محمد بن جعفر ابن نما

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
محمد بن جعفر ابن نما
کوائف
مکمل نام محمد بن جعفر بن ابن نما
لقب/کنیت نجیب الدین
تاریخ ولادت تقریبا ۵۶۵ ھ
تاریخ وفات ذی الحجہ ۶۴۵ ق۔۱۲۴۸ع
مدفن کربلا
علمی معلومات
اساتذہ علی بن سعید راوندی، ابن ادریس حلی، محمد بن جعفر مشہدی، برہان الدین محمد قزوینی اور ان کے والد
شاگرد سید بن طاووس، عبد الکریم بن احمد ابن طاووس، ابن علقمی وزیر، محقق حلی، یوسف بن علی حلی، یحیی بن سعید حلی و جعفر بن محمد بن نما حلی
خدمات

محمد بن جعفر ابن نما (ولادت تقریبا 565ھ) محقق حلی کے استاد اور خاندان ابن نما کے معروف ترین علماء میں سے ہیں۔ انہوں نے ابن ادریس حلی، برہان الدین محمد قزوینی اور جعفر بن نما جیسے اساتذہ سے کسب فیض کیا۔ سید بن طاووس، عبد الکریم بن احمد ابن طاووس، ابن علقمی وزیر، محقق حلی اور یوسف بن علی حلی کا شمار ان کے شاگردوں میں ہوتا ہے۔

نسب

ابو ابراہیم (ابو جعفر) محمد بن جعفر بن محمد (ہبۃ اللہ) ابن نما، ملقب بہ نجیب الدین کا شمار خاندان ابن نما کے معروف ترین علما میں ہوتا ہے۔ ان کی سوانح عمری اور تعلیم کے سلسلے میں واضح معلومات میسر نہیں ہیں۔ لیکن جیسا کہ انتقال کے وقت ان کی عمر ۸۰ برس بیان کی گئی ہے[1] اس سے احتمال دیا جاسکتا ہے کہ ان کی ولادت ۵۶۵ھ کے قریب ہوئی ہوگی۔

علمی زندگی

اساتذہ

بعض روایات کے مطابق، انہوں نے ابو الفرج علی بن سعید راوندی،[2] ابن ادریس حلی،[3] محمد بن جعفر مشہدی،[4] عبد الرؤساء ہبۃ الله بن حامد، برہان الدین محمد قزوینی اور اپنے والد[5] جیسے بزرگ علماء سے روایات نقل کی ہیں۔

شاگرد

نجیب الدین کے شاگردوں اور ان سے روایات نقل کرنے والوں میں سید بن طاووس کا نام لیا جا سکتا ہے۔ جنہوں نے بقول نجیب الدین، ان سے روایت نقل کرنے کی اجازہ کسب کیا تھا اور ان کے پاس فقہ کی تعلیم حاصل کی تھی۔[6] اسی طرح سے عبد الکریم بن احمد ابن طاووس، ابن علقمی وزیر، محقق حلی، یوسف بن علی حلی، یحیی بن سعید حلی اور ان کے فرزند جعفر بن محمد بن نما حلی کا شمار بھی ان کے شاگردوں میں ہوتا ہے۔[7]

تالیفات

اگر چہ کتابوں میں ذکر ہوا ہے کہ وہ صاحب تصنیفات تھے۔[8] لیکن نہ ان کی تالیفات دسترس میں ہیں اور ہی ان کتابوں کے نام۔

وفات

ابن نما ذی الحجہ سنہ ۶۴۵ھ کو حلہ میں وفات پاگئے اور کربلا میں دفن ہوئے۔[9]

حوالہ جات

  1. امین، اعیان الشیعہ، ج۹، ص۲۰۳
  2. ابن طاووس، علی، فتح الابواب، ص۱۳۱، ۱۳۴
  3. ابن طاووس، عبد الکریم، ص۴۸، ۷۲، ۸۷
  4. ابن طاووس، علی، الدروع، ص۱۱۲
  5. مجلسی، بحار الانوار، ج۱۰۷، ص۴۷، ۵۲؛ نوری، مستدرک الوسایل، ج۳، ص۴۷۷
  6. ابن طاووس، علی، الدروع الواقیہ، ص۷۵
  7. ابن طاووس، عبد الکریم، فرحہ الغری، ص ۴۸؛ ابن فوطی، تلخیص...، ج۴، جزء۱، ص۳۳۲-۳۳۳؛ حرعاملی، وسائل الشیعہ، ج۲، ص۳۱۰؛ مجلسی، بحار الانوار، ج۱۰۵، ص۴۴، ج۱۰۶، ص۲۱
  8. حر عاملی، وسائل الشیعہ، ج۲، ص۳۱۰
  9. حر عاملی، وسایل الشیعہ، ج۲، ص۳۱۰


مآخذ

  • ابن طاووس، عبد الکریم بن احمد، فرحہ الغری، نجف، ۱۳۶۸ ق
  • ابن طاووس، علی بن موسی، الدروع الوافیہ، نسخہ عکسی موجود در کتابخانہ مرکز
  • بن طاووس، علی بن موسی، فتح الابواب، بہ کوشش حامد خفّاف، بیروت،۱۴۰۹ق/۱۹۸۹ ع
  • ابن فوطی، عبد الرزاق ابن احمد، تلخیص مجمع الآداب، بہ کوشش احمد حسینی، قم ۱۴۰۱ ق
  • امین، محسن، اعیان الشیعہ بیروت۔ ۱۴۰۳ق/۱۹۸۳ ع
  • حر عاملی، محمد بن حسن، امل الآمل بہ کوشش احمد حسینی، بغداد، ۱۳۸۵ ق
  • مجلسی، محمد باقر بحار الانوار، بیروت ۱۴۰۳ق/۱۹۸۳ ع
  • نوری، حسین، مستدرک الوسائل، تہران. ۱۳۲۱ ق