شلمغانی

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

محمد بن علی بن ابی العزاقر، شلمغانی کے نام سے معروف حضرت امام حسن عسکری (ع) کے اصحاب میں سے بغداد کا شیعہ محدث گنا جاتا تھا۔ کچھ مدت کیلئے حسین بن روح کی عدم موجودگی میں اس نے شیعوں کے بعض امور بھی انجام دیئے۔ لیکن کہا جاتا ہے کہ حسین بن روح کے مقام و منزلت سے حسادت کی وجہ سے مسلک امامیہ چھوڑ دیا۔ اس نے امام مہدی کے فرامین کو پس پشت ڈال دیا اور دوسرے گروہوں میں شامل ہو گیا۔ شلمغانی نے امام کی طرف سے جھوٹی نیابت کا دعوی کیا اور وہ کہتا تھا: اس کے جسم میں خدا کی روح نے حلول کیا ہے اور وہ اپنے آپ کو روح القدس کہتا تھا۔ آخرکار امام مہدی کی لعن کا مستحق ٹہرا اور کچھ مدت بعد عباسی حاکم کے حکم پر اسے پھانسی دے دی گئی۔

حالات زندگی

شلمغانی عراق کے شہر واسط کے نواحی گاؤں شلمغان میں پیدا ہوا اور وہاں کے قاریوں میں سے ایک تھا۔[1] کچھ مدت بعد بغداد چلا گیا اور عباسیوں کے ساتھ ہو گیا اور وہاں دبیر (کاتب) کے عہدے پر مشغول رہا۔[2] یہ فقہائے امامیہ میں سے ایک تھا اور متعدد آثار کا حامل تھا کہ جو شیعہ فقہ و عقائد سے مربوط تھے۔ مسلک امامیہ ترک کرنے سے پہلے امامیہ میں نہایت قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔[3]

شلمغانی اور تیسرے نائب کا زمانہ

تاریخی روایات کے مطابق جب حسین بن روح امام مہدی کی نیابت کے عہدیدار ہوئے تو انہوں نے بغداد کے شیعوں کے امور کے حل و فسخ کیلئے شلمغانی کو مقرر کیا خاص طور پر بنو بسطام ، کوفہ میں دو وکیل، زجوزجی اور رازی کو متعین کیا۔[4]. ان کے مقابل شیخ طوسی کی ابو علی محمد بن ہمام سے منقول روایت کے مطابق محمد بن علی شلمغانی ہرگز شیعوں اور ابن روح کے درمیان باب اور واسطہ نہیں رہا نیز ابن روح نے ہرگز ان معاملات میں اسے نصب نہیں کیا تھا۔ جو کوئی اس قسم کا ادعا کرتا ہے اس نے باطل اختیار کیا ہے۔ [5]

چاہے حسین بن روح کی طرف اس کے منصوب ہونے کی خبریں درست ہوں یا نہ ہوں لیکن یہ مسلم ہے کہ شلمغانی بغداد میں بلند مرتبے کا حامل تھا اور سالوں تک بغداد اور کوفہ میں امامیہ کی ہدایت اس کے ذمے تھی۔ بالآخر حسین بن روح کی بیعت کرنے کے کچھ عرصے بعد اس سے نکل کر اور اپنے عقائد کی تبلیغ کرنے لگا اور غلات کا ہمنوا ہو گیا۔

شلمغانی کے اس اقدام کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ اپنی جلد سیاسی جاہ طلبی اور ذاتی شہرت کا خواہاں تھا اور ممکن ہے مستقبل میں قدرت کے حصول کی امید کی خاطر امام مہدی کے حسین بن روح کے دئے جانے والے دستورات کی بنا پر راہ مستقیم سے ہٹ گئے ہوں۔ اسی وجہ سے فرامین و دستورات کو خاطر میں نہ لایا اور دوسرے گروہوں کا رخ اختیار کر لیا تا کہ اپنی اس سیاسی مقام و منزلت عملی جامہ پہنا سکے۔

انحراف سے مطلع ہونا

شلمغانی نے منحرف ہونے کے بعد بلا فاصلہ امامت کے عقائد سے ہاتھ نہیں اٹھایا اور اپنے جسم میں خدا کے حلول کا اعلان نہیں کیا بلکہ اس سلسلے میں منقول روایات اس کی بیان گر ہیں کہ پہلے پہل وہ اپنے آپ کو ابن روح کا قائم مقام کہہ کر سوئے استفادہ کرتا رہا تا کہ آہستہ آہستہ اپنے ماتحت وکلا کو اپنی الحادی تعلیمات سے آراستہ کرے۔ یہاں تک کہ جب وہ اپنے حلولی عقائد کو بیان کرتا تو اپنے ماتحت وکلا سے تقاضا کرتا کہ وہ اس راز کو فاش نہ کریں کیونکہ یہ سچے اور حقانیت پر مشتمل عقائد ہیں۔[6]

یوں ظاہر ہوتا ہے کہ ابن روح ام کلثوم نامی مبلغ خاتون کے ذریعے شلمغانی کے انحراف سے آگاہ ہوئے۔ یہ خاتون بنو بسطام کی امامیہ خواتین کی فعالیتوں کی سرپرست تھی۔ شلمغانی نے اسے حکم دیا کہ وہ اس سے مخفیانہ ملاقاتوں کا سلسلہ روک دے۔ اس واقعے کی دقیق تاریخ معلوم نہیں ہے لیکن ابن اثیر کے مطابق شلمغانی کے انحراف کا زمانہ حامد بن عباس کی وزارت کا زمانہ ہے جو ۳۱۱- ۳۰۶ ق/ ۹۲۳-۹۱۸ ع سے شروع ہوا[7] ابن اثیر کی یہ روایت شیخ طوسی کے ساتھ مطابقت رکھتی ہے جس میں اسکے انحراف کا زمانہ ۳۱۲ ق/ ۹۲۴ ع سے پہلے ذکر ہوا ہے۔[8]

ابن روح کا رد عمل

ابن روح نے شلمغانی کے ملحدانہ عقائد سے آگاہی کے بعد اسے عہدے سے بر طرف کر دیا، اسکے ان ملحدانہ نظریات کو تمام جگہوں تک پہنچایا پہلے نوبختی خاندان اور دیگران کو آگاہ کیا۔[9] وکلا سے تقاضا کیا کہ وہ اسکے (ابن روح) اپنا رابطہ بڑھا دیں۔ ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ محمد بن احمد زجوزجی نے اسی دستور کی پیروی کرتے ہوئے جس کسی کے پاس شلمغانی کی کتاب التکلیف ہوتی وہ اسے غالی کے عنوان سے یاد کرتا تھا۔ اس بات کو شیخ طوسی نے ذکر کیا ہے۔[10] لیکن بنو بسطام ابن روح کے احکام کی پیروی کرنے کی بجائے شلمغانی کے احکامات پر عمل کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ ابن روح نے شلمغانی کے مقام کو تمام امامیہ کے سامنے واضح و آشکار کیا اور شلمغانی کی باتوں پر کان دھرنے والوں نے اسے چھوڑ دیا۔[11]

ابن روح کے ان اقدامات سے واضح ہوتا ہے کہ وکلائے بغداد اور عام مؤمنین بہت زیادہ اسکے تحت تاثیر تھے۔

شلمغانی کے جھٹلائے جانے کے بعد اس نے پرچار شروع کیا کہ وہ اور ابن روح امام مہدی کے سفیروں میں سے نہیں ہے۔[12] شلمغانی نے اس ادعا اور پیامبروں اور آئمہ کے اجسام میں خدا کے حلول ہونے کے عقیدے کے ذریعے کوشش کی کہ اپنی سیاسی ساکھ بحال کرے اور اسکے ذریعے اپنی اقتصادی حالت کو استحکام بخشے۔

عقائد شلمغانی

اس سے منسوب گفتگوں میں غالیانہ جھکاؤ دیکھا جاتا ہے اور ان میں سے انسان میں خدا کے حلول کا عقیدہ ہے۔ شلمغانی کے اعتقاد کے مطابق طول تاریخ میں خدا بشر کی صورت میں انسان میں حلول کرتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں خدا نے پہلی مرتبہ آدم کے جسم میں حلول کیا اور یوں انبیاء کے ابدان میں حلول کیا۔ پھر اسکے بعد حضرت محمد(ص) کے بدن سے ائمہ(س) کے بدنوں میں مجسم ہوا یہان تک کہ امام مہدی کے بدن میں آیا اور پھر میرے بدن میں حلول کر گیا۔ اسی حال میں خدا نے اپنے دشمن ابلیس کو خلق کیا نیز شرپسند انسانوں میں حلول کرتا ہے اور ان میں مجسم ہوتا ہے۔ شلمغانی کے مطابق حلول اور مجسم ہونے کا ہدف اپنے وجود کو ثابت کرنا ہے۔[13]

محمد بن همام وکیل روایت کرتا ہے کہ میں نے خود شلمغانی سے سنا وہ کہہ رہا تھا: حقیقت (خدا) ایک ہے لیکن اسکی شکلیں مختلف ہیں ایک دن سفید رنگ میں ایک دن سرخ اور ایک دن نیلے رنگ میں۔

ابن ہمام کہتا ہے: یہ اس کا پہلا جملہ تھا جو اسے جھٹلانے کا سبب بنا کہ یہ آئین حلولیہ کا صاحب ہے۔[14] ایک اور روایت کے مطابق شلمغانی نے کوشش کی تا کہ وکلائے امامیہ خاص طور پر بنو بسطام کے وکیلوں کو آئین حلولیہ اور روحوں کے تناسخ کا قائل کر سکے۔

کچھ مدت کے بعد اس نے اعلان کیا کہ پیامبر(ص) کی روح دوسرے سفیر ابو جعفر میں، علی بن ابی طالب(ع) کی روح، ابن روح میں، فاطمہ زہرا(س) بنت محمد(ص)، کی روح ام‌ کلثوم ( سفیر دوم کی بیٹی) میں حلول کر گئی ہیں۔ شلمغانی نے اپنے تابع وکلا اور تحت تاثیر افراد سے تقاضا کیا کہ وہ اس زاز کو فاش نہ کریں کیونکہ یہ عقائد حقہ میں سے ہیں۔[15]

انگیزه

لوگوں میں ایسے عقائد کے رواج سے انکی حمایت اور انہیں وصول موعود کے زمانے میں تیار کر سکے۔ نیز ان عقائد کے پھیلانے کیلئے حکومتی اداروں اور اعلی عہدیداروں اور عباسی فوج کا انتخاب کیا اور اس مقصد میں کسی حد تک کامیابی حاصل کرتے ہوئے قابل توجہ طرفدار پید کر لئے۔ ان طرفداروں میں احمد بن محمد بن عبدوس، ابراہیم بن ابی عون، مصنف کتاب التشبیہات، ابن شبیب زیات، ابو جعفر بن بسطام اور ابو علی بن بسطام شامل ہیں یہ سب حکومت وقت کے کاتبین میں سے تھے۔[16]

۳۱۲ق/ ۹۲۴م حسن بن فرات وزیر بھی اس سے مل گیا اور اسکے پیروکاروں نے عباسی حکومتی اداروں کی محفلوں تک نفوذ حاصل کر لیا۔ ان کے علاوہ حسین بن قاسم بن عبید اللہ بن وہب کہ جو ۳۲۰- ۳۱۹ق/ ۹۳۲- ۹۳۱م سالوں میں وزارت کے عہدے پر تھا وہ بھی اسکے ہواداروں میں شمار ہوتا ہے۔[17]

توقیع امام زمان(ع)

امام مہدی کے تیسرے نائب خاص ۳۱۲ ق/ ۹۲۴ ع قید ہوئے تو شلمغانی نے اس فرصت غنیمت سمجھتے ہوئے امامیہ کے درمیان اپنی سرگرمیوں کے دائرہ کار کو امام کی طرف سے جواب آنے تک وسعت دی۔ اس بنا پر امام مہدی نے شلمغانی کے دعووں کے متعلق اپنی رائے ظاہر کرنے کی غرض سے حسین بن روح کے توسط سے توقیع صادر فرمائی:

«... محمد بن علی، شلمغانی کے نام سے معروف شخص ان میں سے ہے کہ جنہیں خداوند جلد ہی کیفر کردار تک پہنچائے اور خدا اسے مہلت نہ دے۔ وہ اسلام سے منحرف ہو گیا ہے اور اس نے اپنے آپ کو اسلام سے جدا کر لیا۔ وہ دین خدا سے مرتد ہو گیا وہ ایسے دعوے کرتا ہے جو خدا کی ذات سے انکار پر دلالت کرتے ہیں۔ وہ افترا پردازی اور دروغ گوئی سے کام لے رہا ہے۔ غلط اور باطل چیزوں کو اپنی زبان پر لا رہا ہے اور وہ بہت بڑے منحرفین میں سے ہے۔ خدا کی طرف باطل کی نسبت دینے والے خطائے محض کا شکار ہیں وہ یقینی طور پر خاسرین میں سے ہیں۔ ہم خدا، رسول اللہ اور اسکے صاحب تکریم خاندان کے حضور اس سے بری الذمہ ہونے کا اعلان کرتے ہیں۔
ہم اس شلمغانی پر لعنت بھیجتے ہیں۔ پنہاں و آشکار، ہر زمان و مکان میں ہمیشہ اس پر خدا کی لعنت ہو نیز اسکے حامیوں اور پیروکاروں پر بھی خدا کی لعنت اور ان لوگوں پر بھی خدا کی لعنت ہو جو اس پیغام سے آگاہ ہونے کے باوجود اسکے ہمنوا اور اسکے ساتھ ملحق ہو کر ساتھ چلنے والے ہیں۔
اس بنا پر تم وکلائے امامیہ تک اس کی اطلاع پہنچاؤ کہ وہ اپنے آپ کو اس سے دور رکھیں اور اس سے اجتناب اختیار کریں۔ شلمغانی سے پہلے شریعی، نمیری، ہلالی، بلالی اور دیگران ایسے تھے کہ جن کے متعلق ہم ایسی ہی رای رکھتے تھے۔ ہم سنن الہی پر راضی ہیں اور خدائے متعال تمام امور میں ہمارے لئے کافی ہے اور وہی بہترین محافظ اور نگہبان ہے۔[18]

شیخ طوسی کی روایت کے مطابق وکیل محمد بن ہمام نے اس توقیع کو خود جا کر قید خانے سے حاصل کیا اور اس نے خود بغداد کے تمام وکلا کے درمیان تقسیم کیا اور دوسرے شہروں میں اسے بھجوایا یہان تک کہ امامیہ کے درمیان یہ خبر مشہور ہو گئی۔[19]

اقدامات ابن روح کے نتائج

ابن اثیر کے مطابق ابن روح نے شلمغانی کے جھوٹے دعوں کو واضح کیا یہاں تک کہ عباسیوں کو بھی اسے سے آگاہ کیا۔ اس کے نتیجے میں خاقانای وزیر نے ۳۱۳ق/ ۹۲۵م میں اسے گرفتار کرنے کی کوشش کی۔[20] یہ کوشش شلمغانی کی طرف جھکاؤ رکھنے والوں کی گرفتاری پر منتہی ہوئی۔ وہ خود چھپ کر موصل فرار ہو گیا۔ جہاں وہاں کے حاکم نضر الدولہ حسن بن عبد اللہ بن حمدان نے اسے پناہ دی۔ اس نے موصل کے اطراف میں واقع دیہات بنام معلثایا میں زندگی گزارنی شروع کر دی۔

شلمغانی نے مذکورہ دیہات کے پنہانی دور میں اپنی کتب شخص بنام ابو عبدالله شیبانی کیلئے روایت کیں کہ جو بغداد کے قریے نوبختیہ کا رہنے والا تھا اور امامیہ کا محدث تھا۔[21]، لیکن بعد میں امامیہ مذہب سے منحرف ہو گیا۔

عباسیوں میں نفوذ

شلمغانی ۳۱۶ق/ ۹۲۸م میں مخفی طور پر بغداد لوٹ آیا[22] تا کہ اپنے پیروکاروں کے ساتھ مستقیم رابطہ رکھ سکے۔ اسکی سرگرمیوں کی خبر عباسی حکومت کے عہدیداروں کے درمیان پھیل گئی۔ عباسی حکومت میں اسکی یہ پیشرفت قدرت طلبی کو ظاہر کرتی ہے۔

شلمغانی کے مریدوں میں سے حسین بن قاسم بن عبید اللہ بن وہب ۳۱۹ق/ ۹۳۱م میں مقام وزارت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا اور اسکا نام عباسی خلیفہ مقتدر کے نام کے ساتھ سکے پر کنندہ ہونے لگا۔[23] ابن وہب نے اپنے اس عہدے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے ساتھیوں کو بلند عہدوں تک پہنچایا۔ لیکن وہ ایک سال کے بعد برطرف کر دیا گیا۔ اسکے بعد موجودہ خلیفے قاہر نے (۳۲۲- ۳۲۰/ ۹۳۴- ۹۳۲) میں اسے شلمغانی کے ساتھ ملنے کی وجہ سے شام کے علاقے رقہ تبعید کر دیا۔

مرگ شلمغانی

خلیفۂ قاہر نے اسکے ہمفکر خاص طور بنو بسطام کو گرفتار کیا اور انکے اموال مصادرہ کر لئے۔[24] یہ گرفتاریوں کا سلسلہ ۳۲۳ق/ ۹۳۴ ع میں شلمغانی کی گرفتاری تک جاری رہا۔ شلمغانی اور اسکے گروہ کے ابن ابی عون جیسے دیگر سرکردہ لوگوں کو شکنجہ دیا گیا اور انہیں پھانسی دے دی گئی۔ ان کے بدنوں کو بغداد کے غرب میں واقع دار الشرطہ(پولیس اسٹیشن) میں جلایا گیا۔[25]

تألیفات شلمغانی

شلمغانی متعدد آثار کا مالک تھا جن میں کچھ آثار انحراف سے پہلے کے ہیں اور شیعوں کے نزدیک معتبر سمجھے جاتے ہیں:

  1. کتاب التکلیف: شلمغانی نے اس کتاب کو اپنی اعتدال پسندانہ اور پاکیزگی کے دوران میں تالیف کیا۔ بغدادی شیعوں کا ایک گروہ اس کتاب کو حسین روح کے پاس لے کر گیا اس نے پڑھنے کے بعد کہا: دو تین مقامات کے علاوہ باقی مطالب ائمہ سے مروی ہیں اور اس میں کوئی خلاف شرع بات نہیں ہے۔[26] اسکے ارتداد کے ثابت ہونے بعد ایک گروہ پھر حسین بن روح کے پاس آیا اور ان سے استفسار کیا کہ شلمغانی کی کتابوں کا کیا کریں؟ ابن روح نے جواب دیا: میرا وہی جواب ہے جو ابو محمد حسن بن علی عسکری(ع) نے بنی فضال کی کتابوں کے بارے میں لوگوں کو جو جواب دیا تھا: امام نے فرمایا تھا کہ جو وہ روایت کرتے ہیں انہیں لے لو اور جن مطالب کو اپنے پاس سے بیان کرتے ہیں انہیں چھوڑ دو۔[27]
  2. کتاب التأدیب: اسے حسین بن روح نے قم کے علما کے پاس بھجوایا اور اسکے تمام مرویات مورد تائید قرار پائے لیکن علما نے اسکی صاع (زکات فطرہ ادا کرنے کا پیمانہ جو تقریبا ۳ کیلو گرام کے برابر ہوتا ہے) کے متعلق رائے کی تائید نہیں کی۔[28]
  3. کتاب الاوصیاء: شیخ طوسی نے اس کا تذکرہ اپنی تالیف کتاب الغیبۃ میں کیا ہے۔[29]
  4. الغیبة: اسکا نام بھی شیخ طوسی نے کتاب الغیبۃ میں کیا ہے۔[30]
  5. کتاب الحاسۃ السادسۃ (چھٹی حس ): یہ کتاب اسکے پیروکاروں کیلئے ایک دینی دستور شمار ہوتی ہے جس کا اصلی موضوع گویا ادیان سابق کے احکامات کو رد کرنا ہے۔[31]

دیگر تالیفات:

راسلة الی ابن همام؛ ماهیة العصمة؛ الزاهر با الحج العقلیه؛ المباهلة؛ المعارف؛ الایضاح؛ فضل النطق علی الصّمت؛ فضائل العمرتین؛ الانوار؛ التسلیم؛ البرهان التوحید؛ البدأ و المشیة؛ نظم القرآن؛ الامامة الکبیر؛ الامامة الصغیر[32]

شلمغانی ان کے علاوہ صنعت اور کیمیاگری میں بھی کتابیں تالیف کیں۔[33]

بہرحال شلمغانی ان تالیفات کا حامل تھا لیکن کتاب الحاسة السادسة اسکے مکتب کی دستوری اور آئینی کتاب محسوب ہوتی ہے۔ ان آثار میں سے اب کوئی دسترسی میں نہیں جو کچھ اسکے عقائد یا اسکے بارے میں کہا گیا وہ مخالفین نے نقل کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

حوالہ جات

  1. جاسم حسین؛تاریخ سیاسی غیبت امام زمان،ص:۲۰۱
  2. یاقوت حموی؛معجم البلدان ج۵ص۲۸۸
  3. طوسی؛الغیبه، صص۱۵۸و۲۲۱
  4. طوسی؛الغیبہ،ص۲۱۲و۲۶۳
  5. طوسی؛الغیبہ،ص:۴۰۹
  6. مجلسی؛بحار، ج ۵۱، ص۳۷۲
  7. ابن اثیر؛ الکامل، ج ۸، ص۲۱۸.
  8. طوسی؛الغیبۃ،ص۲۶۸
  9. طوسی؛الغیبۃ، ص۱۵۸و۲۲۱
  10. طوسی؛الغیبۃ،ص۲۵۳
  11. طوسی؛الغیبۃ،ص۲۵۴
  12. ابن اثیر؛ الکامل، ج ۸، ص۲۱۸
  13. ابن اثیر؛ الکامل، ج ۸، ص۹- ۲۱۸
  14. مجلسی؛بحار، ج ۵۱، ص۳۷۴
  15. مجلسی؛بحار، ج ۵۱، ص۳۷۲
  16. ابن اثیر؛ الکامل، ج ۸، ص۲۱۸
  17. جاسم حسین،ص:۲۰۴
  18. طبرسی،الاحتجاج، ج ۲، ص۴۷۵ - ۴۷۴؛طوسی، الغیبۃ، ص۴۱۰.
  19. طوسی، الغیبۃ، ص۴۱۰
  20. ابن اثیر؛ الکامل، ج ۸، ص۲۱۸
  21. نجاشی،رجال،ج۲ص۲۸۹
  22. صدر؛الغیبۃ،ج۱ص۵۲۱
  23. ابن مسکویہ، تجارب الامم،ج۱،ص۲۷
  24. ابن مسکویہ، تجارب الامم،ج۱،ص۲۷
  25. ابن اثیر؛ الکامل، ج ۸، ص۲۱۸
  26. طوسی : الغیبۃ،‌ص ۲۶۷/ اقبال، عباس: خاندان نوبختی، کتابخانہ طہوری، ۱۳۴۵، ص۲۳۰ / دوانی، علی: مفاخر اسلام، ج ۲، ص۳۵۶.
  27. اقبال، عباس: خاندان نوبختی، ص۲۳۲
  28. طوسی: الغیبۃ، ص۲۴۰.
  29. طوسی: الغیبہ، ص۲۰۸.
  30. طوسی: الغیبہ، ص۲۴۰.
  31. بغدادی، ابومنصور عبدالقاهر: الفرق بین الفرق، ترجمه دکتر محمد جواد مشکور، کتابفروشی اشراقی، ۱۳۶۷، ص۱۹۱.
  32. غفار زاده، علی: زندگانی نواب خاص امام زمان، صص ۲۸۹، ۲۹۱.
  33. ابن ندیم: الفہرست، تحقیق رضا تجدد، دانشگاه تہران، ۱۹۷۱،‌ص ۴۲۵.