عبقات الانوار فی امامۃ الائمۃ الاطہار (کتاب)

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
عبقات الانوار فی امامۃ الائمۃ الاطہار
کتاب عبقات الانوار.jpg
مؤلف سید میر حامد حسین ہندی
زبان فارسی
موضوع علم کلام(امامت)
روش ردیہ و استدلالی
ناشر كتابخانہ عمومى امام على(ع)
محل نشر اصفہان
تاریخ نشر ۱۳۶۶ش


عَبَقاتُ الأنوار فی إمامَة الأئمةِ الأطهار ایک علمی اور تحقیقی کتاب ہے جسے سید میر حامد حسین ہندی نے امامت کے باب میں مولوی عبدالعزیز دہلوی کی شیعہ عقائد کے خلاف لکھئی گئی کتاب تحفۃ اثنا عشریہ کے جواب میں لکھی گئی ہے۔

مؤلف

تفصیلی مضمون: میر حامد حسین ہندی

میرحامد حسین ہندی (۱۲۴۶-۱۳۰۶ق) تیرہویں صدی ہجری کے ہندوستان کے سادات اور شیعہ علماء میں سے تھے۔ میرحامد حسین عالمی جستجوگر اور کافی معلومات رکھنے والے انسان تھے۔ تشیع کی دفاع میں بہت ساری کتابیں لکھی۔

تحفۃ اثنا عشریہ

کتاب تحفۃ اثناعشریہ مؤلف عبدالعزیز دہلوی
تفصیلی مضمون: تحفۃ اثناعشریہ

ہندوستان کے ایک اہل سنت عالم عبدالعزیز دہلوی جو "سراج الہند" کے نام سے مشہور تھا اور ۳۱ پشتوں میں ان کا نسب عمر خطاب سے جا ملتا ہے اور صاحب عبقات انہیں شاہ صاحب کے نام سے یاد کرتے ہیں، نے امامت کے باب میں شیعہ اعتقادات کے خلاف تحفۃ اثنا عشریہ نامی کتاب لکھی۔

اس کتاب کے مصنف نے دنیائے اسلام کی مصلحتوں، تاریخ اسلام کے واقعیتوں اور علم حدیث کے قواعد و ضوابط کو نظر انداز کرتے ہوئے پیغمبر اکرم(ص)، آپکی آل، اسلامی عقائد، اصول دین، فروع دین، اخلاق اور دیگر اعمال و افعال کے بارے میں شیعہ اعتقادات کو علم مناظرہ اور نقل حدیث کے آداب و رسوم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنی تہمتوں اور افتراعات کا نشانہ بنایا۔

دہلوی نے اپنی کتاب کے ساتویں حصے میں اپنی گفتگو کو دو حصوں میں تقسیم کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

  • پہلا حصہ:وہ آیات جن کو شیعہ حضرت علی(ص) کی امامت پر دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ اس حصے میں اس نے فقط 6 آیات پر اکتفاء کیا ہے۔
  • دوسرا حصہ: وہ احادیث جن کو شیعہ امامت اور ولایت کو اثبات کرنے کیلئے نقل کرتے ہیں۔ اس حصے میں بھی وہ فقط 12 احادیث کو نقل کرنے پر اکتفا کرتے ہیں یوں وہ شیعوں کے مستندات کو 6 آیتوں اور 12 احادیث میں منحصر کرتے ہوئے انہیں مخدوش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

عبقات الانوار کے معنی

"عبقات" عین پر فتحہ اور باء پر کسرہ کے ساتھ "عبقہ" کا جمع ہے جس کے معنی خوشبودار چیز کے ہیں اور "انوار" کے معنی سفید پھول کے ہیں یوں "عبقات الانوار" کے معنی خشبودار سفید پھول کے ہیں۔

موضوع کتاب

عبقات الانوار عبدالعزیز دہلوی کی کتاب "تحفۃ الاثنا عشریہ" کے ساتویں باب کے جواب میں لکھی گئی جس میں مولوی دہلوی نے امیر المؤمنین حضرت علی(ع) کی امامت پر شیعہ ادلہ کی نفی کی ہے۔ مؤلف اس کتاب میں فلسفہ امامت کو روشن کر کے یہ سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ اسلام حقیقی وہ نہیں ہے جو خلفاء کے دربار میں مرسوم تھی۔ مؤلف اس کتاب میں دہلوی کی ایک ایک حرف کا ملل جواب دیتے ہیں۔

روش تألیف

مؤلف نے ابتداء میں احادیث کی سند کو صرف اہل سنت کے ہاں متواتر اور قطعی الصدور ہونے کی حیثیت سے بحث کی ہے۔ اس حوالے سے انہوں نے اہل سنت کے ہاں معتبر ترین مدارک کے ذریعے پیغمبر اکرم(ص) کے زمانے سے لے کر خود دہلوی کے زمانے تک پہلے بلا واسطہ راویوں کی صحابہ کے ذریعے توثیق اور تعدیل کی ہے پھر اس توثیق کرنے والے صحابہ کی تابعین کے ذریعے توثیق کی ہے اس کے بعد غیر مستقیم راویوں کی تا خود دہلوی کے زمانے تک توثیق کو کتب رجال اور تراجم اور جوامع حدیثی کے ذریعے توثیق کی ہے۔ اس کے بعد حدیث کے مضامین کی تجزیہ و تحلیل کرتے ہوئے انہیں شیعہ نظریے کے ساتھ مطابقت رکھنے اور اس پر دلالت کرنے کی کیفیت کو بیان فرمایا ہے۔ اور آخر میں اہل سنت کی طرف سے وارد تمام اعتراضات کو ایک ایک کرکے نقل کرتے ہوئے سب کا مدلل جواب دیا ہے اور چہ بسا ان جوابات کیلئے بھی خود اہل سنت کی کتابوں سے دلائل پیش کئے ہیں۔

مضامین کتاب

  • پہلا باب: حدیث من کنت مولاه فهذا علی مولاه جو حدیث غدیر کے نام سے معروف ہے کے ساتھ مختص ہے اور یہ دو حصوں پر مشتمل ہے:
  1. ایک لاکھ سے زیادہ صحابہ، تابعین، تابع تابعین، حفّاظ اور اہل سنت کے علم حدیث کے ماہرین تا خود دہلوی کے زمانے تک کا نام ان کی مختصر حالات زندگی اور ان کی توثیق کے ساتھ بیان کیا ہے۔
  2. حدیث کی مضمون کی تجزیہ و تحلیل اور اس کا حضرت علی(ع) کی امامت پر دلالت کرنے کی کیفیت کو بیان کرتے ہوئے دہلوی کے اعتراضات کا مدلل جواب دیا ہے۔

پہلا حصہ ۱۲۵۱ صفحات پر مشتمل ایک جلد میں مرتب کیا ہے جبکہ دوسرا حصہ ہزار صفحات کے دو جلدوں پر مشتمل ہے اور خود مؤلف کے زمانے میں ہی چاپ سنگی کے ساتھ منظر عام پر آگئی تھی اور یہ تینوں مجلدات "غلام رضا مولانا بروجردی" کے تحقیق کے ساتھ دس جلدوں میں قم المقدس میں منظر عام پر آگئی ہے۔ اس حصے کا خلاصہ فیض القدیر کے نام سے شیخ عباس قمی نے ۴۶۲ صفحات میں منتشر کیا ہے۔

  • دوسرا باب: حدیث متواتر یا علی أنت منی بمنزلة هارون من موسی إلا أنه لا نبی بعدی جو حدیث منزلت کے نام سے معروف ہے سے مختص ہے۔ اسے بھی حدیث غدیر کی طرح دو حصوں میں بیان کیا ہے۔ یہ جلد خود مؤلف کے زمانے میں 977 صفحات پر مشتمل لکھنو میں سنہ 1295ہ.ق میں منتشر ہوئی اور مؤلف کے 100 سالویں برسی کی مناسب سے اصفہان میں آفسٹ ہوئی ہے۔
  • تیسرا باب: حدیثإن علیا منی و أنا منه، و هو ولی کلّ مؤمن بعدی جو حدیث ولایت کے نام سے معروث ہے سے مختص ہے۔ یہ حصہ ۵۸۵ صفحات پر مشتمل ہے اور سنہ ۱۳۰۳ ه‍.ق میں ہندوستان میں منتشر ہوئی ہے۔
  • جوتھا باب:حدیث "... اللهم ائتنی بأحبّ خلقک إلیک یأکل معی من هذا الطیر جو حدیث طیر کے نام سے معروف ہے، کے ساتھ مختص ہے۔ یہ حصہ ۷۳۶ صفحات پر مشتمل دو جلدوں میں سنہ۱۳۰۶ ه‍.ق کو لکھنو میں منتشر ہوئی ہے۔ (مطبعہ بستان مرتضوی)
  • پانجواں باب: حدیث أنا مدینة العلم و علی بابها جو حدیث مدینۃ العلم کے نام سے معروف ہے کے ساتھ مختص ہے۔ یہ حصہ دو مجلدات پر مشتمل ہے اور پہلی جلد ۷۴۵ صفحات پر مشتمل سنہ ۱۳۱۷ ه‍.ق میں جبکہ دوسری جلد ۶۰۰ صفحات پر مشتمل سنہ ۱۳۲۷ ه‍.ق میں منتشر ہوئی (بہ اہتمام سید مظفر حسین)
  • چھٹا باب: حدیثمن أراد أن ینظر إلی آدم و نوح... فینظر إلی علی جو حدیث تشبیہ سے معروف ہے، سے مختص ہے۔ یہ حصہ دو مجلّدات ایک ۴۵۶ صفحات جبکہ دوسری ۲۴۸ صفحات پر مشتمل سنہ ۱۳۰۱ ه‍.ق میں منتشر ہوئی ہے. (لکھنو میں)
  • ساتواں بابا: حدیث من ناصب علیا الخلافة بعدی فهو کافر کے ساتھ مختص ہے جس کی پروف ریڈینگ نہیں ہوئی ہے۔
  • آٹھواں بابت: حدیث کنت أنا و علی نورا بین یدی اللّه قبل أن یخلق الله آدم جو حدیث نور سے معروف ہے کے ساتھ مختص ہے.
  • نواں باب: غزوہ خیبر میں پیغمبر اکرم(ع) کی زبانی ارشاد ہونے والی حدیث رایت کے بارے میں ہے۔ (ایک جلد میں)
  • دسواں باب: حدیث علی مع الحق و الحق مع علی(ع) کے ساتھ مختص ہے۔ اس حصے کا ہاتھ سے لکہوا نسخہ کتابخانہ ناصریہ میں موجود ہے۔
  • گیارہواس باب: خدیث إن منکم من یقاتل علی تأویل القرآن کما قاتلت علی تنزیله کے ساتھ مختص ہے۔ اس حصے کا بھی پروف ریڈینگ شدہ نسخہ موجود نہیں ہے۔(3 جلدوں میں)
  • بارہواں باب: متواتر اور معروف حدیث ثقلین اور اس کے ساتھ حدیث سفینہ کے ساتھ مختص ہے یہ حصہ لکھنو میں سنہ ۱۳۱۳ اور ۱۳۵۱ ه‍.ق میں جبکہ اصفہان میں سنہ ۱۳۸۰ ه‍.ق میں ( ۶ جلدوں میں) مدرسہ الامام المہدی ۱۴۰۶ ه‍.ق میں منتشر ہوئی ہے۔ خود مؤلف کے زمانے میں یہ حصہ چاپ سنگی میں ( ۶ جلدوں میں) سید محمد علی روضاتی کی کوششوں سے اصفہان میں (عبقات اور اس کے مؤلف نیز "تحفہ اثنا عشریہ" کے بارے میں ایک مفید خط کے ساتھ) منتشر ہوئی ہے۔

اس طرح اس مجموعے کے مباحث کا تحقیقی اور مفید خلاصہ نفحات الأزہار فی خلاصۃ عبقات الأنوار کے نام سے عربی زبان میں سید علی میلانی کے قلم سے ۲۰ جلدوں میں قم میں منتشر ہوئی ہے۔

درج بالا مجموعے کے پانچ حصے مرحوم سید میرحامد حسین، تین حصے انکے بیٹے سید ناصر حسین اور دو حصے سید محمد سعید فرزند سید ناصر حسین نے اسی روش اور اسلوب کے مطابق پایہ تکمیل تک پہنچائے جسے سید میر حامد حسین نے اپنایا تھا:

مؤلفین عبقات
میر سید حامد حسین سید ناصر حسین سید محمد سعید
حدیث غدیر سندا و دلالتا حدیث طیر سندا و دلالتا حدیث مناصبت سندا و دلالتا (عربی میں)
حدیث منزلت سندا و دلالتا حدیث باب سندا و دلالتا حدیث خیبر، فقط از حیث سند (عربی میں).
حدیث ولایت سندا و دلالتا حدیث ثقلین و سفینہ سندا و دلالتا
حدیث تشبیہ سندا و دلالتا
حدیث نور سندا و دلالتا

البتہ آخر الذکر دو حدیث ابھی تک منظر عام پر نہیں آئی ہیں۔

آخری پانچ احادیث جو میر حامد حسین کے بیٹے اور پوتے کے توسط سے انجام پائے ہیں انہیں بھی میر حامد حسین ہی کے نام پر شایع کیا گیا ہے تاکہ انہیں خراج تحسین پیش کر سکیں اور دوسری طرف سے انہوں نے بھی اسی طریقے اور روش کو اپنایا ہے جسے میر حامد حسین نے اپنایا تھا۔

عبقات کے بارے میں انجام پانے والی تحقیقیں

عبقات کے بارے میں لکھی جانے والی کتابوں میں درج ذیل کتابیں قابل ذکر ہیں:

  1. تذییل عبقات مؤلف عبقات کے دوسرے بیٹے سید ذاکر حسین کے قلم سے.
  2. حدیث "مدینۃ العلم" کی تعریب سید محسن نواب لکھنوی کے قلم سے۔
  3. جدل دوم، پنچم، ششم اور جلد اول کے ایک حصے کا خلاصہ اور ان تمام جلدوں کی تعریب بنام "الثمرات" سید محسن نواب لکھنوی کے قلم سے۔

خصوصیات کتاب

مؤلف کی علمی قابلیت اور صلاحیت

مؤلف کی قدرت علمی، وسعت مطالعہ اور موضوع پر خارق العادہ احاطے کو اس کتاب کے تمام مجلدات سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ مثلا ایک جگہ پر حدیث ثقلین کی شیعہ مدعا پر دلالت کو 66 طریقوں سے بیان کیا ہے۔ اسی طرح ایک اور جگہ اس حدیث کی شیعہ مطلوب پر دلالت کے بارے میں ابن جوزی کے اشتباہات کو 165 نقض اور تالی فاسد کے ساتھ جواب دیا ہے اور کتاب تحفہ کے مؤلف کا یہ دعوا کہ عترت کے معنی تمام اقارب ہیں اور اس کا لازمہ تمام رشتہ داروں کی اطاعت کا واجب ہونا ہے نہ فقط اہل بیت کی، اس دعوا کو باطل کرنے کیلئے 51 نقض اور اعتراض وارد کیا ہے۔

اسی طرح انہوں نے جس مطلب یا بحث کو بھی چھیڑا ہے اس کے تمام قابل بحث جوانب کو مد نظر رکھتے ہوئے اس موضوع کے بارے کما حقہ تحقیقات کو اس کے انتہائی درجہ تک پہنچایا ہے اور قارئین کیلئے اس کتاب کے مطالعے کے بعد دوبارہ کسی منابع کی طرف رجوع کرنے کے حوالے سے بے نیاز کیا ہے۔

مناظرہ کے آداب اور گفتگو کے اصولوں کی رعایت

صاحب عبقات دوسرے شیعہ علماء کی طرح اہل سنت علماء کے ساتھ مناظرہ اور بحث و مباحثہ کرتے وقت مناظرہ اور گفتگو کے آداب اور قواعد کی رعایت کرتے تھے جبکہ طرف مقابل اگرچہ یہ ادعا کرتے تھے لکین عملا اس پر پابند نہیں رہتے تھے۔

الف: بحث و گفتگو کے آداب میں سے ایک یہ ہے کہ جب انسان کسی موضوع کے بارے میں کسی کا کلام نقل کرے تو امانت کی رعایت کرتے ہوئے بغیر کمی و زیادتی کے پورا کلام نقل کرے پھر محل اشکال اور اعتراض کو مشخص کرکے اس کا نقضی یا حلی جواب دے۔ اس صورت میں سننے یا دیکھنے والا طرفین کے مدعا اور دلائل کو سننے کے بعد صحیح فیصلہ کرتے ہوئے درست اور صحیح نظریے کا انتخاب کر سکے۔

میر حامد حسین کتاب عبقات میں خطبہ کے بعد دہلوی (صاحب تحفہ) کی عین عبارت کو بغیر کسی کمی و زیادتی کے نقل کرتے ہیں یہاں تک کہ کتاب کے حاشیے میں اس نے خود یا کسی اور نے کوئی اضافہ کیا ہو تو اسے بھی من و عن نقل کرتے ہیں پھر ان کا جواب دیتے ہیں۔ جبکہ دہلوی اس اصول کی رعایت نہیں کرتا مثلا حدیث ثقلین کو نقل کرنے کے بعد کہتا ہے: "یہ حدیث بھی پچھلے احادیث کے مطابق شیعہ مدعا کے ساتھ کوئی ربط نہیں رکھتی" یہ کہ کر اس حدیث کے بارے میں شیعہ استدلال کی طرف کوئی اشارہ نہیں کرتا اسی طرح حدیث نور کو نقل کرنے کے بعد کہتا ہے : "یہ حدیث بھی مدعا پر دلالت نہیں کرتی" لیکن اس حوالے سے شیعوں کے دلائل کی طرف اشارہ نہیں کرتا۔

ب: گفتگو اور مناظرہ کے دیگر آداب میں سے ایک یہ ہے کہ مناظرے میں ایک ایسی چیز سے احتجاج کرے جسے طرف مقابل قبول کرت ہو اور انکے ہاں یہ چیز حجت ہو نہ یہ کہ خود ہمارے ہاں حجت ہو۔

صاحب عبقات جس مسئلے میں بھی وارد ہوتے ہیں خود اہل سنت کی کتابوں سے احتجاج کرتے ہیں اور خود انہی کے حفاظ اور علماء و مشاہیر کے اقوال کے ذریعے ان پر استدلال کرتے ہیں۔ لیکن دہلوی اس قاعدے اور اصول پر بھی عملی طور پر ملتزم نہیں رہتا اسی لئے دیکھتے ہیں کہ حدیث ثقلین کے مقابلے میں حدیث "علیکم بسنّتی و سنة الخلفاء الراشدین المهدیین من بعدی و عضوا علیها بالنواجذ" سے تمسک کرتے ہیس حالنکہ اس حدیث کو فقط اہل سنت نقل کرتے ہیں شیعہ اسے اصلا نقل ہی نہیں کرتے۔

ج: مناظرہ کے دیگر اصول میں سے ایک یہ ہے کہ انسان احتجاج اور رد کرتے وقت حقیقت کا اعتراف کرے۔ صاحب عبقات اگر کسی حدیث سے استدلال کرنا چاہتے ہیں تو اسے اہل سنت طرق سے استناد کرتے ہیں اور طرف مقابل نے جن جن واسطوں سے اسے استناد کیا ہے ان سب کو ذکر کرتے ہیں اور اس حوالے سے صرف ایک یا دو نفر کے نقل کرنے پر اکتفاء نہیں کرتے ہیں بلکہ تمام اسناد کو نقل کرتے ہیں اس حوالے سے بطور نمونہ حدیث "اقتدوا باللذین من بعدی أبی بکر و عمر" کے حوالے سے صاحب عبقات کا رویہ دیکھ سکتے ہیں جسے اہل سنت نے حدیث "طیر" کے مقابلے میں نقل کرتے ہیں۔ لیکن ان کے مقابلے میں دہلوی جب "حدیث ثقلین" کو نقل کرتا ہے تو فقط زید بن ارقم کے توسط سے نقل کرتے ہیں حالنکہ اس حدیث کو ۲۰ سے زیادہ افراد نے صحابہ سے نقل کیا ہے۔ اس کے علاوہ کہ حدیث کو ناقص نقل کیا ہے جملہ "أهل بیتی و انهما لن یفترقا حتی یردا علی الحوض" کو جسے مسند احمد اور صحیح ترمذی نے نقل کیا ہے اس سے حذف کیا ہے۔

ردّ کرنے کا طریقہ

الف: طرف مقابل کا پورا کلام نقل کرنا: جیسا کہ پہلے اشارہ ہوا کہ آپ دہلوی کا پورا کلام بغیر کسی کمی و بیشی کے نقل کرتے تھے حتی اسے نقل بہ معنی ہم نہیں کرتے بلکہ عین اس کی عبارات کو نقل کرتے تھے۔

ب: موضوع کے تمام جوانب کا مطالعہ کرنا: آپ جس موضوع پر بھی بحث کرتے اس کے تمام جوانب کا دقیق بررسی اور تحقیق کرتے تھے۔ لہذا جب اپنے مد مقابل کی بات کو رد کرنا چاہتے ہیں تو صرف ایک دو دلیل پر اکتفاء نہیں کرتے بلکہ اس قدر دلائل اور شواہد پیش کرتے کہ مد مقابل کی بات سرے سے ہی کعدم ہوکر رہ جاتی۔ بطور نمونہ جب حدیث ثقلین کے بارے میں جب ابن جوزی کی بات کو رد کرنا چاہتا ہے تو 156 طریقوں سے اسے رد کرتے ہیں۔

ج: مکمل تحقیق: میر حامد حسین مرحوم جب بھی کسی موضوع پر بحث کرنا شروع کرتے تو اس موضوع کے متعلق تمام اقوال کو نقل کرتے پھر ان سب کا ایک ایک کر کے جواب دیتے یہاں تک کہ اس موضوع کے بارے میں امکانی اقوال کو بھی نقل کرکے ان کا بھی جواب دیتے تھے۔ اسی لئے دہلوی کی بات کو رد کرتے وقت نصراللہ کابلی، ابن حجر اور طبری وغیرہ کے اقوال کو بھی نقل کرکے ان کا بھی جواب دیتے تھے۔ مثلا جب دہلوی حدیث سفینہ کو پیش کرتے ہیں اور اس حدیث کی امام علی(ع) کی امامت پر دلالت کا انکار کرتے ہیں لیکن اس کے سند وغیرہ سے بحث نہیں کرتے۔ لیکن صاحب عبقات شروع میں اس حدیث کو نقل کرنے والے ۹۲ افرد کا ذکر کرتے ہیں (کیونکہ آپکی نظر میں سند سے بحث دلالت سے بحث پر مقدم ہے) اور اس کے اسناد کو ذکر کرنے کی وجہ بھی یہ تھی کہ ابن تیمیہ اس حدیث کو بے سند قرار دیتے ہوئے اس کے سند کا انکار کرتا ہے، اس کے بعد آپ اس حدیث کو ذکر کرنے والے معتبر کتابوں کا تذکرہ کرتے ہیں۔

د: بحث کی ریشہ یابی: ایک اصول جسے صاحب عبقات اپنے مد مقابل کی بات کو رد کرنے میں ہمیشہ مد نظر رکھتے ہیں وہ اس بارے میں مطرح اقوال کی ریشہ یابی ہے۔ اس کام سے آپ کو درج ذیل اہداف کو حاصل کرنا چاہتے تھے:

  1. سب سے پہلے آپ یہ ثابت کرنا چاہتے تھے کہ دہلوی نے کوئی نئی بات نہیں کی ہے بلکہ اس کی ساری باتیں اس سے پہلے والے علماء نے اپنی کتابوں میں ذکر کئے تھے یوں آپ ثابت کرتے ہیں کہ دہلوی نے "نصراللہ کابلی" کی کتاب صواقع جوکہ فارسی میں تھی کو اردو میں ترجمہ کیا ہے اس کے علاوہ اپنے والد" حسام الدین سہارنبوری" -صاحب المرافض- کی کچھ باتوں کو اضافہ کیا ہے ارو اسے "تحفہ اثنا عشریہ" کے نام سے پیش کیا ہے اسی طرح اس کی کتاب "بستان المحدثین" "تاج الدین دھّان" کی کتاب "کفایۃ المتطلع" کا ترجمہ ہے۔
  2. اقوال کی ریشہ یابی سے آپ اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ ان میں سے بعض نسبتوں کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔مثلا جب کتاب یواقیت میں حدیث طیر کے بارے میں شعرانی کے زبانی یہ مطرح ہوتا ہے کہ اسے ابن جوزی نے جعلی احادیث کے زمرے میں لایا ہے، اس بارے میں آپ فرماتے ہیں: "... اولا یہ ادعا کرنا کہ ابن جوزی نے اسے کتاب "موضوعات" میں ذکر کیا ہے خود سب سے بڑی جھوٹ ہے اور سب سے بڑا افتراع ہے۔ اور اس بات سے قطع نظر کہ ابن جوزی کی کتاب "الموضوعات" جس کا ایک نسخہ بندے کے پاس موجود ہے، میں جب تفحص اور جستجو کرتے ہیں تو اس میں اس حدیث کا کوئی نام و نشان تک نظر نہیں آتا، پہلے ہم جان چکے ہیں کہ "حافظ علا" نے اس بات کی تصریح کی ہے کہ "ابوالفرج یعنی ابن جوزی" نے اس حدیث کو "الموضوعات" میں ذکر ہی نہیں کیا ہے اسی طرح " ابن حجر" نے بھی صراحتا کہا ہے کہ "ابن جوزی" نے اس حدیث کو "الموضوعات" میں ذکر نہیں کیا ہے۔ پس اگر شعرانی اصل کتاب الموضوعات کو نہ دیکھا ہو اور "حافظ علا" کی بات سے بھی وہ آگاہ نہ ہوا ہو تو اے کاش ابن حجر جس کے بارے میں خود شعرانی نے "لواقح الانوار" خوب مدح سرائی کیا ہے، کی بات سے آگاہ ہو چکے ہوتے اور شرمندگی اور ذلت سے بچنے کی خاطر ہی کیوں نہ صحی اس قسم کے جھوٹ اور افتراع پردازی سے پرہیز کرتے۔"
  3. صاحب عبقات نے اپنے اس روش کے ذریعے، بعض اقوال اور ان کی نسبتوں میں انجام دینے والی تحریفات اور تصرفات کو کشف کیا ہے۔مثلا حدیث نور جس کے بارے میں دہلوی کہتا ہے: "اس حدیث کے بارے میں اہل سنت کا اجماع ہے کہ یہ حدیث جعلی ہے اور اس کے اسناد......." ہم اس حوالے سے "ابن روزبہان" کے کلام کی طرف مراجعہ کرتے ہیں جو عموما "نصراللہ کابلی" سے مستند ہوتے ہیں اور خود دہلوی بھی ان سے مطالب اخذ کرتے ہیں، وہ اس بارے میں کہتے ہیں: "ابن جوزی نے اس حدیث کو "کتاب موضوعات" میں معنا ذکر کیا ہے۔ اور یہ حدیث جعلی ہے اور اس کے اسناد..." اس کے بعد کابلی کہتے ہیں: "یہ حدیث باطل ہے کیونکہ اہل خبر کا اجماع ہے کہ یہ جعلی ہے ارو اس کے اسناد..."

جیسا کہ ملاحظہ فرمایا اہل خبر کے اجماع کو یہاں پر کابلی نے اضافہ کیا ہے لیکن اب جوزی نے جس چیز کو کت