لوامع التنزیل سواطع التنزیل (کتاب)

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
لوامع التنزیل سواطع التنزیل
لوامع التنزیل.jpg
مؤلف: سید ابوالقاسم رضوی و سید علی حائری
زبان: فارسی
موضوع: تفسیر
تعداد مجلد: 27جلد


لوامع التنزیل سواطع التنزیل برصغیر پاک و ہند میں قرآن پاک کی فارسی زبان میں لکھی جانے والی ایک ضخیم تفسیر کا نام ہے جسے تحریر کرنے میں یہاں کی دو معروف شخصیتوں سید ابو القاسم رضوی اور انکے بیٹے سید علی حائری رضوی نے مجموعی طور پر اپنی زندگیوں کے 66 سال صرف کئے ۔اس تفسیر کی تحریر میں تمام تفسیری علوم کو مد نظر رکھا گیا۔اس میں کلامی اور اجتہادی رنگ نمایاں پایاں جاتا ہے ۔اس تفسیر میں ردود اور شبہات کے جوابات کی خصوصیت اسے دیگر تفسیروں سے ممتاز کرتی ہے۔اس تفسیر کی ہر جلد قرآن پاک کے ایک سپارے پر مشتمل ہے ۔اس لحاظ سے قرآن کریم کے 27 سپاروں کی تفسیر لکھی گئی ۔اس تفسیر کی 12 جلدیں سید ابو القاسم رضوی لاہوری نے 1295 ہجری سے 1324 ہجری کی مدت میں تحریر کیں ۔پھر ان کی وفات کے بعد سید علی حائری لاہوری نے 1324 ہجری سے 1361ہجری کے دورانیے میں 27 جلدیں مکمل کیں ۔لیکن انکی وفات کی وجہ سے یہ تفسیر مکمل نہ ہو سکی ۔ مجموعی طور پر 10 جلدیں چھپیں 7 جلدیں مفقود ہیں۔ کتابخانۂ آیت اللہ مرعشی میں کچھ مطبوعہ اور مخطوطہ صورت میں موجود ہیں۔

مؤلفین

سید ابو القاسم رضوی

تفصیلی مضمون: ابو القاسم رضوی

سید ابو القاسم رضوی(1294ھ-1349ھ) برصغیر پاک و ہند میں 1249 ھ میں ہندوستان کے شہر فرخ آباد میں پیدا ہوئے ۔ ابتدائی دینی تعلیم حاصل کرنے کے بعد لکھنؤ میں اصول فقہ، اصول عقائد، علم تفسیر، علم حدیث اور دوسرے علوم کی تعلیم جن اساتذہ سے حاصل کی ان میں آیت الله آقا سید محمد کا نام قابل ذکر ہے۔ علوم تمام کرنے کے بعد لاہور کے نواب کی خواہش اور اسرار پر یہیں مقیم رہے۔ دینی تبلیغ دین کیلئے وعظ و قلم دونوں ذریعے سے استفادہ کیا۔ وعظ کے ذریعے تشیع کو لاہور میں بنیادیں فراہم کیں اور اپنی زندگی میں 80 ہزار کے لگ بھگ افراد نے شیعیت اختیار کی۔ قلم کے ذریعے 48 کے قریب آثار چھوڑے۔ تفسیر لوامع کی بارہ جلدوں کو آپ نے اپنی زندگی میں مکمل کیا جن میں سے چھ جلدیں آپ کی زندگی میں چھپ چکی تھیں۔ باقی جلدوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے اپنے بیٹے کو وصیت فرمائی۔

سید علی حائری

تفصیلی مضمون: سید علی حائری رضوی

سید علی حائری رضوی (۱۸۷۶ء - ۱۹۴۱ء) برصغیر پاک و ہند کی ایک معروف شیعہ مرجع اور مفسر قرآن کی حیثیت سے پہچانے جاتے ہیں ۔ابتدائی تعلیمات اپنے والد کے پاس حاصل کرنے کے بعد نجف گئے جہاں مختلف اساتذہ نے آپ کو اجازۂ اجتہاد دئے ۔واپسی پر لاہور میں اپنے والد کی جگہ رہے ۔دینی خدمات میں تفسیر لوامع التنزیل کی تکمیل سمیت 72 کے لگ بھگ قلمی آثار موجود ہیں ۔ جو علم فقہ، قرآن،حدیث علم کلام اور مناظرہ جیسے دیگر موضوعات میں لکھے گئے ۔تفسیر لوامع التنزیل کی 15 جلدیں آپ نے تحریر کیں جو اپنے والد کی روش کے مطابق لکھی گئیں جن کی کل تعداد 27 تک پہنچی وفات کی وجہ سے اسکی آخری تین جلدیں نہیں لکھی جا سکیں ۔

تفسیر کا تعارف

اس تفسیر کا مکمل نام لوامع التنزیل سواطع التاویل ہے ۔ تفسیر کی ہر جلد ایک سیپارے پر مشتمل ہے اس لحاظ سے اسکی کل تعداد 30 ہونا چاہئے ۔ لیکن اس کی پہلی بارہ جلدیں سید ابو القاسم رضوی نے لکھیں اور ان کا انتقال ہو گیا ۔وہ اس وقت اس کی 13ویں جلد میں سورہ یوسف کی 85ویں آیت کی تفسیر میں مشغول تھے اور ان کے آخری جملے :هر یوم در آفاق ساخت تاثیر غضب خود به آن سرخی چه نزد غضب خون بدن به غلیان آمده در وجه و بدن او حمرت ظاهر می شود پس اظهار این در آفاق نشان و علامت غضب الهی می باشد بر آن قومی که قتل حسین کرده اند و معاونت بر آن نمودن و راضی بر آن بودن و می باشند الی قیام قیامت. لکھے تھے کہ پیغام اجل آگیا۔ پھر انکے بعد کی جلدیں انکے بیٹے سید علی حائری نے لکھیں اور جب وہ ۲۷ویں پارے کی سورہ قلم کی تفسیر میں مشغول تھے تو سن ۱۹۴۱ء میں آپ کا انتقال ہو گیا - پس یہ تفسیر مجموعی طور پر ۲۷ جلدوں پر مشتمل ہوئی ۔

تفسیری روش

مولفین نے اسے تفسیر کی جامع روش پر تالیف کیا ہے۔ جامع روش سے مراد، تفسیر قرآن کا ایسا اسلوب اور طریقہ کار جس میں مفسر قرآن کی تفسیر کے لئے قرآنی تفاسیر کے تمام اسلوب جیسے قرآن کی ادبی تفسیر ، قرآن کی قرآن سے تفسیر ، قرآن کی روایت اورقرآن کی عقلی تناظر میں تفسیر کو بروئےکار لاتا ہے اور آیات کی تفسیر کے لئے تمام منابع اور مدارک جیسے لغت ، ادبیات ، احادیث ، دلیل عقلی اور دوسری قرآنی آیات سے مدد لیتا ہے ۔مولفین نے اس تفسیر میں جس روش اور مکتب کو اختیار کیا ہے وہ اجتہادی ہے۔ اس نظریے کے مطابق قرآنی آیات کے معانی اور مقاصد کو سمجھنے کے لئے مختلف قرائن اور شواہد سےاستدلال قائم کرتے ہیں ، جیسے ادبیات ، عقلی دلیل ، قرآنی آیات ،احادیث ،اجماع اور ان پر اعتماد کرنا صحیح اور جائز جانتے ہیں۔[1]

پہلی جلد کے ابتدا میں تفسیر سے آگاہی کیلئے 17 مقدمات میں مختلف ابحاث ذکر کی ہیں[2]۔ قرآن میں آیات کی تفسیر میں ایک موضوع سے مربوط آیات کو اکٹھا ذکر کیا اور پھر اس کی تفسیر کی گئی جیسا کہ تفسیر میزان میں کیا گیا ہے ۔آیات کا فارسی زبان میں ترجمہ اور اسکی تفسیر بیان کی گئی ۔ شان نزول،فضائل سورہ،ذکر روایات شان نزول اور اس سے متعلق شبہات کا جواب،اختلاف قرآت میں جو قرآت اہل بیت کے موافق ہو یا مشہور ہو یا اجماع ہو تو اسے ترجیح دی ہے۔ اکثر مفسروں کی مانند سات قرآتوں کو قبول نہیں کیا ہے ،الفاظ کے معانی بیان کرنے میں مختلف لغات کے ساتھ ساتھ دیگر مفسرین کی انظار کو بھی پیش نظر رکھا ،نیز دس کے قریب صحابہ اور تابعین کے اقوال پر مکمل توجہ رکھتے ہیں اور تقریباجنت و جہنم کے سلسلے میں روایات پر زیادہ انحصار کیا ہے بعض مقامات پر موجودہ تسلیم شدہ سائنسی قوانین کے بجائے روایات کو ترجیح دی ہے ۔مختلف کتابوں سے نقل کرتے ہوئے بعض اوقات کتاب کا نام لیے بغیر مطلب بھی منقول ہوئے ہیں ۔نیز کئی مقام پر اقول کہہ کر اپنا نقطہ نظر بیان کیا ہے ۔

شبہات کے جوابات دینا اس تفسیر کا سب سے زیادہ نمایاں پہلو ہے ۔جیسا کہ ابو القاسم حائری نے خود تفسیر کے مقدمے میں اس بات کی وضاحت کی ہے کہ اس تفسیر کا مقصد قدیم اور جدید دور میں اٹھائے گئے شبہات اور سوالات کا جواب دینا ہے ۔حائرین نے تقریبا ہر آیت کی تفسیر کے ضمن میں کلامی ، ادبی ، تفسیری و۔۔۔ ہزاروں سوالات کے جوابات دئیے ہیں ۔ سوالات زیادہ ہونے کی وجہ وہ خطوط ہیں جو لوگوں نے مختلف علاقوں سے لکھے تھے ان کے جوابات تفسیر میں دئیے گئے ہیں ۔

منابع

اس تفسیر کے منابع کی مؤلف نے خود تفسیر کی پہلی جلد میں معرفی کی ہے اسکے مطابق لغت کی 13 کتابیں،عربی ادب کی 11،24 تفاسیر،احادیث کی 13،علم کلام 5 کتابیں ہیں جن سے اس تفسیر کو مرتب کیا گیا ہے ۔

طباعت تفسیر

جیسا کہ بیان کیا گیا کہ باپ اور بیٹے کی کاوشوں سے 27 جلدیں لکھیں گئیں ۔ جلد نمبر:1، 2، 3، 6، 8، 9، 13، 14، 15، 16 مختلف اوقات میں چھپیں۔آیت اللہ مرعشی کے کتابخانے میں درج ذیل جلدیں موجود ہیں:7، 8، 10، 14، 15، 18، 19، 20، 21، 22، 23، 24، 25، 26، 27۔[3]

درج ذیل جلدیں 4، 5، 10، 11، 12، آیت اللہ ابو القاسم رضوی کی لکھی ہوئی جبکہ 18اور 26 آیت اللہ سید علی حائری کی بھی دو جلدیں مفقود ہیں ۔

آیت اللہ مرعشی کے کتابخانے میں اس تفسیر کی کچھ جلدیں خطی صورت میں موجود ہیں انکی تفصیل درج ذیل ہے:

  • چھٹی جلد
  • ساتویں جلد
  • آٹھویں جلد
  • دسویں جلد
  • چودھویں جلد
  • پندرھویں جلد
  • سترھویں جلد
  • انیسویں جلد
  • بیسویں جلد
  • اکیسویں جلد
  • بائسویں جلد
  • تئیسویں جلد
  • چوبیسویں جلد
  • پچسویں جلد
  • ستائیسویں جلد[4]

اقوال علما

جیسے یہ تفسیر خواص کے ہاتھوں میں پہنچی تو تفسیر کی ارزش اور قدر و قیمت پر روشنی ڈالنے کی خاطر اور مؤلفین کی حوصلہ افزائی کرنے کیلئے ایران و عراق کے مراجع ،جید علما، اہل سنت کی اہم شخصیات نے اپنے خطوط اور تقریظات لکھنا شروع کیں جس سے اس کتاب کی اہمیت اجاگر ہوتی ہے ۔انہیں سید علی حائری نے کتابی شکل میں چھپوایا تو وہ چار جلدوں کی ضخامت پر مشتمل ہوئے ۔یہ تقریظات اور خطوط ”تقریظات المشاہیر و تحریر الجماہیر“ کے عنوان سے پیش ہوئے ۔ اس تفسیر کیلئے تقریظات لکھنے والے چند علما کے نام درج ذیل ہیں: جناب الحاج حضرت ميرزا محمد حسن شيرازی بزرگ صاحب تحریم تمباکو، محقق محمد حسين الاردکانی، ميرزا محمد حسین الحسینی ‌شہرستانی،جناب میرزا حبیب الله‌ رشتی ‌غروی، آیت الله آخوند کاظم خراسانی صاحب ”کفایۃ الاصول“،فاضل الادیب فیض فاروقی، فاضل حنفی فشاوری، ......۔

مرزا محمد حسن شیرازی:

تفسیر مذکور معالم تفسیر و تاویل،غرر فوائد،درر مقاصد معانی دقیق و انیق،احسن ترتیب،محکم بنیادوں پر استوار ہے،اس کے ثمرات علم و حکمت سے حاصل شدہ ہیں، باغ نبوت اور امامت کے پھول ہیں،مناسبات ذوقیہ سے مزین،دقائق عقلیہ کے مقامات اور حقائق نقلیہ سے بھری ہوئی ہے ۔

مرزا حبیب اللہ رشتی:

میں نے جب اس تفسیر کو ملاحظہ کیا تو میرا دل سرور سے بھر گیا ،میری آنکھوں نے نور علی نور حاصل کیا،اس فاضل جلیل، بلا عدیل و مثیل تاویل کے اسرار کو بیان کرنے والا تنزیل کی کرنوں کو کشف کرنے والا،معانی کے غموض سے آشنا ،قواعدو مبانی کا مؤسس،......اس جیسا عجیب اور درست ترتیب کے اسلوب پر حاوی نہیں دیکھا گیا ۔.....۔

فاضل ادیب فیض فاروقی:

یہ تفسیر منقول اور معقول کا مجموعہ،اصول و فروع پر مشتمل......،ہر آیت کے ذیل میں کثرت سے سوالات مذکور ہیں مربوط فن سے انکے جواب دئے گئے ہیں،ہر کلمہ کے تحت علمائے امت کے اقوال بیان ہوئے ہیں،یہ تفسیر دلائل باہرہ،براہین قاہرہ اور حجج ظاہرہ کے ساتھ ہر فرقہ کی جانب ناظر ہے ،فصیح زبان اور موجز بیان کے ساتھ مذھب کے مقتضیات بیان ہوئے ہیں اور یہ ہی اہل ادیان کا طریقہ رہا ہے ۔.....لیکن میری طرف سے حق تو یہ ہے کہ ایسی تفسیر جو عوالم التفسير والتأويل، معالم التنزيل، والتجويد والترتيل، والقال والقيل وابطال الاباطيل بالدليل پر مشتمل ہے کہ جسکی مثال ملل اسلام میں موجود نہیں ہے اس کا مؤلف یقینی طور پر عالم،یگانہ روزگار،فاضل ،کامل اور منفرد ہے ۔.......۔

حوالہ جات

  1. ایضا 210/211
  2. ابو القاسم حائری،لوامع التنزیل سواطع التنزیل،1/79
  3. مجلہ میراث برصغیر ص199/200۔
  4. مجلہ میراث برصغیر 208


مآخذ

  • یہ مقالہ مجلہ میراث برصغیر کے حائرین نمبر(ناشر:مرکز احیاء آثار برصغیر) میں موجود مقالوں کی مدد سے لکھا گیا ہے ۔