سید مصطفی خمینی

ویکی شیعہ سے
(شہید مصطفی خمینی سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
سید مصطفی خمینی
آقا مصطفی.jpg
کوائف
مکمل نام سید مصطفی خمینی
نسب موسوی سادات
تاریخ ولادت 13 دسمبر 1930 ء قم
تاریخ وفات 23 اکتوبر 1977 ء
مدفن روضہ امام علی (ع)، نجف
نامور اقرباء امام خمینی • احمد خمینی
علمی معلومات
خدمات
سیاسی مشاور و وصی امام خمینی


سید مصطفی خمینی (1930۔1977 ء)، شیعہ مجتہدین و فقہاء اور انقلاب اسلامی ایران کے فعال افراد میں سے تھے۔ وہ جمہوری اسلامی ایران کے موسس و رہبر امام خمینی کے بڑے بیٹے ہیں۔ انہوں نے فقہ و اصول اور تفسیر میں مختلف کتابیں تحریر کی ہیں۔ پہلوی حکومت کے خلاف امام خمینی کی تحریک میں وہ شروع سے ہی ان کے ساتھ سیاسی فعالیت میں شامل ہو گئے۔ امام خمینی کی گرفتاری اور ان کے جلا وطن ہونے کے کچھ عرصہ کے بعد ساواک نے انہیں بھی ملکی امنیت کے خلاف اقدامات کے الزام میں گرفتار کرکے ٹرکی اس کے بعد عراق جلاوطن کر دیا۔ ان کے سیاسی نظریات منجملہ تحریک آزادی فلسطین کی حمایت اور علوم اسلامی کے سلسلہ میں ان کے علمی تنقیدی افکار نے حوزہ علمیہ نجف اشرف میں انہیں قابل توجہ مقام عطا کیا۔ مصطفی خمینی نے 47 برس کی عمر میں وفات پائی۔ وہ شیخ مرتضی حائری یزدی کے داماد تھے۔

ولادت و تعلیم

مصطفی خمینی 13 دسمبر سنہ 1930 ء میں قم میں پیدا ہوئے۔[1] اور انہوں نے ابتدائی تعلیم وہیں حاصل کی۔

15 برس کی عمر میں انہوں نے حوزہ علمیہ قم میں حوزہ کی تعلیم کا آغاز کیا اور 6 سال سے بھی کم عرصہ میں حوزہ کے مقدمات اور سطوح کی تعلیم مکمل کر لی اور 1330 ش میں وہ درس خارج میں شرکت کرنے لگے۔[2]

حوزہ کے سطوح کی تعلیم میں انہوں نے محمد جواد اصفہانی، محمد صدوقی اور مہدی حائری جیسے اساتید سے فقہ و اصول کے دروس میں شرکت کی۔ اسی عرصہ میں سید رضا صدر کے فلسفہ اور شیخ محمد فکور یزدی کے شرح منظومہ سبزواری کے درس میں شریک ہوئے۔

اس کے بعد انہوں نے سید ابو الحسن رفیعی قزوینی اور سید محمد حسین طباطبائی کے پاس اسفار کے دروس پڑھے اور اسے مکمل کرنے کے بعد اسفار کی تدریس کے ساتھ ساتھ انہوں نے اس پر حاشیہ بھی لکھا۔[3]

سید حسین طباطبائی بروجردی، سید محمد محقق داماد و امام خمینی ان کے فقہ و اصول کے درس خارج کے اساتید ہیں۔[4] 27 برس کی عمر میں وہ اجتہاد تک پہچ گئے۔[5] 1333 ش میں 24 برس کی عمر میں انہوں نے شیخ مرتضی حائری یزدی کی بیٹی سے شادی کی۔ جس سے انہیں ایک بیٹی اور ایک بیٹا ہوا۔ ان کی بیٹی مریم ڈاکٹر ہے جو سویٹزر لینڈ میں رہتی ہے۔ ان کا بیٹا سید حسین خمینی سیاسی اعتبار سے انقلابیوں کے جدا نقطہ نظر رکھتا تھا اور بنی صدر اور مجاہدین خلق کے حامیوں میں شمار ہوتا تھا۔ عراق و امریکہ سفر کے بعد ماضی قریب میں ایران آکر قم میں مقیم ہے۔[6]

سیاسی فعالیت کی ابتداء

سید مصطفی خمینی اپنے والد امام خمینی کے ہمراہ

سید مصطفی نے امام خمینی کی تحریک کے ساتھ ہی 1342 ش میں اپنی سیاسی فعالیت کا آغاز کیا۔[7] 15 خرداد کے قیام میں امام خمینی کی گرفتاری کے بعد انہوں نے ان کی آزادی اور ان کی غیر موجودگی میں ان کی تحریک کو آگے بڑھانے کے لئے بہت کوشش کی۔ اس عرصہ میں وہ اعلانیہ تیار کرکے اسے علماء تک پہچاتے اور امام خمینی جو اس وقت قید میں تھے ان کے پیغامات عوام تک پہچاتے۔[8]

قید و جلاوطن

کیپیچولیشن (Capitulation) قانون کے خلاف تند اور صریح تقریر کے بعد جب 13 آبان 1343 ش میں امام خمینی کو گرفتار کیا گیا تو سید مصطفی نے قم کے دکانداروں کو ترغیب دلائی کہ وہ بازار کو بند کریں۔ جس کے نتیجہ میں حکومت کے کارندوں اور ساواک نے قم میں انہیں سید شہاب الدین مرعشی نجفی کے گھر سے گرفتار کیا اور تہران کی قزل قلعہ جیل میں منقتل کر دیا۔ سید مصطفی کی گرفتاری کے بعد فوجی عدالت کے جج نے 14 آبان 1343 ش میں ملکی امنیت کی سلامتی کے خلاف ان پر عاید الزام میں انہیں موقتا سزا سنائی۔[9] ساواک نے اس حکم کو 8 دی 1343 ش میں ان کے ٹرکی منقتل ہونے کی شرط پر لغو کر کے انہیں آزاد کر دیا۔ البتہ اس شرط کی مخالفت کے بعد ساواک نے چند روز بعد انہیں دوبارہ گرفتار کرکے 14 دی 1343 ش میں ٹرکی جلاوطن کر دیا۔[10]

ایران واپسی کی کوشش

سید مصطفی کو ٹرکی کے شہر بورسہ میں جہاں امام خمینی کو رکھا گیا تھا، جلا وطن کیا گیا۔ وہاں انہوں نے امام خمینی کے سلسلہ درس سے استفادہ کیا۔[11] اس عرصہ میں انہوں نے سعی کی کہ ایرانی خفیہ ایجنسی ساواک کو سیاسی امور میں مداخلت نہ کرنے اور حکومت مخالف افراد سے رابطہ نہ کرنے اور اپنی رہائش کو قم سے خمین منتقل کرنے کی ضمانت دے کر ایران واپسی کی موافقت حاصل کر سکیں۔ لیکن ساواک نے ان کی واپسی سے ہونے احتمالی نتایج کے خوف سے اس بات سے انکار کر دیا۔[12]

سفر عراق

سید مصطفی 13 مہر 1344 ش کو امام خمینی کے ہمراہ عراق میں منتقل کئے گئے۔ شروع میں انہوں نے بغداد اس کے بعد نجف کو قیام گاہ بنائی۔ یہ زمانہ جو 12 سالوں پر محیط ہے، ایران میں پہلوی حکومت کی مخالفت اور فلسطین کی آزادی کی تحریک کی فعالیتوں کے اوج تھا، تحریک آزادی فلسطین کے سلسلہ میں ان کا موقف حمایت آمیز اور عملی تائید پر مبنی تھا۔[13]

عراق میں ان کے اقدامات

سید مصطفی خمینی

اس عرصہ میں ان کے اہم ترین اقدامات میں سے ایک امام خمینی کی تحریک کو زندہ رکھنا تھا۔ وہ امام خمینی کے بیانات اور پیغامات کو ایران اور دوسرے ممالک میں ارسال کرتے اور انقلاب سے متعلق خبروں کو امام خمینی تک پہچاتے تھے۔ نجف میں سید مصطفی کا گھر ایران اور دوسرے ممالک سے امام خمینی سے ملاقات کے لئے آنے والے افراد کی رفت و آمد کا مرکز تھا۔[14]

نجف اشرف میں امام خمینی کے گھر کی ذمہ داری، علماء کی انقلابیوں سے ہم آہنگی اور عراق میں 15 خرداد نامی مجلہ تاسیس و تقویت سید مصفطی کے ذمہ تھی۔ عراق میں ان کی دوسری فعالیتوں میں صدائے روحانیت نامی ریڈیو کے ذریعہ پہلوی حکومت کے خلاف عوام کو حقایق سے آشنا کرنا، زیارت اور پہلوی حکومت کے مخالفین اور انقلابیوں سے جو حج کے لئے سعودی جاتے تھے، اربتاط کے سلسلہ میں مکہ و مدینہ کا مکرر سفر کرنا، شامل تھا۔[15]

مقابلہ کے سلسلہ میں نظریات

سید مصطفی پہلوی حکومت سے مقابلہ کے سلسلہ میں مسلحانہ و عوامی مزاحمت کے قائل تھے۔ یہی وجہ تھی کہ انہوں نے فوجی تربیت حاصل کی اور وہ اسے تمام انقلابیوں کے لئے ضروری سمجھتے تھے۔[16]

وہ پہلوی حکومت کے سقوط کے سلسلہ میں حکومت مخالف دوسرے تمام سیاسی احزاب اور گروہوں کے ساتھ ہم عقیدہ تھے۔ اس کے باوجود ان کے مختلف و مستقل نظریات مانع بنتے تھے کہ وہ ان میں بہت سے گروہوں کے ساتھ تعاون کریں۔ وہ حکومت مخالف غیر مذہبی احزاب کے ساتھ تعاون کے صریح مخالف تھے۔[17] اسی طرح سے وہ اولین افراد میں سے تھے جنہوں نے اسلامی حکومت کے نظریات کے عملی تحقق کی راہ میں سعی کی اور اس سلسلہ میں ایک رسالہ الاسلام و الحکومۃ کے نام سے تحریر کیا۔

علمی مقام و منزلت

سید مصطفی خمینی علوم اسلامی کے سلسلہ میں قابل قدر نگاہ سے دیکھے جاتے تھے اور انہوں نے فقہ و اصول فقہ کے ساتھ ساتھ فلسفہ، حکمت، کلام، عرفان، معانی، بیان، نجوم و ہیئت، تاریخ، رجال، درایہ اور تفسیر میں کسب فیض کیا۔ انہوں نے اعلی مدارج علمی طے کرنے کے باوجود حوزہ علمیہ نجف میں سید محسن الحکیم، محمد باقر زنجانی، سید محمود شاہرودی اور سید ابو القاسم خوئی جیسے آیات عظام اساتید کے دروس میں شرکت کی۔ امام خمینی بھی ان کے مسلم اساتذہ میں سے تھے۔ حوزہ علمیہ قم و نجف میں انہوں نے تحصیل علم کے ساتھ ساتھ تدریس کے فرائض بھی انجام دیئے۔[18] ان کی دوسری علمی خصوصیات میں سے ایک علوم اسلامی کے سلسلہ میں ان کے تنقیدی نظریات و افکار تھے۔ وہ علم اصول کے مباحث کے سلسلہ نقد و تنقید میں مزید توسیع کے حامی تھے۔[19]

آثار و تالیفات

علوم اسلامی کے سلسلہ میں ان کی بہت سی تالیفات موجود ہیں جن میں سے اکثر غیر مطبوعہ ہیں۔ ان میں سے بعض کا ذکر ذیل میں کیا جا رہا ہے:

  • تفسیر القرآن الکریم 4 جلد (تہران ۱۳۶۲ ش)
  • تحریرات فی الاصول در 3 جلد (تہران ۱۳۶۶ ش)
  • تعلیقات علی الحکمة المتعالیہ (تہران ۱۳۷۶ ش)[20]
  • الواجبات فی الصلاہ
  • الفوائد والعوائد
  • تحریرات فی الاصول
  • کتاب الصوم
  • کتاب الطہارہ
  • کتاب البیع
  • کتاب الخیارات
  • المکاسب المحرمہ
  • الخلل فی الصلاہ
  • الحاشیہ علی العروة الوثقی
  • الحاشیہ علی تحریر الوسیلہ[21]

مشکوک وفات

حرم امیر المومنین (ع)، ایوان طلا میں ان کی قبر

23 اکتوبر سنہ 1977 ء میں 47 برس کی عمر میں اچانک نجف اشرف میں سید مصطفی کی وفات ہو گئی۔ آیت اللہ خوئی نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی اور انہیں حرم امیر المومنین (ع) میں دفن کر دیا گیا۔ ڈاکٹروں نے ان کی موت کا سبب زہر بتایا اور اس بات کو واضح کرنے کے لئے پوسٹ مارٹم کی تجویز دی گئی جسے امام خمینی نے رد کر دیا۔ ساواک اور عراقی حکومت نے ان کی موت کا سبب ہارٹ اٹیک ذکر کیا۔[22] ان سب کے باوجود کہا گیا کہ ان کی موت میں پہلوی حکومت اور ساواک کا ہاتھ تھا۔[23]

سید مصطفی خمینی کی موت پہلوی حکومت کے خلاف تحریک میں شدت، امام خمینی کی قیادت کی تحکیم اور پہلوی حکومت کے مخالفین کے اتحاد و انسجام کا سبب بنی۔[24]

حوالہ جات

  1. ثقفی، «‌مصاحبہ با والدۀ مکرمہ شہید آیت الله سید مصطفی خمینی»، ص۲۹.
  2. میری، نگاہی به زندگی علمی و آثار قلمی شہید آیت الله سید مصطفی خمینی»، ص۳۵۶؛ «‌شہید ثانی از تبار امام خمینی»، ص۱۷.
  3. باقی، «‌مروری بر زندگی نامہ آیت الله شہید حاج سید مصطفی خمینی»، ص۱؛ دوانی، نہضت روحانیون ایران، ج۶، ص۳۳۳.
  4. میری، «‌نگاہی به حیات علمی و آثار قلمی شہید آیت الله سید مصطفی خمینی»، ص۳۵۶- ۳۵۷.
  5. آشنایی با مہاجر شہید سید مصطفی خمینی»، ص۱۰۸.
  6. پایگاه خبری آفتاب.
  7. اشراقی، «‌مصاحبہ با آیت الله حاج شیخ شہاب الدین اشراقی (ره)»، ص۶۹.
  8. تشیع، «‌چہره سیاسی شہید آیت الله سید مصطفی خمینی (ره)»، ص۷۲-۷۸؛ برای نمونہ از اقدامات سید مصطفی رک: مرکز اسناد انقلاب اسلامی، آرشیو، پروندۀ «‌شہید آیت الله سید مصطفی خمینی»، ش ۳۹۱، ص۲، ۵، ۸.
  9. رک: رجبی، زندگی نامہ سیاسی امام خمینی (ره)، ج۱، ص۳۳۱-۳۳۸؛ فلاحی، سال‌ہای تبعید امام خمینی (ره)، ص۹۵؛ مرکز اسناد انقلاب اسلامی، آرشیو، پروندۀ «‌شہید آیت الله سید مصطفی خمینی»، ش ۳۹۱، ص۱۶-۱۷.
  10. مرکز اسناد انقلاب اسلامی، آرشیو، پروندۀ «‌شہید آیت الله سید مصطفی خمینی»، ش ۳۹۱، ص۳۲-۳۳.
  11. روحانی، «‌شہید ہجرت و جہاد آیت الله حاج سید مصطفی خمینی»، ص۴۵.
  12. باقی، «‌مروری بر زندگی نامہ آیت الله شہید حاج سید مصطفی خمینی»، ص۳؛ برای نمونہ از این تلاش‌ہا رک: مرکز اسناد انقلاب اسلامی، آرشیو، پروندۀ «‌شہید آیت الله سید مصطفی خمینی»، ش ۳۹۱، ص۴۱- ۴۲.
  13. قزوینی، «‌آثار و بازتاب‌ہای شہادت آیت الله حاج آقا سید مصطفی خمینی»، ص۱۵۹؛ روحانی، «‌شہید ہجرت و جہاد آیت الله حاج سید مصطفی خمینی»، ص۴۵.
  14. رک: تشیع، «چہره سیاسی شہید آیت الله سید مصطفی خمینی (ره)»، ص۹۰.
  15. آشنایی با مہاجر شہید سید مصطفی خمینی»، ص۱۲۲، ۱۲۵؛ فلاحی، سال‌ہای تبعید امام خمینی (ره)، ص۲۶۵، باقی، «مروری بر زندگی نامہ آیت الله شهید حاج سید مصطفی خمینی»، ص۴.
  16. محتشمی، «نور دیدۀ امام: خاطرات حجت الاسلام و المسلمین سید علی اکبر محتشمی»، ص۵۴- ۵۵؛ رضوی، «تلاش‌ہای سیاسی اجتماعی شہید آقا مصطفی خمینی»، ص۳۳۵-۳۳۶؛ برای نمونہ از چگونگی مناسبات وی با جنبش‌های آزادی بخش رک: مرکز اسناد انقلاب اسلامی، آرشیو، پروندۀ «‌شہید آیت الله سید مصطفی خمینی»، ش ۳۹۱، ص۲.
  17. رضوی، «تلاش‌ہای سیاسی اجتماعی شہید آقا مصطفی خمینی»، ص۳۳۰- ۳۳۴؛ روحانی، نہضت امام خمینی، ج۲، ص۵۸۵؛ عاشوری لنگرودی، «نگاہی به زندگی سیاسی شہید آیت الله سید مصطفی خمینی (ره) و نقش او در روند پیروزی انقلاب اسلامی ایران»، ص۱۱۴؛ برای متن گزارش ساواک از ملاقات سید مصطفی و حسن البکر رک: مرکز اسناد انقلاب اسلامی، آرشیو، پروندۀ «‌شہید آیت الله سید مصطفی خمینی»، ش ۳۹۱، ص۲۴.
  18. میری، «‌نگاہی به حیات علمی و آثار قلمی شہید آیت الله سید مصطفی خمینی (ره)»، ص۵۴؛ محتشمی، «‌نور دیدۀ امام: خاطرات حجت الاسلام و المسلمین سید علی اکبر محتشمی»، ص۵۱- ۵۲، ۶۲- ۶۳.
  19. رک: مبلغی، «‌نقد اصولی از دیدگاه شہید آیت الله سید مصطفی خمینی (ره)»، ص۱۱۹- ۱۲۶.
  20. برای آگاہی بیشتر از دیگر آثار مصطفی خمینی رک: میری، ص۳۶۳- ۳۷۳.
  21. برای آگاہی بیشتر از دیگر آثار سید مصطفی خمینی
  22. باقی، «‌مروری بر زندگی نامہ آیت الله شہید حاج سید مصطفی خمینی»، ص۴؛ شہیدی دیگر از روحانیت، ص۶۵- ۶۸.
  23. مرکز اسناد انقلاب اسلامی، آرشیو، پروندۀ «‌شہید آیت الله سید مصطفی خمینی»، ش ۳۹۳، ص۱۶، ۵۸؛ نیز برای آگاہی از چگونگی بازتاب گستردۀ مرگ وی در ایران و سایر کشورها رک:پروندۀ «‌شہید آیت الله سید مصطفی خمینی»، ش ۳۹۲، ص۱۰، ش ۳۹۳، ص۱۳-۱۴، ۲۰، ۳۲، ۴۲- ۴۳؛ نیز رک: شہیدی دیگر از روحانیت، ص۱۲۷، ۱۲۹.
  24. قزوینی، «‌آثار و بازتاب‌ہای شہادت آیت الله حاج آقا سید مصطفی خمینی»، ص۱۵۱- ۱۵۴؛ عمید زنجانی، انقلاب اسلامی و ریشہ ہای آن، ص۵۰۵- ۵۰۶؛ نیز رک: بازتاب‌ہا و پیامدهای رحلت اسرار آمیز آیت الله مصطفی خمینی بہ روایت اسناد، ص۶۳ بہ بعد.


مآخذ

  • متن میں موجود اسناد کے علاوہ، انقلاب اسلامی کے مرکز آرشیو میں موجود اسناد
  • «‌آشنایی با مہاجر شہید سید مصطفی خمینی»، یاد، سال ۳، ش ۱۲ (پاییز ۱۳۶۷)
  • اشراقی، شہاب الدین، «‌مصاحبہ با آیت الله حاج شیخ شہاب الدین اشراقی (ره)»، در یادہا و یادمان‌ہا از آیت الله سید مصطفی خمینی (ره)، ج۵، قم: *کنگرۀ شہید آیت الله مصطفی خمینی (ره)، ۱۳۷۶ ش
  • بازتاب‌ ہا و پیامدہای رحلت اسرار آمیز آیت الله مصطفی خمینی به روایت اسناد، تدوین سجاد راعی گلوجہ، تہران: مرکز اسناد انقلاب اسلامی، ۱۳۸۹ ش
  • باقی، عماد الدین، «‌مروری بر زندگی نامہ آیت الله شہید حاج سید مصطفی خمینی»، اطلاعات (ضمیمہ)، ش ۲۲۲۷، ۱ آبان ۱۳۷۶ ش
  • تشیع، محمد حسن، «‌چہره سیاسی شہید آیت الله سید مصطفی خمینی (ره)»، در مجموعہ مقالات کنگرۀ شہید آیت الله مصطفی خمینی (ره): سی مہر و اول آن ماه ۱۳۷۶ ش، تہران: شاہد، ۱۳۷۷ ش
  • ثقفی، بتول، «‌مصاحبہ با والدۀ مکرمہ شہید آیت الله سید مصطفی خمینی (ره)»، مصاحبہ کننده: زہرا مصطفوی، در یادہا و یادمان‌ہا از آیت الله سید *مصطفی خمینی (ره)، ہمان
  • دوانی، علی، نہضت روحانیون ایران، تہران: ۱۳۶۰ ش
  • رجبی، محمد حسن، زندگی نامہ سیاسی امام خمینی (ره) ف ج۱، تهران ۱۳۷۸ ش
  • رضوی، عباس، «‌تلاش‌ ہای سیاسی اجتماعی شہید آقا مصطفی خمینی»، حوزه، سال ۱۴، ش ۳ و ۴ (مرداد- آبان ۱۳۷۶)
  • روحانی، حمید، «‌شہید ہجرت و جہاد آیت الله حاج سید مصطفی خمینی»، پیام انقلاب، ش ۱۸ (مهر ۱۳۵۹ ش)
  • ہمو، نہضت امام خمینی، ج۲، تہران ۱۳۷۶ ش
  • «‌شہید ثانی از تبار امام خمینی»، ۱۵ خرداد، ش ۴ (مہر و آبان ۱۳۷۰)
  • شہیدی دیگر از روحانیت: آیت الله مجاہد السید مصطفی خمینی (طاب الثراه)، تہران: عروج، ۱۳۷۶ ش
  • عاشوری لنگرودی، حسن، «‌نگاہی بہ زندگی سیاسی شہید آیت الله سید مصطفی خمینی (ره) و نقش او در روند پیروزی انقلاب اسلامی ایران»، در مجموعہ مقالات کنگرۀ شہید آیت الله مصطفی خمینی (ره): سی مہر و اول آن ماه ۱۳۷۶ ش، تہران: شاہد، ۱۳۷۷ ش
  • عمید زنجانی، عباس علی، انقلاب اسلامی و ریشہ ہای آن، تہران ۱۳۷۱ ش
  • فلاحی، اکبر، سال‌ہای تبعید امام خمینی (ره)، تہران ۱۳۷۱ ش
  • قزوینی، حمید، «‌آثار و بازتاب‌ ہای شہادت آیت الله حاج آقا سید مصطفی خمینی «، حضور، ش ۲۱ (پاییز ۱۳۷۶ ش)
  • مبلغی، احمد، «‌نقد اصولی از دیدگاه شہید آیت الله سید مصطفی خمینی (ره)»، در مجموعہ مقالات کنگرۀ شہید آیت الله مصطفی خمینی (ره): سی مہر و اول آن ماه ۱۳۷۶ ش، تہران: شاهد، ۱۳۷۷ ش.
  • محتشمی، علی اکبر، «‌نور دیدۀ امام: خاطرات حجت الاسلام و المسلمین سید علی اکبر محتشمی»، حضور، ش ۲۱ (پاییز ۱۳۷۶ ش)
  • مزینانی، محمد صادق، «‌دیدگاه‌ہای شہید مصطفی خمینی دربارۀ ولایت و حکومت اسلامی»، حوزه، سال ۱۴، ش ۳ و ۴ (مرداد- آبان ۱۳۷۶ ش)
  • میری، عباس، «‌نگاہی بہ حیات علمی و آثار قلمی شہید آیت الله سید مصطفی خمینی (ره)»، در مجموعہ مقالات کنگرۀ شہید آیت الله مصطفی خمینی (ره): سی مہر و اول آن ماه ۱۳۷۶ ش، تہران: شاهد، ۱۳۷۷ ش
  • میری، عباس، «‌نگاہی بہ زندگی علمی و آثار قلمی شہید آیت الله سید مصطفی خمینی (ره)»، حوزه، سال ۱۴، ش ۳ و ۴ (مرداد- آبان ۱۳۷۶ ش)