معوذتین

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

مُعَوِّذَتَیْن سورہ فلق اور سورہ ناس کو کہتے ہیں اور یہ دونوں سورتیں قل اعوذ سے شروع ہوتی ہیں. ان دونوں سورتوں کو مُشَقْشَقَتَیْن بھی کہتے ہیں۔

نزول

عقبہ بن عامر نے پیامبر(ص) سے نقل کیا ہے کہ یہ دونوں سورتیں باہم ایک جگہ نازل ہوئی ہیں ۔رسول اللہ نے فرمایا :آج رات دو سورتیں یعنی معوذتین‌ مجھ پر نازل کیں کہ جن کی مثال میں نہیں دیکھی ہے ۔ [1]. سیوطی بھی اسی کا معتقد ہے اور اس نے کہا : یہ دونوں سورے مدنی ہیں اور یہ لبید بن اعصم کے سحر کے قصے میں نازل ہوئیں جیسا کہ احمد بن حسین بیہقی نے دلائل النبوة و معرفۃ أحوال صاحب الشریعۃنامی کتاب میں لکھا ہے ۔[2].

معوذتین کا دعا ہونا

عبدالله‌ بن مسعود نے معوذتین کو قرآن سے حذف کیا تھا اور وہ کہتا تھا :غیر قران کو قرآن سے مخلوط نہ کریں۔اور معوذتین قرآن کا حصہ نہیں ہیں بلکہ یہ دعا ہیں رسول اللہ نے حکم دیا تھا کہ ان دونوں کے ساتھ خدا سے پناہ حاصل کی جائے ۔ [3] ابن مسعود کی یہ نظر کسی دوسرے صحابی سے منقول نہیں ہے اور یہ صرف اسی سے منقول ہے

سبب اور شان نزول

علی بن ابراہیم قمی اپنی تفسیر میں امام صادق (ع) اور سید ہاشم بحرانی تفسیر برہان میں فضیل بن یسار کی امام باقر (ع) سے روایت نقل کرتا ہے: رسول خدا مریض ہوئے اور بخار نے شدت پیدا کر لی تو آپ نے اسکا شکوہ کیا ۔جبرئیل اور (میکائیل نازل ہوئے ،جبرائیل آپ کے سرہانے بیٹھ کر سور فلق اور میکائیل نے پائینتی کی جانب بیٹھ کر سورہ ناس کے ذریعے شفا کی دعا کی ۔[4]

مُشَقشَقتین

شقشقہ ایسے کلام کو کہتے ہیں جو حساس موقع پر انسان سے صادر ہوتا ہے ۔ چونکہ انسان خطرے کے احساس کے موقع پر اسے پڑھتا ہے تا کہ اس کے ذریعے خطرے سے نجات حاصل کرے اسی مناسبت سے مشقشقہ کہتے ہیں اور ان دونوں سورتوں کو مجموعی طور پر مشقشقتین کہتے ہیں ۔[5]

حوالہ جات

  1. تفسیر ابوالفتوح رازی، ج۲۰، ص۴۷۱ بحوالہ دانشنامہ قرآن و قرآن پژوہی، ج۲، ص۲۱۲۳.
  2. الاتقان فی علوم القرآن، ج۱، ص۱۴و۳۷ بحوالہ دانشنامہ قرآن و قرآن پژوہی، ج۲، ص۲۱۲۳.
  3. الدر المنثور، ج۶، سوره فلق و ناس بحوالہ دانشنامہ قرآن و قرآن پژوہی، ج۲، ص۲۱۲۳.
  4. تفسیر قمی، ج۲، ص۴۵۰؛ تفسیر البرہان، ج۴، ص۵۳۱ نقل از دانشنامہ قرآن و قرآن پژوہی، ج۲، ص۲۱۲۳.
  5. نک: دانشنامہ قرآن، ج۲، ۱۲۷۱-۱۲۷۲


مآخذ

  • دانشنامہ قرآن و قرآن پژوہی، ج۲، بہ کوشش بہاء الدین خرمشاہی، تہران: دوستان-ناہید، ۱۳۷۷.