زیارت امام حسین (زیارت رجبیہ)

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
دعا و مناجات
مسجد جامع خرمشهر.jpg


زیارت رجبیۂ امام حسینؑ، امام حسینؑ کے مخصوص زیارت ناموں میں سے ایک ہے جو یکم رجب نیز 15 شعبان کو پڑھی جاتی ہے۔ اس زیارت میں امام حسینؑ کے علاوہ آپؑ کے 87 اصحاب کو بھی سلام دیا گیا ہے۔ جن میں سے عقبہ بن سمعان سمیت بعض افراد شہدائے کربلا میں شامل نہیں ہیں۔

ایک اور زیارت بھی زیارت رجبیہ کے عنوان سے موجود ہے جو رجب المرجب کے مہینے میں کسی بھی امام کے حرم میں پڑھی جاسکتی ہے۔

زیارت کی سند

اس زیارت کی اصل سند سید ابن طاؤس کی کتاب اقبال الاعمال ہے۔ انھوں نے اس زیارت نامے کی سند ذکر کئے بغیر اسے نقل کیا ہے۔[1] علامہ مجلسی نے بحار الانوار میں شیخ مفید اور سید ابن طاؤس کی کتب کو اس زیارت کا ماخذ قرار دیا ہے لیکن شیخ مفید کی کتاب کا نام نہیں لیا ہے۔[2] بعض علماء نے یہ احتمال ظاہر کیا ہے کہ شاید اس زیارت کو خود سید ابن طاؤس نے ہی تحریر کیا ہو۔[3]

زیارت کے مضامین و مندرجات

اس زیارت کا خطاب امام حسینؑ اور آپؑ کے اصحاب سے ہے جو یکم رجب اور نصف شعبان کو پڑھی جاتی ہے۔ زیارت کے آغاز میں امام حسینؑ کے متعدد بار سلام دیا جاتا ہے اور پھر عاشورا کے مصائب کی سنگینی اور امام حسینؑ کی بعض نمایاں خصوصیات کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے اور آپؑ کے اصحاب کو مختصر سا سلام دے کر یہ حصہ اختتام پذیر ہوتا ہے۔ اس حصے میں امام حسینؑ کے علاوہ واقعۂ کربلا میں بنو ہاشم کے 12 شہداء کو بھی سلام دیا جاتا ہے۔[4][5]

زیارت کے ایک حصے میں، اصحاب امام حسینؑ میں سے 75 کا کو نام لے لے کر فردا فردا سلام دیا گیا ہے۔ عقبہ بن سمعان سمیت بعض افراد ـ جنہیں اس حصے میں سلام دیا گیا ہے ـ شہدائے کربلا میں شامل نہیں ہیں۔ اقبال الاعمال کے موجودہ متن میں حر بن یزید ریاحی کا نام دو بار دہرایا گیا ہے،[6] اور بحار الانوار میں حر بن یزید ریاحی کا نام ایک بار، اور ایک بار جریر بن یزید ریاحی کا نام آیا ہے۔[7][8]

زیارت نامے کے آخر میں اصحاب امام حسینؑ کے لئے ربانیون، اللہ کے برگزیدگان، اللہ کے خاص بندے، دعوت حق کے راستے کے شہدا، وفادار اور جان نثار ساتھی، کامیاب سعادتمند اور آخرت کے شرفاء جیسی صفات بروئے کار لائی گئی ہیں۔

زیارت ناحیہ مقدسہ کے ساتھ تقابلی جائزہ

زیارت رجبیۂ امام حسینؑ اور زیارت ناحیہ مقدسہ غیر معروفہ (زیارت شہداء) ـ جو 63 شہدائے کربلا کے اسماء گرامی پر مشتمل ہے ـ کے درمیان مشترکہ نکات پائے جاتے ہیں، جبکہ دونوں میں مذکورہ نام مختلف ہیں۔ محمد مہدی شمس الدین اپنی کتاب انصار الحسین میں زیارت ناحیہ کو وثاقت کے لحاظ سے بالا تر سمجھے ہیں اور زیارت رجبیہ میں ہونے والے بعض اضافات پر معترض ہیں۔[9]

متن زیارت

زیارت رجبیہ امام حسین علیہ السلام

بِسْمِ اللّهِ الرَّحْمـَنِ الرَّحِيم

السَّلَامُ عَلَيْكَ یا ابْنَ رَسُولِ اللَّهِ السَّلَامُ عَلَيْكَ یا ابْنَ خَاتَمِ النَّبِيينَ السَّلَامُ عَلَيْكَ یا ابْنَ سَیدِ الْمُرْسَلِینَ السَّلَامُ عَلَيْكَ یا ابْنَ سَیدِ الْوَصِیینَ السَّلَامُ عَلَيْكَ یا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ السَّلَامُ عَلَيْكَ یا حُسَینَ بْنَ عَلِی السَّلَامُ عَلَيْكَ یا ابْنَ فَاطِمَةَ سَیدَةِ نِسَاءِ الْعَالَمِینَ السَّلَامُ عَلَيْكَ یا وَلِی اللَّهِ وَ ابْنَ وَلِیهِ السَّلَامُ عَلَيْكَ یا صَفِی اللَّهِ وَ ابْنَ صَفِیهِ السَّلَامُ عَلَيْكَ یا حُجَّةَ اللَّهِ وَ ابْنَ حُجَّتِهِ السَّلَامُ عَلَيْكَ یا حَبِیبَ اللَّهِ وَ ابْنَ حَبِیبِهِ السَّلَامُ عَلَيْكَ یا سَفِیرَ اللَّهِ وَ ابْنَ سَفِیرِهِ السَّلَامُ عَلَيْكَ یا خَازِنَ الْکتَابِ الْمَسْطُورِ السَّلَامُ عَلَيْكَ یا وَارِثَ التَّوْرَاةِ وَ الْإِنْجِیلِ وَ الزَّبُورِ السَّلَامُ عَلَيْكَ یا أَمِینَ الرَّحْمَنِ السَّلَامُ عَلَيْكَ یا شَرِیک الْقُرْآنِ السَّلَامُ عَلَيْكَ یا عَمُودَ الدِّینِ السَّلَامُ عَلَيْكَ یا بَابَ حِکمَةِ رَبِّ الْعَالَمِینَ السَّلَامُ عَلَيْكَ یا بَابَ حِطَّةٍ الَّذِی مَنْ دَخَلَهُ کانَ مِنَ الْآمِنِینَ السَّلَامُ عَلَيْكَ یا عَیبَةَ عِلْمِ اللَّهِ السَّلَامُ عَلَيْكَ یا مَوْضِعَ سِرِّ اللَّهِ السَّلَامُ عَلَيْكَ یا ثَارَ اللَّهِ وَ ابْنَ ثَارِهِ وَ الْوِتْرَ الْمَوْتُورَ السَّلَامُ عَلَيْكَ وَ عَلَی الْأَرْوَاحِ الَّتِی حَلَّتْ بِفِنَائِک وَ أَنَاخَتْ بِرَحْلِک بِأَبِی أَنْتَ وَ أُمِّی وَ نَفْسِی یا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ لَقَدْ عَظُمَتِ الْمُصِیبَةُ وَ جَلَّتِ الرَّزِیةُ بِک عَلَینَا وَ عَلَی جَمِیعِ أَهْلِ الْإِسْلَامِ فَلَعَنَ اللَّهُ أُمَّةً أَسَّسَتْ أَسَاسَ الظُّلْمِ وَ الْجَوْرِ عَلَيْكَمْ أَهْلَ الْبَیتِ وَ لَعَنَ اللَّهُ أُمَّةً دَفَعَتْکمْ عَنْ مَقَامِکمْ وَ أَزَالَتْکمْ عَنْ مَرَاتِبِکمُ الَّتِی رَتَّبَکمُ اللَّهُ فِیهَا بِأَبِی أَنْتَ وَ أُمِّی وَ نَفْسِی یا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ أَشْهَدُ لَقَدِ اقْشَعَرَّتْ لِدِمَائِکمْ أَظِلَّةُ الْعَرْشِ مَعَ أَظِلَّةِ الْخَلَائِقِ وَ بَکتْکمُ السَّمَاءُ وَ الْأَرْضُ وَ سُکانُ الْجِنَانِ وَ الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْكَ عَدَدَ مَا فِی عِلْمِ اللَّهِ لَبَّیک دَاعِی اللَّهِ إِنْ کانَ لَمْ یجِبْک بَدَنِی عِنْدَ اسْتِغَاثَتِک وَ لِسَانِی عِنْدَ اسْتِنْصَارِک فَقَدْ أَجَابَک قَلْبِی وَ سَمْعِی وَ بَصَرِی سُبْحانَ رَبِّنا إِنْ کانَ وَعْدُ رَبِّنا لَمَفْعُولًا أَشْهَدُ أَنَّک طُهْرٌ طَاهِرٌ مُطَهَّرٌ مِنْ طُهْرٍ طَاهِرٍ مُطَهَّرٍ طَهُرْتَ وَ طَهُرَتْ بِک الْبِلَادُ وَ طَهُرَتْ أَرْضٌ أَنْتَ بِهَا وَ طَهُرَ حَرَمُک أَشْهَدُ أَنَّک قَدْ أَمَرْتَ بِالْقِسْطِ وَ الْعَدْلِ وَ دَعَوْتَ إِلَیهِمَا وَ أَنَّک صَادِقٌ صِدِّیقٌ فِیمَا دَعَوْتَ إِلَیهِ وَ أَنَّک ثَارُ اللَّهِ فِی الْأَرْضِ وَ أَشْهَدُ أَنَّک قَدْ بَلَّغْتَ عَنِ اللَّهِ وَ عَنْ جَدِّک رَسُولِ اللَّهِ وَ عَنْ أَبِیک أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ وَ عَنْ أَخِیک الْحَسَنِ وَ نَصَحْتَ وَ جَاهَدْتَ فِی سَبِیلِ اللَّهِ وَ عَبَدْتَهُ مُخْلِصاً حَتَّی أَتَاک الْیقِینُ فَجَزَاک اللَّهُ خَیرَ جَزَاءِ السَّابِقِینَ وَ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْكَ وَ سَلَّمَ تَسْلِیماً اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ وَ صَلِّ عَلَی الْحُسَینِ الْمَظْلُومِ الشَّهِیدِ الرَّشِیدِ قَتِیلِ الْعَبَرَاتِ وَ أَسِیرِ الْکرُبَاتِ صَلَاةً نَامِیةً زَاکیةً مُبَارَکةً یصْعَدُ أَوَّلُهَا وَ لَا ینْفَدُ آخِرُهَا أَفْضَلَ مَا صَلَّیتَ عَلَی أَحَدٍ مِنْ أَوْلَادِ أَنْبِیائِک الْمُرْسَلِینَ یا إِلَهَ الْعَالَمِینَ.

ثُمَّ قَبِّلِ الضَّرِیحَ وَ ضَعْ خَدَّک الْأَیمَنَ عَلَیهِ وَ الْأَیسَرَ وَ دُرْ حَوْلَ الضَّرِیحِ وَ قَبِّلْهُ مِنْ أَرْبَعِ جَوَانِبِهِ ثُمَّ امْضِ إِلَی ضَرِیحِ عَلِی بْنِ الْحُسَینِؑ وَ قِفْ عَلَیهِ وَ قُل:

السَّلَامُ عَلَيْكَ أَیهَا الصِّدِّیقُ الطَّیبُ الزَّکی الْحَبِیبُ الْمُقَرَّبُ وَ ابْنَ رَیحَانَةِ رَسُولِ اللَّهِ السَّلَامُ عَلَيْكَ مِنْ شَهِیدٍ مُحْتَسِبٍ وَ رَحْمَةُ اللَّهِ وَ بَرَکاتُهُ مَا أَکرَمَ مَقَامَک وَ أَشْرَفَ مُنْقَلَبَک أَشْهَدُ لَقَدْ شَکرَ اللَّهُ سَعْیک وَ أَجْزَلَ ثَوَابَک وَ أَلْحَقَک بِالذِّرْوَةِ الْعَالِیةِ حَیثُ الشَّرَفُ کلُّ الشَّرَفِ وَ فِی الْغُرَفِ کمَا مَنَّ عَلَيْكَ مِنْ قَبْلُ وَ جَعَلَک مِنْ أَهْلِ الْبَیتِ الَّذِینَ أَذْهَبَ اللَّهُ عَنْهُمُ الرِّجْسَ وَ طَهَّرَهُمْ تَطْهِیراً صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْكَ وَ رَحْمَةُ اللَّهِ وَ بَرَکاتُهُ وَ رِضْوَانُهُ فَاشْفَعْ أَیهَا السَّیدُ الطَّاهِرُ إِلَی رَبِّک فِی حَطِّ الْأَثْقَالِ عَنْ ظَهْرِی وَ تَخْفِیفِهَا عَنِّی وَ ارْحَمْ ذُلِّی وَ خُضُوعِی لَک وَ لِلسَّیدِ أَبِیک صَلَّی اللَّهُ عَلَیکمَا ثُمَّ انْکبَّ عَلَی الْقَبْرِ وَ قُلْ زَادَ اللَّهُ فِی شَرَفِکمْ فِی الْآخِرَةِ کمَا شَرَّفَکمْ فِی الدُّنْیا وَ أَسْعَدَکمْ کمَا أَسْعَدَ بِکمْ وَ أَشْهَدُ أَنَّکمْ أَعْلَامُ الدِّینِ وَ نُجُومُ الْعَالَمِینَ وَ السَّلَامُ عَلَیکمْ وَ رَحْمَةُ اللَّهِ وَ بَرَکاتُهُ ثُمَّ تَوَجَّهْ إِلَی الشُّهَدَاءِ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَیهِمْ وَ قُلْ السَّلَامُ عَلَیکمْ یا أَنْصَارَ اللَّهِ وَ أَنْصَارَ رَسُولِهِ وَ أَنْصَارَ عَلِی بْنِ أَبِی طَالِبٍ وَ أَنْصَارَ فَاطِمَةَ وَ أَنْصَارَ الْحَسَنِ وَ الْحُسَینِ وَ أَنْصَارَ الْإِسْلَامِ أَشْهَدُ لَقَدْ نَصَحْتُمُ اللَّهَ وَ جَاهَدْتُمْ فِی سَبِیلِهِ فَجَزَاکمُ اللَّهُ مِنَ الْإِسْلَامِ وَ أَهْلِهِ أَفْضَلَ الْجَزَاءِ فُزْتُمْ وَ اللَّهِ فَوْزاً عَظِیماً یا لَیتَنِی کنْتُ مَعَکمْ فَأَفُوزَ فَوْزاً عَظِیماً أَشْهَدُ أَنَّکمْ أَحْیاءٌ عِنْدَ رَبِّکمْ تُرْزَقُونَ أَشْهَدُ أَنَّکمُ الشُّهَدَاءُ وَ السُّعَدَاءُ وَ أَنَّکمُ الْفَائِزُونَ فِی دَرَجَاتِ الْعُلَی وَ السَّلَامُ عَلَیکمْ وَ رَحْمَةُ اللَّهِ وَ بَرَکاتُهُ ثُمَّ عُدْ إِلَی عِنْدِ الرَّأْسِ فَصَلِّ صَلَاةَ الزِّیارَةِ وَ ادْعُ لِنَفْسِک وَ لِوَالِدَیک وَ لِإِخْوَانِک.

وَ قَالَ السَّیدُ قَدَّسَ اللَّهُ رُوحَهُ وَ امْضِ وَ قِفْ عَلَی ضَرِیحِ عَلِی بْنِ الْحُسَینِؑ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ وَ قُلِ السَّلَامُ مِنَ اللَّهِ وَ السَّلَامُ مِنْ مَلَائِکتِهِ الْمُقَرَّبِینَ وَ أَنْبِیائِهِ الْمُرْسَلِینَ وَ عِبَادِهِ الصَّالِحِینَ وَ جَمِیعِ أَهْلِ طَاعَتِهِ مِنْ أَهْلِ السَّمَاوَاتِ وَ الْأَرَضِینَ عَلَی أَبِی عَبْدِ اللَّهِ الْحُسَینِ بْنِ عَلِی وَ رَحْمَةُ اللَّهِ وَ بَرَکاتُهُ السَّلَامُ عَلَی أَوَّلِ قَتِیلٍ مِنْ نَسْلِ خَیرِ سَلِیلٍ مِنْ سُلَالَةِ إِبْرَاهِیمَ الْخَلِیلِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْكَ وَ عَلَی أَبِیک إِذْ قَالَ فِیک قَتَلَ اللَّهُ قَوْماً قَتَلُوک یا بُنَی مَا أَجْرَأَهُمْ عَلَی الرَّحْمَنِ وَ عَلَی انْتِهَاک حُرْمَةِ الرَّسُولِ عَلَی الدُّنْیا بَعْدَک الْعَفَا أَشْهَدُ أَنَّک ابْنُ حُجَّةِ اللَّهِ وَ ابْنُ أَمِینِهِ حَکمَ اللَّهُ لَک عَلَی قَاتِلِیک وَ أَصْلَاهُمْ جَهَنَّمَ وَ ساءَتْ مَصِیراً وَ جَعَلَنَا اللَّهُ یوْمَ الْقِیامَةِ مِنْ مُلَاقِیک وَ مُرَافِقِیک وَ مُرَافِقِی جَدِّک وَ أَبِیک وَ عَمِّک وَ أَخِیک وَ أُمِّک الْمَظْلُومَةِ الطَّاهِرَةِ الْمُطَهَّرَةِ وَ أَبْرَأُ إِلَی اللَّهِ مِمَّنْ قَتَلَک وَ أَسْأَلُ اللَّهَ مُرَافَقَتَکمْ فِی‌دار الْخُلُودِ وَ السَّلَامُ عَلَيْكَ وَ رَحْمَةُ اللَّهِ وَ بَرَکاتُهُ السَّلَامُ عَلَی الْعَبَّاسِ بْنِ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ السَّلَامُ عَلَی جَعْفَرِ بْنِ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ السَّلَامُ عَلَی عُبَیدِ اللَّهِ بْنِ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ السَّلَامُ عَلَی أَبِی بَکرِ بْنِ الْحَسَنِ السَّلَامُ عَلَی عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَسَنِ السَّلَامُ عَلَی عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحُسَینِ السَّلَامُ عَلَی مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ أَبِی طَالِبٍ السَّلَامُ عَلَی جَعْفَرِ بْنِ عَقِیلٍ السَّلَامُ عَلَی عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَقِیلٍ السَّلَامُ عَلَی عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ عَقِیلٍ السَّلَامُ عَلَی مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی سَعِیدِ بْنِ عَقِیلٍ السَّلَامُ عَلَی عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ أَبِی طَالِبٍ السَّلَامُ عَلَیکمْ أَهْلَ بَیتِ الْمُصْطَفَی السَّلَامُ عَلَیکمْ أَهْلَ الشُّکرِ وَ الرِّضَا السَّلَامُ عَلَیکمْ یا أَنْصَارَ اللَّهِ وَ رِجَالَهُ مِنْ أَهْلِ الْحَقِّ وَ الْبَلْوَی وَ الْمُجَاهِدِینَ عَلَی بَصِیرَةٍ فِی سَبِیلِهِ أَشْهَدُ أَنَّکمْ کمَا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَ وَ کأَینْ مِنْ نَبِی قاتَلَ مَعَهُ رِبِّیونَ کثِیرٌ فَما وَهَنُوا لِما أَصابَهُمْ فِی سَبِیلِ اللَّهِ وَ ما ضَعُفُوا وَ مَا اسْتَکانُوا وَ اللَّهُ یحِبُّ الصَّابِرِینَ فَمَا ضَعُفْتُمْ وَ لَا اسْتَکنْتُمْ حَتَّی لَقِیتُمُ اللَّهَ عَلَی سَبِیلِ الْحَقِّ وَ نَصْرِهِ وَ کلِمَةِ اللَّهِ التَّامَّةِ صَلَّی اللَّهُ عَلَیکمْ وَ عَلَی أَرْوَاحِکمْ وَ أَبْدَانِکمْ وَ سَلَّمَ تَسْلِیماً فُزْتُمْ وَ اللَّهِ وَ لَوَدِدْتُ أَنِّی کنْتُ مَعَکمْ فَأَفُوزَ فَوْزاً عَظِیماً أَبْشِرُوا بِمَوْعِدِ اللَّهِ الَّذِی لَا خُلْفَ لَهُ إِنَّهُ لا یخْلِفُ الْمِیعادَ أَشْهَدُ أَنَّکمُ النُّجَبَاءُ وَ سَادَةُ الشُّهَدَاءِ فِی الدُّنْیا وَ الْآخِرَةِ وَ أَشْهَدُ أَنَّکمْ جَاهَدْتُمْ فِی سَبِیلِ اللَّهِ وَ قُتِلْتُمْ عَلَی مِنْهَاجِ رَسُولِ اللَّهِ وَ أَنَّکمُ السَّابِقُونَ الْمُجَاهِدُونَ وَ أَشْهَدُ أَنَّکمْ أَنْصَارُ اللَّهِ وَ أَنْصَارُ رَسُولِهِ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِی صَدَقَکمْ وَعْدَهُ وَ أَرَاکمْ مَا تُحِبُّونَ وَ السَّلَامُ عَلَیکمْ وَ رَحْمَةُ اللَّهِ وَ بَرَکاتُهُ.

ثُمَّ الْتَفِتْ إِلَی الشُّهَدَاءِ وَ قُلْ:

اَلسَّلَامُ عَلَی سَعِیدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْحَنَفِی السَّلَامُ عَلَی جَرِیرِ بْنِ یزِیدَ الرِّیاحِی السَّلَامُ عَلَی زُهَیرِ بْنِ الْقَینِ السَّلَامُ عَلَی حَبِیبِ بْنِ مُظَهَّرٍ السَّلَامُ عَلَی مُسْلِمِ بْنِ عَوْسَجَةَ السَّلَامُ عَلَی عُقْبَةَ بْنِ سِمْعَانَ السَّلَامُ عَلَی بُرَیرِ بْنِ خُضَیرٍ السَّلَامُ عَلَی عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَیرٍ السَّلَامُ عَلَی نَافِعِ بْنِ هِلَالٍ السَّلَامُ عَلَی مُنْذِرِ بْنِ الْمُفَضَّلِ الْجُعْفِی السَّلَامُ عَلَی عَمْرِو بْنِ قَرَظَةَ الْأَنْصَارِی السَّلَامُ عَلَی أَبِی ثُمَامَةَ الصَّائِدِی السَّلَامُ عَلَی جَوْنٍ مَوْلَی أَبِی ذَرٍّ الْغِفَارِی السَّلَامُ عَلَی عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَزْدِی السَّلَامُ عَلَی عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَ عَبْدِ اللَّهِ ابْنَی عُرْوَةَ السَّلَامُ عَلَی سَیفِ بْنِ الْحَارِثِ السَّلَامُ عَلَی مَالِک بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْحَائِرِی السَّلَامُ عَلَی حَنْظَلَةَ بْنِ أَسْعَدَ الشِّبَامِی السَّلَامُ عَلَی الْقَاسِمِ بْنِ الْحَارِثِ الْکاهِلِی السَّلَامُ عَلَی بَشِیرِ بْنِ عَمْرٍو الْحَضْرَمِی السَّلَامُ عَلَی عَابِسِ بْنِ شَبِیبٍ الشَّاکرِی السَّلَامُ عَلَی حَجَّاجِ بْنِ مَسْرُوقٍ الْجُعْفِی السَّلَامُ عَلَی عَمْرِو بْنِ خَلَفٍ وَ سَعِیدٍ مَوْلَاهُ السَّلَامُ عَلَی حَیانَ بْنِ الْحَارِثِ السَّلَامُ عَلَی مُجَمِّعِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْعَائِذِی السَّلَامُ عَلَی نَعِیمِ بْنِ عَجْلَانَ السَّلَامُ عَلَی عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ یزِیدَ السَّلَامُ عَلَی عُمَرَ بْنِ أَبِی کعْبٍ السَّلَامُ عَلَی سُلَیمَانَ بْنِ عَوْنٍ الْحَضْرَمِی السَّلَامُ عَلَی قَیسِ بْنِ مُسْهِرٍ الصَّیدَاوِی السَّلَامُ عَلَی عُثْمَانَ بْنِ فَرْوَةَ الْغِفَارِی السَّلَامُ عَلَی غَیلَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّلَامُ عَلَی قَیسِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْهَمْدَانِی السَّلَامُ عَلَی عُمَرَ بْنِ کنَّادٍ السَّلَامُ عَلَی جَبَلَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ السَّلَامُ عَلَی مُسْلِمِ بْنِ کنَّادٍ السَّلَامُ عَلَی سُلَیمَانَ بْنِ سُلَیمَانَ الْأَزْدِی السَّلَامُ عَلَی حَمَّادِ بْنِ حَمَّادٍ الْخُزَاعِی الْمُرَادِی السَّلَامُ عَلَی عَامِرِ بْنِ مُسْلِمٍ وَ مَوْلَاهُ مُسْلِمٍ السَّلَامُ عَلَی بَدْرِ بْنِ رَقِیطٍ وَ ابْنَیهِ عَبْدِ اللَّهِ وَ عُبَیدِ اللَّهِ السَّلَامُ عَلَی رُمَیثِ بْنِ عَمْرٍو السَّلَامُ عَلَی سُفْیانَ بْنِ مَالِک السَّلَامُ عَلَی زُهَیرِ بْنِ سَائِبٍ السَّلَامُ عَلَی قَاسِطٍ وَ کرِشٍ ابْنَی زُهَیرٍ السَّلَامُ عَلَی کنَانَةَ بْنِ عَتِیقٍ السَّلَامُ عَلَی عَامِرِ بْنِ مَالِک السَّلَامُ عَلَی مَنِیعِ بْنِ زِیادٍ السَّلَامُ عَلَی نُعْمَانَ بْنِ عَمْرٍو السَّلَامُ عَلَی جُلَاسِ بْنِ عَمْرٍو السَّلَامُ عَلَی عَامِرِ بْنِ جُلَیدَةَ السَّلَامُ عَلَی زَائِدَةَ بْنِ مُهَاجِرٍ السَّلَامُ عَلَی شَبِیبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ النَّهْشَلِی السَّلَامُ عَلَی حَجَّاجِ بْنِ یزِیدَ السَّلَامُ عَلَی جُوَیرِ بْنِ مَالِک السَّلَامُ عَلَی ضُبَیعَةَ بْنِ عَمْرٍو السَّلَامُ عَلَی زُهَیرِ بْنِ بَشِیرٍ السَّلَامُ عَلَی مَسْعُودِ بْنِ الْحَجَّاجِ السَّلَامُ عَلَی عَمَّارِ بْنِ حَسَّانَ السَّلَامُ عَلَی جُنْدَبِ بْنِ حُجَیرٍ السَّلَامُ عَلَی سُلَیمَانَ بْنِ کثِیرٍ السَّلَامُ عَلَی زُهَیرِ بْنِ سَلْمَانَ السَّلَامُ عَلَی قَاسِمِ بْنِ حَبِیبٍ السَّلَامُ عَلَی أَنَسِ بْنِ الْکاهِلِ الْأَسَدِی السَّلَامُ عَلَی الْحُرِّ بْنِ یزِیدَ الرِّیاحِی السَّلَامُ عَلَی ضِرْغَامَةَ بْنِ مَالِک السَّلَامُ عَلَی زَاهِرٍ مَوْلَی عَمْرِو بْنِ الْحَمِقِ السَّلَامُ عَلَی عَبْدِ اللَّهِ بْنِ یقْطُرَ رَضِیعِ الْحُسَینِؑ السَّلَامُ عَلَی مُنْجِحٍ مَوْلَی الْحُسَینِؑ السَّلَامُ عَلَی سُوَیدٍ مَوْلَی شَاکرٍ.

اَلسَّلَامُ عَلَیکمْ أَیهَا الرَّبَّانِیونَ أَنْتُمْ خِیرَةٌ اخْتَارَکمُ اللَّهُ لِأَبِی عَبْدِ اللَّهِؑ وَ أَنْتُمْ خَاصَّةٌ اخْتَصَّکمُ اللَّهُ أَشْهَدُ أَنَّکمْ قُتِلْتُمْ عَلَی الدُّعَاءِ إِلَی الْحَقِّ وَ نَصَرْتُمْ وَ وَفَیتُمْ وَ بَذَلْتُمْ مُهَجَکمْ مَعَ ابْنِ رَسُولِ اللَّهِ(ص) وَ أَنْتُمُ السُّعَدَاءُ وَ سَعِدْتُمْ وَ فُزْتُمْ بِالدَّرَجَاتِ الْعُلَی فَجَزَاکمُ اللَّهُ مِنْ أَعْوَانٍ وَ إِخْوَانٍ خَیرَ مَا جَازَی مَنْ صَبَرَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ(ص) هَنِیئاً لَکمْ مَا أُعْطِیتُمْ وَ هَنِیئاً لَکمْ مَا بِهِ حُبِیتُمْ طَافَتْ عَلَیکمْ مِنَ اللَّهِ الرَّحْمَةُ وَ بَلَغْتُمْ بِهَا شَرَفَ الْآخِرَة.

مجلسی، بحارالانوار، ج98، ص339-341.

یہ بھی دیکھئے

حوالہ جات

  1. ابن طاؤس، اقبال، ج2، ص713-714.
  2. مجلسی، بحارالانوار، ج98، ص336۔
  3. شمس الدین، انصارالحسین، ص200۔
  4. ابن طاؤس، اقبال، ج2، ص713-714۔
  5. مجلسی، بحارالانوار، ج98، ص336۔
  6. ابن طاؤس، اقبال، ج2، ص713-714۔
  7. مجلسی، بحارالانوار، ج98، ص340۔
  8. شمس الدین،انصارالحسین، ص201۔
  9. شمس الدین، انصارالحسین، نک ص200-208


مآخذ

  • مجلسی، محمد باقر، بحارالانوار، بیروت،‌ داراحیاء التراث العربی، 1403ھ ق۔
  • شمس الدین، محمد مہدی، انصارالحسین، ترجمہ: ہوشنگ اجاقی، نشر آفاق، 1406ھ ق۔
  • محدثی، جواد، فرہنگ عاشورا، قم، نشر معروف، 1388ھ ش
  • ابن طاؤس، علی بن موسی، إقبال الأعمال، دارالکتب الإسلامیہ، تہران، 1409ھ ق

سانچہ:زیاراتِ امام حسینؑ