سید حسن نصر اللہ

ویکی شیعہ سے
(سید حسن نصراللہ سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
سید حسن نصر اللہ
سید حسن نصر اللہ
ذاتی کوائف
آبائی شہر البازوریہ
شریک حیات فاطمہ یاسین (ام ہادی)
اولاد ہادی، محمد جواد، محمد علی، محمد مہدی، زینب
مذہب شیعہ اثنا عشری
جانشین سید عباس موسوی
اساتذہ سید عباس موسوی
سید محمد باقر صدر
دستخط
امضای سید حسن نصر الله.gif

سید حسن نصر اللہ (ولادت ۱۹۶۰ ع) حزب اللہ لبنان کے موجودہ سکریٹری جنرل ہیں۔ انہوں نے ۱۶ سال کی عمر میں تحصیل علوم دینی کے لئے نجف اشرف کا سفر کیا۔ نجف اشرف میں شہید سید محمد باقر صدر اور سید عباس موسوی سے ارتباط سبب بنا کہ وہ قابض اسرائیل کے خلاف مقابلہ کرنے والی فضا کا حصہ بنیں۔

انہوں نے ۱۹۸۲ ع میں بعض دوسرے لبنانی علماء کے ساتھ مل کر حزب اللہ کی تاسیس کی۔ وہ کچھ عرصہ تک حزب اللہ کےاجرائی امور کے منتظم رہے اور ۱۹۹۲ ع میں سید عباس موسوی کی شہادت کے بعد حزب اللہ کے سکریٹری جنرل منتخب ہوئے۔ ان کے زمانہ میں حزب اللہ علاقائی قدرت میں تبدیل ہو گئی اور اس نے متعدد فوجی آپریشن کرکے سن ۲۰۰۰ ع میں اسرائیل کو لبنان سے عقب نشینی اور لبنانی اسیروں کی رہائی پر مجبور کر دیا۔

گذشتہ چند برسوں سے وہ شدید امنیتی مسائل کی وجہ کی منظر عام پر بہت کم ظاہر ہوتے ہیں۔ حالانکہ وہ مخفی طور پر میدان نبرد میں حاضر رہتے ہیں۔ ۱۹۹۷ ع میں ان کے بیٹے سید ہادی بھی اسرائیلی فوجیوں سے مقابلہ میں شہید ہو چکے ہیں۔ سید حسن نصر اللہ عالمی اہل بیت(ع) اسمبلی (تہران) کی شورای عالی (سپریم کونسل) کے ارکان میں سے ہیں۔

ولادت

سید حسن نصر اللہ ۳۱ اگست ۱۹۶۰ ع میں جنوب لبنان کے علاقہ مشرقی صور کے ایک غریب محلہ البازوریہ میں پیدا ہوئے۔ ان کی والدہ کا نام مہدیہ صفی الدین اور والد کا سید عبد الکریم ہے۔ وہ اپنے والد کی سبزی فروشی کی دکان میں ان کے ساتھ کام کرتے تھے۔

حوزہ کی تعلیم

انہوں نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی علاقہ میں، جونیئر ہائی اسکول بیروت اور انٹر کی تعلیم اپنے وطن میں حاصل کی۔

  • ۱۹۷۶ ع میں انہوں نے صور کے امام جمعہ سید محمد غروی کی تشویق پر تحصیل علوم دینی کے لئے نجف اشرف ہجرت کی۔
  • ۲ سال نجف اشرف میں رہنے کے بعد وہ لبنان لوٹ آئے اور انہوں نے بعلبک کے دینی مدرسہ امام منتظر (ع) میں اپنی حوزوی تعلیم کے سلسلہ کو جاری رکھا۔
  • ۱۹۸۹ ع میں انہوں نے تحصیل علم کے لئے قم کا سفر کیا لیکن حزب اللہ میں ان کی ضرورت کی وجہ سے انہیں ۱۹۹۰ ع میں لبنان واپس جانا پڑا۔

سماجی و سیاسی فعالیت

سید حسن نصر للہ نے نوجوانی کی عمر میں ہی سیاسی فعالیت کا آغاز کر دیا تھا۔

  • انٹر کرنے کے بعد ۱۹۷۵ ع میں انہیں ان کے آبائی علاقہ الباروزیہ میں جنبش امل (لبنان کی سیاسی تنظیم) کا نمایندہ بنا دیا گیا۔
  • نجف سے واپسی کے بعد ۱۹۷۹ ع میں انہیں جنبش امل کے سیاسی دفتر کا رکن بنا دیا گیا اور وہ درہ باغ میں اس کے نمایندہ بن گئے۔[1]
  • ۱۹۸۲ ع ع میں وہ کچھ مبارز علماء کے ساتھ جنبش امل سے جدا ہو گئے اور حزب اللہ کی بنیاد رکھی۔
  • انہوں نے ۱۹۸۲ سے ۱۹۹۲ ع تک اپنی فعالیت کو حزب اللہ پر متمرکز کیا۔ وہ اس کی مرکزی کمیٹی کے رکن ہونے کے ساتھ ساتھ مقاومت کے لئے افراد کی آمادہ سازی اور اس کی فوجی یونٹ کی تشکیل کے عہدہ دار بھی رہے۔ کچھ عرصہ تک وہ ابراہیم امین السید (بیروت میں حزب اللہ کے عہدہ دار) کے معاون بھی رہے اور کچھ مدت تک حزب اللہ کے اجرائی معاون بھی رہے۔[2]
  • سید حسن نصر اللہ ۱۹۹۲ ع میں سید عباس موسوی کی شہادت کے بعد حزب اللہ کے سکریٹری جنرل منتخب ہوئے اور وہ اب تک اس منصب پر باقی ہیں۔[3]

بیٹے کی شہادت

۱۲ ستمبر ۱۹۹۷ ع میں ان کے بیٹے سید ہادی جنوب لبنان میں اسرائیلی گشتی فوجیوں سے مقابلہ میں شہید ہو گئے اور ان کا جنازہ اسرائیلیوں کے ہاتھ لگ گیا اور ایک سال بعد جب اسرائیل اور حزب اللہ کے قیدیوں کا تبادلہ ہوا تو اس میں ان کا جنازہ لبنان واپس لایا گیا۔[4][5]

سید حسن نصر اللہ نے ان کی شہادت کے ابتدائی ایام میں شہداء کی تکریم کے سلسلہ میں ہوئے پروگرام میں اس طرح کہا:

سید ہادی کی شہادت ایک ایسا بینر ہے جس نے دکھا دیا کہ حزب اللہ کے رہبروں نے اپنی اولاد کو مستقبل کے لئے تربیت نہیں کیا ہے اور ہمارے فرزند جو محاذ جنگ میں خطوط مقدم تک جاتے ہیں ہمیں ان پر افتخار ہے اور ان کی شہادت سے ہم سرفراز ہوتے ہیں۔

ناکام جان لیوا حملے

سید حسن نصر اللہ اس عہدہ کی ذمہ داریوں کے برسوں میں متعدد مرتبہ دہشت گردانہ جان لیوا ناکام حملوں کا شکار ہو چکے ہیں۔ ان میں سے بعض کا ذکر ذیل میں کیا جا رہا ہے:

  • ۲۰۰۴ ع میں کھانے میں زہر کے ذریعہ جان لینے کی کوشش۔
  • ۲۰۰۶ ع میں جس بلڈنگ میں ان کا قیام تھا اس پر اسرائیلی طیاروں کی بمباری۔
  • ۲۰۰۶ ع میں ایک دہشت گرد گروہ کی گرفتاری ہوئی جن کا مقصد سید حسن نصر اللہ کی گاڑی پر مورٹار سے حملہ کرنا تھا۔
  • ۲۰۱۱ ع میں اسرائیلی جنگی جہازوں کا ایک عمارت پر حملہ، اس خیال سے کہ سید حسن نصر اللہ اس میں موجود ہیں۔

سید حسن نصر اللہ ان ہی خطرات کے پیش نظر گذشتہ کچھ برسوں سے منظر عام پر بہت کم نظر آتے ہیں اور ان کی حفاظت کی ذمہ داری ۱۵۰ افراد پر مشتمل ایک ٹیم کے حوالے ہے۔[6]

اس حفاظتی ٹیم کو عماد مغنیہ نے تشکیل دیا تھا[7] اور اس وقت اس ٹیم کی ذمہ داری ابو علی جواد کے ذمہ ہے جو ان کے داماد اور سید حسن نصر اللہ کی سپر کے طور پر مشہور ہیں۔ جنہوں نے کئی سخت اور پیچیدہ فوجی تربیتی دورے ایران میں گزارے ہیں۔[8]

ان سے مربوط آثار

سید حسن نصر اللہ کی شخصیت کی وجہ سے بہت سے افراد نے ایران کے اندر اور بیرون ایران ان کے سلسلہ میں آثار تخلیق کئے ہیں۔ ان میں سے بعض درج ذیل ہیں:

مکتوب آثار

  • سید عزیز نامی کتاب (جو فارسی زبان میں حجۃ الاسلام والمسلمین سید حسن نصر اللہ کی خود بیان کی ہوئی سوانح عمری ہے) جس کے مولف حمید داود آبادی ہیں اور جو آیت اللہ خامنہ ای کی تقریظ کے ساتھ شائع ہوئی ہے۔
  • آزاد ترین مرد جہان نامی کتاب جو فارسی زبان میں ہے اور جس کے مولف راشد جعفر پور ہیں۔
  • نصر اللہ نامی کتاب، سید حسن نصر اللہ کے ساتھ محمد رضا زائری کی گفتگو پر مشتمل ہے۔
  • کتاب رہبری انقلابی سید حسن نصر اللہ، آذیتا بیدقی قرہ باغ کی تالیف ہے۔

فیلم اور ڈاکومینٹری

  • سید حسن نصر اللہ کی زندگی پر ایک نگاہ کے عنوان سے بنی ڈاکومینٹری ہے جو ایران کے نیوز چینل پر نشر ہوئی ہے۔
  • منادیان آزادی نامی ڈاکومینٹری کا وہ حصہ جو سید حسن نصر اللہ سے متعلق ہے یہ بھی نیوز چینل سے نشر ہوا ہے۔
  • نصر اللہ در چشم دشمنان نامی ڈاکومینٹری کو المیادین نامی ٹی وی چینل نے ان کی تقریروں، تصویروں، اسرائیلی ماہرین کے تجزیے اور تحلیلوں کی بنیاد پر بنایا ہے جس کی مدت ۵۰ منٹ ہے۔
  • حکایۃ حسن نامی ڈاکومینٹری کو ٹی وہ چینل العربیۃ نے نشر کیا۔ جس کے بارے میں اس چینل کی ماہیت کے پیش نظر یہ گمان کیا گیا کہ وہ سید حسن نصر اللہ کی توہین کی غرض سے بنائی گئی، جس پر نشر کے بعد سید کے دشمنوں کی طرف سے بڑی تعداد میں اعتراض کئے گئے، یہاں تک کہ اس ڈاکومینٹری کی وجہ سے اس ٹی وی ڈائریکٹر کو اپنے عہدہ سے ہاتھ دھونا پڑا۔ اس ڈاکومینٹری میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح سے سید حسن نصر اللہ نے لبنان میں قدرت اور محبوبیت حاصل کی۔[9]

ترانے اور ویڈیو کلپ

  • ترانہ للسید رب یحمیہ
  • ترانہ یا سیدی، آواز بسام شمص
  • ترانہ أحبائی، آواز لبنانی عیسائی گلوکار جولیا بطرس (۲۰۰۶ ع)[10]
  • ترانہ یا نصرالله، آواز لبنانی سنگر علاء زلزالی (۲۰۰۷ ع)
  • ترانہ امانتدار بانوی دمشق، دو زبانوں والا پہلا ترانہ ادارہ تکریم سرداران شہید جہان اسلام نے پیش کیا۔ سنگر مجتبی مینوتن و حامد محضر نیا اور اشعار میثم حاتم و محسن رضوانی۔

ایران سے رابطہ

سید حسن نصر اللہ نے ۱۳۶۰ ش میں امام خمینی سے امور حسبیہ کا اجازہ حاصل کیا[11] اور اس اعتبار سے وہ پہلے لبنانی عالم ہیں جنہوں نے امام خمینی سے اس طرح کا اجازہ کسب کیا ہے۔ اس کے بعد انہوں نے بارہا ایران کا سفر کیا ہے اور ایران کے مختلف علاقوں منجملہ شمال ایران کا سفر کیا ہے۔[12] مختلف جلسوں میں تقریریں اور مختلف شخصیات سے ملاقاتیں کی ہیں۔ ایران کے بعض فوجی کمانڈروں کے ساتھ ان کے دوستانہ تعلقات ہیں اور وہ ان کے گھروں میں بھی جا چکے ہیں۔[13]

انہوں نے بارہا اپنی تقریروں اور جلسات میں ایران کی طرف سے حزب اللہ کی حمایتوں کی تصریح کی ہے۔[14] انہوں نے اپنی تقاریر میں ایران کا دفاع کیا ہے اور اسے وفاداری کے عہد کے لحاظ سے اپنا فریضہ سمجھتے ہیں۔[15]

حوالہ جات

  1. زندگی ‌نامہ سید حسن نصر الله
  2. صحیفة الوحده: السید حسن نصر الله سیرة ذاتیہ.. قوة شخصیہ وعبقریہ
  3. سید حسن نصرالله: سمبل مقاومت
  4. بیوگرافی و وصیت نامہ سید ہادی نصرالله، پایگاه اینترنتی المنار.
  5. پایگاه مقاومت اسلامی لبنان.
  6. صحیفہ معاریف تنشر تقریراً مخابراتیاً مفصلاً عن حیاة حسن نصر الله و أمنہ
  7. یترأس الحراسہ أبو علی جواد...معاریف: وحدة «مختارة
  8. حقائق تکشف لاول مرة عن ابو علی مرافق السید نصر الله…...
  9. شبکه العالم، نصر الله مدیر شبکہ العربیہ را اخراج کرد
  10. گفتگو با «جولیا پطرس» خواننده مسیحی لبنانی
  11. صحیفه امام،۱۵، ص: ۳۳۸.
  12. سفر شہید عماد مغنیہ و سید حسن نصرالله بہ شمال ایران
  13. گزارش تصویری حضور سید حسن نصرالله در منزل سردار شہید احمد کاظمی
  14. سید حسن نصرالله: پہپاد ساخت ایران بود و ما آن را فرستادیم
  15. سید حسن نصرالله: من سخنگوی ایران نیستم

منابع