وطن

ویکی شیعہ سے
(شرعی وطن سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
مشہور احکام
رساله عملیه.jpg
نماز
واجب نمازیں یومیہ نمازیںنماز جمعہنماز عیدنماز آیاتنماز میت
مستحب نمازیں نماز تہجدنماز غفیلہنماز جعفر طیارنماز امام زمانہنماز استسقاءنماز شب قدرنماز وحشتنماز شکرنماز استغاثہدیگر نمازیں
دیگر عبادات
روزہخمسزکاتحججہاد
امر بالمعروف و نہی عن المنکرتولیتبری
احکام طہارت
وضوغسلتیممنجاساتمطہرات
مدنی احکام
وکالتوصیتضمانتکفالتارث
عائلی احکام
شادی بیاهمتعہتعَدُّدِ اَزواجنشوز
طلاقمہریہرضاعہمبستریاستمتاع
عدالتی احکام
قضاوتدیّتحدودقصاصتعزیر
اقتصادی احکام
خرید و فروخت (بیع)اجارہقرضہسود
دیگر احکام
حجابصدقہنذرتقلیدکھانے پینے کے آدابوقفاعتکاف
متعلقہ موضوعات
بلوغفقہشرعی احکامتوضیح المسائل
واجبحراممستحبمباحمکروہ


وطن فقہی اصطلاح میں، انسان کی متولد ہونے یا اس کی زندگی کرنے کی جگہ ہے. انسان کو اپنے وطن میں نماز بھی پوری پڑھنی ہو گی اور ماہ رمضان میں روزے بھی رکھنے ہوں گے. وطن سے باہر، انسان اپنے نماز اور روزے مسافر کے حکم کے مطابق انجام دے گا. شیعہ فقہ کے مطابق انسان اپنے وطن سے صرف نظر کر سکتا ہے اور اپنے لئے نیا وطن انتخاب کر سکتا ہے اور اسی طرح ایک شخص ایک وطن سے زیادہ وطن اختیار کر سکتا ہے.

وطن کا معنی

اصطلاح فقہی میں وطن انسان کے پیدا ہونے کی جگہ (دیہات یا شہر) یا جس جگہ پر انسان ہمیشہ زندگی گزارتا ہے.[1]سفر کے وقت وطن کا تعیین کرنا ضروری ہے. ہر شخص اپنے وطن میں نماز پوری پڑھے گا اور روزہ بھی رکھے گا حتی کہ اگر سفر کے دوران صرف اپنے وطن سے گزرے اور وہاں رہنے کا ارادہ بھی نہ رکھتا ہو. شیعہ فقہی متون میں، وطن کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے.[2]ہر حصے کی اپنی خاص اقسام ہیں.

اصلی وطن

ایک شخص کا اصلی وطن، اس کے والدین کا وطن اور وہ جگہ جہاں اس کی ولادت ہوئی ہے اور کچھ مدت تک اس جگہ زندگی گزاری ہے.[3]

عرفی وطن یا مستجد

عرفی یا مستجد وطن وہ جگہ ہے جو انسان نے اپنی زندگی گزارنے کے لئے انتخاب کی ہے اگرچہ اس جگہ پر متولد نہیں ہوا. اس قسم کے وطن کو اختیاری یا اتخاذی وطن بھی کہا گیا ہے.[4]

شرعی وطن

فقہی اصطلاح میں شرعی وطن وہ جگہ ہے جہاں ایک شخص دنیا میں آیا ہے یا کچھ عرصہ اس جگہ پر اپنے وطن کے طور پر رہا ہے اور اس جگہ پر اس کی اپنی زمین بھی ہے. اہل شیعہ کے مشہور علماء کی نگاہ میں، شرعی وطن، عرفی وطن کی مانند ہے اور اگر شخص وہاں سے عبور کرے تو مسافر کا حکم نہیں رکھتا.[5]اکثر فقہاء شرعی وطن کے بارے میں رسمی شناخت نہیں رکھتے اور شرعی وطن کے بارے میں یہ نظریہ رکھتے ہیں کہ وہاں نماز قصر ہے اور روزہ بھی افطار ہے. انکی نگاہ میں اگر کسی جگہ پر انسان کی ملکیت ہو یعنی اس کی زمین ہو تو اس پر وطن کے احکام جاری نہیں ہو سکتے.[6]

حکمی وطن

حکمی وطن ایسا وطن جہاں کوئی شخص کئی مدت سے ساکن ہے لیکن وہاں ہمیشہ رہنے کا ارادہ نہیں رکھتا. بعض فقہاء کی نگاہ میں اگر ایک جگہ پر طولانی مدت تک سکونت ہو تو یہ وطن کا حکم رکھتی ہے اور وہاں نماز پوری ہو گی اور روزہ بھی رکھنا ہو گا.[7] بعض دوسرے فقہاء کی نگاہ میں حکمی وطن اپنے وطن کی مانند نہیں ہے اور ایسی جگہ پر شخص مسافر کی طرح ہے اس لئے نماز قصر پڑھنی ہو گی.[8]

وطن کو ترک کرنا

شیعہ فقہاء کے فتوے کے مطابق شخص اپنے اصلی اور عرفی وطن کو ترک کر سکتا ہے اور ارادہ کر سکتا ہے کہ کبھی بھی زندگی گزارنے کے لئے اپنے وطن واپس نہیں آئے گا. وطن کو ترک کرنے کے بعد، اس شخص کی نماز اس جگہ پر قصر ہے اور روزہ بھی نہیں رکھ سکتا.[9]جو فقہاء شرعی وطن کو قبول کرتے ہیں وہ معتقد ہیں کہ شرعی وطن کو ترک نہیں کیا جا سکتا اور جب تک وہ شخص شرعی وطن میں کسی زمین کا مالک ہے اس کی نماز اس جگہ پر پوری اور روزہ بھی صحیح ہے.[10]

اکثر فقہاء وطن کو ترک کرنا ایک ارادی اور عملی فعل سمجھتے ہیں جو کہ سابق وطن کو چھوڑنا اور دوبارہ واپس نہ لوٹنے کا ارادہ ہے.[11]کچھ فقہاء، وطن کو ترک کرنا ایک عملی فعل سمجھتے ہیں جس کا معنی یہ ہے کہ مثلا ً ایک شخص کئی سالوں سے کسی دوسری جگہ پر زندگی کرتا ہے اور اپنی محل ولادت یا سابقہ زندگی اب اس کا وطن حساب نہیں ہوتا چاہے وہ وہاں واپس آنے کا ارادہ بھی رکھتا ہو. [12]

ایک سے زیادہ وطن

شیعہ فقہاء کے مطابق ہر شخص ایک اصلی وطن کے علاوہ، دو یا تین اور وطن بھی اختیار کر سکتا ہے.[13] بعض فقہاء ایک سے زیادہ وطن ہونے کو صحیح نہیں سمجھتے.[14]

حب الوطن کی حدیث

حُبُّ الوَطَنِ مِنَ الإیمان جو کہ ایک مشہور حدیث ہے اور شیعہ کی قدیمی کتابوں میں موجود نہیں ہے. منہاج البراعہ[15]جو نہج البلاغہ کی شرح، اور ١٤ ق کو لکھی گئی ہے اور اسی طرح سفینۃ البحار[16]کے مقدمہ میں امل الآمل شیخ حر عاملی نے اس جملے کو نقل کیا ہے. لیکن ہر دو کتابوں میں اس حدیث کی سند نقل نہیں کی گئی ہے.


حوالہ جات

  1. یزدی، العروة‌ الوثقی، ج۳، ص۴۷۱-۴۷۲
  2. سبحانی، ضیاء الناظر، ص۲۲۲
  3. سبحانی، ضیاء الناظر، ص۲۲۷
  4. سبحانی، ضیاء الناظر، ص۲۲۷
  5. یزدی، عروة الوثقی، ج۳، ص۴۷۳
  6. یزدی، العروة الوثقی، ج۳، ص۴۷۳
  7. رکز ملی پاسخگویی، احکام مسافر، ص۵۳ و ص۶۸ و ص۷۹ و ص۱۱۳
  8. احکام مسافر، ص۴۵ و ص۳۸ و ص۱۹و ص۶۰
  9. یزدی، العروة الوثقی، ج۳، ص۴۷۲
  10. یزدی، العروة الوثقی، ج۳، ص۴۷۳
  11. بروجردی و گلپایگانی، تعلیقه بر العروة الوثقی، ج۳، ص۴۷۴
  12. آیت اللہ مکارم شیرازی کا وبسایٹ
  13. یزدی، العروة الوثقی، ج۳، ص۴۷۳-۴۷۴
  14. نائینی، العروة الوثقی، ج۳، ص۴۷۴، خمینی، تحریر الوسیله، ج۱، ص۲۸۵
  15. خوئی، منهاج البراعة، ج۲۱، ص۳۹۴
  16. قمی، سفینة البحار، ج۸، ص۵۲۴


مآخذ

  • بروجردی، سید محمدحسین، در یزدی، العروة الوثقی مع التعلیقات، موسسة النشر الاسلامی، قم، ۱۴۲۰ق.
  • خمینی (امام)، سید روح‌الله، تحریر الوسیلة، موسسه مطبوعاتی دار العلم، قم.
  • خوئی، حبیب‌الله، منهاج البراعة فی شرح نهج‌ البلاغة، مکتبة الاسلامیه، تهران، ۱۴۰۰ق، بر اساس نرم‌افزار جامع الاحادیث نور، نسخه ۳/۵.
  • سبحانی، جعفر، ضیاء الناظر فی احکام صلاة المسافر، موسسه امام صادق (ع)، قم، ۱۳۷۶ش.
  • قمی، عباس، سفینة البحار و مدینة الحکم و الآثار، انتشارات اسوه،‌ قم، ۱۴۱۴ق، بر اساس نرم‌افزار جامع الاحادیث نور، نسخه ۳/۵.
  • گلپایگانی، سید محمدرضا، در یزدی، العروة الوثقی مع التعلیقات، موسسة النشر الاسلامی، قم، ۱۴۲۰ق.
  • مرکز ملی پاسخگویی به سؤالات دینی، احکام مسافر، ویرایش دوم، نشر فراکاما، قم، ۱۳۹۱ش.
  • نائينی، محمدحسین، در یزدی، العروة الوثقی مع التعلیقات، موسسة النشر الاسلامی، قم، ۱۴۲۰ق.
  • یزدی، سید محمدکاظم، العروة الوثقی مع التعلیقات، موسسة‌ النشر الاسلامی، قم، ۱۴۲۰ق.