قرآن مجید کا عددی اعجاز

ویکی شیعہ سے

قرآن مجید کے عددی اعجاز سے مراد ایسا نظریہ ہے جس میں عددی ترتیب اور نظم و ضبط کے لحاظ سے قرآن مجید کو اللہ کی طرف سے معجزہ قرار دینا ہے۔ اس نظریے کے مطابق قرآن مجید میں موجود الفاظ اور حروف کی تعداد میں بہت ہی باریک بینی کے ساتھ ترتیب اور نظم و ضبط پایا جاتا ہے۔ چونکہ کوئی بھی مصنف عدد کے لحاظ سے اس طرح کے حسابی نظام اور ترتیب کو بیان نہیں کرسکتا اس لیے قرآن مجید میں بیان شدہ عددی ترتیب کو اس کا معجزہ قرار دیا جاسکتا ہے۔ اس نظریے کو سب سے پہلے قرآنیات پر تحقیق کرنے والے ایک مصری محقق رَشاد خلیفہ نے پیش کیا ہے۔ البتہ قرآنیات پر تحقیق کرنےوالے بہت سے علما اس نظریے کے مخالف بھی ہیں۔ اس نظریے کا تنقیدی جائزہ لینے والوں نے قرآن سے منسوب بعض عددی ترتیب اور اعداد و شمار کی ناہماہنگی کے پیش نظر بعض جگہوں پر اس قانون کے سُقم کی طرف اشارہ کیا ہے۔

نظریے کا تعارف

عددی اعجاز کے نظریے کے مطابق قرآن مجید کے الفاظ اور حروف میں ایک خاص نظم و ضبط اور ترتیب پائی جاتی ہے اور چونکہ کوئی بھی مصنف اس طرح کی عددی ترتیب کو بیان نہیں کرسکتا اس لیے قرآن مجید عددی لحاظ سے معجزہ قرار پاتا ہے۔ [1] اس نظریے میں عدد 19 کو اعجاز قرآن کا بنیادی نکتہ جانا جاتا ہے۔ [2] اس نظریے کے مطابق بسم الله الرحمن الرحیم میں کل 19 حروف ہیں اور کل چار الفاظ بیان ہوئے ہیں۔ اسم، اللہ، رحمن اور رحیم۔ پورے قرآن مجید میں اسم 19 مرتبہ، اللہ 2698 مرتبہ، رحمن 57 مرتبہ اور رحیم 114 مرتبہ استعمال ہوئے ہیں۔ ان تمام اعداد پر 19 کی عدد تقسیم ہوتی ہے. اسی طرح قرآن مجید میں کل 114 سورے ہیں جو 19 کے عدد پر تقسیم ہوتا ہے۔[3]

نظریے کا تاریخی پس منظر

قرآنیات پر تحقیق کرنے والے محققین کے مطابق قرآن مجید کا عددی لحاظ سے معجزہ ہونے کی طرف پہلی بار اہل سنت کے نامور عالم دین جلال الدین سیوطی(849-911ھ)نے اپنی کتاب الاتقان فی علوم القرآن میں اشارہ کیا ہے؛ [4] لیکن مصری محقق رَشاد خلیفه نے خاص طور پر اس نظریے کو پیش کیا ہے۔ اس نے تین سال کی مدت میں کمپیوٹر کے ذریعے قرآن میں موجود اعدا و شمار کی تحقیق کی اور سنہ 1972ء میں اپنے تحقیقی نتائج کو میڈیا پر منتشر کردیا۔ سنہ1983ء میں اس کی کتاب معجزۃ القرآن الکریم کے نام سے بیروت اور امریکہ میں شائع ہوئی۔ [5] قرآن مجید کے حسابی نظام کے متعلق «رشاد خلیفه» نے یہاں تک دعوی کیا کہ قرآن میں موجود عددی حساب و کتاب کے ذریعے قیامت واقع ہونے والی تاریخ کی پیشنگوئی بھی کی جاسکتی ہے۔ [6] رشاد خلیفه کے بعد قرآنیات کے مصری ایک اور محقق عبدالرزاق نوفل نے اس کام کو جاری رکھااور قرآن مجید کے عددی اعجاز کے دیگر دریچے بھی کھول دیے۔ جیسے کہ انہوں نے اپنی تحقیق میں کہا کہ قرآن مجید میں استعمال ہونے والے متضاد الفاظ کی تعداد ایک دوسرے کے برابر ہے۔ مثلا دنیا کا لفظ اگر 115 مرتبہ استعمال ہوا ہے تو اس کے مقابل آخرت کا لفظ بھی 115 مرتبہ استعمال ہوا ہے۔ اس کے بعد قرآنیات پر تحقیق کرنے والے شیعہ محقق «ابوالزہراء النجدی» نے دریافت کیا کہ قرآن میں لفظ ساعت دن کے چوبیس گھنٹوں کے برابر یعنی 24 بار استعمال ہوا ہے۔ اسی طرح لفظ شیعہ بھی 12 مرتبہ استعمال ہوا ہے جو شیعوں کے 12 اماموں کی طرف اشارہ ہے۔ [7]یہ بات بالکل واضح ہے کہ موجودہ دور میں بھی قرآنیات پر کام کرنے والے محققین قرآن مجید کے عددی اعجاز کے نظریے پر زیادہ توجہ دیتے ہیں۔ [8]

عددی اعجاز کے چند نمونے

قرآن مجید کے عددی اعجاز کے نظریے کو ماننے والوں نے قرآن میں عددی نظم و ضبط اور حساب و کتاب کے چند نمونے پیش کیے ہیں جو درج ذیل ہیں:

  • قرآن مجید کے ہر سورے میں مستعمل حروف مقطعہ اس سورے میں دیگر حروف کی نسبت زیادہ استعمال ہوئے ہیں۔
  • حروف مقطعہ والے سوروں میں استعمال ہونے والے تمام حروف مقطعات کی تعداد پر 19 کی عدد تقسیم ہوسکتی ہے۔
  • لفظ «دنیا» اور «آخرت» قرآن میں برابر کی تعداد میں استعمال ہوئے ہیں۔
  • لفظ «حیات» اپنے تمام مشتقات کے ساتھ لفظ «موت» کے برابر استعمال ہوا ہے۔
  • لفظ «ساعت» جو کہ گھنٹہ کے معنی دیتا ہے، 24 مرتبہ استعمال ہوا ہے اور معلوم ہے کہ دن میں 24 گھنٹے ہوتے ہیں۔
  • لفظ «شهر»(مہینہ)، سال کے کل مہینوں کی تعداد کے برابر یعنی 12 مرتبہ استعمال ہوا ہے۔
  • «السموات السبع» (یعنی سات آسمان) کی عبارت7 مرتبہ استعمال ہوئی ہے۔
  • لفظ «سجده» قرآن مجید میں 34 مرتبہ استعمال ہوا ہے اور ہر مسلمان دن میں اپنی پنجگانہ واجب نمازوں میں اس کو 34 بار انجام دیتا ہے۔ [9]

عددی اعجاز کا تنقیدی جائزہ

قرآنیات کے سلسلے میں تحقیق کرنے والوں کی جانب سے اس نظریے کی بکثرت مخالفت بھی ہوئی ہے۔ [10] اس نظریے کے ناقدین کا کہنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو ایک راز کے طور پر نازل نہیں کیا ہے اور نہ ہی لوگوں کی سمجھ سے بالاتر رکھا ہے۔ یہ کتاب لوگوں کی رہنمائی اور ہدایت کے لیے نازل کی گئی ہے اور عددی حساب و کتاب کا ہدایت سے کوئی تعلق نہیں۔ نیز قرآن کریم کی قرائت میں اختلاف اور فرق اسی طرح قرآن کی سورتوں کی ترتیب کا توقیفی نہ ہونا ان مسائل میں سے ہے جن کی وجہ سے قرآن کے حروف اور الفاظ میں اختلاف پایا جاتا ہے لہذا قرآن کا عددی نظام حساب پر سوال اٹھایا جاسکتا ہے۔[11] مزید برآں، اس نظریے کے ناقدین نے اس نظریے کے حامی افراد کی طرف سے دیے گئے اعداد و شمار کو غیر درست اور ناہماہنگ قرار دیا ہے [12]اور بہت سی جگہوں پر عددی نظام حساب کا قانون ٹوٹتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔ ان میں سے چند مقامات کو ہم یہاں بیان کرتے ہیں:

  • سوره یس میں موجود دو حروف مقطعہ یاء اور سین اس سورے میں سب سے کم استعمال ہوئے ہیں؛ حالانکہ اس نظریے کے حامی حضرات کے مطابق اس سورے میں یہ دونوں حروف سب سے زیادہ مستعمل ہونا چاہیے تھا۔
  • سوره ق) کے حرف مقطعہ حرف «ق»، سورہ شمس، سوره قیامت اور فلق میں سورہ ق سے زیادہ استعمال ہوا ہے۔
  • ان کا یہ دعویٰ کہ بسم الله الرحمن الرحیم میں موجود کلمات میں سے ہر ایک 19 کے عدد پر تقسیم ہوتے ہیں جبکہ یہ بات صرف لفظ «الرحمن» پر اطلاق آتی ہے۔
  • سوره ناس میں موجود حروف کی تعداد 19 کے عدد پر تقسیم نہیں ہوتی۔
  • سوره قلم اور سورہ طه میں موجود حروف مقطعات کی تعداد پر بھی 19 کے عدد پر تقسیم نہیں ہوتی۔[13]

کتابیات

مقالہ «کتابشناسی اعجاز عددی و ریاضی قرآن» میں قرآن مجید کے عددی اعجاز کے بارے میں تفصیل سے مختلف کتابوں کی فہرست بیان کی گئی ہے۔ اس مقالے میں 118 کتاب، 36 مقالہ جات اور 6 ویب سائٹ کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ مذکورہ مقالے میں بیان کی گئی کچھ کتابوں کی فہرست یہ ہے:

  • معجزۃ القرآن الکریم؛ رشاد خلیفه
  • معجزة الارقام و الترقیم فی القرآن الکریم؛ عبدالرزاق نوفل
  • من الاعجاز البلاغی و العددی للقرآن الکریم؛ دکتر ابوزہراء النجدی
  • المعجزة: نظریۃ قرآنیۃ فی الاعجاز القرآنی؛ عدنان غازی الرفاعی
  • اعجاز قرآن، تحلیل آماری حروف مقطعہ؛ رشاد خلیفہ، ترجمہ سیدمحمدتقی آیت‎اللہی
  • آیت کبری، معجزه جاوید قرآن کریم؛ سیدمحمد فاطمی
  • اعجازات حدیثۃ، علمیۃ و رقمیۃ فی القرآن؛ رفیق ابوالسعود
  • اعجازہا و شگفتی‌ہای قرآن؛ محمدعلی رضایی اصفہانی و محسن ملاکاظمی
  • اعجاز قرآن؛ سیدرضا مؤدّب
  • شگفتی‌ہا و اعجاز قرآن از نظر علمی پیشگویی و عددی؛ محمدعلی پرہیز
  • پرتوی از شگفتی‌ہای عددی قرآن؛ جعفر شاہرودی[14]

متعلقہ مضامین

حوالہ جات

  1. یزدانی، «اعجاز عددی و نظم ریاضی قرآن»، ص62؛ علوی مقدم، «اعجاز قرآن (2)»، ص26.
  2. نوروزی، «کتابشناسی اعجاز عددی و ریاضی قرآن»، ص84.
  3. یزدانی، «اعجاز عددی و نظم ریاضی قرآن»، ص65.
  4. علوی مقدم، «اعجاز قرآن (2)»، ص26؛ رضایی اصفہانی، پژوہشی در اعجاز علمی قرآن، 1388شمسی، ص219.
  5. رضایی اصفہانی، پژوہشی در اعجاز علمی قرآن، 1388 شمسی، ص220.
  6. پہلوان و شفقی، «ارزیابی و نقد نظریہ اعجاز عددی قرآن کریم»، ص57.
  7. نوروزی، «کتابشناسی اعجاز عددی و ریاضی قرآن»، ص84.
  8. نوروزی، «کتابشناسی اعجاز عددی و ریاضی قرآن»، ص83.
  9. یزدانی، «اعجاز عددی و نظم ریاضی قرآن»، ص65؛ نوروزی، «کتابشناسی اعجاز عددی و ریاضی قرآن»، ص84؛ علوی مقدم، «اعجاز قرآن (2)»، ص27.
  10. نوروزی، «کتابشناسی اعجاز عددی و ریاضی قرآن»، ص83.
  11. پہلوان و شفقی، «ارزیابی و نقد نظریہ اعجاز عددی قرآن کریم»، ص57.
  12. یزدانی، «اعجاز عددی و نظم ریاضی قرآن»، ص83.
  13. یزدانی، «اعجاز عددی و نظم ریاضی قرآن»، ص65، 66.
  14. نوروزی، «کتابشناسی اعجاز عددی و ریاضی قرآن»، ص85، 86، 88، 90، 91، 94.

مآخذ

  • پہلوان، منصور و شفقی، سعید، «ارزیابی و نقد نظریہ اعجاز عددی قرآن کریم»، تحقیقات قرآن و حدیث کا سہ ماہی مجلہ، خزاں اور سرما،1388شمسی ہجری۔
  • رضایی اصفہانی، محمدعلی، پژوہشی در اعجاز علمی قرآن، رشت، کتاب مبین، چاپ پنجم،1388شمسی ہجری۔
  • علوی مقدم، سید محمد، «اعجاز قرآن (2)»، پیام قرآن، شمارہ4، 1373 ہجری شمسی۔
  • نوروزی، مجتبی، «کتابشناسی اعجاز عددی و ریاضی قرآن»، آیینہ پژوہش، شمارہ 27، 1390ہجری شمسی.
  • یزدانی، عباس، «اعجاز عددی و نظم ریاضی قرآن»، کیہان اندیشہ، شمارہ67،، 1375 ہجری شمسی.