نظر بد

ویکی شیعہ سے
(چشم بد سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

نظر بد، ایک ایسا منفی اثر ہے جو کسی شخص کے دیکھنے کی وجہ سے دوسرے انسان یا دیگر موجوات پر آجاتی ہے۔ قرآن مجید میں واضح الفاظ میں اس کی تصریح ہوئی ہے اور مفسروں کا کہنا ہے کہ آیت و ان یکاد۔ نظر بد کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ روایات میں بھی اس کی حقیقت اور اس کی روک تھام کا طریقہ کار بھی بیان ہوا ہے۔ معوذتین، سورہ حمد، آیت الکرسی اور آیۂ «و إن یکاد» کا پڑھنا انہی طریقوں میں سے ہیں۔

نظر بد کا تصور عوام میں عام ہے۔ اور بعض جگہوں پر نظر بد سے بچاو کے لیے انڈے توڑنا یا ہرمل کا دھواں دینا، حرز، تعویز اور چارقل پر مشتمل زیور آلات کا دیوار پر لٹکانا رسم ہے اور نظر بد سے بچنے کے لیے موثر سمجھتے ہیں۔

مفہوم شناسی

نظر بد وہ منفی اثر ہے جو بعض افراد کی نظر کے ذریعے دوسرے انسان یا جانور یا کسی بھی چیز کی طرف منتقل ہوتی ہے۔[1] نظر بد ایک غیر اختیاری حالت ہے جو خوشی، کامیابی، خوبصورتی، تحسین کے موقعے پر حسد کی حس کی وجہ سے ایجاد ہوتی ہے۔ اور بعض کا کہنا ہے کہ نظر بد کی تاثیر نفسانی قوت کی وجہ سے ہے۔ [2] نظر بد کا حسد سے گہرا رابطہ ہے۔ [3] بعض روایات میں حسد کو نظر بد کا سرچشمہ قرار دیا گیا ہے۔ [4] علامہ مجلسی کا کہنا ہے کہ بعض مفسروں کا کہنا ہے کہ سورہ فلق کی پانچویں آیت جس میں حاسدوں کی حسد کا ذکر ہے یہ آیت اسی بارے میں ہے۔ [5]

نظر بد کی حقیقت

قرآن

اصل مضمون: آیت و ان یکاد

نظر بد کا لفظ قرآن میں نہیں آیا ہے۔ لیکن بہت سارے مفسرین آیۂ شریفہ:«وَإِن یکادُ الَّذِینَ کفَرُوا لَیزْلِقُونَک بِأَبْصَارِہمْ لَمَّا سَمِعُوا الذِّکرَ وَیقُولُونَ إِنَّہ لَمَجْنُونٌ»[6] نظر بد کے بارے میں ہونے کا عزم ظاہر کرتے ہیں۔[7] اور اس آیہ کی شان نزول میں کہتے ہیں کہ مشرکوں نے نظر والے کسی شخص کو ڈھونڈا تاکہ وہ پیغمبر اکرمؐ کو نظر بد کرے اور جب اس شخص نے نظر بد کرنے کا ارادہ کیا تو جبرئیل امین آیۂ و ان یکاد لے کر نازل ہوا اور اس کے ذریعے پیغمبر اکرمؐ کو نظر بد سے محفوظ کیا۔ [حوالہ درکار] بعض دوسرے مفسروں نے «اَزْلاق» کو نظر بد کے معنی میں نہیں لیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ «ازلاق» لغت میں دشمنی اور تندی سے کسی کی طرف دیکھنے کو کہا جاتا ہے اور پیغمبر اکرمؐ کے بارے میں بھی اسی معنی میں استعمال ہوا ہے۔[8]

اسی طرح بعض مفسروں کا کہنا ہے کہ سورہ یوسف کی آیت نمبر 67 نظر بد کے بارے میں ہے اور آیہ «وَقَالَ يَا بَنِيَّ لَا تَدْخُلُوا مِن بَابٍ وَاحِدٍ وَادْخُلُوا مِنْ أَبْوَابٍ مُّتَفَرِّ‌قَة»[9] کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ یعقوب کے بیٹے حسین، زیادہ اور باوقار تھے۔ اور حضرت یعقوب نظر بد سے ڈر کر انہیں کہا کہ مصر میں داخل ہوتے وقت مختلف دروازوں سے داخل ہوجائیں۔[10] لیکن شیخ طوسی نے ایک اور قول کی طرف بھی اشارہ کیا ہے کہ بعضوں نے نظر بد کا قرآن میں ہونے سے انکار کیا ہے اور حضرت یعقوبؑ کا اپنے بیٹوں کو کی جانے والی نصیحت بعض دیگر وجوہات جیسے حکومتی اہلکاروں کے خوف سے بیان کیا ہے۔[11] اسی طرح آیت‌اللہ معرفت نے نظر بد سے بچاؤ کے لیے بعد والی آیت جس میں ارشاد ہوتا ہے کہ «یعقوب کی تدبیر کارآمد نہیں ہوئی»، سے استفادہ کیا ہے۔[12]

روایات

فریقین کی روایات کے مطابق نظر بد ایک حقیقت ہے۔ ان احادیث میں سے ایک میں کہا گیا ہے کہ اگر قضا و قدر سے کوئی چیز سبقت لے سکتی تو وہ نظر بد تھی۔ [13] شیعہ ائمہ سے نقل ہونے والی روایات میں نظر بد کی حقیقت کی تصریح ہوئی ہے اور اس سے روک تھام کے طریقے بھی بیان ہوئے ہیں۔.[14]

علمی نظریہ

خواجہ نصیرالدین طوسی شرح اشارات میں کہتا ہے کہ ابن سینا نے نظر بد کو ظنی امور میں سے قرار دیا ہے ؛[15] ملاصدرا قائل ہیں کہ بعض نفس وہمی طاقت میں اس قدر آگے جاتی ہیں وہ طبیعی چیزوں میں بھی اثر کر سکتی ہیں اور نظر بد انہی میں سے ایک ہے۔ [16]اسی طرح بعض دانشوروں کا کہنا ہے کہ آنکھوں میں ایسی مقناطیسی طاقت چھپی ہے جس کو پریکٹیس کر کے پرورش دی جاسکتی ہے۔[حوالہ درکار]


قضا و قدر سے رابطہ

بعض لوگ نظر بد کو قضا و قدر اور توکل کے مخالف سمجھتے ہیں [17] اور اس نظریے پر بہت سارے سوالات اور ان کے جوابات بھی ذکر ہوئے ہیں۔.[18] شیعہ علما کا کہنا ہے کہ نظر بد کا اللہ کی قدرت سے کوئی منافات نہیں ہے کیونکہ جس چیز کی تاثیر ایسے عوامل کی نہیں بلکہ تاثیر تو صرف اللہ کی قدرت کی ہے۔[حوالہ درکار] اور جس حدیث میں نظر بد کو قضا و قدر کے برابر قرار دیا ہے اس کو مبالغہ سمجھا ہے۔ [19] اس کی وجہ بھی بعض احادیث ہیں جو نظر بد کی تائید میں وارد ہوئی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ نظر بد مرد کو قبر میں اور اونٹ کو دیگ میں پہنچاتی ہے۔ »[20] اور «اگر قبروں کو کھولا جائے تو معلوم ہوگا کہ اکثر مردے نظر بد کی وجہ سے مر گئے ہیں۔»[21]

فقہی حکم

شیعہ فقہ کی کتابوں میں نظر بد کے بارے میں کوئی بحث نہیں ہوئی ہے اور جو روایات حدیث کی کتابوں میں آئی ہیں وہ فقہی احکام استنباط کرنے کے لیے مبنا قرار نہیں پائی ہیں۔ البتہ کہا گیا ہے کہ شمالی افریقہ میں اگر یہ ثابت ہوجائے کہ نظر بد سے کسی کو نقصان اور خسارت پہنچایے تو وہ اس خسارت کا ذمہ دار ہے اور اسی طرح کہا گیا ہے کہ اہل سنت کے بعض فقہاء ان لوگوں کے بارے میں بعض احکام صادر کرتے تھے جو نظر بد کرنے میں مشہور ہوتے تھے؛ مثلا اسے لوگوں سے میل میلاپ سے روکا جاطے اور گھر میں نظر بند کیا جائے اور بیت المال سے اس کا خرچہ دیا جائے۔[22]

نظر بد سے بچاؤ

تعویذ برای نظر بد

نظر بد سے بچنے کے لئے تعویذ اور حرز کو استفادہ کیا جاتا ہے۔ [23] شیعہ ائمہ نے بعض ان سے منقول دعاؤں میں اللہ تعالی سے نظر بد سے امان کی دعا مانگی ہے۔ صحیفہ سجادیہ کی تئیسویں دعا میں امام زین العابدینؑ ایک اسی چیز کو مانگتے ہیں۔[24]

شیعہ روایات میں نظر بد سے محفوظ رہنے کے لیے معوذتین، آیت الکرسی اور و ان یکاد کی آیت پڑھنے کی تاکید ہوئی ہے۔ امام رضاؑ کی ایک روایت کے مطابق نظر بد سے محفوظ رہنے کے لئے سورہ حمد اور معوذتین کی تلاوت کرنی چاہئے۔ [25] امام رضاؑ سے منقول ہے کہ نظر بد کو دفع کرنے کے لئے سورہ حمد، معوذتین و آیت الکرسی کو لکھ کر کسی شیشے میں رکھ دیں۔[26]

اسی طرح شیعہ ائمہؑ سے منقول ہے کہ جب کبھی کسی چیز کی وجہ سے آپ کو تعجب ہوجائے تو اللہ کا ذکر اپنی زبان پر جاری کرو۔ اور تکبیر، حوقلہ (لاحول و لاقوۃ الا باللہ العلی العظیم) اور ماشاءاللہ جیسی ذکر کو پڑھیں۔.[27]

نظر بد دور کرنے کی دعا

بعض دعاؤں کی کتابوں میں نظر بد کے لیے بعض دعائیں ذکر ہوئی ہیں [28] جن میں سے ایک دعا یہ ہے: {{حدیث|«::اللَّہمَّ رَبَّ مَطَرٍ حَابِسٍ وَ حَجَرٍ يَابِسٍ وَ لَيْلٍ دَامِسٍ وَ رَطْبٍ وَ يَابِسٍ رُدَّ عَيْنَ الْعَيْنِ عَلَيْہ فِي كَيْدِہ وَ نَحْرِہ وَ مَالِہ فَارْجِعِ الْبَصَرَ ہلْ تَرى‏ مِنْ فُطُورٍ ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ كَرَّتَيْنِ يَنْقَلِبْ إِلَيْكَ الْبَصَرُ خاسِئاً وَ هوَ حَسِيرٌ»[29]

عوامی عقیدہ

وان یکاد لکھا ہوا لاکٹ

نظر بد سے بچنے کے لیے مختلف کلچرز میں مختلف طریقے اپنائے جاتے ہیں ایشیا کے بعض علاقوں میں یہ تصور پایا جاتا ہے کہ ہرمل کا دھواں دینے اور مرغی کا انڈہ توڑنے سے نظر بد کا اثر ختم ہوتا ہے۔[30] ایران میں نظر بد سے بچنے کے لیے خوشی کی محفلوں میں ہرمل کا دھواں دیا جاتا ہے اور لوگوں کے آنے جانے والی جگہ اس کا دھواں دیا جاتا ہے۔[31] لیکن دینی مآخذ میں اس کی تائید میں کوئی چیز نہیں ملتی ہے۔ اسی لئے بعض اسے خرافات قرار دیتے ہیں۔

ایران میں لوگ نظر بد سے بچنے کے لئے و ان یکاد، آیت الکرسی اور چارقل کو لکھ کر فریم میں رکھتے ہیں یا کسی تختی یا کندہ کاری کر کے گھر کے دروازے کے اوپر نصب کرتے ہیں۔ گلے میں ڈالنے کیلیے و ان یکاد، آیت الکرسی، چارقل اور دعای شرف الشمس لکھی ہوئی تعویزیں اور زیورات آج کل عام ملتی ہیں اور اکثر وبیشتر اوقات انہیں نظر بد سے محفوظ رہنے کے لیے بچوں کے گلے میں یا کسی اور جگہ لٹکاتے ہیں۔

بعض لوگ اپنی قیمتی اور نفیس چیزوں کو ان لوگوں کی نظروں سے دور رکھتے ہیں جن کی نظر بد ہونے کا گمان ہو۔ اسی طرح عام لوگوں میں یہ بات ملتی ہے «چشم بد دور»[32]

بعض نیلے رنگ کے کڑے یا گلے کی ہار بھی نظر بد کے لیے استعمال کرتے ہیں اور اس بارے میں بعض مجتہدوں سے سوال بھی کیا ہے جس کے جواب میں کہا ہے کہ اس کی شرعی کوئی حیثیت نہیں ہے۔

نظر بد اور دیگر ادیان

نظر بد کا عقیدہ اسلام سے پہلے کے ادیان میں بھی پایا جاتا ہے۔ کہا گیا ہے کہ یہودیوں کا عقیدہ ہے کہ 99 فیصد موت نظر بد کی وجہ سے واقع ہوتی ہے۔[33] اعراب در جاہلیت کے دور میں اعرابی نظربد کو انسان کی صرف آنکھ کا اثر نہیں سمجھتے تھے اور اس کو بعض حیوانات کی نظر کا نتیجہ بھی قرار دیتے تھے۔ [34] اور نظربد سے محفوظ رہنے کے لیے وہ لوگ مختلف طریقے اپناتے تھے۔ مثلا جس کسی کے اونٹ کی تعداد 1000 تک پہنچتی تھی تو ایک بہترین اونٹ کی ایک آنکھ کو آندھی کرتے تھے۔[35] البتہ اعراب سے پہلے سامی اور آریایی ہندوں میں بھی یہ رسم پایی جاتی تھی۔ [36]

حوالہ جات

  1. دانشنامہ جہان اسلام، مدخل چشم‌زخم.
  2. ملاصدرا، شرح اصول کافی، ج۲، ص۴۴۲.
  3. بوی، ص۲۳۸.
  4. مجلسی، بحارالانوار، ۱۴۰۳ق، ج۷۰، ص۲۴۸.
  5. مجلسی، بحارالانوار، ۱۴۰۳ق، ج۷۰، ص۲۴۸
  6. سورہ قلم، آیہ ۵۱
  7. طوسی، التبیان، داراحیاء التراث العربی، ج۱۰، ص۹۱؛ طبرسی، مجمع البیان، ۱۳۷۲ش، ج۱۰، ص۵۱۲؛ رازی، مفاتیح الغیب، ۱۴۲۰ق، ج۳۰، ص۶۱۹؛ نک: مجلسی، بحارالانوار، ۱۴۰۳ق، ج۶۰، ص۱۲
  8. طوسی، التبیان، داراحیاء التراث العربی، ج۱۰، ص۹۱؛ طبرسی، مجمع البیان، ۱۳۷۲ش، ج۱۰، ص۵۱۲؛ رازی، مفاتیح الغیب، ۱۴۲۰ق، ج۳۰، ص۶۱۹؛ معرفت، شبہات و ردود، ۱۳۸۸ش، ص۲۳۱-۲۳۲.
  9. سورہ یوسف، آیہ۶۷.
  10. طبرسی، مجمع البیان، ۱۳۷۲ش، ج۵، ص۳۸۰؛ رازی، مفاتیح الغیب، ۱۴۲۰ق، ج۱۸، ص۴۸۱
  11. طوسی، التبیان، داراحیاء التراث العربی، ج۶، ص۱۶۷
  12. معرفت، شبہات و ردود، ۱۳۸۸ش، ص۲۳۰-۲۳۱
  13. ابن حنبل، ج۲، ص۳۱۹: بہ نقل از دانشنامہ جہان اسلام مدخل چشم‌زخم، مجلسی، بحارالانوار، ۱۴۰۳ق، ج۶۰، ص۹، ۲۵-۲۶
  14. مجلسی، بحارالانوار، ۱۴۰۳ق، ج۶۰، ص۲۵-۲۶.
  15. طوسی، شرح اشارات، ۱۴۰۳ق، ج۳، ص۴۱۷: منقول از دانشنامہ جہان اسلام مدخل چشم‌زخم
  16. ملاصدرا، شرح اصول کافی، ج۲، ص۴۴۲.
  17. سعدی، ص۱۳۹؛ نراقی، جامع السعادات، ۱۳۸۷ق، ج۳، ص۲۲۷.
  18. مراجعہ کریں: شریف رضی، المجازات النبویہ، ۱۳۸۰ش، ص۳۳۶-۳۳۴.
  19. مجلسی، بحارالانوار، ۱۴۰۳ق، ج۶۹، ص۳۴-۳۵
  20. مجلسی، بحارالانوار، ۱۴۰۳ق، ج۶۰، ص۲۵-۲۶
  21. مجلسی، بحارالانوار، ۱۴۰۳ق، ج۶۰، ص۲۵
  22. شوکانی، نیل الاوطار، ۱۹۷۳م، ج۹، ص۱۱۰.
  23. اسپونر، ص۳۱۱
  24. صحیفہ سجادیہ، ۱۳۷۶ق، ص۱۱۴.
  25. کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ق، ج۶، ص۵۰۳
  26. طبرسی، مکارم الاخلاق، ۱۴۱۲ق، ص۳۸۶؛ مجلسی، بحارالانوار، ۱۴۰۳ق، ج۶۰، ص۲۶.
  27. طبرسی، مکارم الاخلاق، ۱۴۱۲ق، ص۳۸۶؛ کفعمی، المصباح الکبیر، ۱۴۰۵ق، ص۲۲۰؛ مجلسی، بحارالانوار، ج۶۰، ص۲۶.
  28. طبرسی، مکارم اخلاق، ۱۴۱۲ق، ص۴۱۴-۴۱۵
  29. طبرسی، مکارم اخلاق، ۱۴۱۲ق، ص۴۱۴-۴۱۵؛ مجلسی، بحارالانوار، ج۹۲، ص۱۳۱.
  30. بلوکشایی، دایرۃ المعارف بزرگ اسلامی، ذیل مدخل چشم‌زخم.
  31. مشیری تفرشی، راہ‌ہای مختلف فع چشم‌زخم از نظر عامہ مردم، ۱۳۹۲ش
  32. مشیری تفرشی، راہ‌ہای مختلف فع چشم‌زخم از نظر عامہ مردم، ۱۳۹۲ش.
  33. واژہ‌ہای فرہنگ یہود، ۱۹۷۷م، ص۱۹۱-۱۹۲
  34. جاحظ، کتاب الحیوان، ۱۳۸۵-۱۳۸۹ق، ج۲، ص۱۳۱-۱۳۲
  35. جاحظ، کتاب الحیوان، ۱۳۸۵-۱۳۸۹ق، ج۱، ص۱۷
  36. وسترمارک، ص۵۵-۵۸.


مآخذ

  • ابن حنبل، مسندالامام احمد بن حنبل، بیروت، دارصادر.
  • ابن سینا، الاشارات و التنبیہات مع الشرح لنصرالدین طوسی و شرح الشرح لقطب الدین رازی، تہران، ۱۴۰۳ق.
  • امام سجاد، الصحیفہ السجادیہ، قم، دفتر نشر الہادی، ۱۳۷۶ق.
  • بلوکشاہی، علی، دائر‌ۃالمعارف بزرگ اسلامی.
  • جاحظ، عمرو بن بحر، کتاب الحیوان، چاپ عبدالسلام محمد ہارون، مصر، ۱۳۸۵-۱۳۸۹ق/۱۹۶۵-۱۹۶۹م.
  • حییم شختر و دیگران، واژہ‌ہای فرہنگ یہود، ترجمہ: منشہ امیر و دیگران، تال‌آویو، انجمن جوامع یہودی، ۱۹۷۷م.
  • سعدی، مصلح بن عبداللہ، بوستان سعدی، چاپ غلامحسین یوسفی، تہران، ۱۳۶۳ش.
  • شریف رضی، محمد بن حسن، المجازات النبویہ،قم، درالحدیث، ۱۴۲۲ق-۱۳۸۰ش.
  • شوکانی، محمد، نیل الاوطار من احادیث سیدالاخیار، شرح منتقی الاخبار، بیروت، ۱۹۷۳م.
  • طبرسی، حسن بن فضل، مکارم الاخلاق، قم، الشریف الرضی، ۱۴۱۲ق/۱۳۷۰ش.
  • طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، مقدمہ: محمدجواد بلاغی، تہران، انتشارات ناصر خسرو، ۱۳۷۲ش.
  • طوسی، محمد بن حسن، التبیان فی تفسیر القرآن، تحقیق: احمد قصیر عاملی، داراحیاء التراث العربی، بیروت.
  • فخر رازی، محمد بن عمر، مفاتیح الغیب، داراحیاء العربی، بیروت، ۱۴۲۰ق.
  • کفعمی، ابراہیم بن علی، المصباح الکبیر، قم، دارالرضی، ۱۴۰۵ق.
  • کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، تصحیح: علی اکبر غفاری و محمد آخوندی، تہران، دارالکتب الاربعہ، ۱۴۰۷ق.
  • مجلسی، محمدباقر، بحارالانوار، داراحیاء التراث العربی، بیروت، ۱۴۰۳ق.
  • مشیری تفرشی، منیژہ، راہ‌ہای مختلف فع چشم‌زخم از نظر عامہ مردم، روزنامہ اطلاعات ۳۱ فروردین ۱۳۹۲ شمارہ ۲۵۵۷۰‏.
  • معرفت، محمد ہادی، شبہات و ردود حول القرآن الکریم، قم، مؤسسۃ التہمید، ۱۳۸۸ش-۱۴۳۰ق.
  • ملاصدار، محمد بن ابراہیم، شرح اصول الکافی، تصحیح: محمد خواجوی، تہران، مؤسسہ مطالعات و تحقیقات فرہنگی، ۱۳۸۳۳ش.
  • نراقی، محمدمہدی، جامع السعادات، نجف، چاپ: محمد کلانتر، ۱۹۶۷م/۱۳۸۷ق.(افست بی‌تا.)
  • Bess Allen Donaldson, The wild rue: a study of Muhammadan magic and folklore in Iran, London 1938, repr. New York 1973.
  • Edward Westermarck, Pagan survivals in Mohammedan civilisation, Amsterdam 1973.

بیرونی روابط