آیت تأسی

ویکی شیعہ سے
(سورہ احزاب آیہ 21 سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
آیت تأسی
آیت کی خصوصیات
آیت کا نام: آیت تأسی
سورہ: احزاب
آیت نمبر: 21
پارہ: 21
صفحہ نمبر: 420
شان نزول: جنگ احزاب
محل نزول: مدینہ
موضوع: اعتقادی
مضمون: پیغمبر اکرمؐ کو اسوہ قرار دینا


آیت تأسی سورہ احزاب کی 21 ویں آیت ہے جس میں پیغمبر اکرمؐ کو اچھے اسوہ اور نمونہ کے طور پر پیش کیا ہے اور مسلمانوں سے ان کی پیروی اور مخالفت سے اجتناب کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

یہ آیت جنگ احزاب کی دیگر آیتوں کے درمیان میں نازل ہوئی ہے۔ بعض مفسرین کے مطابق پیغمبر اکرمؐ صرف اس جنگ میں آئیڈیل اور نمونہ نہیں بلکہ تمام زمان اور مکان، نیز تمام افعال، کردار اور پیغمبر اکرمؐ کی سنتوں کو شامل ہے۔ یہ مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ ہمیشہ آپؐ کو اپنے لیے نمونہ عمل قرار دیں؛ لیکن آپ کو وہ لوگ اپنا آئیڈیل بنا سکتے ہیں جو اللہ کی رحمت اور قیامت پر ایمان رکھتے ہیں اور پل بھر کے لیے بھی اللہ سے غافل نہیں ہوتے ہیں۔ بعض مفسرین پیغمبر اکرمؐ کی اتباع کو واجب جبکہ بعض مستحب قرار دیتے ہیں؛ جبکہ بعض تفصیل کے قائل ہیں اور دینی امور میں اتباع اور پیروی واجب اور دنیوی امور میں مستحب سمجھتے ہیں۔

آیت کا ترجمہ اور متن

لَقَدْ کانَ لَکمْ فی رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَنْ کانَ یرْجُوا اللَّهَ وَ الْیوْمَ الْآخِرَ وَ ذَکرَ اللَّهَ کثیراً
(بے شک تمہارے لئے پیغمبرِ اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی ذات میں (پیروی کیلئے) بہترین نمونہ موجود ہے۔ ہر اس شخص کیلئے جو اللہ (کی بارگاہ میں حاضری) اور قیامت (کے آنے) کی امید رکھتا ہے اور اللہ کو بکثرت یاد کرتا ہے۔ )
سوره احزاب آیت 21

اجمالی تعارف

سورہ احزاب کی اکیسویں آیت کا نام آیت تاسی ہے۔[1]اس سے پہلے والی آیت میں اللہ تعالی نے منافقین کی مذمت کرنے کے بعد[2]اس آیت میں حقیقی مومنوں کی خصوصیات بیان کرنے سے پہلے پیغمبر اکرمؐ کو مومنوں کے لیے نمونہ عمل کے طور پر پیش کیا ہے اور مسلمانوں یا مکلفین[3] یا وہ لوگ جو پیغمبر اکرمؐ کی پیروی نہیں کرتے تھے اور آپؐ کی مخالفت کرتے تھے[4]ان سے پیغمبر اکرمؐ کی پیروی کرنے اور مخالفت سے اجتناب کا مطالبہ کیا گیا۔[5]اس آیت میں سچے مسلمان اس کو کہا گیا ہے جو پیغمبر اکرمؐ کی پیروی کرتا ہے اور آپ کے فرامین میں سے کسی ایک کی بھی مخالف نہیں کرتا ہے۔[6] قرآن کریم نے سورہ ممتحنہ کی آیت 4 اور 6 میں حضرت ابراہیمؑ کو بھی شرک اور مشرکین سے برائت اور بیزاری کرنے میں نمونہ اور آئیڈیل قرار دیا ہے۔[7] [نوٹ 1]

اسوہ کا معنی

اسوہ عربی لغت میں پیشوا[9] اور اس حالت کو کہا جاتا ہے جو انسان کسی کی پیروی کر کے اس سے حاصل کرتا ہے؛[10]یعنی اقتدا کرنے پیروی کرنے کی وہی حالت ہے۔[11]یا اچھے کاموں میں دوسروں کی پیروی کرنے کو کہا جاتا ہے[12] اور آیت میں پیغمبر اکرمؐ کی پیروی کرنے کو کہا گیا ہے؛[13] اس طرح سے کہ پیغمبر اکرمؐ پیروی اور اقتدا کے لیے بہترین نمونہ عمل ہیں اور ان کی پیروی کرتے ہوئے انسان اپنی اصلاح کرسکتا ہے اور راہ راست پر گامزن ہوسکتا ہے۔[14] اس آیت کے معنی اور تفسیر کے بارے میں بہت ساری روایات ملتی ہیں جن میں سے بعض تفسیر کی کتابوں میں ذکر ہوئی ہیں؛[15]ابن عباس کی ایک روایت کے مطابق اسوہ حسنہ پیغمبر اکرمؐ کی سنت کو قرار دیا گیا ہے۔[16]بعض مفسروں نے آیت کے معنی میں دو قول نقل کئے ہیں؛ پہلا یہ کہ خود پیغمبر اکرمؐ اسوہ حسنہ ہیں، یا خود اسوہ حسنہ نہیں بلکہ ان میں ایک ایسی صفت ہے جو اقتدا اور پیروی کرنے کے شایستہ ہے۔[17]

اسوہ بنانے کے شرائط

اس آیت میں اللہ تعالی، پیغمبر اکرمؐ کو ان لوگوں کے لیے بہترین اسوہ قرار دے رہے ہیں جو اللہ کی رحمت اور قیامت پر ایمان رکھتے ہیں[18]اور دینوی اور اخروی ثواب کی توقع رکھتے ہیں[19] کہ جو نیک عمل کا نتیجہ ہے[20]؛ جو لوگ ایک لحظہ بھی اللہ کی یاد سے غافل نہیں ہوتے اور ہمیشہ اللہ کا ذکر زبان پر ہوتا ہے۔[21] [نوٹ 2] اور ہر حال میں اللہ کی یاد سے غافل نہیں ہوتا ہے۔[22]اور امید کو اللہ کی اطاعت سے ہمراہ کرتا ہے؛[23]اگرچہ بعض نے ذکر کثیر سے مراد پنجگانہ نمازیں لیا ہے؛[24]لہذا آیت کے مطابق مبدا اور معاد پر ایمان لانا اور ہمیشہ اللہ کا ذکر کرنا پیغمبر اکرمؐ کی پیروی کا باعث ہے۔[25]

پیغمبر اکرمؐ کی پیروی کا دائرہ

پیغمبر اکرمؐ کو نمونہ عمل بنانے کے بارے میں موجود آیتیں مطلق ہے جو جنگ اور غیر جنگ دونوں کو شامل ہے۔[26]پیغمبر کی پیروی گفتار اور رفتار دونوں میں ہے[27] دوسرے لفظوں میں تمام افعال، حالات اور اخلاق سب میں آئیڈیل ہیں؛[28]تفسیر نمونہ میں مکارم شیرازی کا کہنا ہے کہ تمام اچھے حالات، استقامت، صبر، درایت، تیزبینی، اخلاص، اللہ کی طرف توجہ، مشکلات اور سختیوں میں تسلیم نہ ہونے میں پیغمبر اکرمؐ تمام مسلمانوں کے لیے نمونہ عمل ہیں۔[29]بعض علما پیغمبر اکرمؐ کی پیروی کے دائرے کو صبر[30] یا جنگ میں پیغمبر اکرمؐ کا کردار کو زخموں اور بہت ساری سختیوں کو برداشت کرنے میں نمونہ قرار دیتے ہیں[31]اور ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ پیغمبر اکرمؐ کے دیگر افعال میں پیروی بھی شایستہ ہے؛[32]لیکن واجب نہیں ہے۔[33]

آیت تأسی جنگ احزاب کے بارے میں نازل ہونے والی آیتوں کے درمیان میں نازل ہوئی ہے۔ بعض نے «لکم» کو مدنظر رکھ کر اس آیت کا مخاطب جنگ احزاب میں موجود ان افراد کو قرار دیا ہے جنہوں نے آنحضرتؐ کو تنہا چھوڑ دیا تھا؛[34]لیکن بعض دوسرے مفسروں کا کہنا ہے کہ اس آیت کا مخاطب جنگ احزاب میں حاضر افراد ہی نہیں بلکہ پیغمبر اکرمؐ ہر میدان میں تمام مومنوں کے لیے نمونہ عمل ہیں۔[35]ان کی پیروی ایک دائمی ذمہ داری ہے اور تمام مسلمانوں کے لیے ہمیشہ کے لیے ثابت ہے۔[36]

پیروی کا حکم

پیغمبر اکرمؐ کی پیروی واجب یا مستحب ہونے میں علماء کا اختلاف ہے؛ بعض نے آنحضرتؐ کی پیروی کو واجب قرار دیا ہے [نوٹ 3] جبکہ ان کے مقابلے میں بعض اسے مستحب سمجھتے ہیں مگر یہ کہ کوئی دلیل اس کے واجب ہونے پر قائم ہوجائے۔ ان کے علاوہ بعض تفصیل کے قائل ہوئے ہیں کہ دینی امور میں پیغمبر اکرمؐ کی پیروی واجب اور دنیوی امور میں مستحب ہے۔[37]

آیت کے پیغام

محسن قرائتی اپنی کتاب تفسیر نور میں اس آیت کے بعض پیغامات بیان کرتے ہیں؛ان میں سے ایک یہ ہے کہ کسی کو نمونہ عمل اور آئیڈیل قرار دینا تربیت کے اصولوں میں سے ایک ہے۔ اور اچھے نمونہ عمل کا تعارف کرانا لوگوں کی ہدایت کا باعث بنتا ہے اور جھوٹے آئیڈیل کے انتخاب سے محفوظ رہتے ہیں۔[38]اسی طرح تفسیر قرآن مہر نامی کتاب کے مصنف کا کہنا ہے کہ اس آیت سے یہ نتیجہ ملتا ہے کہ تمام انسانوں کے لئے ایک آئیڈیل ضروری ہونے کے علاوہ اسلامی رہبر سب کے لئے بہترین نمونہ عمل ہے۔[39]

حوالہ جات

  1. ہاشمی، فرہنگ فقہ، ۱۴۲۶ق، ج۱، ص۱۶۸.
  2. نظام الاعرج، غرائب القرآن، ۱۴۱۶ق، ج۵، ص۴۵۵.
  3. طوسی، التبیان، بیروت، ج۸، ص۳۲۸؛ طبرسی، مجمع البیان، ۱۳۷۲ش، ج۸، ص۵۴۸؛ سبزواری، ارشاد الاذہان، ۱۴۱۹ق، ص۴۲۵.
  4. قرطبی، الجامع لأحکام القرآن، ۱۳۶۴ش،ج۱۴، ص۱۵۵، طبری، جامع البیان، ۱۴۱۲ق، ج۲۱، ص۹۱.
  5. ثعلبی، الکشف و البیان، ۱۴۲۲ق، ج۸، ص۲۲؛ طبری، جامع البیان، ۱۴۱۲ق، ج۲۱، ص۹۱.
  6. مغنیہ، التفسیر الکاشف، ۱۴۲۴ق، ج۶، ص۲۰۵.
  7. سورہ ممتحنہ، آیہ ۴، ۶
  8. کامیابی، تأملی در معناشناسی واژہ اسوہ در قرآن و حدیث، ۱۳۹۷ش، ص۳۵.
  9. ابن منظور، لسان العرب، بیروت، ج۱۴، ص۳۵.
  10. راغب اصفہانی، مفردات ألفاظ القرآن، بیروت، ص۷۶.
  11. ابن عطیہ، المحرر الوجیز، ۱۴۲۲ق، ج۴، ص۳۷۷؛ رضایی اصفہانی، تفسیر قرآن مہر، ۱۳۸۷ش، ج۱۶، ص۳۳۰.
  12. قرائتی، تفسیر نور، ۱۳۸۸ش، ج۷، ص۳۴۴.
  13. سمرقندی، بحر العلوم، ۱۴۱۶ق، ج۳، ص۵۳؛ جرجانی، درج الدرر، ۱۴۳۰ق، ج۲، ص۴۵۶.
  14. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۱ش، ج۱۷، ص۲۴۳.
  15. سیوطی، الدر المنثور، ۱۴۰۴ق، ج۵، ص۱۸۹؛ قمی مشہدی، کنز الدقائق، ۱۳۶۸ش ج۱۰، ص۳۴۹.
  16. ماتریدی، تأویلات أہل السنۃ، ۱۴۲۶ق، ج۸، ص۳۶۸.
  17. زمخشری، الکشاف، ۱۴۰۷ق، ج۳، ص۵۳۱؛ قرشی بنابی، تفسیر احسن الحدیث، ۱۳۷۵ش، ج۸، ص۳۳۵.
  18. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۱ش، ج۱۷، ص۲۴۱.
  19. طبرانی، التفسیر الکبیر، ۲۰۰۸م، ج۵، ص۱۷۹.
  20. ابن عطیہ، المحرر الوجیز، ۱۴۲۲ق، ج۴، ص۳۷۷.
  21. سمرقندی، بحر العلوم، ۱۴۱۶ق، ج۳، ص۵۳.
  22. ثعلبی، الکشف و البیان، ج۸، ص۲۲؛ طبری، جامع البیان، ۱۴۱۲ق، ج۲۱، ص۹۱.
  23. طبرسی، جوامع الجامع، ۱۴۱۲ق، ج۳، ص۳۰۸.
  24. مغنیہ، التفسیر الکاشف، ۱۴۲۴ق، ج۶، ص۲۰۵.
  25. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۱ش، ج۱۷، ص۲۴۳.
  26. رضایی اصفہانی، تفسیر قرآن مہر، ۱۳۸۷ش، ج۱۶، ص۳۳۱.
  27. طوسی، التبیان، بیروت، ج۸، ص۳۲۸؛ طباطبایی، المیزان، ۱۳۹۰ش، ج۱۶، ص۲۸۸.
  28. قرطبی، الجامع لأحکام القرآن، ۱۳۶۴ش، ج۱۴، ص۱۵۵؛ فیض کاشانی، تفسیر الصافی، ۱۴۱۶ق، ج۴، ص۱۸۰؛ شکوری، تفسیر شریف لاہیجی، ۱۳۷۳ش، ج۳، ص۶۲۲.
  29. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۱ش، ج۱۷، ص۲۴۲.
  30. ابن جوزی، زاد المسیر، ۱۴۲۲ق، ج۳، ص۴۵۵؛ ثعالبی، تفسیر الثعالبی، ۱۴۱۸ق، ج۴، ص۳۴۰.
  31. ابن سلیمان، تفسیر مقاتل بن سلیمان، ۱۴۲۳ق، ج۳، ص۴۸۳؛ طبرانی، التفسیر الکبیر، ۱۰۰۸م، ج۵، ص۱۷۹؛ ابوالفتوح رازی، روض الجنان، ۱۴۰۸ق، ج۱۵، ص۳۷۹.
  32. طبرسی، جوامع الجامع، ۱۴۱۲ق، ج۳، ص۳۰۸؛ طوسی، التبیان، بیروت، ج۸، ص۳۲۸.
  33. طوسی، التبیان، بیروت، ج۸، ص۳۲۸.
  34. مغنیہ، التفسیر الکاشف، ۱۴۲۴ق، ج۶، ص۲۰۵؛ دینوری، الواضح، ۱۴۲۴ق، ج۲، ص۱۷۴.
  35. رضایی اصفہانی، تفسیر قرآن مہر، ۱۳۸۷ش، ج۱۶، ص۳۳۱؛ قرائتی، تفسیر نور، ۱۳۸۸ش، ج۷، ص۳۴۴.
  36. طباطبایی، المیزان، ۱۳۹۰ش، ج۱۶، ص۲۸۸.
  37. قرطبی، الجامع لأحکام القرآن، ۱۳۶۴ش، ج۱۴، ص۱۵۶.
  38. قرائتی، تفسیر نور، ۱۳۸۸ش، ج۷، ص۳۴۵.
  39. رضایی اصفہانی، تفسیر قرآن مہر، ۱۳۸۷ش، ج۱۶، ص۳۳۲-۳۳۳.
  1. اس بات کے پیش نظر کہ قرآن تاریخی کتاب نہیں اسی لئے انبیاء کی زندگی کا تذکرہ قرآن میں ذکر کرنا کسی حکمت کے تحت ہے اور سب سے اہم حکمت مومنوں کے لیے نمونہ اور آئیڈیل قرار دینا ہے۔[8]
  2. بعض کا کہنا ہے کہ اللہ کے ذکر سے مراد الفاظ نہیں بلکہ اطاعت کرے۔(بیضاوی، أنوار التنزیل، ۱۴۱۶ق، ج۴، ص۲۲۸؛ نظام الاعرج، غرائب القرآن، ۱۴۱۶ق، ج۵، ص۴۵۶.) دوسرے لفظوں میں عملی اور قلبی یاد بھی اس میں شامل ہے؛ یعنی جب انسان کسی حرام کام سے روبرو ہوتا ہے تو اللہ کو یاد کرتے ہوئے اسے ترک کرتا ہے؛ یعنی انسان کی زندگی کے ہر موڈ پر اللہ حاضر و ناظر ہو۔(رضایی اصفہانی، تفسیر قرآن مہر، ۱۳۸۷ش، ج۱۶، ص۳۳۲.)
  3. حجت کی بحث میں معصوم کا قول، فعل اور تقریر کو حجت قرار دیا ہے؛ اسی لئے ان کا کہنا ہے کہ عقائدہ حق ہوں یا اصول دین، اخلاق ہو یا صفات حمیدہ اور افعال ہوں یا عمل صالح سب میں پیغمبر اکرمؐ کی اتباع اور پیروی واجب اور لازمی ہے (طیب، اطیب البیان، ۱۳۶۹ش، ج۱۰، ص۴۸۹.)

منابع

  • ابن سلیمان، مقاتل، تفسیر مقاتل بن سلیمان، بیروت، دار إحیاء التراث العربی، ۱۴۲۳ھ۔
  • ابن منظور، محمد بن مکرم، لسان العرب، بیروت، دار صادر، چاپ سوم، بی‌تا.
  • ابن‌جوزی، عبدالرحمن بن علی، زاد المسیر فی علم التفسیر، بیروت، دارالکتاب العربی، ۱۴۲۲ھ۔
  • ابن‌عطیہ، عبدالحق بن غالب، المحرر الوجیز فی تفسیر الکتاب العزیز، بیروت، دارالکتب العلمیۃ، ۱۴۲۲ھ۔
  • ابوالفتوح رازی، حسین بن علی، روض الجنان و روح الجنان فی تفسیر القرآن، مشہد، آستان قدس رضوی، ۱۴۰۸ھ۔
  • بیضاوی، عبداللہ بن عمر، أنوار التنزیل و أسرار التأویل، بیروت،‌ دار إحیاء التراث العربی، ۱۴۱۸ھ۔
  • ثعالبی، عبدالرحمن بن محمد، تفسیر الثعالبی المسمی بالجواہر الحسان فی تفسیر القرآن، بیروت، دار إحیاء التراث العربی، ۱۴۱۸ھ۔
  • ثعلبی، احمد بن محمد، الکشف و البیان المعروف تفسیر الثعلبی، بیروت، دار إحیاء التراث العربی، ۱۴۲۲ھ۔
  • جرجانی، عبدالقاہر بن عبدالرحمن، درج الدرر فی تفسیر القرآن العظیم، عمان، دارالفکر، ۱۴۳۰ھ۔
  • دینوری، عبداللہ بن محمد، الواضح فی تفسیر القرآن الکریم، بیروت، دارالکتب العلمیۃ، ۱۴۲۴ھ۔
  • راغب اصفہانی، حسین بن محمد، مفردات ألفاظ القرآن، بیروت، دارالقلم، بی‌تا.
  • رضایی اصفہانی، محمدعلی، تفسیر قرآن مہر، قم، پژوہش‌ہای تفسیر و علوم قرآن، ۱۳۸۷ہجری شمسی۔
  • زمخشری، محمود بن عمر، الکشاف عن حقائق غوامض التنزیل و عیون الأقاویل فی وجوہ التأویل، بیروت، دارالکتاب العربی، چاپ سوم، ۱۴۰۷ھ۔
  • سبزواری، محمد، ارشاد الاذہان الی تفسیر القرآن، بیروت، دارالتعارف للمطبوعات، ۱۴۱۹ھ۔
  • سمرقندی، نصر بن محمد، تفسیر السمرقندی المسمی بحر العلوم، بیروت، دارالفکر، ۱۴۱۶ھ۔
  • سیوطی، عبدالرحمن بن ابی‌بکر، الدر المنثور فی التفسیر بالمأثور، قم، کتابخانہ عمومی آیت‌اللہ العظمی مرعشی نجفی(رہ)، ۱۴۰۴ھ۔
  • شکوری، محمد بن علی، تفسیر شریف لاہیجی، تہران، دفتر نشر داد، ۱۳۷۳ہجری شمسی۔
  • طباطبایی، محمدحسین، المیزان فی تفسیر القرآن، بیروت، مؤسسۃ الأعلمی للمطبوعات، چاپ دوم، ۱۳۹۰ھ۔
  • طبرانی، سلیمان بن احمد، التفسیر الکبیر: تفسیر القرآن العظیم، اربد اردن، دارالکتاب الثقافی، ۲۰۰۸م.
  • طبرسی، فضل بن حسن، تفسیر جوامع الجامع، قم، حوزہ علمیہ قم، مرکز مدیریت، ۱۴۱۲ھ۔
  • طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، تہران، ناصر خسرو، چاپ سوم، ۱۳۷۲ہجری شمسی۔
  • طبری، محمد بن جریر، جامع البیان فی تفسیر القرآن، بیروت، دارالمعرفۃ، ۱۴۱۲ھ۔
  • طوسی، محمد بن حسن، التبیان فی تفسیر القرآن، بیروت، دار إحیاء التراث العربی، بی‌تا.
  • طیب، عبدالحسین، اطیب البیان فی تفسیر القرآن، تہران، انتشارات اسلام، چاپ دوم، ۱۳۶۹ہجری شمسی۔
  • فیض کاشانی، محمد بن شاہ مرتضی، تفسیر الصافی، تہران، مکتبۃ الصدر، چاپ دوم، ۱۴۱۵ھ۔
  • قرائتی، محسن، قرائتی، تفسیر نور، تہران، مرکز فرہنگی درس‌ہایی از قرآن، ۱۳۸۸ہجری شمسی۔
  • قرشی بنابی، علیاکبر، تفسیر احسن الحدیث، تہران، بنیاد بعثت، چاپ دوم، ۱۳۷۵ہجری شمسی۔
  • قرطبی، محمد بن احمد، الجامع لأحکام القرآن، تہران، ناصر خسرو، ۱۳۶۴ہجری شمسی۔
  • قمی مشہدی، محمد بن محمدرضا، تفسیر کنز الدقائق و بحر الغرائب، تہران، وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی، ۱۳۶۸ہجری شمسی۔
  • کامیابی، محمدمہدی، تأملی در معناشناسی واژہ اسوہ در قرآن و حدیث، مجلہ علوم حدیث، سال بیست و سوم، شمارہ دوم، ۱۳۹۷ہجری شمسی۔
  • ماتریدی، محمد بن محمد، تأویلات أہل السنۃ، دارالکتب العلمیۃ، بیروت، منشورات محمد علی بیضون، ۱۴۲۶ھ۔
  • مغنیہ، محمدجواد، مغنیہ، التفسیر الکاشف، ۱۴۲۴ش، قم، دارالکتاب الإسلامی، ۱۴۲۴ھ۔
  • مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونہ، تہران، دارالکتب الإسلامیۃ، چاپ دہم، ۱۳۷۱ہجری شمسی۔
  • نظام الاعرج، حسن بن محمد، تفسیر غرائب القرآن و رغائب الفرقان، بیروت، دارالکتب العلمیۃ، ۱۴۱۶ھ۔
  • ہاشمی، سیدمحمود، فرہنگ فقہ مطابق مذہب اہل‌بیت(ع)، قم، موسسہ دائرہ المعارف فقہ اسلامی، ۱۴۲۶ھ۔