مروان بن حکم

ویکی شیعہ سے
(مروان بن الحکم سے رجوع مکرر)
مروان بن حکم
کوائف
ناممروان بن حکم بن ابی العاص بن امیہ
لقبخیط باطل
والدحکم بن ابی العاص
اولادعبد الملک
حکومت
سمتچوتھا اموی و پہلا مروانی خلیفہ
سلسلہبنی امیہ
آغازسنہ 64 ھ
انجامسنہ 64 ھ
قبل ازعبد الملک بن مروان
بعد ازمعاویہ بن یزید


مروان بن حکم بن ابی العاص بن امیہ (2۔65 ھ) اموی حکومت کا چوتھا و مروانی سلسلہ کا پہلا خلیفہ تھا۔

مروان کو بچپن میں ان کے باپ حکم بن ابی‌ العاص کے ہمراہ طائف جلا وطن کیا گیا۔ پھر تیسرے خلیفہ عثمان بن عفان کے توسط سے مدینہ واپس آیا اور خلافتی مشینری میں مشغول ہو گیا۔ اس نے جنگ جمل و صفین میں حضرت امام علی ؑ کے مقابل شرکت کی نیز امام حسن ؑ کے جسد مبارک کو رسول اللہ کے کنارے دفن ہونے میں رکاوٹ بنا۔ اسی طرح یزید کی بیعت نہ کرنے پر امام حسین ؑ کے ساتھ مجادلہ کیا۔ مروان معاویہ بن یزید کے خلافت سے کنارہ کشی اختیار کرنے کے بعد خلافت تک پہنچا اور دس مہینے خلافت کرنے کے بعد سنہ 65 ہجری میں اپنی بیوی کے ہاتھوں مسموم ہو کر مارا گیا۔

زندگی‌ نامہ

مروان بن حکم بن ابی العاص بن امیہ بن عبد شمس بن عبد مناف ہجرت کے دوسرے سال پیدا ہوا۔ اس کی کنیت ابو عبد الملک تھی۔ [1] بلند قد اور غیر متناسب جسم رکھنے کی وجہ سے خیط باطل کے نام سے بھی معروف تھا۔ [2] حکم بن ابی العاص کی اولاد میں سے سب سے پہلے خلافت تک پہنچا۔ بنی‌ مروان اسی سے منسوب ہیں۔[3]

شہر بدری سے عثمان کے خلاف بغاوت تک

خلافت بنوامیہ

سلاطین

عنوان


معاویہ بن ابی سفیان
یزید بن معاویہ
معاویہ بن یزید
مروان بن حکم
عبدالملک بن مروان
ولید بن عبدالملک
سلیمان بن عبدالملک
عمر بن عبدالعزیز
یزید بن عبدالملک
ہشام بن عبدالملک
ولید بن یزید
ولید بن عبدالملک
ابراہیم بن الولید
مروان بن محمد

مدت سلطنت


41-61ھ
61-64ھ
64-64ھ
64-65ھ
65-86ھ
86-96ھ
96-99ھ
99-101ھ
101-105ھ
105-125ھ
125-126ھ
126-126ھ
126-127ھ
127-132ھ

مشہور وزراء اور امراء

مغیرۃ بن شعبہ ثقفی
زیاد بن ابیہ
عمرو عاص
مسلم بن عقبہ مری
عبیداللہ بن زیاد
حجاج بن یوسف ثقفی

اہم واقعات

صلح امام حسن
واقعہ عاشورا
واقعہ حرہ
قیام مختار
قیام زید بن علی

مروان کے باپ حکم بن ابی العاص بن امیہ کو قریش سرداروں کے پاس راز افشا کرنے کے جرم میں رسول اللہ نے اسے مدینہ سے نکال دیا اور اس پر لعنت کی [4] اسی وجہ سے نزد علمائے اہل سنت یہ صحابہ سے شمار نہیں ہوتا ہے۔[5] بعض نے مروان کی جائے پیدائش طائف ذکر کی ہے۔ شہر بدری کے بعد مروان اپنے باپ کے ہمراہ طائف میں ساکن ہو گیا اور ابوبکر و عمر کے زمانے میں بھی اسی طرح مدینہ بدری کے حکم پر باقی رہا۔[6]

عثمان کے پاس خلافت پہنچنے کے بعد اپنے باپ کے ہمراہ مدینہ واپس لوٹ آیا۔[7] اور حکومت عثمان کے خواص میں سے شمار ہونے لگا اور اس کا کاتب قرار پایا۔[8] نیز اس کا داماد بھی ہوا[9] مروی ہے کہ امام علی ؑ نے اسے کہا تھا: وای بر تو و وای بر امت محمد ؐ از دست تو.[10]

تاریخی مصادر حضرت عثمان کے خلاف شورش برپا کرنے اور اسے قتل کرنے کے اقدامات اور عوامل میں سے شمار کرتے ہیں۔[11] اس نے عمار بن یاسر کی طرف سے حکومت وقت کے خلاف شر انگیزی برپا کرنے کی خبر دی جس کے نتیجے میں عثمان بن عفان نے انہیں ضرب و شتم کرنے کا حکم دیا جس کی وجہ سے وہ فتق کے مرض میں مبتلا ہو گئے۔[12]

امام علی ؑ کے مد مقابل

حضرت علی ؑ کو خلافت منتقل ہونے کے بعد سال سنہ 35 ہجری میں مروان بن حکم نے امام کی بیعت کی اور پھر مدینہ سے مکہ جا کر حضرت عائشہ سے ملحق ہو گیا۔[13]

یہ ان لوگوں میں سے ہے جنہوں نے طلحہ و زبیر کو بغاوت پر اکسایا اور انہیں تشکیل حکومت کی ترغیب دی اور انہیں کہا کہ وہ لوگوں کو اپنی بیعت کرنے کا حکم دیں۔[14] جنگ جمل میں یہ طلحہ و زبیر کے لشکر کا حصہ تھا۔[15] اور خون عثمان کا مطالبہ کرنے والوں میں سے تھا۔[16] البتہ اس جنگ میں طلحہ کو قتل کیا اور اسے قتل عثمان کے انتقام کا نام دیا۔ البتہ بعض مؤرخین کے نزدیک اس کے قتل کے علت یہ تھی کہ اس نے جنگ سے کنارہ کشی کا ارادہ کر لیا تھا۔[17]

جنگ جمل میں عائشہ، عمرو بن عثمان، موسی بن طلحہ اور عمرو بن سعید بن ابی العاص کے ساتھ اسیر ہوا۔ لیکن حضرت علی ؑ نے انہیں معاف کر دیا۔[18] البتہ بعض تاریخی مصادر کے مطابق مروان نے اپنے ساتھیوں کے فرار کے بعد جنگ کے آخر میں شام جا کر معاویہ کے پاس پناہ حاصل کی۔[19]

مروان جنگ صفین میں اموی لشکر کی صفوں میں حضرت علی کے مقالے میں کھڑا ہوا[20] اس جنگ میں معاویہ نے مروان سے چاہا کہ وہ مالک اشتر کے مقابلے میں جائے لیکن اس نے بہانہ کر کے اس کے مقابلے میں آنے سے اپنے آپ کو بچا لیا۔[21] ایک قول کے مطابق جنگ صفین کے بعد امام نے اسے امان دی اور اس نے حضرت علی کی بیعت کرنے کے بعد مدینہ واپس آ کر دوبارہ یہیں ساکن ہو گیا۔[22]

حکومت مدینہ

سنہ 41 ہجری میں معاویہ کو حکومت ملنے کے بعد مروان مدینہ کا حاکم منصوب ہوا۔[23] کچھ مدت کے بعد معاویہ نے مکہ اور طائف کو بھی حکومت مروان کی حدود میں شامل کر دیا۔[24] ایک مدت گزرنے کے بعد معاویہ نے اسے معزول کر کے سعید بن ابی العاص کو ان علاقوں کی حاکمیت دے دی۔ بعض اسے اس حکومت سے ہٹانے کی وجہ یزید بن معاویہ کیلئے بیعت لینے سے انکار بتاتے ہیں۔[25]

مروان دوبارہ سنہ 54 ہجری میں مدینہ کا حاکم منصوب ہوا پھر اس کے کچھ عرصہ بعد معزول ہوا اور ولید بن عتبہ اس کی جگہ آیا۔[26] اس نے اس دوران ائمہ کی مخالفت کا سلسلہ جاری رکھا جیسے امام حسنؑ، کے جنازے کو رسول اللہ کے پاس دفن ہونے میں رکاوٹ بنا۔[27] اسی طرح یزید کے خلیفہ بننے کے بعد امام حسین سے بیعت لینے بہت زیادہ کوشش کی یہاں تک کہ ولید بن عتبہ (حاکم مدینہ) کے پاس امام سے مجادلہ کیا۔[28]

واقعہ کربلا کے بعد یزید کے خلاف مدینہ میں ہونے والی شورش میں مدینہ سے نکال دیا گیا اور اس نے عبداللہ بن عمر سے اپنے اہل و عیال کی دیکھ بھال کی درخواست کی لیکن ابن عمر نے اس سے انکار کیا تو اس نے یہی درخواست امام سجادؑ سے کی امام نے اس درخواست کو قبول کیا۔[29] مروان اس کے بعد شام چلا گیا اور معاویہ بن یزید بن معاویہ کی وفات تک وہیں رہا۔[30] تاریخی روایات کے مطابق مروان اور دیگر امویوں کے مدینہ سے اخراج، ان کی یزید سے مدد کی درخواست کے جواب میں مدینہ لشکر بھیجے جانے کے بعد واقعہ حرّہ رونما ہوا۔[31]

خلافت

معاویہ بن یزید بن معاویہ کے خلافت سے کنارہ کشی کرنے کے بعد امویوں نے مروان کو خلیفہ منتخب کیا۔[32] مروان حکومت کو استحکام بخشنے کیلئے شروع میں جابیہ (شمال حوران) گیا اور وہاں کے لوگوں کو اپنی طرف دعوت دی۔ اردن کے لوگوں نے سنہ 64 ہجری میں اسکی بیعت کی۔ پھر وہ شام واپس آیا اور حکومت کے ترقیاتی کاموں میں مشغول ہو گیا۔ شام میں ضحاک بن قیس فہری نے لوگوں کو عبداللہ بن زبیر کی بیعت کی دعوت دی تو اسی وجہ سے مروان بن حکم سے اس کی جنگ کا آغاز ہوا جس میں ضحاک نے شکست کھائی اور مارا گیا۔[33]

مروان نے اپنی حکومت کو توسعہ دینے کیلئے مصر کی طرف لشکر کشی کی وہاں کے لوگ عبداللہ بن زبیر کی بیعت کرنے والے تھے اس نے انہیں اپنا مطیع بنا لیا اور اپنے بیٹے عبدالملک کو وہاں کی حکومت دے دی۔ پھر مروان شام واپس آ گیا اور تھوڑے دن گزارنے کے بعد مر گیا۔[34]

اس کی مختصر حکومت کے اہم اقدامات میں سے شامی دینار کا اجرا تھا جس پر «قل ہو اللہ احد» کی آیت کندہ تھی۔[35]

وفات

مروان نے یزید کی وفات کے بعد ام خالد بنت ہاشم بن عتبہ بن ربیعہ (یزید کی بیوی اور خالد بن یزید کی والدہ) کے ساتھ شادی کی تا کہ ام خالد اس کیلئے بچہ جنے۔[36] ایک دن مجمع میں خالد بن یزید کو خطاب کرتے ہوئے اس کی ماں کو کچھ ناسزا باتیں کہیں؛ یہ بات خالد کی نارضایتی کا موجب بنی اور اس نے ماں سے اس کی شکایت کی۔ ام خالد نے اس کے جواب میں خاموشی اختیار کی اور وعدہ کیا کہ آئندہ مروان سے کوئی غیر پسندیدہ بات نہیں سنے گی۔ اس ماجرا کے بعد ام خالد نے مروان کو زہر دے کر مار دیا۔[37]

بعض تاریخی روایات کے مطابق اس نے سوتے میں مروان کے منہ پر تکیہ رکھ کر مار دیا۔[38] ایک اور نقل کے مطابق وہ طاعون کی بیماری میں مبتلا ہوا اور اس سے مر گیا۔[39]

مروان کی حکومت 9 یا 10 مہینوں تک باقی رہی۔ اس نے سنہ 65 کے رمضان کے ابتدا میں 64 سال کی عمر میں وفات پائی۔[40] اس نے مرنے سے پہلے اپنے بیٹے عبد الملک کو اپنا ولی عہد بنا دیا اور دوسرے بیٹے عبد العزیز کو دوسرا ولی عہد منصوب کیا۔ مروان کی موت کے بعد عبدالملک کو خلافت ملی اور شام کے لوگوں نے اس کی بیعت کی۔[41]

حوالہ جات

  1. الزرکلی، الأعلام، 1989م، ج7، ص207
  2. ابن عبدالبر، الاستیعاب، 1412ق، ج3، ص1388؛ ابن الأثیر الجزری، أسد الغابہ، 1409ق، ج4، ص369.
  3. السمعانی، الأنساب، 1401ق، ج12، ص205
  4. ابن الأثیر الجزری، أسدالغابہ، 1409ق، ج4، ص368
  5. ابن عبدالبر، الاستیعاب، 1412ق، ج3، ص1387
  6. ابن عبدالبر، الاستیعاب، 1412ق، ج1، ص359، 360
  7. ابن عبد البر، الاستیعاب، 1412ق، ج1، ص360
  8. الزرکلی، الأعلام، 1989ء، ج7، ص207
  9. ابن حجر العسقلانی، الإصابۃ، 1415ق، ج4، ص379
  10. ابن عبدالبر، الاستیعاب، 1412ق، ج3، ص1388
  11. ابن حجر العسقلانی، الإصابہ، 1415ق، ج6، ص204
  12. ابن قتیبۃ الدینوری، الإمامۃ و السیاسۃ، 1410ق، ج1، ص51
  13. ابن قتیبۃ الدینوری، الإمامۃ و السیاسۃ، 1410ق، ج1، ص73
  14. ابن قتیبۃ الدینوری، الإمامۃ و السیاسۃ، 1410ق، ج1، ص78، 79
  15. ابن حجر العسقلانی، الإصابۃ، 1415ق، ج6، ص204
  16. الزرکلی، الأعلام، 1989م، ج7، ص207
  17. الدینوری، اخبار الطوال، 1368ش، ص148
  18. ابن قتیبۃ الدینوری، الإمامۃ و السیاسۃ، 1410ق، ج1، ص97
  19. الزرکلی، الأعلام، 1989م، ج7، ص207
  20. ابن حجر العسقلانی، الإصابۃ، 1415ق، ج6، ص204
  21. ابن قتیبۃ الدینوری، الإمامۃ و السیاسۃ، 1410ق، ج1، ص132
  22. الزرکلی، الأعلام، 1989م، ج7، ص207
  23. دینوری، اخبار الطوال، 1368ش، ص224
  24. ابن عبدالبر، الاستیعاب، 1412ق، ج3، ص1388؛ ابن الأثیر الجزری، أسدالغابہ، 1409ق، ج4، ص369
  25. ابن قتیبہ الدینوری، الإمامہ و السیاسہ، 1410ق، ج1، ص197 و 198
  26. ابن عبدالبر، الاستیعاب، 1412ق، ج3، ص1388
  27. بلاذری، أنساب الأشراف، 1417ق، ج3، ص61.
  28. ابن قتیبہ الدینوری، الإمامہ و السیاسہ، 1410ق، ج1، ص227
  29. ابن قتیبہ الدینوری، الإمامہ و السیاسہ، 1410ق، ج1، ص230، 231
  30. ابن حجر العسقلانی، الإصابۃ، 1415ق، ج6، ص204
  31. ابن حجر العسقلانی، الإصابۃ، 1415ق، ج6، ص204
  32. الزرکلی، الأعلام، 1989م، ج7، ص207
  33. ابن حجر العسقلانی، الإصابہ، 1415ق، ج6، ص204
  34. الزرکلی، الأعلام، 1989م، ج7، ص207
  35. ابن حجر العسقلانی، الإصابہ، 1415ق، ج6، ص204
  36. المقدسی، البدءوالتاریخ، مکتبہ الثقافہ الدینیہ، ج6، ص57
  37. ابن سعد، الطبقات الکبری، 1410ق، ج5، ص31؛ ابن الجوزی، المنتظم، 1412ق، ج6، ص49.
  38. ابن العمرانی، الإنباء، 1421ق، ص49
  39. الزرکلی، الأعلام، 1989م، ج7، ص207
  40. ابن عبد البر، الاستیعاب، 1412ق، ج3، ص1389
  41. ابن قتیبۃ الدینوری، الإمامۃ و السیاسۃ، 1410ق، ج2، ص23

مآخذ

  • ابن عبد البر، یوسف بن عبد اللہ، الاستیعاب فی معرفۃ الأصحاب، تحقیق علی محمد البجاوی، بیروت،‌ دار الجیل، ط الأولی، 1412/1992۔
  • الدینوری، احمد بن داود، الأخبار الطوال، تحقیق عبد المنعم عامر مراجعہ جمال الدین شیال، قم، منشورات الرضی، 1368ہجری شمسی۔
  • ابن حجر العسقلانی، احمد بن علی، الإصابۃ فی تمییز الصحابۃ، تحقیق عادل احمد عبد الموجود و علی محمد معوض، بیروت، دارالکتب العلمیۃ، ط الأولی، 1415/1995۔
  • ابن الأثیر الجزری، علی بن محمد، أسدالغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ، بیروت،‌ دار الفکر، 1409/1989۔
  • الزرکلی، خیر الدین، الأعلام قاموس تراجم لأشہر الرجال و النساء من العرب و المستعربین و المستشرقین، بیروت،‌ دار العلم للملایین، الطبعۃ الثامنۃ، 1989ء۔
  • السمعانی، عبدالکریم بن محمد، الأنساب، حیدر آباد، الطبعۃ الاولی، 1401ھ۔
  • ابن قتیبۃ الدینوری، عبد اللہ بن مسلم، الإمامۃ و السیاسۃ المعروف بتاریخ الخلفاء، تحقیق علی شیری، بیروت، دارالأضواء، ط الأولی، 1410/1990ھ۔
  • ابن العمرانی، محمد بن علی، الإنباء فی تاریخ الخلفاء، تحقیق قاسم السامرائی، القاہرۃ،‌ دار الآفاق العربیۃ، ط الأولی، 1421/2001۔
  • ابن الجوزی، عبد الرحمن بن علی، المنتظم فی تاریخ الأمم و الملوک، تحقیق محمد عبد القادر عطا و مصطفی عبد القادر عطا، بیروت،‌ دار الکتب العلمیۃ، ط الأولی، 1412/1992۔
  • ابن سعد، الطبقات الکبری، تحقیق محمد عبد القادر عطا، بیروت،‌دار الکتب العلمیۃ، ط الأولی، 1410/1990۔
  • المقدسی، مطہر بن طاہر، البدء و التاریخ، بور سعید، مکتبۃ الثقافۃ الدینیۃ، بی تا.