معالم المدرستین (کتاب)

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
معالم المدرستین
کتاب معالم المدرستین.jpeg
مؤلف: سید مرتضی عسکری
زبان: عربی
موضوع: مکتب اہل بیت اور مکتب خلفاء کا تقابل
تعداد مجلد: 3
ترجمہ
ترجمہ: فارسی، فرانسیی اور پشتو


مَعالِمُ المَدرَسَتَین عربی زبان میں لکھی گئی ایک کتاب ہے جس میں سید مرتضی عسکری نے مذہب شیعہ امامیہ اور اہل سنت کا تقابلی جائزہ لیا ہے۔ اس کتاب کا اصلی مقصد مکتب خلفا پر مکتب اہل بیت کی برتری ثابت کرنا قرار دیا ہے۔

یہ کتاب تین جلدوں پر مشتمل ہے؛ جلد اول میں مکتب اہل بیت اور مکتب خلفا کے نظریات کو بیان کئے ہیں۔ دوسری جلد میں دونوں مکاتب فکر کے معتبر دینی منابع کی بررسی اور چھان بین کی گئی ہے اور تیسری جلد میں قیام امام حسینؑ کی تشریح کے ضمن میں اس کے علل و اسباب اور نتائج نیز دونوں مکاتب فکر میں نقل حدیث کے طریقہ کار کا تقابلی جائزہ لیا ہے۔

معالم المدرستین فارسی، فرانسیسی اور پشتو زبان میں بھی ترجمہ ہوا ہے۔ مذکورہ کتاب کے اہم نکات میں سے ایک سیف بن عمر کی شخصیت کا تعارف ہے جس کے بارے میں مصنف کا خیال ہے کہ اس شخص نے بہت ساری جعلی احادیث نقل کئے ہیں اور ان کی نقل کردہ احادیث کی سند میں 150 جعلی صحابہ موجود ہیں۔

مصنف

تفصیلی مضمون: سید مرتضی عسکری

کتاب معالم المدرستین سید مرتضی عسکری کی تصنیف ہے۔ آپ بغداد، قم، تہران اور دزفول میں دانشکدہ اصول دین کی تأسیس،[1] اور سید محمدباقر صدر اور سید مہدی حکیم کے ساتھ حزب الدعوہ کی تشکیل[2] کے علاوہ بہت سے اہم علمی کے مالک بھی ہیں جن میں عبداللہ بن سبأ و اساطیر اخری (کتاب)عبد اللہ بن سبأ و اساطیر اخروی، ایک سو پچاس جعلی اصحاب اور أحادیث أم المؤمنین عائشۃ شامل ہیں۔ آپ کی شہرت تاریخ اور حدیث کی تحقیقات میں نئے طریقہ اپنانے نیز شیعہ مبانی کی تبیین اور اس کے دفاع کی وجہ سے ہے۔ [3] آپ کے علمی آثار تعصب اور جانب داری سے ہٹ کر پہلے درجے کے منابع اور مصادر سے مستند ہوتی ہیں۔[4]

مضامین

معالم المدرستین مکتب اہل بیت اور مکتب خلفا کے تقابلی جائزے پر مشتمل ہے اور اس حوالے سے دونوں مکاتب فکر کے اہم دینی مسائل کو زیر بحث لائی گئی ہے۔[5] کتاب کا مقصد مکتب خلفا پر مکتب اہل بیت کی برتری ثابت کرنا بیان ہوا ہے۔[6]

یہ کتاب ایک مفصل مقدمے پر مشتمل ہے جس میں دونوں مکاتب فکر کے بعض اختلافی کے بارے میں بحث کی گئی ہے۔[7] اس حصے میں جہاں دونوں مکاتب کے اختلافات کا ذکر کیا گیا ہے وہاں ان اختلافات کے علل و اسباب بھی بیان ہوئے ہیں۔[8] صفات خدا، شفاعت انبیاء اور ان سے توسل، انبیا کے مزار پر زیارتگاہ بنانا اور انہیں عبادتگاہ قرار دینا اور مردوں پر گریہ کرنے جیسے مسائل میں دونوں مکاتب فکر کے اختلافات اس کتاب میں مورد بحث بعض موضوعات میں سے ہیں۔[9]

صحابہ اور امامت، دونوں مکاتب کی نگاہ میں

مقدمے کے بعد اس کتاب کی پہلی جلد میں صحابہ اور امامت کے بارے میں دو فصل میں بحث کی گئی ہے۔[10] پہلی فصل میں دونوں مکاتب فکر کے نقطہ نگاہ صحابہ کی تعریف اور ان کی عدالت بیان کرتے ہوئے[11] صحابہ سے متعلق اہل سنت کی تعریف کا تنقیدی جائزہ لیا گیا ہے۔[12] دوسری فصل کے مطالب کچھ یوں ہیں: امامت اور خلیفہ کی تعیین کیلئے بنائی گئی چھ رکنی کمیٹی،[13] مکتب خلفا اور مکتب اہل بیت میں خلافت الہیہ،[14] عصمت اہل بیت،[15] پیغمبر اکرمؐ کی جانب سے ولی امر کی تعیین،[16] امام علیؑ کیلئے لقب "وصی" کا مشہور ہونا[17]، امام علیؑ کے فضائل کا چھپانا، معاویہ اور بنی امیہ کے دوسرے خلفاء کے دور میں امام علی کی شأن میں سب و شتم۔[18]

علامہ عسکری نے اس کتاب کی دوسری فصل میں پیغمبر اکرمؐ کی سنت اور اہل بیت اور اصحاب پیغمبر کی سیرت کو بیان کرنے والی احادیث کو چھپانے اور اسے تحریف کرنے کے دس طریقہ کار کی طرف اشارہ کیا ہے؛[19] من جملہ وہ طریقے یہ ہیں: سنت پیغمبر اکرم کی حکایت کرنے والی احادیث کے بعض حصوں کو حذف کرنا اور انہیں مبہم کلمات میں تبدیل کرنا،[20] منابع حدیثی سے اس طرح کی تمام احادیث کا حذف کرنا،[21] احادیث کے معنا میں تأویل،[22] سنت پیغمبر اکرمؐ پر مشتمل احایث کی کتابت سے ممانعت،[23] کتابوں کا جلانا[24] اور جعل احادیث۔[25]

شریعت اسلام کے منابع

معالم المدرستین کی دوسری جلد میں مکتب خلفا اور مکتب اہل بیت میں دین کے معتبر منابع کے بارے میں بحث کی گئی ہے۔[26] اس جلد کی ابتدا میں قرآن، سنت، بدعت، فقہ اور اجتہاد وغیرہ کی دونوں مکاتب فکر کے نقطہ نگاہ سے توضیح دی گئی ہے۔[27] اس جلد میں مورد بحث واقع ہونے والے دوسرے موارد میں : خلفا کے دور میں پیغمبر اکرمؐ کی احادیث کی کتابت اور تدوین سے منع کرنا،[28] مکتب خلفا کی نگاہ میں اجتہاد کی حیثیت اور بعض صحابہ کا نام جنہوں نے خود کو مجتہد کہا ہے[29] اسی طرح زکات، صدقہ، خمس و متعہ کے بارے میں ابوبکر اور عمر کی بعض اجتہادات اور اہل سنت خاص کر ابوحنیفہ کا طریقہ اجتہاد[30] اور اس کے مقابلے میں اہل بیتؑ کے طریقہ اجتہاد کا دفاع جو قرآن اور پیغمبر اکرمؐ کی سنت پر متکی ہیں۔[31] اس جلد کے آخر میں خلفا کے بعض اجتہادات کے نمونے ذکر کئے ہیں کہ سید مرتضی عسکری کے مطابق یہ تمام اجتہادات نص کتاب و سنت کے برخلاف ہیں۔[32]

قیام امام حسین اور اس کے نتائج

معالم المدرستین کی تیسری جلد دو حصوں پر مشتمل ہے؛ امام حسینؑ کا قیام سنت پیغمبر اکرمؐ سے انحراف کی وجہ سے عمل میں آیا[33] تاکہ سنت پیغمبر اکرمؐ کو اسلامی معاشرے میں اہل بیتؑ میں سے ایک فرد کے ذریعے دوبارہ احیاء کیا جا سکے۔[34] واقعہ عاشورا اور اس کے علل و اسباب کی تفصیل اور اس کے نتیجے میں پیش آنے والے واقعات کہ من جملہ اسیران کربلا کا کوفہ اور شام لے جایا جانا اور امام سجادؑ کا شام میں خطبہ نیز قیام عاشورا کے بعد مکہ اور مدینہ میں رونما ہونے والی تحریکیں وغیرہ پر اس جلد میں سیر حاصل بحث ہوئی ہے۔[35] اس کے بعد مکتب اہل بیتؑ میں نقل حدیث کے طریقہ کار کی توضیح دیتے ہوئے کتب احادیث کی تدوین اور نشر و اشاعت میں مکتب خلفا اور مکتب اہل بیت کے طریقہ کار کی وضاحت کی گئی ہے۔[36]

مضامین اور نظریات

معالم المدرستین میں علامہ عسکری کے مطایق خلفا کے دور میں احادیث کی نشر و اشاعت ممنوع تھی؛ لیکن دوسری طرف سے اسرائیلیات کی نشر و اشاعت پر کوئی پابندی نہیں تھی۔ انہوں نے اس کتاب میں اہل سنت کی حدیث نگاری کے طریقہ کار پر تنقید کرنے کے ساتھ شیعہ حدیث نگاری میں بھی موجود کئی ایک اشتباہات کا ذکر کرتے ہیں۔ اس کتاب کا ایک عمدہ حصہ سیف بن عمر کے بارے میں ہے جن کے بارے میں علامہ عسکری کا خیال ہے کہ ان سے بہت ساری جعلی احادیث نقل ہوئی ہیں اور ان سے منقول احادیث کی سند میں 150 جعلی صحابہ موجود ہیں۔ معالم المدرستین میں زیر بحث بعض مطالب درج ذیل ہیں:

حدیث‌ شناسی

کتاب معالم المدرستین میں مطرح ہونے والے مباحث میں سے ایک اہم بحث حدیث شناسی خاص کر سنت کی حجیت سنت اور حدیث کی کتابت ہے۔[37] اس بنا پر علامہ عسکری سنت کی حجیت پر یقین رکھتے ہوئے سنت تک پہنچنے کا واحد راستہ پیغمبر اکرمؐ اور آپؐ کی اہل بیتؑ کی احادیث قرار دیتے ہیں۔[38] علامہ عسکری بعض اہل سنت مفکرین کے برخلاف یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ خلفاء کے دور میں منع تدوین حدیث مقطعی اور صرف حدیث کی کتابت تک محدود نہیں بلکہ نقل حدیث اور کتاب دونوں ممنوع تھی۔[39] علامہ عسکری کے مطابق خلفا نے ایک طرف پیغمبر اکرمؐ کی احادث کو نقل اور تدوین کرنے پر پابندی لگادی لیکن دوسری طرف اسرائیلیات کی نشر و اشاعت نہ فقط ممنوع نہیں تھی بلکہ وہ خود ان کے ہمراہ تھے۔[40]

علامہ عسکری چونکہ اپنی اکثر کتابوں میں شیعہ عقائد کا دفاع کرتے ہیں تو اہل سنت کے معتبر منابع سے استنادہ کرتے ہوئے یہ کام کرتے ہیں۔[41] لذا کتاب معالم المدرستین میں مورد استفادہ 2500 منابع میں سے صرف 5 فیصد شیعہ منابع ہیں بقیہ سب کے سب اہل سنت منابع سے استفادہ کئے ہیں۔[42]

شیعہ جوامع حدیث پر تنقید

معالم المدرستین میں شیعہ مجامع حدیث کی نقل حدیث کے طریقہ کار پر بھی تنقید کی گئی ہے۔[43] اس سلسلے میں بعض ایسے موارد کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو نسخہ برداری کے وقت مجامع حدیثی میں داخل ہوگئے ہیں۔ اس سلسلے میں معروف کتاب اصول کافی سے ایک حدیث نمونے کے طور پر پیش کرتے ہیں۔[44]

جعلی صحابہ

کتاب معالم المدرستین میں علامہ عسکری پیمبر اکرمؐ کی احادیث کو چھپانے اور ان میں تحریف کرنے کے طریقوں میں سے ایک جعل حدیث کو قرار دیتے ہیں۔ اس سلسلے میں آپ سیف بن عمر تمیمی کی مثال دیتے ہیں انہوں نے جھوٹی اور جعلی احادیث کو نقل کرنے کے علاوہ اس کی نقل کردہ احادیث کی سند میں 150 جعلی صحابہ کا ذکر میں ملتے ہیں۔ آپ کے مطابق سیف بن عمر کی احادیث 70 سے زیادہ اہم اسلامی منابع میں موجود ہیں۔ اس کی واضح مثال محمد بن جریر بن یزید طبری کی تحریر ہے جس میں دوسروں سے زیادہ سیف کی جعلی احادیث کو نقل کئے ہیں۔[45] سیف بن عمر کی نشاندہی اور ان کی شخصیت کا تعارف علامہ عسکری کا ایک اہم کارنامہ ہے جو علم رجال میں آپ کی گہرے مطالعے کی نشاندہی کرتا ہے۔[46]

اقتباسات

کتاب معالم المدرستین مختلف ناشروں کے توسط سے متعدد بار نشر ہونے کے علاوہ[47] دوسرے شخصیات کی علمی آثار میں بھی مورد استفادہ واقع ہوئی ہے من جملہ ان میں:

  • مقتل امام حسینؑ: یہ کتاب شیعوں کے تیسرے امامؑ اور آپ کے اصحاب کی زندگی کے بارے میں ہیں جس میں معاویہ کی موت اور یزید کے برسر اقتدار آنے سے لے کر واقعہ عاشورا اور امام حسینؑ کی شہادت کے بعد رونما ہونے والے واقعات کا بیان کی گئی ہیں۔[48] یہ کتابْ سنہ 1391ش میں محمدعلی جاودان کی زیر نگرانی،[49] 252 صفحات میں نشر ہوئی ہے۔[50]
  • وحی قرآنی اور وحی بیانی، تحریر علامہ سید مرتضی عسکری: یہ کتاب مہدیہ سادات حسین‌زادہ کے توسط سے کتاب معالم المدرستین اور "بر گسترہ کتاب و سنت" سے اقتباس اور ترجمہ شدہ ہے جو سنہ1388ش میں دانشکدہ اصول دین اور موسسہ علمی فرہنگی علامہ عسکری نے نشر کی ہیں۔[51]
بازشناسی دو مکتب.jpg

نسخہ جات

کتاب معالم المدرستین ایران اور لبنان میں متعدد بار نشر ہوئی ہے؛[52] بنیاد بعثت نے سنہ 1363ش سے 1365ش کے دوران اس کتاب کو تین جلدوں میں نشر کی ہیں۔ اسی طرح مجمع جہانی اہل بیت نے سنہ 1382ش میں اسے تین جلدوں میں نشر کی ہیں اس کے علاوہ دانشکدہ اصول دین نیز اسے نشر کرنے والوں میں سے ہیں۔

ترجمہ

کتاب معالم المدرستین کا فارسی، فرانسیسی اور پشتو زبان میں ترجمہ ہوا ہے۔

حوالہ جات

  1. انصاری، «رحلت علامہ عسکری»، ص۵۸۲۔
  2. خسروشاہی، زندگی و مبارزات۔۔۔، ۱۳۹۱ش، ص۱۹۔
  3. خسروشاہی، زندگی و مبارزات۔۔۔، ۱۳۹۱ش، ص۱۴۔
  4. حسین‌زادہ، «سیرہ بزرگان»، ص۷۰۔
  5. راد، «روش‌شناسی آرای حدیثی علامہ عسکری۔۔۔»، ص۱۶۶۔
  6. خسروشاہی، زندگی و مبارزات۔۔۔، ۱۳۹۱ش، ص۴۴و۴۵۔
  7. عسکری، معالم المدرستین، ۱۴۲۶ق، ج۱، ص۱۳-۱۰۰۔
  8. عسکری، معالم المدرستین، ۱۴۲۶ق، ج۱، ص۱۱و۳۸و۵۱و۷۸و۹۱-۹۵۔
  9. عسکری، معالم المدرستین، ۱۴۲۶ق، ج۱، ص۱۴و۵۷۹-۵۸۱۔
  10. عسکری، معالم المدرستین، ۱۴۲۶ق، ج۱، ص۱۱۔
  11. عسکری، معالم المدرستین، ۱۴۲۶ق، ج۱، ص۱۱۳-۱۳۴۔
  12. عسکری، معالم المدرستین، ۱۴۲۶ق، ج۱، ص۱۱۰و۱۱۳-۱۱۸و۱۱۹-۱۲۹۔
  13. عسکری، معالم المدرستین، ۱۴۲۶ق، ج۱، ص۱۳۶و۲۵۷۔
  14. عسکری، معالم المدرستین، ۱۴۲۶ق، ج۱، ص۱۳۶و۲۵۷۔
  15. عسکری، معالم المدرستین، ۱۴۲۶ق، ج۱، ص۲۶۲-۲۶۸۔
  16. عسکری، معالم المدرستین، ۱۴۲۶ق، ج۱، ص۲۶۹-۳۰۴۔
  17. عسکری، معالم المدرستین، ۱۴۲۶ق، ج۱، ص۳۰۴-۳۲۴۔
  18. عسکری، معالم المدرستین، ۱۴۲۶ق، ج۱، ص۳۲۵-۳۹۲۔
  19. عسکری، معالم المدرستین، ۱۴۲۶ق، ج۱، ص۳۹۳-۴۴۴۔
  20. عسکری، معالم المدرستین، ۱۴۲۶ق، ج۱، ص۳۹۵-۳۹۸۔
  21. عسکری، معالم المدرستین، ۱۴۲۶ق، ج۱، ص۳۹۸-۳۹۹۔
  22. عسکری، معالم المدرستین، ۱۴۲۶ق، ج۱، ص۳۹۹-۴۰۵۔
  23. عسکری، معالم المدرستین، ۱۴۲۶ق، ج۱، ص۴۱۱-۴۱۳۔
  24. عسکری، معالم المدرستین، ۱۴۲۶ق، ج۱، ص۴۲۲-۴۲۵۔
  25. عسکری، معالم المدرستین، ۱۴۲۶ق، ج۱، ص۴۲۶-۴۴۵۔
  26. عسکری، معالم المدرستین، ۱۴۲۶ق، ج۲، ص۹۔
  27. عسکری، معالم المدرستین، ۱۴۲۶ق، ج۲، ص۹و۱۵-۳۲۔
  28. عسکری، معالم المدرستین، ۱۴۲۶ق، ج۲، ص۴۱-۷۴۔
  29. عسکری، معالم المدرستین، ۱۴۲۶ق، ج۲، ص۷۵-۹۷۔
  30. عسکری، معالم المدرستین، ۱۴۲۶ق، ج۲، ص۹۸-۳۷۳۔
  31. عسکری، معالم المدرستین، ۱۴۲۶ق، ج۲، ص۳۸۵-۴۴۹۔
  32. عسکری، معالم المدرستین، ۱۴۲۶ق، ج۲، ص۴۷۰-۴۷۷۔
  33. عسکری، معالم المدرستین، ۱۴۲۶ق، ج۳، ص۷۔
  34. عسکری، معالم المدرستین، ۱۴۲۶ق، ج۳، ص۲۴۵۔
  35. عسکری، معالم المدرستین، ۱۴۲۶ق، ج۳، ص۷-۲۴۳۔
  36. عسکری، معالم المدرستین، ۱۴۲۶ق، ج۳، ص۲۴۵-۳۵۱۔
  37. راد، «روش‌شناسی آرای حدیثی علامہ عسکری۔۔۔»، ص۱۶۶۔
  38. راد، «روش‌شناسی آرای حدیثی علامہ عسکری۔۔۔»، ص۱۶۶و۱۶۷؛ عسکری، معالم المدرستین، ۱۴۲۶ق، ج۲، ص۵۷و۵۸۔
  39. راد، «روش‌شناسی آرای حدیثی علامہ عسکری۔۔۔»، ص۱۶۷؛ عسکری، معالم المدرستین، ۱۴۲۶ق، ج۲، ص۴۷۔
  40. راد، «روش‌شناسی آرای حدیثی علامہ عسکری۔۔۔»، ص۱۶۹؛ عسکری، معالم المدرستین، ۱۴۲۶ق، ج۲، ص۵۷و۵۸۔
  41. راد، «روش‌شناسی آرای حدیثی علامہ عسکری۔۔۔»، ص۱۸۰۔
  42. راد، «روش‌شناسی آرای حدیثی علامہ عسکری۔۔۔»، ص۱۸۰۔
  43. راد، «روش‌شناسی آرای حدیثی علامہ عسکری۔۔۔»، ص۱۷۸۔
  44. راد، «روش‌شناسی آرای حدیثی علامہ عسکری۔۔۔»، ص۱۷۸و۱۷۹؛ عسکری، معالم المدرستین، ۱۴۲۶ق، ج۳، ص۳۱۵-۳۲۱۔
  45. عسکری، معالم المدرستین، ۱۴۲۶ق، ج۱، ص۴۲۶-۴۲۹۔
  46. راد، «روش‌شناسی آرای حدیثی علامہ عسکری۔۔۔»، ص۱۷۷۔
  47. «معالم المدرستین»۔
  48. «استناد بہ منابع کہن از ویژگیہای۔۔۔»۔
  49. «استناد بہ منابع کہن از ویژگیہای۔۔۔»۔
  50. «مقتل برگرفتہ از کتاب معالم المدرستین علامہ عسکری۔۔۔»۔
  51. «وحی قرآنی و وحی بیانی علامہ سید مرتضی عسکری»۔
  52. «معالم المدرستین»؛ «معالم المدرستین»۔


مآخذ

  • «استناد بہ منابع کہن از ویژگیہای مقتل امام حسین(ع) علامہ عسکری است»، خبرگزاری مہر، تاریخ درج مطلب: ۱۸ مہر ۱۳۹۵ش، تاریخ بازدید: ۲۰ دی ۱۳۹۶ش۔
  • انصاری، ناصرالدین، «رحلت علامہ عسکری»، در درسہایی از مکتب اسلام، ش۸، سال چہل و ہفتم، آبان ۱۳۸۶ش۔
  • «بازشناسی دو مکتب»، سایت سازمان اسناد و کتابخانہ ملی جمہوری اسلامی ایران، تاریخ بازدید: ۲۰ دی ۱۳۹۶ش۔
  • «ترجمہ معالم المدرستین»، سایت سازمان اسناد و کتابخانہ ملی جمہوری اسلامی ایران، تاریخ بازدید: ۲۰ دی ۱۳۹۶ش۔
  • «پژوہش‌ و بررسی تحلیلی‌ مبانی‌ اندیشہ‌ہای‌ اسلامی‌ در دیدگاہ‌ دو مکتب‌ (ترجمہ‌ کتاب‌ معالم‌المدرستین‌)»، سایت سازمان اسناد و کتابخانہ ملی جمہوری اسلامی ایران، تاریخ بازدید: ۲۰ دی ۱۳۹۶ش۔
  • «دو مکتب در اسلام»، سایت سازمان اسناد و کتابخانہ ملی جمہوری اسلامی ایران، تاریخ بازدید: ۲۰ دی ۱۳۹۶ش۔
  • حسین‌زادہ، مہدیہ‌سادات، «سیرہ بزرگان: علامہ عسکری صفحہ‌ای از صفحات زندگینامہ علامہ سید مرتضی عسکری(رہ)»، در رہنامہ پژوہش، ش۱، پاییز ۱۳۸۸ش۔
  • خسروشاہی، سید ہادی، خاطرات مستند سید ہادی خسروشاہی از: زندگی و مبارزات آیت اللہ علامہ سید مرتضی عسکری، قم، کلبہ شروق، ۱۳۹۱ش۔
  • عسکری، سید مرتضی، معالم المدرستین، [قم]، المجمع العالمی لأہل البیت، ۱۴۲۶ق۔
  • «معالم المدرستین»، در سایت سازمان اسناد و کتابخانہ ملی جمہوری اسلامی ایران، تاریخ بازدید: ۲۰ دی ۱۳۹۶ش۔
  • «معالم المدرستین»، در سایت المکتبۃ الشیعیۃ، تاریخ بازدید: ۷ مہر ۱۳۹۷ش۔
  • «مقتل برگرفتہ از کتاب معالم المدرستین علامہ عسگری منتشر شد»، سایت عقیق، تاریخ درج مطلب: ۱۲ آذر ۱۳۹۱ش، تاریخ بازدید: ۲۰ دی ۱۳۹۶ش۔
  • «م‍ع‍ال‍م‌ ال‍م‍درس‍ت‍ی‍ن‌۔ ف‍ران‍س‍ہ»، در سایت سازمان اسناد و کتابخانہ‌ ملی جمہوری اسلامی ایران، تاریخ بازدید: ۲۰ دی ۱۳۹۶ش۔
  • «وحی قرآنی و وحی بیانی علامہ سید مرتضی عسکری»، سایت سازمان اسناد و کتابخانہ ملی جمہوری اسلامی ایران، تاریخ بازدید: ۲۰ دی ۱۳۹۶ش۔