حسین بن عبد الصمد حارثی

ویکی شیعہ سے
(عز الدین عاملی سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
حسین بن عبد الصمد حارثی
بحرین میں حسین بن عبد الصمد حارثی کی قبر
ذاتی کوائف
تاریخ پیدائش 918 ق
آبائی شہر جبل عامل
محل زندگی جبل عامل، ہرات، بحرین، اصفہان، قزوین، مشہد
تاریخ وفات 8 ربیع الاول 984 ق
علت وفات طبیعی
مدفن بحرین
مشہوراقارب شیخ بہائی، فرزند
مذہب شیعہ اثنا عشری
علمی و دینی معلومات
اساتذہ حسین بن جعفر کرکی، شہید ثانی
شاگرد شیخ بہائی، صاحب معالم، میر داماد، منصور بن عبد اللہ شیرازی، حسن بن علی شدقم مدنی
کتابیں وصول الاخیار الی اصول الاخبار، شرح قواعد الاحکام علامہ حلی، شرح الفیہ شہید اول

حسین بن عبد الصمد حارثی (918۔984 ق)، عز الدین کے لقب سے ملقب شیعہ عالم، جبل عامل (لبنان) کے رہنے والے، شہید ثانی کے شاگرد اور شیخ بہائی کے والد ہیں۔

ایران میں صفویہ (شیعہ) حکومت کی تاسیس اور عثمانی حکومت کے تحت تسلط شیعہ علاقوں پر سخت گیری کے سبب حارثی نے ایران مہاجرت کی اور قزوین، مشہد اور ہرات جیسے شہروں میں شیخ الاسلامی کے منصب پر فائز ہوئے۔ حارثی نے بھی جبل عامل کے دوسرے شیعہ علماء کی طرح حدیثی و علمی شیعہ میراث کے ایران منتقل کرنے میں نہایت اہم کردار ادا کیا ہے۔

ولادت و نسب

آپ کی ولادت سن 918 ق میں شہر صیدون کے قریب جبع نامی قریہ کے ایک مشہور خاندان میں ہوئی۔[1] ان کا سلسلہ نسب حضرت علی علیہ السلام کے صحابی حارث بن عبد اللہ ہمدانی تک منتہی ہوتا ہے۔[2]

حارثی کے جد محمد بن علی جناعی/جبعی جبل عامل کے بزرگ عالم دین اور مجموعۃ الجباعی کے مولف تھے۔[3] حارثی کے والد عبد الصمد بن محمد بھی نامور عالم تھے اور شہید ثانی نے ان کے علم و تقوی کی مدح کی ہے۔[4]

تعلیم و تحصیل

حارثی نے اپنے وطن میں کچھ مدت تک حسین بن جعفر کرکی کے پاس اور زیادہ عرصہ شہید ثانی کے پاس تعلیم حاصل کی۔ وہ مصر، استامبول (ٹرکی) اور عراق کے سفروں میں ان کے ہمراہ رہے۔ 941 ق میں انہوں نے شہید ثانی سے اجازہ حاصل کیا۔[5] شہید نے اس اجازہ میں ان کی تعریف کی ہے۔[6]

ایران کی طرف ہجرت

ایران میں صفویہ شیعہ حکومت کی تاسیس اور عثمانی حکومت کی طرف سے ان کے زیر تسلط شیعہ نشین علاقوں خاص طور پر جبل عامل میں شدت نے وہاں کے علماء کے ایران کی طرف ہجرت کرنے کا سبب فراہم کیا۔[7] حارثی نے بھی اپنے استاد شہید ثانی کے ساتھ پیش آنے والی دشواریوں کے بعد ظاہرا 956 ق میں عراق اور اس کے بعد تقریبا 958۔961 ق میں اپنے خانوادہ کے ساتھ ایران کی طرف ہجرت کی۔[8]

اصفہان

حارثی کی خود نوشت کے مطابق،[9] انہوں نے اپنی مہاجرت کے آغاز میں اصفہان میں سکونت اختیار کی اور وہاں علی بن ہلال منشار کرکی عاملی (متوفی 984 ق) اصفہان کے شیخ الاسلام نے ان کا استقبال کیا۔[10]

قزوین

اصفہان میں 3 سال سکونت اور تدریس کے بعد ان کی علمی شہرت اور علی بن ہلال منشار سفارش سبب بنی کہ شاہ طہماسب اول نے انہیں صفویہ حکومت کے دار السلطنت قزوین دعوت دی اور انہیں وہاں سے شیخ الاسلامی کے عہدہ سے سرفراز کیا۔ وہ 7 سات تک قزوین میں رہے اور انہوں نے وہاں نماز جمعہ جسے وہ واجب عینی سمجھتے تھے، قائم کی۔[11]

مشہد

شاہ طہماسب نے 970 ق میں ظاہرا سیاسی دلائل اور حارثی کے بعض مسائل فقہی میں سید حسین کرکی (متوفی 1001 ق) کے ساتھ اختلافات کے سبب، حارثی کو قزوین کی شیخ الاسلامی سے معزول کرکے انہیں مشہد کا شیخ الاسلامی منصوب کر دیا۔

ہرات

حارثی اس کے بعد ہرات چلے اور وہاں انہوں نے 8 سال تک تدریس اور وعظ کے فرایض انجام دیئے جبکہ وہ ہرات کے شیخ الاسلامی کے عہدہ پر بھی فائز تھے۔[12] افندی اصفہانی کی تحریر کے مطابق،[13] حارثی کے علمی کارناموں اور سماجی خدمات کے سبب ہرات اور اس کے اطراف میں رہنے والے بہت سے لوگوں نے شیعہ مذہب اختیار کر لیا اور بہت سے طلاب نے ان سے استفادہ کی خاطر وہاں کا رخ کر لیا۔ حارثی سن 983 ق تک ہرات کے شیخ الاسلامی کے منصب پر فائز رہے۔

بحرین

سن 983 ق میں وہ حج بیت اللہ کے قصد سے مکہ کے لئے روانہ ہوئے اور مکہ و مدینہ کی زیارت کے بعد بحرین سفر کیا اور وہاں رہائش اختیار کی۔[14]

خصوصیات

حارثی نے بھی جبل عامل کے دوسرے شیعہ علماء کی طرح حدیثی و علمی شیعہ میراث کے ایران منتقل کرنے میں نہایت اہم کردار ادا کیا ہے۔ ایران اور ما وراء النہر کے علماء کے ان کے پاس تحصیل علم کے لئے جاتے تھے۔[15] بعض منابع نے ان کی تصنیفات کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ وہ تصوف کی طرف تمایل رکھتے تھے اور انہوں نے صوفیہ کے شیوخ کی مدح کی ہے۔[16]

شاگرد

حارثی نے متعدد شاگردوں کی تربیت کی اور بہت سے علماء کو نقل حدیث کا اجازہ مرحمت کیا۔ ان افراد میں ان کے بیٹے شیخ بہائی، حسن بن زین الدین کتاب معالم الاصول کے مولف، میر داماد، راستگو کے نام سے مشہور منصور بن عبد اللہ شیرازی، دسویں صدی ہجری کے فقیہ و ادیب بدر الدین حسن بن علی شدقم مدنی ، و ۔۔۔[17]

علمی فعالیت

حارثی کے علمی کارناموں میں سے ایک گزشتہ منابع حدیثی کی تصحیح و تطبیق ہے۔ افندی اصفہانی[18] و شیخ حر عاملی[19] نے تہذیب الاحکام کے ایک نسخہ کی طرف، جو حارثی کے ہاتھ کا لکھا ہوا تھا جس کی انہوں نے شہید ثانی کے پاس تصحیح و تطبیق ساتھ انجام دی تھی، اشارہ کیا ہے۔[20] اسی طرح سے افندی اصفہانی[21] نے شیخ طوسی کے ان بعض آثار کی طرف اشارہ کیا ہے جو شہید ثانی کی کتابوں کے درمیان تھیں اور جن پر حارثی کے دست خط موجود تھے۔

تالیفات

کتب حدیث

1۔ وصول الاخیار الی اصول الاخبار، یہ کتاب شہید ثانی کی کتاب الرعایہ فی علم الدرایہ کے بعد، صفویہ دور میں درایۃ الحدیث کے مہم متون میں سے تھی اور نقل کیا گیا ہے کہ یہ کتاب 960 ق سے پہلے مشہد میں تالیف ہوئی ہے۔[22]

علامہ حلی کی تالیف خلاصة الاقوال فی معرفة الرجال پر حاشیہ

صحیفہ سجادیہ پر التعلیقات کے عنوان سے حاشیہ

4۔ الاربعون حدیثا، جس میں اخلاق کے متعلق 40 حدیثوں کو جمع کیا گیا ہے۔[23]


فقہی و اصولی کتب

1۔ شرح قواعد الاحکام (علامہ حلی)

2۔ شرح تہذیب طریق الوصول الی علم الاصول، (علامہ حلّی)[24]

3۔ رسالہ صلاة الجمعہ یا رسالة فی وجوب صلاة الجمعہ۔[25]

4۔ رساله العقد الحسینی یا العقد الطہماسبی، یہ کتاب شاہ طہماسب اول کے حکم سے جو وسواس میں مبتلا تھا، تالیف کی گئی اور اس میں طہارت کے مسئلہ میں شک کی مذمت اور بعض مسائل میں حارثی اور سید حسین کرکی کے درمیان فقہی اختلاف کا ذکر کیا گیا ہے۔[26]

5۔ رساله تحفہ اہل الایمان فی قبلہ عراق العجم و الخراسان، اس کتاب میں محقق کرکی (متوفی 940 ق) کے نظریہ پر تنقید کی گئی ہے جو اس زمانہ میں ایران میں قبلہ کو معین کرنے کی روش کے سلسلہ میں تحریر کی گئی تھی۔[27]

علامہ حلی کی کتاب ارشاد الاذهان پر تعلیقہ۔[28]

7۔ مسألتان یا دو رسالہ، اس کتاب میں دو مسئلے بیان ہوئے ہیں ایک حصیر سے رفع نجاست کے سلسلہ میں اور دوسرا غیبت امام زمانہ (ع) میں غریب سیدوں پر سہم امام خرچ کرنے کی کیفیت۔[29]

8۔ شرح الفیہ شہید اول۔[30]

9۔ الرسالہ الرضاعیہ

10۔ مقالة فی وجوب الافتاء و بیان الحق علی کلِّ مَنْ علم بہ

11۔ الرسالہ التِّساعیہ یا المسائل الصلاتیہ، اس کتاب میں نماز سے مربوط 9 مسائل اور دیگر فقہی احکام ذکر ہوئے ہیں۔[31]


علم کلام، اخلاق و دیگر کتب

1۔ نورالحقیقہ و نور الحدیقہ فی علم الاخلاق، اس کتاب کا کچھ حصہ ادب الدنیا و الدین جو ابو الحسن علی بن محمد ماوردی (شافعی مسلک فقیہ متوفی 450 ق) کی کتاب ہے، کا خلاصہ ہے۔[32]

2۔ الاعتقادات الحقہ

3۔ الواجبات الملکیہ، یہ کتاب بعض اعتقادی و عملی امور کے بارے میں ہے

4۔ کتب حدیثی و فقهی و ریاضی پر شامل ان کے حواشی کا ایک مجموعہ

5۔ حلب کے بعض اہل سنت علماء کے ساتھ عقائد و علم کلام سے مربوط ان کے مناظرات کا مجموعہ

6۔ دیوان شعر۔[33]

رشتے دار

  • ان کے بھائی، نور الدین علی بن عبد الصمد، فقیہ و شاعر اور شہید ثانی کے شاگردوں میں سے تھے۔ انہوں نے شہید اور محقق کرکی سے اجازہ نقل حدیث دریافت کیا تھا۔[34] انہوں نے شہید اول کی کتاب الفیہ کو منظوم صورت عطا کی اور اس کا نام الدرۃ الصفیۃ رکھا۔ [35]
  • ان کے بیٹے، بہاء الدین جو شیخ بہائی کے نام سے مشہور ہیں۔
  • ان کے بیٹے، ابو تراب عبد الصمد، جو 966 ق میں قزوین میں پیدا ہوئے اور ان کے پاس تعلیم حاصل کی اور ان سے نقل حدیث کا اجازہ حاصل کیا۔[36] شیخ بہائی نے کتاب الفوائد الصمدیۃ (جو صمدیہ کے نام سے مشہور ہے) کو اپنے بھائی ابو تراب کے لئے تالیف کیا۔[37] ابو تراب 1060 ق میں مدینہ کے اطراف میں وفات پائی اور نجف میں مدفون ہیں۔[38] ان کی تالیفات یہ ہیں:

شیخ بہائی کی کتاب الاربعین پر حاشیہ۔

خواجہ نصیر الدین طوسی کی کتاب الفرایض النصیریہ پر حاشیہ۔[39]

وفات

ان کی وفات 8 ربیع الاول 984 ق ہوئی اور انہیں بحرین کے شہر ہجر کے مضافات میں مصلی نامی قریہ میں دفن کیا گیا۔[40] شیخ بہائی نے ان کے سوگ میں مرثیہ نظم کیا ہے۔[41]

حوالہ جات

  1. افندی اصفهانی، ریاض العلماء و حیاض الفضلاء، ج۲، ص۱۱۰، ۱۱۹؛ بحرانی، لؤلؤةالبحرین، ص۲۸.
  2. بحرانی، لؤلؤةالبحرین، ص۱۶.
  3. ر.ک: مجلسی، ج۱۰۴، ص۲۱۱ـ۲۱۴؛ افندی اصفہانی، ریاض العلماء و حیاض الفضلاء، ج۵، ص۴۸؛ مہاجر، الهجرة العاملیہ الی ایران فی العصرالصفوی، ص۱۴۵.
  4. ر.ک: حرّعاملی، امل الآمل، قسم ۱، ص۷۵، ۱۰۹؛ مجلسی، ج۱۰۴، ص۲۰۸؛ افندی اصفہانی، ریاض العلماء و حیاض الفضلاء، ج۳، ص۱۲۸.
  5. عاملی، الدر المنثور من المأثور و غیرالمأثور، ج۲، ص۱۹۱؛ افندی اصفہانی، ریاض العلماء و حیاض الفضلاء، ج۲، ص۱۱۷ـ۱۱۸؛ بحرانی، لؤلؤةالبحرین، ص۲۸؛ استوارت، ۱۹۹۶، ص۳۸۸.
  6. شہید ثانی، رسائل الشہید الثانی، ج۲، ص۱۱۱۳ـ۱۱۱۴؛ مجلسی، ج۱۰۵، ص۱۴۶ـ۱۷۱.
  7. ر.ک:مہاجر، الہجرة العاملیہ الی ایران فی العصر الصفوی، ص۳۵، ۹۵ـ۹۶، ۱۴۵ـ۱۴۶
  8. حارثی، الرحلہ، ص۱۸۵؛ استوارت، ۱۹۹۱، ص۵۶۴، ۵۶۷؛ استوارت، ۱۹۹۸، ص۹۴
  9. حارثی، الرحلہ، ص۱۸۴
  10. افندی اصفہانی، ریاض العلماء و حیاض الفضلاء، ج۲، ص۱۱۹، ج۴، ص۲۶۸؛ مہاجر، الہجرة العاملیہ الی ایران فی العصر الصفوی، ص۱۴۶
  11. افندی اصفہانی، ریاض العلماء و حیاض الفضلاء، ج۲، ص۱۱۹ـ۱۲۰، ج۴، ص۲۶۸؛ مہاجر، الہجرة العاملیہ الی ایران فی العصر الصفوی، ص۱۴۶ـ۱۴۷.
  12. ر.ک:افندی اصفهانی، ریاض العلماء و حیاض الفضلاء، ج۲، ص۱۲۰؛ استوارت، ۱۹۹۶، ص۳۸۷، ۳۹۳ـ۳۹۴، ۴۰۲ـ۴۰۵
  13. افندی اصفہانی، ریاض العلماء و حیاض الفضلاء، ج۲، ص۱۲۰ـ۱۲۱.
  14. استوارت، ۱۹۹۶، ص۳۹۴.
  15. حارثی، الاربعون حدیثآ، ص۱۴۱؛ افندی اصفہانی، ریاض العلماء و حیاض الفضلاء، ج۲، ص۱۱۸، ۱۲۰؛ جعفریان، صفویہ در عرصه دین، ج۲، ص۸۱۲ ـ ۸۱۴؛ مہاجر، الہجرة العاملیہ الی ایران فی العصر الصفوی، ص۱۴۱ـ۲۳۶.
  16. ر.ک:افندی اصفهانی، ریاض العلماء و حیاض الفضلاء، ج۲، ص۱۱۴ـ۱۱۵؛ محسن امین، اعیان الشیعه، ج۶، ص۶۰.
  17. مجلسی، ج۱۰۵، ص۱۸۹ـ۱۹۰، ج۱۰۶، ص۸۷؛ افندی اصفہانی، ریاض العلماء و حیاض الفضلاء، ج۲، ص۱۰۹؛ محسن امین، اعیان الشیعه، ج۵، ص۱۷۷ـ۱۷۸، ج۶، ص۳۶، ۶۳؛ آقا بزرگ طهرانی، الذریعه، ج۱، ص۱۸۴ـ۱۸۵، ج۱۳، ص۱۷۰؛ حسن امین، مستدرکات اعیان الشیعہ، ج۵، ص۹۱.
  18. افندی اصفہانی، ج ۲، ص۱۱۲.
  19. حر عاملی، امل الآمل، قسم ۱، ص۷۶.
  20. نیز رجوع کریں شہید ثانی، رسائل الشهیدالثانی، ج ۲، ص۱۱۷۵؛ حائری، فهرست...، ج ۱، ص۴۷ـ۴۸.
  21. رجوع کریں ج ۲، ص۱۱۲، ۱۱۴، ج ۳، ص۱۲۸.
  22. حارثی، وصول الاخیار الی اصول الاخبار، ص۶۰؛ افندی اصفہانی، ریاض العلماء و حیاض الفضلاء، ج۲، ص۱۱۵؛ آقا بزرگ طہرانی، الذریعه، ج۲۵، ص۱۰۱؛ صدرایی خویی، فهرستگان نسخه‌ ہای خطّی حدیث و علوم حدیث شیعه، ج۱، ص۱۰۱ـ۱۰۳.
  23. حارثی، الاربعون حدیثآ، ص۱۴۳، پانویس ۱.
  24. آقا بزرگ طہرانی، الذریعه، ج۴، ص۵۱۳، ج۵، ص۴۳ـ۴۴، ج۱۴، ص۱۹.
  25. ر.ک:آقا بزرگ طہرانی، الذریعہ، ج۱۵، ص۷۰؛ جعفریان، صفویہ در عرصہ دین، ج۱، ص۳۰۵.
  26. آقا بزرگ طہرانی، الذریعہ، ج۱۵، ص۲۸۸ـ ۲۹۰؛ استوارت، ۱۹۹۶، ص۳۹۶ـ۳۹۹.
  27. ر.ک:حرّ عاملی، امل الآمل، قسم ۱، ص۷۵؛ افندی اصفہانی، ریاض العلماء و حیاض الفضلاء، ج۲، ص۱۱۱؛ آقا بزرگ طہرانی، الذریعہ، ج۳، ص۴۲۳، ج۱۷، ص۴۰، ۴۶.
  28. افندی اصفهانی، ریاض العلماء و حیاض الفضلاء، ج۲، ص۱۱۱؛ آقا بزرگ طہرانی، الذریعہ، ج۶، ص۱۵.
  29. افندی اصفہانی، ریاض العلماء و حیاض الفضلاء، ج۲، ص۱۱۶؛ مدرسی طباطبائی، مقدمہ ای بر فقہ شیعہ ص۲۰۰.
  30. افندی اصفہانی، ریاض العلماء و حیاض الفضلاء، ج۲، ص۱۱۵ـ۱۱۷.
  31. ر.ک:آقا بزرگ طہرانی، الذریعہ الی تصانیف الشیعہ، ج۱۱، ص۱۴۶، ۱۵۳، ۱۹۱، ج۲۰، ص۳۵۴ـ۳۵۵، ج۲۱، ص۱۷، ۴۰۷.
  32. ر.ک:حارثی، نور الحقیقہ و نورالحدیقہ فی علم الاخلاق، ص۳۶ـ۴۱، ۴۵ـ۴۶؛ قس ماوردی، ادب الدنیا و الدین، ص۲۲ـ۲۳، ۲۸ـ۲۹، ۳۱ـ۳۲.
  33. ر.ک:افندی اصفہانی، ریاض العلماء و حیاض الفضلاء، ج۲، ص۱۱۱ـ۱۱۲، ۱۱۵ـ۱۱۷.
  34. محسن امین، اعیان الشیعہ، ج۷، ص۱۵۴، ج۹، ص۴۳۱؛ آقا بزرگ طہرانی، طبقات، ص۱۴۹
  35. آقا بزرگ طہرانی، الذریعہ، ج۱، ص۴۸۱، ج۸، ص۱۰۰ـ۱۰۱.
  36. افندی اصفهانی، ریاض العلماء و حیاض الفضلاء، ج۲، ص۱۱۰، ج۳، ص۱۲۳.
  37. افندی اصفهانی، ریاض العلماء و حیاض الفضلاء، ج۳، ص۱۲۳
  38. محسن امین، اعیان الشیعہ، ج۸، ص۱۶؛ آقا بزرگ طہرانی، طبقات، ص۳۲۵؛ آقا بزرگ طہرانی، الذریعہ، ج۶، ص۱۳؛ قس عبرت نائینی، ج۳، ص۱۱۶.
  39. آقا بزرگ طہرانی، الذریعہ، ج۶، ص۱۳، ۱۶۳.
  40. افندی اصفہانی، ریاض العلماء و حیاض الفضلاء، ج۲، ص۱۱۹؛ بحرانی، لؤلؤةالبحرین، ص۲۷.
  41. ر.ک:افندی اصفہانی، ریاض العلماء و حیاض الفضلاء، ج۲، ص۱۱۲ـ۱۱۴؛ بحرانی، لؤلؤةالبحرین، ص۲۷ـ۲۸.

منابع

  • احمد حسینی اشکوری، التراث العربی فی خزانہ مخطوطات مکتبہ آیة اللّه العظمی المرعشی النجفی، قم ۱۴۱۴
  • اسکندر بیک منشی، تاریخ عالم آرای عباسی، تهران، ۱۳۵۰ ش
  • امین عاملی، سید محسن، اعیان الشیعہ، بیروت، دارالتعارف، ۱۴۲۱ ق
  • جعفر مہاجر، الهجرہ العاملیہ الی ایران فی العصر الصفوی: اسبابها التاریخیہ و نتائجها الثقافیہ و السیاسیہ، بیروت ۱۴۱۰/ ۱۹۸۹ ع
  • حسن امین، مستدرکات اعیان الشیعہ، بیروت ۱۴۰۸ـ۱۴۱۶/۱۹۸۷ـ۱۹۹۶ ع
  • حسین بن عبد الصمد حارثی، الاربعون حدیثاً، چاپ علی اوسط ناطقی، در میراث حدیث شیعه، به کوشش مهدی مهریزی و علی صدرایی خویی، دفتر۲، قم: مرکز تحقیقات دار الحدیث، ۱۳۷۸ ش
  • حسین بن عبد الصمد حارثی، الرحلہ، در محمد بن حسین شیخ بهائی، العروة الوثقی فی تفسیر سورة الحمد، چاپ محمد رضا نعمتی و اسعد طیب، قم ۱۳۸۰ ش
  • حسین بن عبد الصمد حارثی، العقدالطهماسبی، چاپ محمد حسین روحانی رودسری، در میراث اسلامی ایران، به کوشش رسول جعفریان، دفتر۱۰، قم: کتابخانه آیة اللّه مرعشی نجفی، ۱۳۷۸ ش
  • حسین بن عبد الصمد حارثی، رساله خطی مصرف خمس در زمان غیبت، (ترجمه و تحقیق) محمد جواد حسینی جلالی، در فقه اہل بیت علیهم السلام، ش ۳۰ (تابستان ۱۳۸۱)
  • حسین بن عبد الصمد حارثی، نور الحقیقہ و نور الحدیق فی علم الاخلاق، چاپ محمد جواد حسینی جلالی، قم ۱۴۰۳/۱۹۸۳ ق
  • حسین بن عبد الصمد حارثی، وصول الاخیار الی اصول الاخبار، چاپ عبد اللطیف کوهکمری، قم ۱۴۰۱
  • حسین مدرسی طباطبائی، مقدمه‌ای بر فقه شیعه: کلیات و کتابشناسی، ترجمه محمد آصف فکرت، مشهد ۱۳۶۸ ش
  • رسول جعفریان، صفویه در عرصه دین، فرهنگ و سیاست، قم ۱۳۷۹ ش
  • زین الدین بن علی شہید ثانی، رسائل الشہید الثانی، قم ۱۳۷۹ـ۱۳۸۰ ش
  • عبد اللّه بن عیسی افندی اصفهانی، ریاض العلماء و حیاض الفضلاء، چاپ احمد حسینی، قم ۱۴۰۱
  • علی بن محمد عاملی، الدر المنثور من المأثور و غیرالمأثور، قم ۱۳۹۸
  • علی بن محمد ماوردی، ادب الدنیا و الدین، چاپ مصطفی سقا، قاهره ۱۳۷۵/ ۱۹۵۵، چاپ افست بیروت ۱۳۹۸/ ۱۹۷۸ ع
  • علی صدرایی خویی، فهرستگان نسخه‌ہای خطّی حدیث و علوم حدیث شیعه، قم ۱۳۸۲ ش
  • مجلسی
  • محمدآصف فکرت، فهرست الفبائی کتب خطی کتابخانه مرکزی آستان قدس رضوی، مشهد ۱۳۶۹ ش
  • محمد بن حسن حرّ عاملی، امل الآمل، چاپ احمد حسینی، بغداد (۱۹۶۵)، چاپ افست قم ۱۳۶۲ ش
  • محمد علی حائری، فہرست نسخه‌ہای عکسی کتابخانه عمومی حضرت آیة اللّه العظمی مرعشی نجفی، قم ۱۳۶۹ـ ۱۳۷۰ ش
  • محمد محسن آقا بزرگ طهرانی، الذریعة الی تصانیف الشیعہ، چاپ علی نقی منزوی و احمد منزوی، بیروت ۱۴۰۳/۱۹۸۳
  • محمد محسن آقا بزرگ طهرانی، طبقات اعلام الشیعہ: الروضة النضرة فی علماء الماة الحادیة عشرہ، بیروت ۱۴۱۱/۱۹۹۰
  • یوسف بن احمد بحرانی، لؤلؤة البحرین، چاپ محمد صادق بحر العلوم، قم، بی‌ تا
  • Devin J. Stewart, "A biographical notice on Baha' al-Din al- Amili (d. 1030/1621) ", Journal of the American Oriental Society, vol. 111, no.3 (July-Sept. 1991).
  • idem, "The first Shaykh al-Islam of the Safavid capital Qazvin", ibid, vol. 116, no.3 (July-Sept. 1996).
  • idem, "Husayn b. Abd al-Samad al-Amili' streatise for Sultan Suleiman and the Shii Shafii legal tradition", Islamic law and society, vol.4 (1997).
  • idem, Islamic legal orthodoxy: twelver Shiite responses to the Sunni legal system, Salt Lake City, Utah, 1998.
ٗٗ ٗٗ