سیل العرم

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

سیل العَرِم اس بڑے سیلاب کو کہا جاتا ہے جو اللہ تعالی کی طرف سے یمن میں قوم سباء پر عذاب کے طور پر نازل ہوا تھا۔سورہ سباء کی 16ویں آیت میں اس واقعے کی طرف اشارہ ہوا ہے جس کے مطابق اللہ تعالی کی طرف سے مَأرَب یعنی موجودہ صنعا میں لوگوں کی ہدایت کے لیے اللہ تعالی نے انبیاء بھیجنے اور لوگوں کی طرف سے ان انبیاء کو ماننے سے انکار کرنے کے بعد عرم کا بند (ڈیم) ٹوٹ گیا اور پورے شہر کو اپنے لپیٹ میں لیا۔ سیلاب کی وجہ سے شہر کے مشرق اور مغرب میں موجود دو آباد باغ شور زدہ زمین میں تبدیل ہوگئے۔ مستشرقین اور آثار قدیمہ کے ماہرین کی تحقیقات کے مطابق عرم کا سیلاب یمن میں موجودہ شہر صنعا کے شمال مشرق میں آیا تھا۔ اور سنہ 532ء کو یہ حادثہ رونما ہوا ہے۔

سیل عرم کا واقعہ

سیل عَرِم (عرم کا سیلاب) یمن کے شہر مارب میں ڈیم ٹوٹنے کی وجہ سے واقع ہوا اور شہر، باغات اور کھیت ویران ہوگئے۔[1] تیسری صدی ہجری کے مورخین ابن قتیبہ دینوری و علی بن حسین مسعودی کا کہنا ہے کہ قوم سبأ بھی اسی شہر میں بستی تھی۔[2] مسعودی کے مطابق سباء کی سرزمین باغات اور آبادی پر مشمل تھی۔ یمن کی سرزمین پر بہت سارے باغات اور فراوان اللہ کی نعمتیں تھیں اور یہ سب ڈیم کے پانی کی وجہ سے تھی۔[3]

تحقیقات اور تاریخی گزارشات کے مطابق یہ سیلاب سنہ447ء تا 450ء، یا اسلام کے ظہور سے 400 سو سال پہلے، چھٹی صدی عیسوی میں آیا ہے۔[4]اسی طرح بعض تاریخی مصادر میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہاں کے باشندے سیلاب سے پہلے ہی عراق، شام اور یثرب کی طرف ہجرت کر گئے تھے۔[5]

مسعودی نے مروج الذہب میں تصریح کی ہے کہ عرم کے ڈیم کا رقبہ تقریباً 22 کلومیٹر تھا۔[6]یہ ڈیم مَأرَب یا عَرِم ڈیم سے مشہور تھا۔[7] مسعودی نے ڈیم کا بانی لقمان بن عاد بن عاد قرار دیا ہے۔[8] جبکہ ابوالفتوح رازی نے ملکہ بلقیس کو اس کا بانی قرار دیا ہے۔[9]

عَرِم لفظ کے معنی میں مختلف احتمالات ذکر ہوئی ہیں؛ منجملہ، ایسے سیلاب کا نام ہے جو شہر کی ویرانی کا باعث بنا ہے۔[10] یا اس شدید بارش کا نام ہے جو سیلاب کا باعث بنے،[11] یا ڈیم کا نام ہے جسے قوم سباء نے تعمیر کیا تھا۔[12]اسی طرح عرم اس چوہے کا نام قرار دیا گیا ہے جو مارب ڈیم ٹوٹنے کا باعث بنا۔[13]ایک اور احتمال بھی اس بارے میں دیا گیا ہے کہ عرم اس سرخ پانی کا نام ہے جو اللہ تعالی کی طرف سے عذاب کی صورت میں قوم سباء پر نازل ہوا تھا۔[14]

قرآن میں تذکرہ

قرآن مجید میں سورہ سبا کی آیت 16 میں عرم سیلاب کا تذکرہ آیا ہے۔ اور آیت کچھ یوں ہے:

لَقَدْ كَانَ لِسَبَإٍ فِي مَسْكَنِهِمْ آيَةٌ ۖ جَنَّتَانِ عَن يَمِينٍ وَشِمَالٍ ۖ كُلُوا مِن رِّزْقِ رَبِّكُمْ وَاشْكُرُوا لَهُ ۚ بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ ﴿۱۵﴾ فَأَعْرَضُوا فَأَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ سَيْلَ الْعَرِمِ وَبَدَّلْنَاهُم بِجَنَّتَيْهِمْ جَنَّتَيْنِ ذَوَاتَيْ أُكُلٍ خَمْطٍ وَأَثْلٍ وَشَيْءٍ مِّن سِدْرٍ قَلِيلٍ ﴿۱۶﴾
قبیلہ سباء والوں کیلئے ان کی آبادی میں (قدرتِ خدا کی) ایک نشانی موجود تھی (یعنی) دو باغ تھے دائیں اور بائیں (اور ان سے کہہ دیا گیا) کہ اپنے پروردگار کے رزق سے کھاؤ اور اس کا شکر ادا کرو شہر ہے پاک و پاکیزہ اور پروردگار ہے بخشنے والا۔ پس انہوں نے روگردانی کی تو ہم نے ان پر بند توڑ سیلاب چھوڑ دیا اور ان کے ان دو باغوں کو ایسے دو باغوں سے بدل دیا جن کے پھل بدمزہ تھے اور جھاؤ کے کچھ درخت اور کچھ تھوڑی سی بیریاں۔
سورہ سباء آیت15 اور 16

مسلمان مفسروں نے سورہ سباء کی 16ویں آیت کی تفسیر میں سیل العرم کی تفسیر بیان کی ہے۔[15]چھٹی صدی ہجری کے شیعہ مفسروں میں سے ابوالفتوح رازی کی تفسیر کے مطابق اللہ تعالی نے قوم سباء کی ہدایت کے لیے 13 انبیاءؑ بھیجے لیکن لوگوں نے انبیاء کی باتوں کو ٹھکراتے ہوئے اللہ تعالی کا انکار کیا اور شہر کی آبادی اور نعمتوں کو اپنی برتری کے مرہون منت سمجھنے لگے[16] آیت کے معنی کو مدنظر رکھتے ہوئے مفسروں نے سیل العرم کی علت اور سبب کو کفران نعمت اور لوگوں کی ناشکری بیان کیا ہے۔[17] ابوالفتوح رازی اور مکارم شیرازی کے کہنے کے مطابق ڈیم توڑنے کے لیے اللہ تعالی کی طرف سے ایک چوہے کو مامور کیا گیا تھا۔[18]± چنانچہ سیلاب کی وجہ سے شہر کے دونوں طرف موجود دو سرسبز و آباد باغ ویران اور شورہ زار میں بدل گئے۔[19]احادیث کی کتابوں میں سے کافی اور مرآۃ العقول جیسی کتابوں میں سیل العرم کا واقعہ اور عذاب الہی کا سبب اور کیفیت بیان ہوئے ہیں۔[20]

آثار قدیمہ کے ماہرین کی تحقیقات

19ویں صدی عیسوی کے بعض مستشرقین اور آثار قدیمہ کے ماہرین کی تحقیقات کے مطابق عرم کا سیلاب یمن کے شمال مشرقی شہر صنعا (جو اس وقت مآرب کہلاتا تھا) میں آیا ہے۔[21]مذکورہ محققین کے مطابق عرم کا ڈیم سطح سمندر سے 1160 میٹر کی بلندی پر اپنے دور کے ترقی یافتہ فن کے مطابق بنایا گیا اور سنہ 447ء سے 450ء تک سیلاب کا سامنا کرتا رہا اور لوگ اس کی مرمت کرنے لگے لیکن آخر کار 532ء کو مکمل ویران ہوگیا۔[22]ڈیم کے محل وقوع کے نزدیک، قوم سباء اور سیل العرم کی تاریخ کے بارے میں مختلف کتیبے، نقوش اور خطوط کشف ہوئے ہیں۔[23] سید صدرالدین بلاغی نے اپنی کتاب قصص قرآن میں مستشرقین اور آثار قدیمہ کے ماہرین کا سیل العرم کی جگہ حاضر ہونے کو بیان کیا ہے۔[24]

حوالہ جات

  1. دینوری، اخبار الطوال، ۱۳۶۸ش، ص۱۷؛ مسعودی، مروج الذہب، ۱۴۰۹ق، ج۲، ص۱۶۱.
  2. دینوری، اخبار الطوال، ۱۳۶۸ش، ص۱۷؛ مسعودی، مروج الذہب، ۱۴۰۹ق، ج۲، ص۱۶۱.
  3. مسعودی، مروج الذہب، ۱۴۰۹ق، ج۲، ص۱۶۲.
  4. جعفریان، «نفوذ اسلام در یثرب»، ص۹۵؛ بی‌آزار شیرازی، باستان‌شناسی و جغرافیای تاریخی قصص قرآن، ۱۳۸۰ش، ۳۳۳.
  5. منہاج سراج، طبقات ناصری، ۱۳۶۳ش، ج۱، ص۱۸۳.
  6. مسعودی، مروج الذہب، ۱۴۰۹ق، ج۲، ص۱۶۱.
  7. ابوالفتوح رازی، روض الجنان، ۱۴۰۸ق، ج۱۶، ص۶۰؛ طبرسی، مجمع البیان، ۱۴۰۶ش، ج۸، ص۶۰۶.
  8. مسعودی، مروج الذہب، ۱۴۰۹ق، ج۲، ص۱۶۱.
  9. ابوالفتوح رازی، روض الجنان، ۱۴۰۸ق، ج۱۶، ص۶۰.
  10. ابوالفتوح رازی، روض الجنان، ۱۴۰۸ق، ج۱۷، ص۶۰.
  11. ابوالفتوح رازی، روض الجنان، ۱۴۰۸ق، ج۱۶، ص۶۰.
  12. ابوالفتوح رازی، روض الجنان، ۱۴۰۸ق، ج۱۶، ص۶۰.
  13. ابوالفتوح رازی، روض الجنان، ۱۴۰۸ق، ج۱۶، ص۶۰.
  14. بلاغی، حجۃ التفاسیر، ۱۳۸۶ش، ج۱، ص۱۴۶.
  15. طبری، جامع البیان، ۱۴۱۲ق، ج۲، ص۵۳-۵۹؛ سیوطی، الدر المنثور، ۱۴۰۴ق، ج۵، ص۳۳۱-۳۳۳؛ طباطبایی، المیزان، ۱۳۹۰ق، ج۱۶، ص۳۶۲-۳۶۸.
  16. ابوالفتوح رازی، روض الجنان، ۱۴۰۸ق، ج۱۶، ص۶۰.
  17. طباطبایی، المیزان، ۱۳۹۰ق، ج۱۶، ص۳۶۲-۳۶۸؛ ابوالفتوح رازی، روض الجنان، ۱۴۰۸ق، ج۱۶، ص۶۰.
  18. ابوالفتوح رازی، روض الجنان، ۱۴۰۸ق، ج۱۶، ص۶۰؛ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۱ش، ج۱۸، ص۶۸.
  19. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۱ش، ج۱۸، ص۶۸.
  20. کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ق، ج۲، ص۲۷۴؛ مجلسی، مرآۃ العقول، ۱۴۰۴ق، ج۹، ص۴۲۲-۴۲۴.
  21. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۱ش، ج۱۸، ص۶۹؛ بی‌آزار شیرازی، باستان‌شناسی و جغرافیای تاریخی قصص قرآن، ۱۳۸۰ش، ص۳۳۱-۳۳۳؛ بلاغی، قصص قرآن، ۱۳۸۱ش، ص۳۷۹.
  22. بی‌آزار شیرازی، باستان‌شناسی و جغرافیای تاریخی قصص قرآن، ۱۳۸۰ش، ص۳۳۱-۳۳۳.
  23. بی‌آزار شیرازی، باستان‌شناسی و جغرافیای تاریخی قصص قرآن، ۱۳۸۰ش، ص۳۳۱-۳۳۳؛ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۱ش، ج۱۸، ص۶۹.
  24. بلاغی، قصص قرآن، ۱۳۸۱ش، ص۳۷۹.

مآخذ

  • ابوالفتوح رازی، حسین بن علی، روض الجنان و روح الجنان فی تفسیرالقرآن، مشہد، آستان قدس رضوی، چاپ اول، ۱۴۰۸ق.
  • بلاغی، عبدالحجۃ، حجۃالتفاسیر و بلاغ الاکثیر، قم، حکمت، چاپ اول، ۱۳۸۶ش.
  • بلاغی، صدرالدین، قصص قرآن، تہران، امیر کبیر، ۱۳۸۱ش.
  • بی‌آزار شیرازی، عبدالکریم، باستان‌شناسی و جغرافیای تاریخی قصص قرآن، تہران، دفتر نشر فرہنگ اسلامی، چاپ سوم، ۱۳۸۰ش.
  • جعفریان، رسول، «نفوذ اسلام در یثرب»، مجللہ میقات حج، نمایندگی ولی فقیہ در امور حج و زیارات، زمستان ۱۳۷۲ش.
  • دینوری، ابوحنیفہ، اخبار الطوال، قم، منشورات الرضی، ۱۳۶۸ش.
  • سیوطی، عبدالرحمن، الدرالمنثور فی تفسیر بالماثور، قم، کتابخانہ مرعشی نجفی، ۱۴۰۴ق.
  • طباطبایی، محمدحسین، المیزان فی تفسیر القرآن، بیروت، موسسۃ الاعلمی للمطبوعات، چاپ دوم، ۱۳۹۰ق.
  • طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، تصحیح و تحقیق سید ہاشم رسولی محلاتی و سید فضل اللہ یزدی طباطبایی، ج۸، بیروت، دار المعرفۃ، ۱۴۰۶ق/۱۹۸۶م.
  • طبری، محمد بن حریر، جامع البیان فی تفسیر القرآن، بیروت، دارالفکر، ۱۴۱۲ق.
  • کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، تہران، دارالکتب الاسلامیۃ، ۱۴۰۷ق.
  • مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونہ، تہران، دارالکتب الاسلامیۃ، چاپ دہم، ۱۳۷۱ش.
  • مجلسی، محمدباقر، مرآۃ العقول فی اخبار الرسول، تہران، دارالکتب الاسلامیۃ، ۱۴۰۴ق.
  • مسعودی، علی بن حسین، مروج الذہب، قم، دارالہجرۃ، چاپ دوم، ۱۴۰۹ق.
  • منہاج سراج، ابوعمر، طبقات ناصری، تحقیق عبدالحی حبیبی، تہران، دنیای کتاب، ۱۳۶۳ش.