مسقط بن زہیر تغلبی

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
مسقط بن زہیر تغلبی
ذاتی کوائف
مکمل نام مسقط بن زہیر بن حرث تغلبی
وجہ شہرت امام علی، امام حسن و امام حسین (ع) کے صحابی، شہداء کربلا
مدفن کربلا (عراق)
نمایاں کارنامے
جنگوں میں شرکت صفین، جمل، نہروان
دیگر سرگرمیاں


مسقط بن زہیر بن حرث تغلبی، امام علی علیہ السلام کے اصحاب میں سے ہیں انہوں نے صفین، جمل اور نہروان تینوں جنگوں میں آپ کی رکاب میں جنگ میں شرکت کی ہے۔ ان کا شمار کوفہ میں موجود امام حسن علیہ السلام کے سپاہیوں میں بھی ہوتا ہے۔[1]

امام حسین علیہ السلام کے کربلا میں وارد ہونے کے بعد وہ اپنے دو بھائیوں کردوس بن زہیر تغلبی اور قاسط بن زہیر تغلبی کے ہمراہ شب میں امام کے لشکر سے ملحق ہو گئے اور روز عاشورا شہادت کے مرتبہ پر فائز ہوئے۔ نقل ہوا ہے کہ ان کا شمار کربلا کے ان شہداء میں ہوتا ہے جو عمر بن سعد کی فوج کے پہلے حملے میں شہید ہوئے ہیں۔[2]

زیارت الشہداء میں اس طرح سے نقل ہوا ہے: السلام علی قاسط و کردوس ابنی الزہیر التغلبیین۔ البتہ اس میں مسقط کا نام ذکر نہیں ہوا ہے۔[3]

حوالہ جات

  1. سماوی، ابصار العین، ۱۴۱۹ق، ص۲۰۰
  2. سماوی، ابصار العین، ۱۴۱۹ق، ص۲۰۰
  3. ابن مشهدی، المزار الکبیر، ۱۴۱۹ق، ص۴۹۴؛ شهید اول، محمد بن مکی، ۱۴۱۰ق، ص۱۵۳؛ مجلسی، بحار الانوار، ۱۴۰۳ق، ج۹۸، ص۲۷۳


منابع

  • ابن مشہدی، محمد بن جعفر، المزار الکبیر، تصحیح جواد قیومی اصفہانی، قم، دفتر انتشارات اسلامی وابستہ بہ جامعہ مدرسین حوزه علمیہ قم، چاپ اول، ۱۴۱۹ ق
  • سماوی، محمد بن طاہر، إبصار العین فی أنصار الحسین علیہ السلام، قم، انتشارات دانشگاه شہید محلاتی، چاپ اول، ۱۴۱۹ ق
  • شہید اول، محمد بن مکی، المزار، تحقیق مدرسہ امام مہدی علیہ السلام، محمد باقر موحد ابطحی اصفہانی، قم، مدرسہ امام مہدی علیہ السلام، چاپ اول، ۱۴۱۰ ق
  • مجلسی، محمد باقر، بحار الأنوار، بیروت،‌ دار إحیاء التراث العربی، چاپ دوم، ۱۴۰۳ ق