عبداللہ بن جعفر الصادق

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
بسم اللّه الرّحمن الرّحیم
عبد اللہ بن جعفر الصادق
[[ملف:
قبرستان باب الصغیر میں عبداللہ کا مقبرہ
|250px]]
کردار امام صادق (ع) کے فرزند
نام عبداللہ بن جعفر الصادق (ع)
لقب افتح
مدفن دمشق، قبرستان باب الصغیر
مشہور امام زادے
عباس بن علی، زینب کبری، فاطمہ معصومہ، علی اکبر، علی اصغر، عبد العظیم حسنی، احمد بن موسی، سید محمد، سیدہ نفیسہ


عبد اللہ بن جعفر، عبد اللہ افتح کے نام سے معروف امام جعفر صادق (ع) کے دوسرے بیٹے ہیں کہ جنہوں نے آپ کی شہادت کے بعد امامت کا دعوی کیا اور ان کے پیروکار فتحیہ کے نام سے مشہور ہوئے۔ جو لوگ عبد اللہ سے ملحق ہوئے جلدی ہی وہ علوم دینی سے ان کے بے پہرہ ہونے کے سبب پلٹ گئے۔ امامت کا دعوی کرنے کے ستر دن بعد عبد اللہ کی وفات ہو گئی اور چونکہ وہ لا ولد تھے ان کے باقی بچے پیرو بھی امام موسی کاظم (ع) کی امامت کی طرف پلٹ گئے۔

سوانح حیات

عبد اللہ، اسماعیل کے بعد امام صادق (ع) کے دوسرے بیٹے تھے۔[1] ان کی والدہ فاطمہ بنت حسین بن علی بن حسین بن علی (ع) تھیں۔[2] وہ سر چوڑا (افتح الراس)[3] یا پیر چوڑے (افتح الرجلین)[4] ہونے کی وجہ سے عبد اللہ افتح مشہور ہوگئے۔ شیخ مفید کے نقل کے مطابق، عبد اللہ کا مرتبہ امام صادق (ع) کے نزدیک ان کے دوسرے بھائیوں جیسا نہیں تھا کیونکہ انہیں متہم کیا جاتا ہے کہ وہ عقیدہ کے اعتبار سے اپنے والد سے مخالف نظریہ رکھتے تھے اور حشویہ مسلک افراد کے ساتھ نشست و برخاست کرتے تھے اور مرجئہ مذہب کی طرف میلان رکھتے تھے۔[5]

عبد اللہ کی نسل باقی نہیں بچی۔[6] لیکن بعض اسماعیلی و غیر اسماعیلی منابع[7] میں صریحی طور پر ذکر ہوا ہے کہ فاطمی خلفاء پہلے اسماعیل کی جگہ ان کے بھائی عبد اللہ افتح کو اپنا امام اور جد کہتے تھے لیکن بعد میں انہوں نے اس بات سے عدول کر لیا اور اسماعیل کی امامت کے قائل ہو گئے۔

عبد اللہ نے امام صادق (ع) کی شہادت کے ستر روز کے بعد وفات پائی۔[8]

قبرستان باب الصغیر میں ان سے منسوب ایک قبر موجود ہے۔

امامت کا دعوی

امام جعفر صادق (ع) کی شہادت کے وقت عبد اللہ افتح ان کے سب سے بڑے بیٹے تھے۔ انہوں نے اس بات کو سند بناتے ہوئے کہ امامت بڑے بیٹے تک پہچتی ہے، امامت کا دعوی کیا اور شروع میں شیعوں کے ایک گروہ نے ان کی امامت کو قبول بھی کر لیا۔ امام صادق (ع) سے نقل ہوا ہے کہ انہوں نے اپنی شہادت سے پہلے عبد اللہ افطح کی طرف سے امامت کے دعوی سے باخبر کیا تھا اور امام موسی کاظم (ع) سے فرمایا تھا کہ عبداللہ کو ان کے حال پر چھوڑ دیں اس لئے کہ وہ زیادہ دن تک زندہ نہیں رہیں گے۔[9]

علمی ضعف

کتب میں ذکر ہوا ہے کہ ان کے دعوی کی صحت کے لئے شیعوں اور اصحاب نے ان سے کچھ سوال دریافت کئے لیکن وہ ان سوالوں کا صحیح جواب نہیں دے سکے۔ جس کے نتیجہ میں بہت سے لوگ ان کی امامت سے منصرف ہو گئے۔ وہ سوالات کتب و منابع میں ذکر ہوئے ہیں۔ ان میں سے بعض کا ذکر یہاں کیا جا رہا ہے:

  • امام صادق (ع) کی شہادت کے بعد خراسان سے مدینہ آئے بعض شیعوں کے سوالات جن کے عبد اللہ جواب نہیں دے سکے۔[10]
  • نقل ہوا ہے کہ عبد اللہ سے سوال کیا گیا: اگر کویہ بغیر شاہد کہ اپنی زوجہ سے کہے: میں نے تمہیں آسمان کے ستاروں کی تعداد کے برابر طلاق دی تو کیا وہ طلاق صحیح ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ طلاق صحیح ہے۔[12]

فطحیہ

فطحیہ

عبد اللہ نے امامت کا دعوی کیا تو اس وقت کچھ لوگوں نے ان کی امامت کو قبول کر لیا وہ فتحیہ کے نام سے مشہور ہو گئے۔[13] امام صادق (ع) کی شہادت کے ستر روز کے بعد جب عبد اللہ کی وفات ہوگئی[14] تو ان کے باقی بچے پیرو امام موسی کاظم (ع) کی امامت کی طرف پلٹ گئے۔

متعلقہ مضامین

حوالہ جات

  1. مفید، الارشاد، ج۲، ص۲۱۰
  2. مفید، الارشاد، ۱۴۱۳ق، ج۲، ص۲۰۹.
  3. ابن حزم، جمہرة أنساب العرب، ص۵۹
  4. شیخ مفید، الإرشاد، ج۲، ص۲۱۱
  5. شیخ مفید، الإرشاد، ج۲، ص۲۱۱
  6. ابن حزم، جمہرة أنساب العرب، ص۵۹
  7. ابن‌ حزم‌، جمہرة أنساب العرب، ۵۹
  8. قاضی نعمان، شرح الأخبار، ج۳، ص۳۱۰
  9. مسعودی، إثبات الوصیة، ص۱۹۸
  10. محدث نوری، مستدرک الوسائل، ج ۱۵ ص۴۶۷.
  11. نباطی بیاضی، الصراط المستقیم، ج ۲ ص۱۹۱.
  12. نباطی بیاضی، الصراط المستقیم، ج ۲ ص۱۹۲.
  13. سبحانی، بحوث فی الملل والنحل، ج۸، ص۷۸
  14. شہرستانی، ملل و نحل، ج ۱، ص۱۴۸.


منابع

  • ابن حزم اندلسی، جمہرة أنساب العرب، اوّل، بیروت،‌ دار الکتب العلمیہ، ۱۴۱۸ ق
  • سبحانی، جعفر، بحوث فی الملل والنحل، قم، مؤسسہ امام صادق، ۱۴۱۸ق
  • شہرستانی، محمد بن عبد الکریم، الملل و النحل، چہارم، بیروت، دار المعرفه، ۱۴۱۵ق
  • نعمان مغربی، نعمان بن محمد، شرح الأخبار فی فضائل الأئمة الأطہار، اوّل، قم، جامعہ مدرسین، ۱۴۰۹ق
  • محدث نوری، حسین بن محمد تقی، مستدرک الوسائل، مؤسسہ آل البیت، علیہم‌السلام قم، ۱۴۰۸ ق
  • مسعودی، علی بن حسین، إثبات الوصیة للإمام علی بن أبی طالب، سوم، قم، انصاریان، ۱۴۲۶ق
  • شیخ مفید، محمد بن محمد بن نعمان، الإرشاد فی معرفة حجج الله علی العباد، اوّل، قم، کنگره شیخ مفید، ۱۴۱۳ ق
  • نباطی بیاضی، علی بن یونس، الصراط المستقیم إلی مستحقّی التقدیم، المکتبہ المرتضویّہ، نجف، ۱۳۸۴ ق