علائم ظہور

ویکی شیعہ سے
(ظہور کی نشانیاں سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
شیعہ عقائد
السعید۲.jpg
خدا شناسی
توحید توحید ذاتی  • توحید صفاتی  • توحید افعالی • توحید عبادت میں
فروع توسل • شفاعت • تبرک
عدل (الہی افعال)
افعال کا حسن اور قبح  • بداء  • امر بین الامرین
نبوت
عصمت انبیاء  • ختم نبوت  • علم غیب  • معجزہ • قرآن میں عدم تحریف
امامت
عقائد عصمت ائمہ • ولایت تكوینی  • ائمہ کا علم غیب • غیبت (غیبت صغری، غیبت کبری)  • انتظار  • ظہور  • رجعت
ائمہ امام علیؑ  • امام حسنؑ  • امام حسینؑ  • امام سجادؑ  • امام باقرؑ  • امام صادقؑ  • امام کاظمؑ  • امام رضاؑ  • امام جوادؑ  • امام ہادیؑ  • امام عسکریؑ  • امام مہدی(عج)
معاد
برزخ  • جسمانی معاد  • حشر • صراط  • تطائر کتب  • میزان
نمایاں مسائل
اہل بیت  • معصومین  • تقیہ  • مرجعیت


علائم ظہور یا ظہور کی نشانیاں، اصطلاح میں ان واقعات اور حوادث کا مجموعہ ہے جو رسول اللہ(ص) اور ائمہ(ع) کی پیشن گوئیوں کے مطابق ظہور امام زمانہ(عج) سے پہلے یا ظہور کی آمد پر رونما ہونگے اور ان میں سے ہر واقعے کا پیش آنا امام(عج) کے عالمی قیام و تحریک کے قریب تر ہونے کی علامت ہے اور جب یہ تمام علامتیں ظاہر ہونگی اور تمام واقعات رونما ہونگے امام مہدی علیہ السلام ظہور اور قیام کریں گے۔ ان ہی واقعات میں سے ایک آسمانی چیخ، سفیانی کا خروج اور یمانی وغیرہ کا قیام ہے۔

ظہور کی نشانیوں اور اشراط الساعہ کے درمیان تعلق

چونکہ دینی منابع و مآخذ میں امام مہدی علیہ السلام کا قیام قیامت کی برپائی کے علائم کے زمرے میں شمار کیا گیا ہے؛ بعض علائم قیامت کی نشانیاں قرار دیئے گئے ہیں جنہیں اشراط الساعہ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

نشانیوں کی تعداد

دینی مآخذ میں متعدد طبیعی، غیر طبیعی واقعات اور سیاسی اور معاشرتی تبدیلیوں کو ظہور کی نشانیوں میں گردانا گیا ہے۔ واضح ہے کہ ان تمام نشانیوں کا اعتبار یکسان نہیں ہے۔

ان میں سے بعض احادیث و روایات ـ جو معتبر مآخذ سے منقول ہیں ـ سند اور دلالت کے اعتبار سے محکم ہیں۔

بعض روایات غیر معتبر کتب میں غیر موثق راویوں سے منقول ہیں۔

ان میں سے بعض علائم صرف ظہور کے علائم ہیں اور بعض صرف قیامت کی نشانیاں ہیں۔

بعض روایات کلی اور عام ہیں اور بعض جزئي ہیں جو تفصیلات پر مشتمل ہیں جنہیں کبھی ایک ہی عنوان کے تحت اکٹھا کیا جاسکتا ہے۔

جو کچھ زیادہ اہم ہے کہ وہ یہ ہے کہ روایات کی کثرت سے ہمیں اطمینان حاصل ہوتا ہے کہ ظہور امام مہدی علیہ السلام سے قبل بعض واقعات رونما ہونگے جن میں سے بعض بہت اہم اور وسیع البنیاد ہیں اور بعض زیادہ اہم اور قابل توجہ نہیں ہیں۔ البتہ بعض روایات میں بعض نشانیوں کا تذکرہ ہوا ہے۔

علائم ظہور کی قسمیں

علائم ظہور گوناگوں اور مختلف ہیں اور ان سب علائم کا تذکرہ مفید ہے اور نہ ہی ضروری؛ کیونکہ ان میں سے بہت سی، ظہور کی قطعی اور حتمی نشانیاں نہیں ہیں۔ علاوہ ازیں سند اور مندرجات کے لحاظ سے بھی قابل اعتماد نہیں ہیں اور ان کی صحت اور عدم صحت بہت واضح نہیں ہے۔ چنانچہ علائم کی تقسیم میں ذیل کے امور پر اکتفا کیا جاتا ہے:

حتمی اور غیر حتمی نشانیاں

ظہور کی نشانیوں کے درمیان بعض وضوح و صراحت کے ساتھ ظہور کے حتمی علائم کے طور پر بیان ہوئی ہیں۔ غیر حتمی نشانیوں کے مقابلے میں "حتمی نشانیوں" سے مراد یہ ہے کہ ان نشانیوں کا نمایاں ہونا ـ کسی قید و شرط کے بغیر ـ قطعی اور ضروری ہے اور جب تک یہ نمودار نہ ہونگی امام مہدی علیہ السلام کا ظہور واقع نہ ہوگا۔

البتہ اس نکتے کی طرف توجہ دینا ضروری ہے کہ ان نشانیوں کے قطعی اور حتمی ہونے کے معنی یہ نہیں ہے کہ ان کہ ان کا نمودار نہ ہونا محال ہے؛ بلکہ اگر حالات سازگار ہوں، ان کے تقاضے پورے ہونگے اور ان کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہ ہوگی تو ان کا ظہور پذیر ہونا ـ اللہ کے ارادے سے ـ قطعی ہوگا۔

متعدد روایات ـ جن میں صحیح روایات بھی ہیں ـ سے ذیل کی پانچ نشانیوں کو حتمی قرار دیا جاتا ہے:

  1. سفیانی کا خروج؛
  2. یمانی کا قیام؛
  3. آسمانی صیحہ؛
  4. نفس زکیہ کا قتل؛
  5. بیداء میں دراڑ پڑنا (اور لشکر سفیانی کا زمین میں دھنس جانا)۔

امام صادق(ع) فرماتے ہیں:

" پانچ امور قائم علیہ السلام کے ظہور و قیام کے علائم ہیں: آسمانی صیحہ، سفیانی کا خروج، بیداء میں دراڑ پڑنا، یمانی کا قیام اور نفس زکیہ کا قتل[1]

حتمی نشانیوں کے مقابلے میں غیر حتمی نشانیاں ہیں یعنی وہ نشانیاں جو ایسے امور سے مقید و مشروط ہیں جن کے ظاہر ہونے کی صورت میں، یہ ظہور کی نشانیوں میں شمار ہوتی ہیں۔ بالفاظ دیگر غیر حتمی نشانیاں ـ ممکن ہے کہ ـ ظہور پذیر ہوں اور ـ ممکن ہے کہ ـ ظہور پذیر نہ ہوں اور امام زمانہ(عج) ظہور فرمائیں۔

بعض نشانیاں جن کے حتمی ہونے پر تصریح ہوئی ہے حسب ذیل ہیں:

  1. اموات (کی کثرت)؛
  2. زلزلے؛
  3. وسیع جنگیں اور بلوے؛
  4. بے موقع سورج گرہن اور چاند گرہن؛
  5. بہت زیادہ بارشیں وغیرہ۔

ظہور سے متصل اور غیر متصل نشانیاں

بعض روایات کے مطابق، ظہور کی بعض نشانیاں، ظہور سے متصل ہونگی؛ اور ان نشانیوں اور امام زمانہ(عج) کے ظہور کے درمیان زیادہ وقتی فاصلہ نہ ہوگا؛ گوکہ یہ واضح نہیں ہے کہ ان نشانیوں اور ظہور کے درمیان کس قدر فاصلہ ہوگا؛ تاہم قدر مسلم یہ ہے کہ یہ فاصلہ زیادہ نہیں ہے اور احتمال یہ ہے کہ ظہور سے متصل علائم کا مجموعہ ظہور کے سال یا اس سے قبل کے سال میں ظہور پذیر ہونگے۔

چنانچہ اس میں شک نہیں ہے کہ ظہور کی بعض نشانیاں ظہور کے بالکل قریب اور متصل ہیں۔ ان نشانیوں کے مقابلے میں غیر متصل نشانیاں ہیں جو غیبت کبری کے طویل مدت کے دوران ظاہر ہوئی ہیں یا ظاہر ہونگی۔


غیر معمولی نشانیاں

ظہور کی نشانیوں کا وقوع ـ دوسرے واقعات کے رونما ہونے کی مانند ـ فطری اور معمولی ہوگا؛ لیکن ان میں سے بعض کی پیشنگوئیوں کی عکاسی روایات و احادیث میں کچھ اس طرح سے ہوئی ہے کہ ان کا معمول کے مطابق وقوع پذیر ہونا ممکن نہیں ہے اور ان کا ظہور غیر طبیعی اور غیر معمولی انداز سے اور معجزہ کے دائرے میں ہوگا؛ مثال کے طور پر مغرب سے سورج کا طلوع ہونا اور آسمانی صیحہ (= آسمانی چیخ) وغیرہ؛ اگر ان نشانیوں کے وقوع کا مقصود ظاہری ہو تو یہ معجزے کے دائرے میں ہوگا؛ کیونکہ ان امور کا ظہور پذیر ہونا عادتا ممکن نہیں ہے۔ البتہ ممکن ہے کہ یہ کنایہ اور اشارہ یا رمز ہو اور ان واقعات سے مراد دوسرے واقعات ہوں جن کا وقوع عادتا ممکن نہ ہو۔

قابل ذکر ہے کہ ظہور کی نشانیوں کے بارے میں مآخذ حدیثمیں متعدد احادیث وارد ہوئی ہیں۔ ان روایات و احادیث کی اسناد زیادہ تر ضعیف اور ناقابل اعتماد ہیں اور دلالت کے لحاظ سے بھی ان کے درمیان ضروری ہمآہنگی اور یکجہتی نہیں ہے۔

لگتا ہے کہ مسئلۂ مہدویت کی بہت زیادہ اہمیت، نیز مسلمانوں کے درمیان مستقبل کے واقعات اور ظہور امام مہدی(عج) کے علائم سے آگہی کا اشتیاق اس بات کا سبب بنا ہے کہ دشمن اور بدخواہ ـ بالخصوص ظالم حکمران ـ روایات و احادیث میں ـ اپنے مفادات کے لئے ـ تبدیلی اور تحریف کر دیں۔[2]

اس وقت ہمیں ظہور کی نشانیوں کے حوالے سے کثیر صحیح اور غیر صحیح روایات کا سامنا ہے جن میں کم از کم بعض روایات جعل اور تحریف سے محفوظ نہیں رہی ہیں۔ باعث افسوس ہے کہ بعض کتابیں بھی موجود ہیں جن میں جہل ـ اور اسی حال میں خلوص ـ یا پھر ارادی طور پر خاص اغراض کی بنا پر، اس امر کو ہوا دی گئی ہے۔

البتہ ظہور کے علائم میں جعل و تحریف یا مہدویت کے جھوٹے دعویداروں کا وجود، ہرگز باعث نہیں ہونا چاہئے کہ تمام احادیث و روایات کو غیر معتبر گردانا جائے یا تمام نشانیوں کو مشکوک اور متنازعہ قرار دیا جائے؛ کیونکہ ان میں سے بعض علائم مسلمہ اور قطعی و حتمی ہیں۔

ایک اہم نکتہ

ان علائم اور نشانیوں میں سے بعض عام اور کلی طور پر مفہوم، معنی اور پیغام کے لحاظ سے روشن و آشکار ہیں اور بعض دیگر بہت زیادہ مبہم اور مجمل و پیچیدہ ہیں۔ بہت سے مؤلفین ـ بالخصوص معاصر مؤلفین ـ نے ان روایات کو نقل کیا ہے اور ان کی تفسیر کی ہے اور اپنے خاص نظریئے کے مطابق ان کی تاویل کی ہے اور اپنی ذاتی آراء کو بنیاد بنا کر ان کا تجزیہ کیا ہے؛ جبکہ نظر یوں آتا ہے کہ یہ افراد علمی اور تاریخی لحاظ سے روایات اور احادیث کے بارے میں اپنی آراء و نظریات کے اثبات سے عاجز ہیں۔ چنانچہ ان افراد کے نظریات کی پیروی اور متابعت شبہے اور اعتراض سے خالی نہیں ہے کیونکہ ان کا حقیقی پیغام مبہم ہے اور خداوند متعال، رسول اللہ(ص) اور ائمہ(ع) حقائق امور پر زیادہ دانا اور آگاہ ہیں۔

بجا ہوگا کہ اس سلسلے میں ایک نمونہ بیان کیا جائے:

شیخ مفید اپنی کتاب الارشاد علائم ظہور پر بحث کرنے کے بعد لکھتے ہیں: "... ونزول الترک الجزیرة ونزول الروم الرملة..."[3]

اب سوال یہ ہے کہ:

  1. موجودہ زمانے میں ترک وسطی ایشیا، ایران، ترکی، شمالی عراق، قفقاز اور جمہوریہ آذربائی جانمیں رہتے ہیں؛ پس حدیث کے اس حصے کا مطلب کیا ہے اور یہ ترک کون لوگ ہیں؟ یہ بات مبہم ہے۔
  2. لفظ "جزیرہ" کے مصادیق بھی بہت ہیں؛ پس یہ دنیا کا کون سا جزیرہ ہے جہاں ترک آ کر اتریں گے؟ وہ جزیرہ کہاں ہے؟
  3. ادھر روم ـ جو موجودہ یورپ پر مشتمل ہے اور واضح ہے کہ آج کا یورپ متعدد ممالک پر مشتمل ہے اور وہ سب بھی روم قدیم کا حصہ ہیں؛ اب سوال یہ ہے کہ کیا لفط "روم" سے مراد "اسرائیل" ہے جو شہر رملہ سمیت پورے فلسطین پر قابض ہے؟ یا پھر رومیوں سے مراد وہ رومی ہیں جو غزوہ موتہ میں مسلمانوں کے مد مقابل آئے وہ اردن اور فلسطین میں سکونت پذیر ہوئے؟
    عین ممکن ہے کہ لفظ روم سے مراد موجودہ امریکہ ہو کیونکہ یورپی باشندوں کی اکثریت یورپی تارکین وطن پر مشتمل ہے۔
  4. نیز اس حدیث اور دیگر احادیث میں بارہا دہرائے جانے والے "مشرق" اور "مغرب" جیسے الفاظ جو ظہور کی نشانیاں بیان کرتے ہیں، سے کیا مراد ہے؟ مشرق بعید یا مغربی ایشیا (=مشرق وسطی)
    مغرب بعید یا مغربی عربی جو لیبیا، تیونس، الجزائر اور مراکش وغیرہ؛ مراد ان میں سے کون سا علاقہ ہے؟
  5. نیز اس موضوع سے متعلقہ احادیث میں لفظ "بنو فلان" کا تذکرہ ہے، یہ جملہ کہ "أَ لا أُخبرکم بآخر ملک بنی ‏فلان؟"۔ اور سوال یہ ہے کہ بنو فلان سے مراد کون ہیں؟ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ مقصود بنو عباس ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ سلسلۂ سلطنت زوال پذیر ہوچکا ہے اور ان کی ظالمانہ سلطنت کا خاتمہ سنہ 656ہجری قمری میں ہوا ہے؛ تو کیا ممکن ہے کہ عرب ممالک کے بعض حکمرانوں کا سلسلۂ نسب بنو عباس سے جا ملتا ہو؟

بہر صورت روایات میں مذکورہ مقامات اور اشخاص راز و رمز سے مشابہت رکھتے ہیں جن کی پہچان بہت مشکل اور کبھی ناممکن ہے۔ لہذا لازم ہے کہ اس طرح کے علائم اور نشانیوں کو اسی طرح سے ترسیم کرنا چاہئے جس طرح کہ ان کو ذکر کرنا چاہئے۔ مستقبل خود ہی اپنے واقعات کے ذریعے ان الفاظ، ناموں کی تفسیر کرے گا اور ان کے مصادیق کی تشریح اور صحیح مصادیق و موارد پر ان کی تطبیق کرے گا۔

متعلقہ مآخذ

بیرونی روابط

پاورقی حاشیے

  1. شیخ صدوق؛ کمال الدین و تمام النعمة، ج2، ص650.
  2. علی دوانی؛ نورمهدی، ص70.
  3. شیخ مفید، ارشاد، ج2، ص373.


مآخذ

  • شیخ صدوق؛ کمال الدین و تمام النعمه، تهران، دارالکتب الاسلامیه، 1359هجری قمری۔
  • شیخ مفید؛ الإرشاد فی معرفة حجج الله علی العباد، قم، کنگره شیخ مفید، 1413هجری قمری۔
  • علی دوانی؛ مقاله "نور مهدی"۔