شیعہ اعلی مجلس اسلامی لبنان

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
مجلس اعلائے اسلامی شیعیان لبنان
لوگوی مجلس اعلای شیعیان لبنان.jpeg
تاسیس 1348 شمسی
بانی امام سید موسی صدر
سربراہ امام موسی صدر (1348 تا 1372 ش)، محمد مہدی شمس الدین (1372 تا 1379 ش)، عبد الامیر قبلان (1379 ش سے اب تک)
ملک لبنان


شیعہ اعلی مجلس اسلامی لبنان کی ایک شیعہ تنظیم ہے کہ جس کی بنیاد 1389 ہجری قمری میں امام موسی صدر نے رکهی۔ شیعوں کے حقوق کا دفاع اور ان کے درمیان وحدت و یکجہتی کو برقرار کرنا اس کے اہداف میں سے تھا۔ سید موسی صدر شروع سے لے کر 31 اگست 1978 ء کے روز اغوا ہونے تک صدارت کے عہدے پر فائز رہے۔ پھر محمد مہدی شمس‌ الدین 10 جنوری 2001 ء تک صدر رہے اور ان کے بعد عبد الامیر قبلان کو صدارت ملی۔

اس تنظیم کی طرف سے مذہبی، امدادی اور تعلیم و تربیت کے مراکز اور مؤسسات قائم کئے گئے؛ ان میں دینی تبلیغات کا ادارہ ، اسلامی ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹ، مسجد امام صادق اور حضرت زینبؑ کے نام سے ایک فلاحی ادارہ شامل ہے۔

تأسیس

اس تنظیم نے 1389 ھ (1969 ء) کی گرمیوں کے ایام میں شیعہ علما کی ۹ افراد اور احکامات پر عمل درآمد کروانے کیلئے ۱۲ افراد پر مشتمل کمیٹی کے ساتھ لبنان میں اپنے کام کا آغاز کیا۔[1] اس تنظیم نے شیعوں کیلئے اپنا پہلا قانونی مرکز لبنان میں قائم کیا۔[2]


مذکورہ مجلس کے امام موسی صدر نے شیعوں کے حقوق کے دفاع اور اسی طرح ان کے درمیان اتحاد برقرار کرنے کے لئے قائم کی۔ اس سے پہلے تک لبنان میںاہل سنت ، دروزیوں اور عیسائییوں سمیت تمام گروہوں اور قبائل کی حکومت کی جانب سے تسلیم شدہ ایک مجلس تھی اور مذکورہ مجلس کا سربراہ ہر قبیلے کا رسمی نمائندہ سمجھا جاتا تھا۔ [3]

ابتدا میں لبنانی شیعوں کے امور کی سرپرستی کرنے میں اس مجلس کو ایک نمایاں مقام حاصل تھا[4] لیکن بعض محققین کے مطابق حزب الله اور امل موومنٹ جیسی سیاسی تنظیموں کے وجود میں آنے کے بعد اس کی مقبولیت میں کمی آنا شروع ہو گئی۔[5] اس کے باوجود گراہم فولر اور رند رحیم فرانکہ کتاب «شیعیان عرب» میں اس تنظیم کو لبنان کے شیعوں کی ایک اہم تنظیم سمجھتے ہیں کہ جس کے محمد مہدی شمس‌ الدین کی صدارت کے دور میں اہل سنت کے ساتھ نہایت مضبوط تعلقات و روابط تھے۔[6]

صدارت

امام موسی صدر 23 مئی 1969 عیسوی (بمطابق 6 ربیع الاول 1389 ھ) کو اس مجلس کے صدر منتخب ہوئے۔ ابتدائی طور پر صدارت کی مدت ۶ سال مقرر ہوئی۔ پھر انکی عمر کے ۶۵ سال تک کیلئے اس مدت کو بڑھا دیا گیا۔[7] لبنان کے جمہوری صدر اور اسمبلی کے منظور شدہ قانون کے مطابق اس تنظیم کے صدر کو دوسرے مذہبی لیڈروں کی مانند قانونی سہولتیں حاصل ہیں اور وہ وہاں کی رہبری کے فرائض انجام دیتے ہیں۔

سید موسی صدر نے صدارت کا عہدہ سنبھالنے کے بعد اپنے مستقبل کے پروگراموں اور اہداف کا کچھ یوں اعلان کیا: شیعہ طائفوں کو منظم کرنا، مسلمانوں کے درمیان اتحاد پیدا کرنا اور تمام مذاہب کے ساتھ مل کر کام کرنا، لبنان کی وحدت کی سعی، لبنان کی خود مختاری اور آزادی کی ٖحفاظت، ملکی سرحدوں کی محافظت، معاشرتی غربت اور اخلاقی برائیوں کے خلاف مبارزہ کرنا، فلسطینی مقاومت کی حمایت اور اسرائیل کے ہاتھوں غصب شدہ علاقے کی واپسی کیلئے عرب ممالک کے ساتھ مل کر کوشش کرنا اس کے اہداف میں سے ہیں۔[8]

۱۹۷۸ء میں امام موسی صدر کے لا پتہ ہو جانے کے بعد شیخ محمد مہدی شمس‌ الدین اس کے صدر مقرر ہوئے۔[9] ۱۳۷۹ شمسی میں انکی وفات کے بعد شیخ عبد الامیر قبلان صدر بنے جو شیخ محمد مہدی شمس‌ الدین کی صدارت کے زمانے میں نائب صدر تھے لیکن ابھی تک تنظیم نے انکی صدارت کا قانونی اعلان نہیں کیا۔[10]

اراکین

یہ تنظیم تین کمیٹیوں پر مشتمل ہے۔ عمومی کمیٹی کہ جو شیعوں کے مختلف گروہوں کے نمائندوں پر مشتمل ہے۔ شرعی کمیٹی کہ جس میں ۱۲ لبنانی عالم دین ہوتے ہیں کہ جو شیعہ لبنانی علما کے مجموعے سے ۶ سال کیلئے منتخب ہوتے ہیں اسی طرح ایک کمیٹی تنظیمی احکامات پر عمل درآمد کروانے کیلئے ہے جس میں ۱۲ نمائندے ہیں جو عام لوگوں سے چنے جاتے ہیں نیز لبنانی پارلیمنٹ میں موجود شیعہ نمائندے بھی اس کے عضو ہیں۔[11]

مراکز و ادارے

مجلس اعلی اسلامی شیعیان لبنان سے وابستہ ادارہ تبلیغات دینی کا لوگو۔

اس تنظیم کے تحت مختلف مذہبی، خیراتی اور لوگوں کو مختلف قسم کی تعلیم و تربیت دینے کے ادارے موجود ہیں۔ سازمان تبلیغات دینی کے علاوہ ان تمام اداروں کے سرپرست ابراہیم شمس‌ الدین ہیں جو سید محمد مہدی شمس‌ الدین کے فرزند ہیں۔[12]

اس تنظیم کے تحت چلنے والے ادارے:[13]، دینی تبلیغات کا ادارہ ثقافتی خیراتی تنظیم اسلامی ٹیکنیکل انسٹیٹیوٹ حضرت خدیجہ خیراتی مرکز الغدیر تعلیمی و تربیتی مرکز بیروت ٹیکنیکل اسکول طبی و خدماتی کمپلیکس حضرت زینب خیراتی تنظیم مسجد امام صادق.[14]

ذرائع آمدنی

اس تنظیم کی مالی ضرورتیں خمس اور زکات اسی طرح امریکہ، کینیڈا، آسٹریلیا، کویت اور سعودی عرب میں مقیم شیعوں کی امداد سے پوری کی جاتی ہیں۔[15]

حوالہ جات

  1. گلی زواره قمشہ ای، «رهبری درخشان امام موسی صدر برای شیعیان لبنان»، ص۳۹.
  2. گلی زواره قمشہ ای، «رهبری درخشان امام موسی صدر برای شیعیان لبنان»، ص۳۹.
  3. واعظ‌ زاده خراسانی، «گزارشی از لبنان»، ص۳۷۴.
  4. نور آقایی، لبنان، ۱۳۸۷ش، ص۱۰۹.
  5. نوری، شیعیان لبنان، ۱۳۸۹ش، ص۱۷۹.
  6. فولر، شیعیان عرب، ۱۳۸۴ش، ص۴۳۴ و ۴۴۱-۴۴۲.
  7. پیشوایی، «چگونگی تأسیس مجلس اعلای شیعیان»، ص۵۸-۵۹.
  8. پیشوایی، «چگونگی تأسیس مجلس اعلای شیعیان»، ص۵۹.
  9. دوانی، علی، مفاخر اسلام، ۱۳۶۴ش، ج۴، ص۳۶۳؛ «سالروز تأسیس مجلس اعلای شیعیان لبنان؛ اولین مرکز شیعہ».
  10. پایگاه رسمی مجلس اعلای شیعیان لبنان.
  11. «اساسنامہ مجلس اعلای شیعیان».
  12. مرکز الانتشارات والبحوث، لبنان: تاریخ، جامعہ و سیاست (۱۹۷۲-۱۹۷۶ش)، ۱۳۸۶ش، ص۹۸.
  13. سازمان تبلیغات دینی
  14. نوری، شیعیان لبنان، ۱۳۸۹ش، ص۱۷۹-۱۸۰.
  15. مرکز الانتشارات والبحوث، لبنان: تاریخ، جامعہ و سیاست (۱۹۷۲-۱۹۷۶ش)، ۱۳۸۶ش، ص۹۸.


مآخذ

  • «اساس‌ نامہ مجلس اعلای شیعیان»، سایت امام موسی صدر، تاریخ بازدید: ۷ آبان ۱۳۹۷ش.
  • اصفہانی، عبد اللہ، «یادی از آیت اللہ شیخ محمد مہدی شمس‌ الدین»، در مجلہ کتاب ماہ دین، شمارہ ۵۵، اردیبہشت ۱۳۸۱.
  • پیشوایی، مہدی، «چگونگی تأسیس مجلس اعلای شیعیان»، در مجلہ درس‌ہایی از مکتب اسلام، سال ۲۵، ش۷، مہر ۱۳۶۴ش.
  • دوانی، علی، مفاخر اسلام، تہران، انتشارات امیرکبیر، ۱۳۶۴ش.
  • فولر، گراہام و رند رحیم فرانکہ، شیعیان عرب: مسلمانان فراموش شدہ، ترجمہ خدیجہ تبریزی، قم، شیعہ‌شناسی، ۱۳۸۴ش.
  • مرکز الانتشارات والبحوث، لبنان: تاریخ، جامعہ و سیاست (۱۹۷۲-۱۹۷۶ش)، ترجمہ مؤسسہ مطالعات اندیشہ‌سازان نور، تہران، اندیشہ‌سازان نور، ۱۳۸۶ش.
  • نورآقایی، آرش و ماندانا علیزادہ، لبنان، تہران، شرکت سہامی کتاب جیبی، ۱۳۸۷ش.
  • نوری، داود، شیعیان لبنان: وضعیت سیاسی-اجتماعی پس از انقلاب اسلامی ایران، با راہنمائی محمود تقی‌زادہ داوری، قم، انتشارات شیعہ‌شناسی، ۱۳۸۹ش.
  • واعظ‌زادہ خراسانی، محمد، «گزارشی از لبنان»، در نشریہ دانشکدہ الہیات و معارف اسلامی مشہد، شمارہ ۸، پائیز ۱۳۵۲ش.