علامہ حسین بخش جاڑا

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
ولادت 1920وفات 4 دسمبر 1990

علامہ حسین بخش جاڑا (نور اللہ مرقدہ) جیسی شخصیت سے واقفیت ہر خاص و عام کو ہے اس لئے کہ وہ میدان علم و عمل کے ایسے نور افگن ستارے تھے جن کے فکر و دانش نے دنیا میں جگہ جگہ علم کو رائج کیا اور ایسی ہستیوں سے وابستگی اہل علم کا شیوہ ہے، آپ مہارت علمی میں یکتائے روزگار تھے جب تصانیف لکھنے کا سلسلہ شروع کیا تو قرآن کریم کی ایسی نایاب تفسیر کو تحریر کیا جو حکمت و دانش اور علم و آگہی میں اپنی مثال آپ ہے، جب آپ نے زیب منبر ہو کر تمام تشنگان علم کو اپنے مواعظ حسنہ سے نوازا تو ہر سامع پر روحانی اثرات مرتب ہوئے، اور جب درس و تدریس کے سلسلہ کو شروع کیا تو طلباء کو علم و عمل کا بے مثال درس دیا، آپ ان تمام کمالات کے ساتھ ساتھ روحانی علوم میں بھی مہارت تامہ رکھتے تھے اور ایسے عملیات کے عامل تھے جن کے کسب کرنے میں اپنی زندگی صرف کر دی۔

ولادت

برصغیر پاک و ہند کے ممتاز شعیہ عالم دین و مفسر قرآن علامہ حسین بخش جاڑا طاب ثراہ 1920 کو پاکستان کے صوبہ سرحد "خیبر پختونخواہ" کے قصبہ جاڑا ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں پیدا ہوئے، قصبہ جاڑا چشمہ روڈ پر اچ بلوٹ شریف سے ڈیرہ اسماعیل خان کی طرف جاتے ہوئے راستہ میں واقع ہے۔

خاندان

آپ "جاڑا" خاندان کے وہ بدر منیر تھے جن کی علمی و عملی سربلندی کی بدولت یہ خاندان شہرت کے اعلیٰ زینے تک پہنچا۔ آپ کے والد کا نام ملک اللہ بخش جاڑا تھا جو کہ ذاکر آل محمد تھے۔

دینی و دنیاوی تعلیم کا حصول

1935 میں مڈل کا امتحان پاس کیا اور دینی علوم کے حصول کے لئے چک نمبر 38 تحصیل خانیوال ضلع ملتان میں حضرت مولانا سید محمد باقر نقوی رح کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیا، وہاں آپ نے صرف و نحو اور ادب و فقہ جیسے علوم کی تحصیل کی، بعد ازاں آپ نے حضرت مولانا سید محمد یار شاہ نجفی اور حضرت مولانا مفتی جعفر حسین کی خدمت میں کئی سال گزارے اور اخذ فیض کرتے رہے، آپ نے اہل سنت کے مدارس گوجرانوالہ انہی ضلع گجرات میں معقولات کی تعلیم حاصل کی، 1945 میں پنجاب یونیورسٹی سے فاضل عربی کا امتحان پاس کیا۔

سلسلہ تدریس

1946 میں مدرسہ محمدیہ جلال پور ننگیانہ میں بطور مدرس تعیین ہوئے، تقسیم ہند کے کچھ عرصہ بعد تک مدرسہ صادقیہ خان پور ضلع رحیم یار خان میں تدریسی فرائض انجام دیئے، 1951 میں دار العلوم محمدیہ سرگودھا میں بحیثیت صدر مدرس معین ہوئے۔

حصول تعلیم کے لئے نجف اشرف کا سفر

وطن عزیز میں کچھ عرصہ درس و تدریس کے بعد آپ اپنی تعلیمی تشنگی کو بجھانے کے لئے 1951 کو بابِ مدینۃ العلم کے شہر نجف اشرف "عراق" چلے گئے، وہاں تقریباً پانچ سال تک درس آل محمد سے فیض یاب ہوتے رہے۔

نجف اشرف میں آپ کے اساتذہ کرام

حوزہ کے سطوح کی تعلیم حسب ذیل اساتذہ سے حاصل کی (1) آیت اللہ سید محمود مرعشی (2) آیت اللہ سید محمد تقی عرب اور درس خارج میں آپ نے جن اساتذہ کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیا وہ یہ ہیں (1) آیت اللہ سید ابو القاسم خوئی (2) آیت اللہ سید عبد اللہ شیرازی (3) آیت اللہ مرزا حسن یزدی (4) آیت اللہ مرزا حسن بجنوردی (5) آیت اللہ مرزا محمد باقر زنجانی۔

اجتہاد

آپ نے نجف اشرف میں جن مجتہدین سے اجازہ اجتہاد حاصل "جو کہ آپ کی مجتہد ہونے کی سند ہے" کیا ان کے نام یہ ہیں:

  • آیت اللہ العظمی آقا المرزا محمد حسن البروی رضوان اللہ علیہ
  • آیت اللہ العظمی سید محسن الحکیم الطباطبائی قدس سرہ
  • آیت اللہ العظمی آقا محمد باقر الزنجانی طاب ثراہ
  • آیت اللہ العظمی محمد محسن طہرانی قدس سرہ
  • آیت اللہ العظمی آقا سید حسین الموسوی الحمامی قدس سرہ
  • آیت اللہ العظمی آقا سید حسن الموسوی البجنوردی اعلیٰ اللہ مقامہ
  • آیت اللہ العظمی سید محمد جواد الطباطبائی اعلیٰ اللہ مقامہ
  • آیت اللہ العظمی آقا سید محمود الحسینی شاہرودی قدس سرہ
  • آیت اللہ العظمی سید عبد اللہ موسوی الشیرازی مدظلہ العالی
  • آیت اللہ العظمی آقا سید احمد الموسوی المستنبط قدس سرہ
  • آیت اللہ العظمی محمد رضا الطیسی النجفی قدس سرہ
  • آیت اللہ العظمی شیخ محمد تقی الراضی طاب ثراہ

خطابت

شیخ جعفر شوشتری رح جو تاریخ کربلا کے خطیب، قابل اعتماد عالم اور ذاکر آل محمد ہیں آپ کے استاذ الاستاذ ہیں اس وجہ سے آپ نے زیب منبر ہو کر اپنے سخن دلنواز اور خطابت کے تاریخی و مذہبی جواہر سے تشنگان علوم آل محمد کو سیراب کیا۔

وطن واپسی اور مدرسہ کا قیام

1956 میں آپ نجف اشرف سے واپس پاکستان آئے، اور اپنے آبائی گاوں جاڑا ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک مدرسہ بنام جامعہ علمیہ باب النجف قائم کیا جو آج بھی علامہ غلام حسن نجفی صاحب کے زیر نگرانی پورے علاقہ کی علمی تشنگی کو رفع کرنے کے لئے اپنی خدمات پیش کر رہا ہے۔

باب النجف کے علاوہ تدریس

علامہ حسین بخش جاڑا کچھ عرصہ دار العلوم جعفریہ خوشاب اور جامعہ المنتظر لاہور میں بھی مدرس رہے، 1970 میں دوبارہ دار العلوم محمدیہ سرگودھا میں تشنگان علم کو علوم آل محمد ع سے سیراب کرتے رہے پھر قائد ملت جعفریہ علامہ مفتی جعفر صاحب کے حکم پر جامعہ جعفریہ جی ٹی روڈ گوجرانوالہ میں بھی کچھ عرصہ تک مدرس رہے، آخری مدرسہ جس میں طلباء کو علوم آل محمد ع سے سیراب کرتے رہے وہ جامعہ امامیہ کربلا گامے شاہ لاہور ہے۔

تصانیف

جہاں ایک بہترین استاد تھے وہاں بلند پایہ خطیب اور مصنف بھی تھے جہاں تک ان کی تصانیف کا تعلق ہے ان میں سر فہرست قرآن مجید کی تفسیر جو تفسیر انوار النجف فی اسرار المصحف کے نام سے بلند پایہ تفاسیر میں ایک منفرد مقام کی حیثیت رکھتی ہے اور بہت اہمیت کی حامل ہے، یہ تفسیرِ ہمیشہ علامہ کے افکار اور ان کے عقاید کو زندہ رکھے گی۔ جو چودہ جلدوں پر مشتمل ہے۔

آپ کے مشاہیر تلامذہ

علامہ مرحوم کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کرنے والے علمائے اعلام کا ایک مجموعہ ہے جن میں سے علامہ سید صفدر حسین نجفی لاہور ، علامہ محمد حسین نجفی سرگودھا ، علامہ غلام حسین نجفی لاہور ، علامہ ملک محمد اعجاز حسین خوشاب ، علامہ غلام حسن نجفی جاڑا ، علامہ سید کرامت حسین نجفی لاہور ، علامہ محمد ہاشم صاحب چکوال ، علامہ کاظم حسین اثیر جاڑوی دریاخان ، خطیب علامہ نسیم عباس رضوی لاہور

وفات و مدفن

آپ جامعہ امامیہ کربلا گامے شاہ لاہور میں 4 دسمبر 1990 کو اپنے خالق حقیقی سے جاملے، اور 5 دسمبر کو مسجد امامیہ دریاخان ضلع بھکر کے قریب سپرد خاک کیا گیا۔ خداوند متعال آپ کو جوار انبیاء و آئمہ معصومین میں بلند درجات عطا فرمائے آمین

آپ کی اولاد

مرحوم جناب حکیم محمد باقر جاڑا، آپ کے اکلوتے بیٹے تھے۔ آپ بھی 17 دسمبر 2009 کو دار فنا سے کوچ کر گئے۔

حوالہ جات


تفسیر انوار النجف فی اسرار المصحف

تذکرہ علماء امامیہ پاکستان

لمعۃ الانوار فی عقائد الابرار