روضۂ امام علی (ع)

ويکی شيعه سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش
روضۂ امام علی

امام علی علیہ السلام کا روضہ، امیرالمومنین علی علیہ السلام کے نجف اشرف میں دفن ہونے کا مقام ہے جو تدفین کے بعد سالہا سال تک مخفی تھا لیکن اس کے آشکار ہونے کے بعد سے زیارت گاہ میں تبدیل ہو گیا اور طول تاریخ میں مختلف افراد نے اس کی تعمیر و توسیع میں حصہ لیا ہے۔

گزشتہ برسوں میں، اس میں ایک بڑا صحن، صحن حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے نام سے زیر تعمیر ہے جس نے اس روضہ کی مجموعی فضا میں ایک سو چالیس ہزار مربع میٹر کا اضافہ کر دیا ہے۔

مخفیانہ تدفین

امیر المومنین علیہ السلام کے بیٹوں امام حسین (ع)، امام حسین (ع) اور محمد حنفیہ نے عبد اللہ بن جعفر کی ہمراہی میں آپ کو رات میں غریین (موجودہ نجف میں) کے مقام پر دفن کرکے قبر کو مخفی کر دیا۔[1]

جیسا کہ سید بن طاووس تحریر کرتے ہیں: یہ مخفی کاری آپ کے دشمنوں بنی امیہ اور خوارج کے خوف سے کی گئی تھی۔ کیونکہ ممکن تھا کہ وہ لوگ آپ کی قبر کو نبش کر دیتے اور یہ چیز بنی ہاشم سے ان کی جنگ کا سبب بن جاتی اور اس وجہ سے قتل و غارت کا بازار گرم اور بڑے فتنہ کا سبب ہو جاتا۔ اس بات کے پیش نظر کہ آپ نے اپنی پوری زندگی کو ان فتنوں کی آگ کو خاموش کرنے کی سعی میں صرف کر دیا، لہذا یہ فطری امر ہے کہ آپ وصیت کرتے کہ آپ کے انتقال کے بعد اس چیز سے پرہیز کیا جائے جو جنگ و اختلاف کا سبب بنتا ہو۔[2]

قبر امیرالمومنین (ع) کی زیارت کرنے والے ائمہ

تفصیلی مضمون: امیرالمومنین (ع) کی زیارت
شیعہ ائمہ میں سے چھ اماموں نے نجف میں امیر المومنین علیہ السلام کی قبر کی زیارت کی ہے:

  1. امام حسین (ع)
  2. امام سجاد (ع)
  3. امام باقر (ع)
  4. امام صادق (ع)
  5. امام علی نقی (ع)
  6. امام حسن عسکری (ع)۔[3]

زیارت کا ثواب

پیغمبر (ص) نے فرمایا: جس نے بھی میری یا علی کی زندگی میں یا وفات کے بعد زیارت کی، تو حق ہے میرا خداوند عالم کی ذات پر کہ میں روز قیامت اس انسان کی زیارت کروں اور اسے اس کے گناہوں سے نجات دلاوں۔[4]

آنحضرت (ص) نے فرمایا: جس نے وفات کے بعد علی کی زیارت کی، اس پر جنت واجب ہے۔[5]

امام صادق (ع) نے فرمایا: امیرالمومنین علیہ السلام کی زیارت کرنے والا جب دعا کرتا ہے تو درھای آسمانی اس کے لئے کھل جاتے ہیں۔[6]

قبر کا آشکار ہونا

جیسا کہ امام جعفر صادق علیہ السلام کے دور میں بنی امیہ کی قدرت زوال کا شکار ہو چکی تھی، لہذا قبر کے مخفی رہنے کا جواز ختم ہو چکا تھا اور اسی وجہ سے تدریجی طور پر آپ کی قبر کا مقام لوگوں پر آشکار ہوتا چلا گیا۔ چنانچہ صفوان سے روایت نقل ہوئی ہے کہ انہوں نے امام صادق علیہ السلام سے اجازت طلب کی کہ وہ کوفہ کے شیعوں کو اس کے بارے میں آگاہ کر دیں اور امام (ع) نے انہیں مثبت جواب دیا اور انہیں قبر کی مرمت کے لئے کچھ رقم بھی عطا فرمائی۔[7]

روضہ کی تعمیر کا تاریخچہ

امویوں کے زوال اور امام علیہ السلام کی قبر کے مقام کے آشکار ہونے کے ساتھ ہی داود بن علی عباسی (متوفی ۱۳۳ ق۔ھ) نے جب وہاں پر لوگوں کے ہجوم کا مشاہدہ کیا تو اس بارے میں تحقیق کی اور جب اسے اطمینان ہو گیا کہ آپ کے دفن کا مقام یہیں ہے تو اس نے قبر کے اوپر ایک لوح رکھی۔ البتہ بنی عباس کی حکومت مستقر ہوجانے کے بعد چونکہ علویوں سے ان کے روابط تیرہ ہو گئے تو آپ کی قبر اسی طرح سے مہجور ہوگئی اور اس پر رکھی گئی لوح کا نشان بھی مٹ گیا۔ [8]

ظاہرا پہلی بار ہارون الرشید نے امام علی علیہ السلام کی ضریح کو سفید پتھروں سے چارو طرف سے ایک ذراع تک تعمیر کرایا۔ (تقریبا سن ۱۷۰ ھ۔ق میں)[9] اور اس نے حکم دیا کہ آپ کی قبر کے اوپر سرخ گلوں کی ایک چادر بچھائی جائے اور ضریح پر سبز حبرہ کی چادر چڑھائی جائے۔ جو آپ کے خزانہ میں ساتویں صدی ھجری تک (ساتویں صدی ھجری میں فرحۃ الغری کے مولف کے مطابق) موجود تھی۔[10]

متوکل عباسی (متوفی ۲۴۷ ھ ۔ ق) نے جس طرح سے امام حسین علیہ السلام کے روضہ کو مسمار کرایا، اسی طرح سے نجف میں موجود عمارت کو بھی اس نابود کرا دیا۔[11] اس کے بعد محمد بن زید داعی (متوفی ۲۸۷ ھ ۔ ق) نے قبر کو پھر سے تعمیر کرایا اور اس میں قبہ، دیوار اور چار دیواری تعمیر کرائی جس میں ستر طاق تھے۔[12]

امیر الحاج عمر بن یحیی بن حسین نسابہ کوفہ میں طالبیان کے نقیب نے تقریبا سن ۳۳۰ ھ ۔ ق میں آپ کی قبر کو پھر سے تعمیر کرایا اور اپنے مال سے اس پر قبہ بنوایا۔[13]

اس کے بعد، عضد الدولہ دیلمی (متوفی ۳۷۲ ھ ۔ ق) نے اس پر اس طرح سے عمارت تعمیر کرائی جو اس وقت کے حساب سے بے نظیر تھی اور اس نے اس کے لئے موقوفات قرار دیئے۔ یہ عمارت سن ۷۵۳ ھ ۔ ق تک باقی رہی۔ اس سال یہ عمارت آگ لگنے کی وجہ سے تخریب ہو گئی۔ کہتے ہیں اس آتش سوزی میں امیر المومنین علیہ السلام کے ہاتھ کا تحریر کردہ مصحف جو تین جلدوں میں تھا، بھی جل گیا۔[14] اس عمارت کی تعمیر و مرمت میں عضد الدولہ کے علاوہ، آل بویہ کے تمام حکام اور وزرائ، حمدانیان اور بعض عباسی (مستنصر عباسی) بھی شریک رہ چکے تھے۔[15]

اس کے بعد سن ۷۶۰ ھ ۔ ق میں تجدید بنائ ہوئی اور اس تعمیر کو کسی خاص شخص کی طرف منسوب نہیں کیا گیا ہے۔ لیکن ظاہرا یہ ایلخانیان کا کام تھا اور دوسرے بہت سے سلاطین نے اس کی تعمیر میں حصہ لیا تھا۔ اور اس میں روضہ، قبہ اور صحن کی مرمت کا کام شاہ عباس اول کرایا تھا۔ [16]

اس کے بعد شاہ صفی نے حرم کے صحن میں توسیع کرائی۔[17]

جیسا کہ سلطان محمد میرزا کے سفر نامہ میں (سن ۱۲۷۹ ھ ۔ ق کا سفر) ذکر ہوا ہے کہ چار دیواری کی تعمیر حاجی محمد حسین خان صدر اصفھانی کے ذریعہ کرائی گئی ہے۔ اسی طرح سے اس سفر نامہ میں ذکر ہوا ہے کہ حرم کے قبہ کی اولین تعمیر آل بویہ کے زمانہ ہوئی ہے۔ جسے صفویہ کے دور میں ختم کرکے اس پر ایک بقعہ تعمیر کرایا گیا جو سن (۱۲۷۹ ھ ۔ ق میں) موجود تھا اور جسے شاہ عباس صفوی نے شیخ بہائی کے نقشہ کے مطابق تعمیر کرایا تھا۔[18]

نادر شاہ افشار نے حرم کے گنبد، ایوان اور دو میناروں کی طلا کاری کرائی۔[19] ۲۷ آذر ۱۳۹۵ ش مطابق ۱۷ ربیع الاول ۱۴۳۸ ھ ۔ ق میں نئے گنبد کی طلا کاری کے ساتھ رونمائی کی گئی۔[20]

حرم کی معماری

مسجد عمران بن شاہین

یہ مسجد نجف کی قدیمی ترین مساجد میں سے ایک ہے جو صحن کے شمالی حصہ میں واقع ہے اور اس وقت اس کا شمار حرم میں ہوتا ہے۔[21]

عمران نے عضد الدولہ حکومت کے خلاف کیا لیکن انہیں شکست ہوئی۔ شکست کے بعد انہوں نے نذر کی کہ اگر عضد الدولہ نے انہیں معاف کر دیا تو امیر المومنین علیہ السلام کے حرم میں ایک رواق تعمیر کریں گے۔ عضد الدولہ نے انہیں معاف کر دیا اور عمران نے اپنی نذر کو پورا کیا اور چوتھی صدی ھجری کے اواسط میں رواق تعمیر کرایا۔ یہ رواق مسجد میں تبدیل ہو گیا اور اس کا داخلی دروازہ باب طوسی سے داخل ہوتے وقت راہرو کے داہنی سمت میں پڑتا ہے۔ ماضی میں مسجد کا ایک اور دروازہ بھی تھا جو ایوان علمائ کے سامنے والے ایوان سے مسجد کی طرف کھلتا تھا، لیکن حرم کی تعمیرات میں تبدیلی کے سبب یہ جگہ رواق کی حالت سے خارج ہو گئی اور مسجد عمران بن شاہین کے نام سے مشہور ہو گئی اور سقوط صدام کے وقت تک اسی طرح سے متروکہ تھی۔ حالیہ تعمیری سلسلہ میں یہ مسجد ایک مجلل شبستان کی صورت میں تعمیر ہو چکی ہے۔[22]

سید محمد کاظم یزدی عروۃ الوثقی کے مولف، سید محمد کاظم مقدس، محمد باقر قمی، جیسے بزرگان اس مسجد میں مدفون ہیں۔[23]

مسجد الراس

یہ مسجد صحن کے مغربی حصہ میں واقع ہے اور رواق کے ساتھ متصل تعمیر کی گئی تھی اور اس وقت وہ حرم کی توسیع میں شامل حصوں میں ہے۔ اس مسجد کے نام کے سلسلہ میں دو احتمال پیش کئے جاتے ہیں: [24] ایک: اس مسجد کا محل وقوع حضرت کے سرہانے حصہ کے مقابل کی سمت میں ہے۔ امام صادق علیہ السلام سے منقول روایات کی دلالت کے مطابق اس مقام پر امام حسین علیہ السلام کا سر مدفون ہے۔

مسجد الخضرائ

تفصیلی مضمون: مسجد الخضرائ
مسجد الخضرائ صحن کے مشرقی حصہ میں واقع ہے اور اس میں دو دروازے ہیں جن میں سے ایک اندرون صحن (باب مسلم بن عقیل سے داخل ہوتے ہوئے داہنی طرف تیسرا ایوان) ہے اور دوسرا حصہ حرم سے باہر کی طرف ہے۔ اس مسجد میں آیت اللہ خوئی درس دیا کرتے تھے اور اس وقت ان کے مقبرہ (حجرہ نمبر ۳۱) اور مسجد کے درمیان حائل دیوار کو ختم کر دیا گیا ہے اور وہاں پر ایک جالی نما کھڑکی بنا دی گئی ہے۔ [25]

حسینیہ صحن شریف

یہ امام باڑہ صحن کے شمالی حصہ میں واقع ہے اور کا دروازہ تیسرے ایوان کی جانب سے شمال مشرقی حصہ کی طرف کھلتا ہے۔ اس امام باڑہ کو سید محسن زینی نے جو نجف کے خیرین میں سے ہیں، تعمیر کرایا ہے۔ اس مقام کو زائرین کی استراحت کے لئے بنایا گیا ہے، اس میں وضو خانہ بھی بنایا گیا تھا۔ سالہا یہ جگہ ایک متروکہ خرابہ کی طرح سے پڑی ہوئی تھی جسے سقوط صدام کے بعد آیت اللہ سیستانی کے زیر نظر مکمل کیا گیا ہے۔[26]

ایوان العلمائ

یہ ایوان رواق کے ضلع شمالی کے وسط میں واقع ہے۔ اس کے اس نام کی وجہ یہاں بعض بزرگ علمائ کی قبور کا ہونا ہے۔[27]

مدرسہ علوم دینی

صحن کے اوپری طبقہ میں ۵۲ حجرے ہیں جس میں ہر حجرہ صحن کی طرف کھلتا ہے اور ہر حجرہ کی پشت پر راہرو ہے جس کا سلسلہ سیڑھیوں تک جاتا ہے۔ ان حجروں میں طلاب کے لئے درس اور رہائش کا انتظام ہوا کرتا تھا۔ عراقی عوام کے انتفاضہ (۱۳۷۷ ھ ۔ ق) کے بعد بعثی حکومت نے حوزہ علمیہ کی نابودی کی غرض سے ان حجروں سے طلاب کو نکال دیا اور اس تاریخ کے بعد سے آج تک یہ حجرے اسی طرح سے خالی پڑے ہیں۔[28]

عزاخانہ بکتاشیہ

یہ عزاخانہ مسجد الراس کے شمال کی جانب اور حرم کے مغربی حصہ میں واقع ہے جس میں تین دروازے ہیں؛ جن میں دو دروازہ صحن میں موجود ایوانوں کی سمت کھلتا ہے اور ایک حرم کے باہرمغربی حصہ کی طرف۔[29]

مقام امام صادق علیہ السلام

یہ مقام مسجد الراس کے قریب اور اس انسان کے بائیں جانب پڑتا ہے جو باب الفرج (حرم کے جنوب مغرب میں) سے حرم میں داخل ہو رہا ہے۔ روایت میں نقل ہوا ہے کہ امام صادق علیہ السلام جس وقت امیرالمومنین علیہ السلام کی زیارت کے لئے آئے تو آپ نے اس مقام پر نماز پڑھی تھی۔ اس مقام پر تقریبا ۵۰ سال پہلے ایک سفید گنبد بنا ہوا تھا اور اس کی وسعت ۱۰۰ میٹر کے برابر تھی۔ لیکن اس وقت اس مقام کے بارے میں کوئی خبر نہیں ہے اور یہ حصہ بھی حرم کی توسیع میں شامل ہے۔[30]

موضع الاصبعین

یہ مقام ضریح میں امام علیہ السلام کی صورت کے سامنے واقع ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے: ایک ظالم بادشاہ جس کا نام مرہ بن قید تھا، ایک دن اس کے آبائ و اجداد کا ذکر نکل گیا اور اس نے اپنے بڑے بوڑھوں سے ان کی داستان سنی اور جب انہوں نے اسے بتایا کہ ان میں سے بہت سے جنگ میں قتل کر دیئے گئے تھے تو اس نے ان کے قاتلوں کے بارے میں سوال کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان میں سے اکثر علی بن ابی طالب کے ہاتھوں قتل ہوئے ہیں۔ تو اس نے علی علیہ السلام کی قبر کے بارے میں پوچھا، انہوں نے کہا کہ نجف میں ہے۔ مرۃ نے دو ہزار کی فوج تیار کی اور نجف پر حملہ کر دیا۔ عوام نے چھ دن مقابلہ کیا لیکن انہیں شکست ہوئی اور مرۃ حرم میں داخل ہو گیا اور اسے خراب کرنا شروع کر دیا اور جب اس نے چاہا کہ قبر کو نبش کرے تو ضریح سے دو انگلیاں شمشیر کی طرح سے باہر نکلیں اور اسے دو حصوں میں تقسیم میں کر دیا۔ اس کے بدن کے دونوں آدھے حصے اسی وقت سنگ میں تبدیل ہو گئے۔ ان دونوں پتھروں کو راستہ کے کنارے پر ڈال دیا گیا۔ جسے بعد میں دشمنوں نے وہاں سے ہٹا کر غائب کر دیا۔[31]

حرم کی توسیع

امیرالمومنین علیہ السلام کے روضہ میں گزشتہ چند برسوں سے تعمیر و توسیع کا سلسلہ جاری و ساری ہے۔ حرم کے مغربی حصہ میں تعمیری توسیع کو حضرت فاطمہ سلام اللہ علیھا کے نام سے منسوب کیا گیا ہے۔ اس صحن میں حرم کے مغربی حصہ سے لیکر مقام امام سجاد علیہ السلام تک ایک بہت بڑا علاقہ شامل ہے۔ اور اس کی تعمیر کا کام ایرانی معماروں کے ذریعہ انجام پا رہا ہے۔ اس پروجیکٹ کے مکمل ہونے کے ساتھ ہی حرم کی مجموعی فضا ایک لاکھ چالیس ہزار مربع میٹر تک ہو جائے گی۔[32]

حوالہ جات

  1. المفید، الارشاد، صفحہ ۲۷۔۲۸
  2. ابن طاووس، فرحۃ الغری، ترجمہ محمد باقر مجلسی، صفحہ ۶۵۔ اور رجوع کریں: التمیمی، مدینۃ النجف، صفحہ ۱۱۷۔
  3. التمیمی، مدینۃ النجف، صفحہ ۱۷۷۔
  4. ابن قولویہ، کامل الزیارات، صفحہ ۹۱۔
  5. السید الرضی، خصائص امیرالمومنین علی بن ابی طالب (ع) صفحہ ۲۶۔ المفید، المقنعۃ، صفحہ ۴۶۲۔
  6. السید الرضی، خصائص امیرالمومنین علی بن ابی طالب (ع) صفحہ ۲۶۔ المفید، المقنعۃ، صفحہ ۴۶۲۔
  7. التمیمی، مدینۃ النجف، صفحہ ۱۷۷۔
  8. آل محبوبہ، ماضی النجف و حاضرھا، جلد ۱، صفحہ ۴۰۔
  9. آل محبوبہ، ماضی النجف و حاضرھا، جلد ۱، صفحہ ۴۱۔
  10. ابن طاووس، فرحۃ الغری، ترجمہ محمد باقر مجلسی، صفحہ ۱۲۷۔
  11. آل محبوبہ، ماضی النجف و حاضرھا، جلد ۱، صفحہ ۴۳۔
  12. آل محبوبہ، ماضی النجف و حاضرھا، جلد ۱، صفحہ ۴۲۔۴۳
  13. التمیمی، مدینۃ النجف، صفحہ ۱۷۲۔
  14. آل محبوبہ، ماضی النجف و حاضرھا، جلد ۱، صفحہ ۴۳۔۴۵
  15. آل محبوبہ، ماضی النجف و حاضرھا، جلد ۱، صفحہ ۴۳۔۴۶
  16. آل محبوبہ، ماضی النجف و حاضرھا، جلد ۱، صفحہ ۴۶۔۴۸
  17. آل محبوبہ، ماضی النجف و حاضرھا، جلد ۱، صفحہ ۴۸۔
  18. بریری، نجف در سیزدہ سفر نامہ، صفحہ ۱۶۶۔
  19. بریری، نجف در سیزدہ سفر نامہ، صفحہ ۱۶۷۔۱۷۳
  20. ابنا نیوز ایجنسی، امیرالمومنین (ع) کے گنبد کی رونمائی ہوئی۔
  21. علوی، راہنمای مصور سفر زیارتی عراق، صفحہ ۱۱۹۔
  22. علوی، راہنمای مصور سفر زیارتی عراق، صفحہ ۱۱۹۔
  23. علوی، راہنمای مصور سفر زیارتی عراق، صفحہ ۱۱۹۔
  24. علوی، راہنمای مصور سفر زیارتی عراق، صفحہ ۱۲۰۔
  25. علوی، راہنمای مصور سفر زیارتی عراق، صفحہ ۱۲۱۔
  26. علوی، راہنمای مصور سفر زیارتی عراق، صفحہ ۱۲۱۔
  27. علوی، راہنمای مصور سفر زیارتی عراق، صفحہ ۱۲۲۔
  28. علوی، راہنمای مصور سفر زیارتی عراق، صفحہ ۱۲۳۔
  29. علوی، راہنمای مصور سفر زیارتی عراق، صفحہ ۱۲۲۔
  30. علوی، راہنمای مصور سفر زیارتی عراق، صفحہ ۱۲۳۔
  31. علوی، راہنمای مصور سفر زیارتی عراق، صفحہ ۱۲۴۔
  32. علوی، راہنمای مصور سفر زیارتی عراق، صفحہ ۱۲۶۔


منابع

  • آل محبوبہ، ماضی النجف و حاضرھا، بیروت، دارالاضوائ، ۱۴۰۶ق، ۱۹۸۶ع۔
  • ابن الجوزی، المنتظم فی التاریخ الامم والملوک، تحقیق: محمد عبد القادر عطا و مصطفی عبد القادر عطا، تصحیح: نعیم زرزرو، بیروت، دار الکتب العلمیۃ ۱۴۱۲۔۱۹۹۲ع۔
  • ابن طاووس، عبد الکریم بن احمد، فرحۃ الغری فی تعیین قبر امیرالمومنین علی علیہ السلام، ترجمہ: محمد باقر مجلسی، تھران، میراث مکتوب، ۱۳۷۹ ش۔
  • ابن قولویہ، جعفر بن محمد بن قولویہ، کامل الزیارات، تحقیق: جواد القیومی، لجنۃ التحقیق، موسسۃ نشر الفقاھۃ، ۱۴۱۷ ق، (مکتبہ اہل بیت (ع) کی سی ڈٰی کے نسخہ کے مطابق، نسخہ دوم ۱۴۳۳ق۔)
  • التمیمی، محمد علی جعفر، مدینۃ النجف، النجف، مطبعۃ دار النشر والتالیف، ۱۳۷۲ ق۔
  • السید الرضی، خصائص امیرالمومنین علی بن ابی طالب علیہ السلام، بیروت: موسسۃ الاعلمی للمطبوعات، ۱۴۰۶ ق۔ ۱۹۸۶ ع۔
  • المفید، محمد بن محمد بن نعمان، الارشاد، قم: سعید بن جبیر، ۱۴۲۸ق۔
  • المفید، المقنعۃ، قم موسسۃ النشر الاسلامی، ۱۴۱۰ ق۔
  • بریری، ابوذر، نجف در سیزدہ سفر نامہ، برشی از سفرنامہ ھای علمائ و مشاہیر دورہ قاچار، درفصل نامہ فرھنگ زیارت، سال سوم، شمارہ ۷، تابستان ۱۳۹۰ش۔
  • علوی، احمد، راہنمای مصور سفر زیارتی عراق، قم، معروف، ۱۳۸۹ش۔