عصر عاشورا (تصویر)

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
تابلوی عصر عاشورا.jpg

تصویر بعنوان عصر عاشورا واقعۂ عاشورا کے بارے میں استاد فرشچيان کا مشہور ترین فن پارہ ہے۔ اس تصویر کا موضوع عصر عاشورا کو امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے بعد بے سوار گھوڑے کی خیام میں واپسی اور اس منظر کا سامنا کرتے ہوئے اہل بیت امام کے حزن و غم کی تصویر کشی کرنا ہے۔

عصر عاشورا نامی تصویر - جیسا کہ محمود فرشچیان نے کہا ہے ـ یکم جنوری سنہ 1977 عیسوی کو خلق کی گئی اور سنہ 1990 عیسوی میں آستان قدس رضوی#عجائب گھر کو بطور ہدیہ پیش کی گئی۔ یہ تصویر فنی قوت اور سرشاری اور عاشورائی مضمون و مفہوم کی وجہ سے شیعیان عالم کے لئے متاثر کن اور محبوب فن پارہ ہے۔

ملکی اور غیر ملکی فن کاروں اور ناقدین نے بارہا اس تصویر کی تحسین و تعریف کی ہے۔


تخلیق کار کا مختصر تعارف

محمود فرشچیان مورخہ 24 جنوری 1930 کو اصفہان میں پیدا ہوئے؛ وہ ایران کے صاحب طرز اور مشہور ـ معاصر ـ مصور ہیں۔ ان کے مشہور فن پارے کچھ یوں ہیں:

  • عصر عاشورا
  • ضامن آہو: جس میں انھوں نے امام رضا(ع) کے چہرے کی مصوری کی ہے؛
  • پنجمین روز آفرینش (خلقت کا پانچواں دن)، اس تصویر میں واضح کیا گیا ہے کہ سارے آسمانی اور زمینی موجودات صرف اللہ کی بندگی اور پرستش کرتے ہیں؛
  • امام علی علیہ السلام کی یتیم نوازی؛
  • شمس (تبریزی) اور مولانا (روم)؛
  • کوثر، یہ جس کا تعلق سیدہ فاطمہ زہرا(س) سے ہے۔
  • ان کی آخری تصویر کا عنوان "ستائش" ہے جو ان کے بقول آیت تسبیح کے مفہوم سے ماخوذ ہے [جہاں ارشاد ہوتا ہے:]

"يُسَبِّحُ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ... (ترجمہ: تسبیح کرتی ہے اللہ کی ہر چیز جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے) [ 62 و 64–1و 1] "[1]۔[2]

علاوہ ازیں فرشچیان نے امام رضا(ع) کی ضریح مبارک کی خاکہ کشی کی ہے۔[3]

مفصل مضمون: محمود فرشچیان

تصویر کے کوائف

  • ابعاد: فریم اور حاشیوں کے بغیر، 73٭ 98 سینٹی میٹر
  • صنف: مصوری / رنگ آمیزی
  • اسلوب: گتے پر اکریلیک، تیزاب کے بغیر۔[4]

تاریخچہ

محمود فرشچيان اپنے اس مشہور عالم فن پارے کے بارے میں کہتے ہیں:

انقلاب اسلامی کی کامیابی سے تین سال قبل میری والدہ نے نصیحت کرتے ہوئے کہا: "مجلس امام حسین(ع) میں جایا کرو تقاریر اور مصائب سنا کرو تا کہ چند صحیح کلمات سیکھ سکو"؛ میں نے کہا: مجھے اپنے کمرے میں کچھ کام کرنا ہے مکمل کرکے مجلس میں جاؤں گا۔ مجھ پر عجیب سی کیفیت طاری تھی چنانچہ اپنے کمرے میں پہنچا اور برش اٹھا کر بوم پر مصوری کا آغاز کیا یہاں تک کہ تصویر بن گئی اور برش رکا تو ایک لازوال شاہکار تخلیق ہوچکا تھا جو آج تک بغیر کسی تبدیلی کے موجود ہے۔[5] اور آج بھی جب میں اس پر نگاہ ڈالتا ہوں سوچتا ہوں کہ اگر آج بھی میں یہ تصویر تخلیق کرنا چاہتا یہ یہی تصویر سامنے آتی۔[6]

فرشچیان نے یہ فن پارہ سنہ 1990 میں حرم امام رضا(ع) کو بطور ہدیہ پیش کیا۔

فرشچیان نے اپنی فنی تخلیقات کے بدولت متعدد قومی اور بین الاقوامی انعامات حاصل کئے ہیں۔[7]

پاورقی حاشیے