث منقطع حدیث مضطرب حدیث مدلس حدیث موقوف حدیث منقطع حدیث موضوع