محمد آصف محسنی قندہاری

ویکی شیعہ سے
(محمد آصف محسنی سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
محمد آصف محسنی
محمد آصف محسنی قندهاری.jpg
ذاتی کوائف
نام محمد آصف محسنی
تاریخ پیدائش 26اپریل 1935ء
دین اسلام
مذہب شیعہ
علمی و دینی معلومات
کتابیں بحوث فی علم الرجال

محمد آصف محسنی قندہاری (متولد 1935ء)، افغانستان کے شیعہ مرجع تقلید ہیں۔ آپ پختون شیعہ عالم، اتحاد بین المذاہب کے حامی، شورائے علمائے شیعہ افغانستان کے سربراہ اور ’’حوزہ علمیہ و جامعہ خاتم النبیین کابل‘‘ کے بانی ہیں۔ اسی طرح محمد آصف محسنی مجمع جہانی اہل بیت کی شورائے عالی کے رکن، حرکت اسلامی افغانستان کے سابقہ رہنما اور تمدن ٹیلی ویژن چینل کے مؤسس ہیں۔ محمد آصف محسنی فقہ اور اصول فقہ میں سید محسن حکیم اور سید ابو القاسم خوئی کے شاگرد ہیں اور آپ کی علم رجال، علم فقہ اور علم حدیث میں کئی تصنیفات ہیں۔ مہدی مہریزی نے آپ کی کتاب ’’بحوث فی علم الرجال‘‘ کو درایۃ الحدیث کے موضوع پر ایک ماندگار تالیف قرار دیا ہے۔

حالات زندگی

محمد آصف محسنی ولد محمد مرزا محسنی، 26 اپریل 1935ءکو افغانستان کے شہر قندہار میں پیدا ہوئے۔[1]ابتدائی تعلیم کا آغاز مکتب سے کیا اور دس سال کی عمر میں اپنے والد کے پاس لکھنا پڑھنا شروع کر دیا۔[2] 14 سال کی عمر بمطابق سنہ 1949ء میں پاکستان چلے گئے اور کوئٹہ میں اردو زبان سیکھی۔[3] پاکستان سے واپسی کے بعد کچھ مدت تک الیکٹریکل کمپنی میں کام کرتے رہے اور پھر 1951ء میں قندھار کے ایوان تجارت میں ملازم ہو گئے۔[4]

شادی

شیخ آصف محسنی نے 1961ء میں اپنے چچا کی بیٹی سے شادی کی کہ جس سے تین بیٹے عبد اللہ، حفیظ اور حبیب پیدا ہوئے۔[5] آپ کی پہلی بیوی کا انتقال ہو چکا ہے۔[6]

دینی تعلیم

آصف محسنی نے پہلے چھ ماہ تک قندھار میں دینی مقدماتی علوم کی تعلیم حاصل کی۔ پھر افغانستان کے شہر غزنی کے ایک دیہات جاغوری چلے گئے اور 8 ماہ کی قلیل مدت میں ہدایہ، سیوطی، حاشیہ ملا عبد اللہ اور کچھ حد تک معالم و لمعہ دمشقیہ جیسی کتابیں پڑھیں۔[7] محمد آصف محسنی 3جولائی 1953ء میں نجف تشریف لے گئے اور 3 سال سے بھی کم مدت میں سطوح کی باقیماندہ تعلیم کو مکمل کیا۔[8] چنانچہ وہ خود کہتے ہیں کہ حوزے کی تعطیلات میرے لیے خوش آئند نہیں ہوتی تھیں اور چھٹیوں کے دوران بھی دروس میں مشغول رہتا تھا۔[9] آپ نے مطول شیخ محمد علی مدرس افغانی، کفایہ کی جلد اول شیخ مجتبی لنکرانی، کفایہ کی جلد دوم صداری بادکوبہ ای، رسائل شیخ کاظم یزدی اور مکاسب چند دیگر اساتذہ کے پاس مکمل کیں۔[10] شیخ آصف محسنی فلسفے میں بھی دلچسپی رکھتے تھے تاہم نجف میں فلسفے کی تدریس پر پابندی کے پیش نظر ذاتی طور پر مطالعہ کرنے لگے اور کتاب باب حادی عشر پر حاشیہ تحریر کیا۔[11] دیگر کتب منجملہ اسفار، حکمت الاشراق اور کلامی کتب کا بھی مطالعہ کیا۔[12] آپ کے ہم بحث شیخ قربان علی محقق کابلی، شیخ اسماعیل محقق اور شیخ موسی عالمی بامیانی تھے۔[13] شیخ آصف محسنی نے 9 سال تک سید محسن حکیم، سید ابو القاسم خوئی، شیخ حسین حلی اور سید عبدالاعلی سبزواری کے دروس خارج میں شرکت کی۔[14]

سیاسی جدوجہد

27 اپریل 1978ء کے کمیونسٹ شب خون اور خلق افغانستان ڈیموکریٹک پارٹی کے برسراقتدار آنے کے بعد آصف محسنی افغانستان سے ہجرت کر گئے۔[15] پہلے مناسک حج کی ادائیگی کیلئے سعودی عرب گئے[16] پھر شام کا رخ کیا اور دمشق میں چند ماہ تک علوم دینیہ کی تدریس میں مشغول رہے۔[17]

حزب حرکت اسلامی افغانستان

مارچ 1979ء میں قم تشریف لے آئے اور حوزہ علمیہ قم میں مقیم افغانی علما کے ہمراہ 8 اپریل[18] کو حزب حرکت اسلامی افغانستان کی بنیاد رکھی۔[19] چھوٹے چھوٹے گروہوں پر مشتمل اس جماعت نے افغانستان کی کمیونسٹ حکومت کے خلاف عسکری جدوجہد کا آغاز کیا۔ اس جماعت نے افغانستان کے 19 صوبوں میں 100 سے زیادہ عسکری مراکز قائم کیے اور روسی افواج کے خلاف ہزاروں جنگجوؤں پر مشتمل مسلح دستوں کو منظم کیا۔[20] شیخ آصف محسنی2005ء تک اس جماعت کے رہنما رہے اور حرکت اسلامی افغانستان سے استعفیٰ دینے کے بعد اپنی سیاسی سرگرمیاں ختم کر دیں۔[21]

مجاہدین کی حکومت سے تعاون

ڈاکٹر نجیب اللہ کی کمیونسٹ حکومت کے سقوط کے بعد 8 مئی 1992ء کو محمد آصف محسنی کابل میں تشکیل پانے والی مجاہدین کی پہلی حکومت کے دوران افغانستان کی اسلامی حکومت کو کنٹرول کرنے والی مرکزی شوریٰ کے منشی اور ترجمان تھے۔ تاہم مجاہدین کے گروہوں میں داخلی جنگیں چھڑ جانے کے بعد آپ کابل چھوڑ کر پاکستان کے دار الحکومت اسلام آباد چلے گئے۔[22]

دینی سرگرمیاں

محمد آصف محسنی نے افغانستان میں مختلف نوعیت کے دینی کام کیے ہیں؛ منجملہ شورائے علمائے شیعہ افغانستان کی سربراہی، مذہب شیعہ کی سرکاری شناخت کیلئے جدوجہد، کابل میں خاتم النبیین تعلیمی و تربیتی انسٹی ٹیوٹ کی تاسیس، تمدن ٹیلی ویژن کا آغاز اور اسی طرح بین المذاہب ہم آہنگی کیلئے جدوجہد۔

شورائے علمائے شیعہ افغانستان:آصف محسنی نے سنہ 2003ء میں علمائے شیعہ افغانستان کا کابل میں پہلا اجلاس منعقد کیا اور سہ روزہ مذاکرات کے بعد شورائے علمائے شیعہ افغانستان کی تاسیس کی باقاعدہ منظوری دے دی گئی۔[23] شورائے علمائے شیعہ افغانستان کے ملک بھر میں 65 نمائندہ دفاتر اور دو ہزار سے زیادہ ارکان ہیں۔[24] محمد آصف محسنی شورائے علمائے شیعہ افغانستان کے سربراہ منتخب ہوئے۔[25]

افغانستان میں شیعہ مذہب کی سرکاری شناخت:4 جنوری 2004ء کو منظور کیے جانے والے اسلامی جمہوریہ افغانستان کے آئین میں افغانستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ شیعہ مذہب کو باقاعدہ طور پر تسلیم کیا گیا۔ اکثر لوگ افغانستان کے آئین میں شیعہ مذہب کی سرکاری شناخت کو محمد آصف محسنی کی جدوجہد کا نتیجہ قرر دیتے ہیں۔[26]

مؤسسہ خاتم النبیین:مؤسسہ تحصیلات عالی و حوزہ علمیہ خاتم النبیین کابل 40 ہزار مربع میٹر پر محیط مرکز ہے کہ جو آصف محسنی کی زیرنگرانی تعمیر کیا گیا ہے اور سنہ 2007ء سے سرگرم عمل ہے۔ یہ کمپلیکس حوزہ علمیہ، یونیورسٹی، لائبریری اور جامعہ مسجد پر مشتمل ہے۔[27][28]

محمد آصف محسنی کے قائم کردہ حوزہ علمیہ خاتم النبیین کی تصویر

تمدن ٹیلی ویژن:تمدن ٹیلی ویژن چینل کہ جس کی نشریات کا زیادہ تر حصہ خبروں، تبصروں اور دینی پروگراموں پر مشتمل ہوتا ہے؛ کا آغاز 2007ء میں آصف محسنی نے کیا۔[29] یہ ٹیلی ویژن افغانستان کے دیگر ٹی۔وی چینلز کے برخلاف موسیقی نشر کرنے سے اجتناب کرتا ہے۔[30]

قانون احوال شخصیہ شیعیان:شورائے علمائے شیعہ افغانستان کے سربراہ محمد آصف محسنی نے 2009ء میں قانون احوال شخصیہ شیعیان کے نام سے ایک بل حامد کرزئی کی حکومت کے سامنے پیش کیا کہ جو آئین افغانستان کے آرٹیکل 131[31] کے تحت حکومت نے منظور کر لیا مگر افغان عوام کے مختلف طبقات اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی مخالفت کے بعد اسے ایک مرتبہ پھر نظرثانی کے مرحلے پر قرار دیا گیا۔

بین المذاہب ہم آہنگی:آصف محسنی اتحاد بین المسلمین کیلئے جدوجہد کے حوالے سے افغانستان کی ایک جانی پہچانی شخصیت ہیں۔ شورائے اخوت اسلامی افغانستان کی تاسیس، ’’بین المذاہب ہم آہنگی‘‘، ’’تقریب مذاہب؛ از نظر تا عمل‘‘[32] کے نام سے کتاب کی اشاعت، اسی طرح سنی شیعہ کی مشترکہ تعلیمی درسگاہ جامعہ خاتم النبیین[33] کی تاسیس ان کاوشوں میں سے ایک ہے۔

تالیف وتحقیق

محمد آصف محسنی نے سیاسی اقدامات اور دینی و معاشرتی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ متعدد کتابیں اور مقالات تصنیف کیے ہیں کہ جن میں سے اب تک ساٹھ سے زیادہ تالیفات شائع ہو چکی ہیں۔[34] اسی لیے آصف محسنی کو افغانستان کے اعلیٰ ترین علمی اعزاز سے نوازا گیا ہے۔[35] آپ کی کتابیں عربی اور فارسی میں ہیں اور ان میں متنوع موضوعات ہیں؛ منجملہ حدیث، فقہ، رجال، عقائد اور سیاست۔ آپ کی بعض تصانیف یہ ہیں:

  • بحوث فی علم الرجال، یہ رجالی قواعد پر مشتمل ہے اور مہدی مہریزی کے مطابق درایۃ الحدیث کے موضوع پر یہ ایک ماندگار تالیف ہے۔[36]
  • مشرعۃ بحار الانوار، جیسا کہ مؤلف نے کہا ہے کہ یہ بحار الانوار پر تعلیقہ ہے۔ اس کتاب میں محمد آصف محسنی نے اپنی کتاب ’’بحوث فی علم الرجال‘‘ میں مذکور رجالی قواعد کی بنا پر بحار الانوار کی معتبر روایات کو غیر معتبر روایات سے جدا کیا ہے اور مختلف موضوعات کا جائزہ لیا ہے کہ جو معتبر روایات میں مذکور ہیں۔[37]

«عقاید برای ہمہ»،[38] «تقریب مذاہب، از نظر تا عمل»،[39] «زن در شریعت اسلامی»،[40] «توضیح المسائل سیاسی»،[41] اور «خصایص خاتم النبیین»،[42] آپ کی دیگر تصنیفات ہیں۔

حوالہ جات

  1. «گفتگوی اختصاصی با آیت اللہ شیخ محمد آصف محسنی»۔
  2. «گفتگوی اختصاصی با آیت اللہ شیخ محمد آصف محسنی»۔
  3. «گفتگوی اختصاصی با آیت اللہ شیخ محمد آصف محسنی»۔
  4. «گفتگوی اختصاصی با آیت اللہ شیخ محمد آصف محسنی»۔
  5. «گفتگوی اختصاصی با آیت اللہ شیخ محمد آصف محسنی»۔
  6. «گفتگوی اختصاصی با آیت اللہ شیخ محمد آصف محسنی»۔
  7. «گفتگوی اختصاصی با آیت اللہ شیخ محمد آصف محسنی»۔
  8. «گفتگوی اختصاصی با آیت اللہ شیخ محمد آصف محسنی»۔
  9. «گفتگوی اختصاصی با آیت اللہ شیخ محمد آصف محسنی»۔
  10. «گفتگوی اختصاصی با آیت اللہ شیخ محمد آصف محسنی»۔
  11. «گفتگوی اختصاصی با آیت اللہ شیخ محمد آصف محسنی»۔
  12. «گفتگوی اختصاصی با آیت اللہ شیخ محمد آصف محسنی»۔
  13. «گفتگوی اختصاصی با آیت اللہ شیخ محمد آصف محسنی»۔
  14. مہدی زادہ کابلی، «محسنی، محمد آصف»۔
  15. «آیت اللہ محسنی، مبلغ اتحاد شیعہ و سنی»۔
  16. «آیت اللہ شیخ محمد آصف محسنی قندہاری»۔
  17. «آیت اللہ محسنی، مبلغ اتحاد شیعہ و سنی»۔
  18. «درباره ما».
  19. «محسنی، محمد آصف».
  20. مہدی زادہ کابلی، «محسنی، محمد آصف»۔
  21. «تاریخچہ مختصر حرکت اسلامی افغانستان»۔
  22. مہدی زادہ کابلی، «محسنی، محمد آصف»۔
  23. «شیعیان افغانستان را بہتر بشناسیم»۔
  24. «شیعیان افغانستان را بہتر بشناسیم»۔
  25. «اعضای شورای علمای شیعہ افغانستان مشخص شدند»۔
  26. «اعضای شورای علمای شیعہ افغانستان مشخص شدند»۔
  27. صادقی بلخابی، «محمد آصف محسنی»۔
  28. «حوزہ علمیہ خاتم النبیین کابل - افغانستان»۔
  29. «تلویزیون‌ہای کابل»۔
  30. «تلویزیون‌ہای افغانستان»۔
  31. واعظی، «احوال شخصیہ شیعیان، فروع فقہی در کرسی اصول حقوقی»۔
  32. «تقریب مذاہب؛ از نظر تا عمل»۔
  33. «مؤسسہ خاتم النبیین کابل؛ زمینہ‌ساز تقریب مذاہب اسلامی»۔
  34. «محسنی، محمدآصف»۔
  35. «اعطای بالاترین نشان علمی افغانستان بہ آیت اللہ آصف محسنی»۔
  36. مہریزی، «طرح پژوہشی:علم الحدیث»، ص76۔
  37. محسنی، مشرعۃ بحار الانوار، 1426ھ، ج1، ص7۔
  38. محسنی، عقاید برای ہمہ، 1373شمسی۔
  39. محسنی، تقریب مذاہب:از نظر تا عمل، 1387شمسی۔
  40. محسنی، زن در شریعت اسلامی، 1391شمسی۔
  41. محسنی، توضیح المسائل سیاسی، 1391شمسی۔
  42. محسنی، خصایص خاتم النبیین، 1396شمسی۔


مآخذ