سوال قبر

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
معاد

سوال قبر، قبر کی پہلی رات کو جو پوچھ گچھ ہو گی. اسلامی رایات کے مطابق، دو فرشتے منکر و نکیر یا بشیر اور مبشر، قبر کی پہلی رات مردے سے اس کے اعتقادات کے بارے میں سوال کریں گے جنکو سوال قبر کہا جاتا ہے. اکثر محدثین اور متکلمین کا عقیدہ ہے کہ اسی مادی بدن سے سوال ہو گا اور اکثر فیلسوف کا عقیدہ ہے کہ اس بدن کے علاوہ دوسرا بدن جسے برزخی بدن کہتے ہیں اس سے انسان سے قبر میں سوال اور جواب ہوں گے.

نکیرومنکر یا بشیرومبشر

قبر کی پہلی رات کو دو فرشتے دفن کئے گئے شخص کی قبر میں آئیں گے. بعض روایات کے مطابق یہ دو فرشتے قبر کے نگہبان ہیں. ایک دائیں طرف اور بائیں طرف کھڑا ہو گا اور سوال پوچھنا شروع کریں گے. اگر وہ شخص کافر یا گناہکار ہو گا تو یہ فرشتے وحشت ناک چہرے کے ساتھ داخل ہوں گے اور جب میت کے باطن کی خباثت ظاہر ہو جائے گی، تو یہ فرشتے نکیر اور منکر اس کی قبر کو آگ سے بھر دیں گے. اور اگر یہ فرد با ایمان اور متقی ہو گا تو، اور اولیاء خدا کی مدد سے ان دو فرشتے کے سوالات کا جواب دے سکے گا تو وہ دو فرشتے جن کے نام بشیر اور مبشر ہوں گے اپنے خوبصورت چہرے کے ساتھ اس کو جنت کی بشارت سنائیں گے اور اس کی قبر کو نعمت الہیٰ سے گسترش دیں گے.

سوال قبر کا موضوع

رُوِی عَن رسولِ الله(ص):

أَلَا وَ إِنَّ أَوَّلَ مَا یسْأَلَانِک عَنْ رَبِّک الَّذِی کنْتَ تَعْبُدُهُ وَ عَنْ نَبِیک الَّذِی أُرْسِلَ إِلَیک و عَنْ دِینِک الَّذِی کنْتَ تَدِینُ بِهِ وَ عَنْ کتَابِک الَّذِی کنْتَ تَتْلُوهُ وَ عَنْ إِمَامِک الَّذِی کنْتَ تَتَوَلَّاهُ ثُمَّ عَنْ عُمُرِک فِیمَا کنْتَ أَفْنَیتَهُ وَ مَالِک مِنْ أَینَ اکتَسَبْتَهُ وَ فِیمَا أَنْتَ أَنْفَقْتَهُ فَخُذْ حِذْرَک وَ انْظُرْ لِنَفْسِک وَ أَعِدَّ الْجَوَابَ قَبْلَ الِامْتِحَانِ وَ الْمُسَائَلَةِ وَ الِاخْتِبَارِ فَإِنْ تَک مُؤْمِناً عَارِفاً بِدِینِک مُتَّبِعاً لِلصَّادِقِینَ مُوَالِیاً لِأَوْلِیاءِ اللَّهِ لَقَّاک اللَّهُ حُجَّتَک وَ أَنْطَقَ لِسَانَک بِالصَّوَابِ وَ أَحْسَنْتَ الْجَوَابَ وَ بُشِّرْتَ بِالرِّضْوَانِ وَ الْجَنَّةِ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ وَ اسْتَقْبَلَتْک الْمَلَائِکةُ بِالرَّوْحِ وَ الرَّیحَانِ وَ إِنْ لَمْ تَکنْ کذَلِک تَلَجْلَجَ لِسَانُک وَ دُحِضَتْ حُجَّتُک وَ عَییتَ عَنِ الْجَوَابِ وَ بُشِّرْتَ بِالنَّارِ وَ اسْتَقْبَلَتْک مَلَائِکةُ.

رسول خدا(ص) سے نقل ہوا ہے کہ:

وہ پہلی چیز جس کے بارے میں دو فرشتے تم سے سوال کریں گے وہ تمہارا پروردگار ہے کہ جس کی پرستش کرتا تھا، اور وہ پیغمبر جو تمہاری طرف بھیجا گیا ہے اور وہ دین جس کا تو پابند تھا، اور وہ آسمانی کتاب جس کو تو پڑھتا تھا، اور جس امام کی ولایت کو تو نے قبول کیا تھا، اور اس کے بعد تمہاری عمر کے بارے میں سوال کریں گے کہ کن کاموں میں گزاری ہے، اور تمہارے مال کے بارے میں کہ کہاں سے حاصل کیا اور کہاں استعمال کیا؟ جوانب کی احتیاط کرتے ہوئے اپنے بارے میں سوچ اور سوال اور امتحان سے پہلے، جواب کو تیار کر کے رکھ، کہ اگرباایمان، متقی، دین سے آگاہ، صادقین اور اولیاء خدا کے پیروکاروں سے ہو گے تو خدا وند تمہیں ان سوالات کے جواب دینے میں مدد کرے گا اور اور تمہاری زبان کو حق کے ساتھ کھولے گا اور جواب دے سکو گے، اور اس وقت خدا کی طرف سے تم کو جنت اور رضوان اور بے شمار خیرات کی بشارت دی جائے گی، اور خدا کے فرشتے اپنے روح وریحان سے تمہارا استقبال کریں گے، اور اگر ایسا نہ ہو گا تو تمہاری زبان میں لکنت آ جائے گی اور تمہاری دلیل باطل ہوجائے گی اور تم جواب دینے سے قاصر ہو جاؤ گے اس وقت تمہیں آگ کی بشارت سنائی جائے گی، اور عذاب کے فرشتے تمہارے استقبال کے لئے آ جائیں گے.

نکیر اور منکر کے سوالات (یا بشیرومبشر) قبر کی پہلی رات کے اہم واقعات سے ہیں. متواتر روایات کے مطابق، یہ دو فرشتے سب سے پہلے میت سے جو سوال کریں گے وہ درج ذیل ہیں:

  • تمہارا رب کون ہے؟
  • تمہارا پیغمبر کون ہے؟
  • دنیا میں کس امام کی پیروی کی؟

ایک اور روایت میں، زیادہ سوال بیان ہوئے ہیں:

  • جس خدا کی پرستش کرتے رہے ہو.
  • جس پیغمبر پر یقین تھا
  • جس دین کی پیروی کی
  • زندگی میں جو آسمانی کتاب تمہاری راہنما تھی
  • جس امام کی اقتداء کرتا تھا
  • اپنی زندگی کو کس راہ پر گزارا ہے. [1]
  • مال کے بارے میں کہ کہاں سے حاصل کیا اور کہاں خرچ کیا. [2]
  • دنیا میں جو دوست تھے [3]
  • قبلے اور نماز کے بارے میں
  • حج ، روزہ اور زکات کے بارے میں [4]

آیا سب سے سوال کیے جائیں گے؟

روایات کے مطابق، قبر کی پہلی رات کے سوال و جواب عمومی ہیں. بعض عالموں نے دو مورد کو اس عموم سے الگ کیا ہے: وہ افراد جن کی شان ومنزلت اس سے زیادہ ہے کہ ان سے سوال کیے جائیں جیسے پیغمبران اور امامان، اور دوسرے وہ افراد جن کے اندر سوال کرنے کے شرائط نہیں پائے جاتے جیسے بچے اور دیوانے. محمد باقر مجلسی اس روایت کے صریح نہ ہونے کی وجہ سے معتقد ہے کہ بہترین کام اس مسئلہ میں اپنی نظر کا اظہار نہ کرنا ہے. [5] بعض اور روایات میں ہے کہ قبر کے سوال و جواب خالص مومنو اور خالص کافروں کے لئے ہیں اور باقیوں کا حساب قیامت کے دن معلوم ہو گا. ان دو روایات کے درمیان بعض علماء کا عقیدہ ہے کہ خاص سوال مومنوں اور کافروں سے ہوں گے اور باقی افراد سے صرف کلیات کے بارے میں سوال ہوں گے. [6]

میت کی تلقین

میت کے رشتہ داروں کو سفارش کی گئی ہے کہ میت کو دفن کرنے کے بعد اسے تنہا نہ چھوڑیں اور تلقین پڑھ کر، اس کو منکر و نکیر کے سوالوں کے جواب دینے میں اس کی مدد کریں. [7] اس کے اپنے اعمال، صدقات، نماز اور روزے کے علاوہ، بعض دوسرے اعمال جیسے نماز لیلۃ الدفن یا کوئی ہدیہ جو اس کو اپنے رشتے داروں کی طرف سے پہنچتا ہے وہ قبر کی سختی دور کرنے میں اس کے کام آتا ہے.

سوال قبر مادی بدن سے ہوں گے یا برزخی؟

یہ کہ قبر میں جو سوال و جواب ہوں گے اس مادی بدن سے ہوں گے جو قبر میں قرار دیا گیا ہے یا برزخی بدن سے، اس بارے میں دو نظر موجود ہیں. اکثر محدیثین اور متکلمین قرآن کی ظاہر آیات اور روایات کے مطابق معتقد ہیں کہ سوال اور جواب اسی مادی بدن سے کئے جائیں گے. [8] کلینی کافی میں امام باقر(ع) سے نقل کرتا ہے: جب مردے کو قبر کے اندر ڈالا جائے گا تو اس کی روح بدن میں واپس آ جائے گی، اس وقت دو فرشتے قبر میں آئیں گے اور اس سے سوال کریں گے. [9] اکثر فیلسوف کا اعتقاد ہے سوال برزخی بدن سے ہوں گے اور اس کے لئے روایات کے ظاہر کو بیان کرتے ہیں. [10][11]

جن کی قبر نہیں ہے

جن کے بدن کو دفن نہیں کیا جاتا یا جن کے جسم آگ میں جلنے یا بم دھماکے میں ختم ہوجاتے ہیں کیا وہ بھی سوال قبر اور فشار قبر کو تجربہ کریں گے. وہ جن کی نظر میں سوال اسی مادی بدن سے ہوں گے، ان کے عقیدے کے مطابق خداوند میں یہ توانائی موجود ہے کہ ان جلے اور قطعہ قطعہ ہوئےبدن کو جوڑ دے اور پانی، ہوا یا جو کچھ اس عالم میں ہے ان کو یہ توانائی دے کہ اس پر فشار اور عذاب وارد کریں اس لئے اگر بدن فضا میں متلاشی ہو جائے اس کے لئے بھی یہ ممکن ہے کلینی کی روایت ہے: یونس بن عمار نے امام صادق(ع) سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا کہ جس کو پھانسی دی گئی تھی کہ آیا اس کے لئے عذاب قبر ہو گا؟ امام(ع) نے فرمایا: جی ہاں خداوند عزوجل ہوا کو حکم دے گا کہ اسے اپنے فشار میں لے. اور فیلسوف کی نظر کے مطابق، جب قبر عالم برزخ کے معنی میں ہو تو، تو وہاں کی رات بھی وہاں کے مطابق ہو گی اس لئے ضروری نہیں کہ میت دفن ہو تو قبر کی پہلی رات محقق ہو. [12]


حوالہ جات

  1. کلینی، الکافی ج ۸ ص ۷۲
  2. بحار، ج۶، صص۲۲۳ و ۲۶۴
  3. بحارالانوار، ج۶، ص۱۷۵
  4. انوار نعمانیه، ج۴، ص۲۳۹
  5. بحارالانوار، ج۶، ص۲۷۸
  6. عالم برزخ در چند قدمی ما: محمد محمدی اشتهاردی، ص۱۰۹
  7. اصول کافی،‌ باب المسأله فی القبر ۲/ ۶۳۴ و ۳/۲۰۱
  8. علامه مجلسی، بحارالانوار، ج۶، ص۲۷۰
  9. کافی، ج۳، ص۲۳۴
  10. جوادی آملی، عبدالله، معاد شناسی، ج ۲۱، ص۲۲۲
  11. عيون مسايل نفس و شرح آن، استاد حسن حسن زاده، ج 2، ص 455 ـ 453
  12. جوادی آملی، عبدالله، معاد شناسی، ج ۲۱، ص۲۲۲