زکریا بن آدم اشعری قمی

ویکی شیعہ سے
(زکریا بن آدم قمی سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
مقبره ذکریا بن آدم اشعری.jpg
ذاتی کوائف
نام کامل زکریا بن آدم بن عبدالله اشعری قمی
محل پیدائش محل پیدائش
محل زندگی قم
نسب خاندان اشعری قم
مشہور اقرباء آدم بن عبدالله،اسحاق بن آدم، زکریا بن ادریس
شہادت/وفات قم
کیفیت شہادت معصب بن زبیر کے ہاتوں
مدفن قم
صحابی امام صادق،امام رضا،امام جواد
اجتماعی قم میں امام رضا(ع) و امام جواد(ع) کے وکیل
تالیفات کتاب مسائل(امام رضا سے کچھ سوالات)

زکریا بن آدم اشعری قمی، دوسری صدی ہجری کے شیعہ محدث ہیں جو امام صادق(ع) اور امام کاظم(ع) کے راویوں میں سے ہیں نیز وکالتی سسٹم کے تحت امام رضا(ع) اور امام جواد(ع) کی طرف سے شہر قم میں وکیل تھے۔ وہ قبرستان شیخان قم میں مدفون ہیں۔

نسب

ابو یحیی[1] زکریا بن آدم اشعری خاندان سے ہیں جو کوفہ سے قم ہجرت کرکے آئے۔[2] انکے والد آدم بن عبدالله بن سعد اشعری[3] ہیں کہ جنہیں شیخ طوسی نے امام صادق کے اصحاب سے شمار کیا ہے۔ [4] آدم بن عبداللہ نے اپنے بیٹے زکریا سے امام رضا کی حدیث نقل کی ہے۔[5]

ان کے بھائی اسحاق بن آدم امام رضا(ع)[6] کے راویوں اور چچا کے بیٹے زکریا بن ادریس نیز امام صادق اور امام کاظم و امام رضا[7] کے راویوں میں سے تھے۔

آئمہ کے نزدیک منزلت و مقام

امام صادق(ع) و امام کاظم(ع)

شیخ طوسی انہیں اصحاب امام صادق(ع) میں سے سمجھتے ہیں۔[8] کسی بھی رجالی منبع نے انہیں اصحاب امام کاظم(ع) نہیں کہا ہے لیکن امام کاظم کے آصحاب کے زمرے میں شمار کیا ہے۔[9]

وکیل امام رضا(ع)

شیخ طوسی انہیں اصحاب امام رضا(ع) میں سے سمجھتے ہیں۔[10] چند روایات کی بنا پر امام رضا(ع) نے لوگوں کو آپ کی طرف رجوع کرنے کا حکم دیا تھا نیز انہیں دین و دنیا کے مسائل میں امین کہا۔[11] وہ امام کی طرف سے قم کے لوگوں سے شرعی وجوہات وصول کرتے تھے۔[12] حج کے ایک سفر میں زکریا نے مدینے سے مکہ تک کے سفر میں امام رضا(ع) کی ہمراہی کی۔ [13]

ایک روایت کے مطابق انہوں نے امام رضا(ع) سے کہا: میں چاہتا ہوں اپنے خاندان سے دور چلا جاؤں چونکہ ان میں بے وقوف سفیہ اور نادان لوگ کثیر ہو گئے ہیں۔ امام نے فرمایا: ایسا نہ کرو کیونکہ خدا نے تمہاری وجہ سے تمہارے خاندان پر سے مصیبت ٹال رکھی ہے (ایک نسخے میں: قم کے اہالیوں کا ذکر ہے) جس طرح خدا ابو الحسن امام کاظم کی وجہ سے اہل بغداد پر سے مصیبت کو دور رکھتا تھا۔ [14]

وکیل امام جواد(ع)

زکریا کو نیز اصحاب امام جواد(ع) میں شمار کرتے ہیں۔[15] رجال کشی کی روایت کے مطابق زکریا قم میں نویں امام کے وکیل تھے۔[16]

قبرستان شیخان میں زکریا بن آدم کا مزار

آثار

ایک کتاب اور ایک مجموعۂ مسائل ذکر کرتے ہیں کہ جو مختلف طرق سے منقول ہے۔ ظاہراً مجموعۂ مسائل امام رضا سے پوچھے گئے سوالات کا مجموعہ ہے۔[17] زکریا سے چالیس کے قریب احادیث واسطے یا بلا واسطے کے ساتھ ائمہ سے ذکر ہوئی ہیں۔[18]

وفات

زکریا امام جواد (ع) کے زمانے میں فوت ہوئے۔ ان کی وفات کے بعد امام نے ایک خط میں انکے متعلق لکھا:

جس روز وہ پیدا ہوئے اور جس روز فوت ہوئے اور جس روز وہ مبعوث ہوں گے خدا اس روز پر رحمت نازل کرے۔ وہ اپنی زندگی میں عارف اور معتقد تھے اور انہوں نے حق کے ساتھ زندگی گزاری۔ خدا اور اس کے رسول کے نزدیک جو کچھ واجب تھا انھوں نے اسے قائم کیا۔ انھوں نے اس دنیا میں کوئی عہد شکنی نہیں کی اور نہ کسی حکم کو تبدیل کیا پس خداوند انھیں ان کی نیت کا اجر اور ان کی سعی کی جزا عطا کرے۔[19]

زکریا کا مزار ایرانی شہر قم کے قبرستان شیخان میں موجود ہے جو حرم حضرت معصومہ (ع) کے قریب واقع ہے۔

حوالہ جات

  1. رجال کشی، ص۵۹۶
  2. حسن بن محمد قمی، تاریخ قم، ص۲۵۷-۲۶۳
  3. رجال نجاشی، ص۱۷۴
  4. رجال طوسی، ص۱۵۶
  5. شیخ صدوق، الخصال، ص۶۳۸
  6. رجال نجاشی، ص۷۳
  7. رجال نجاشی، ص۱۷۳
  8. رجال طوسی، ص۲۱۰
  9. خوئی، معجم رجال الحدیث، ج۸، ص۲۸۴
  10. رجال طوسی، ص۳۵۷
  11. رجال کشی، ص۵۹۵
  12. رجال کشی، ص۵۹۵
  13. رجال علامہ حلی، ص۷۵، بحوالہ سازمان وكالت، جباری، ج‌۲، ص۵۱۹
  14. رجال کشی، ص۵۹۴
  15. رجال طوسی، ص۳۷۵
  16. رجال کشی، ص۵۹۵
  17. طوسی، الفہرست، ص۱۳۲؛ نجاشی، رجال نجاشی، ص۱۷۴
  18. خوئی، معجم رجال الحدیث، ج۸، ص۲۸۴
  19. رجال کشی، ص۵۹۵


منابع

  • جباری، محمدرضا، سازمان وكالت و نقش آن در عصر ائمہ، اول، قم، ۱۳۸۲ش.
  • خـوئی، ابوالقاسم، معجم رجال الحدیث، پنجم، بی‌جا، بی‌نا، ۱۴۱۳ق.
  • شیخ طوسی، رجال طوسی، تحقیق جواد قیومی اصفہانی، مؤسسہ النشر الاسلامی (تابع جامعہ مدرسین قم)، ۱۴۱۵ق.
  • شیخ طوسی، رجال الكشی(اختیار معرفۃ الرجال)، مشہد، دانشگاه مشہد، ۱۳۴۸ش.
  • شیخ طوسی، الفہرست، تحقیق جواد قیومی، اول، بی‌جا مؤسسہ نشر الفقاہہ، ۱۴۱۷ق.
  • قمی، حسن بن محمد، تاریخ قم، تہران، توس، ۱۳۶۱ش.
  • نجاشی، رجال النجاشی، قم، جامعہ مدرسین، ۱۴۰۷‌ق.