دعائے عید فطر امام سجاد(ع)

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
دعا و مناجات
مسجد جامع خرمشهر.jpg

دعائے عید فطر امام سجاد(ع) صحیفہ سجادیہ کی چھیالیسویں دعا ہے جو امام سجاد(ع) سے منسوب ہے۔ یہ دعا 25 بند پر مشتمل ہے جسے امام سجاد(ع) نے عید الفطر اور جمعہ کے دن پڑھنے کی سفارش فرمایا ہے۔

اس دعا کے مضامین

  • خدا اپنے محتاج بندے پر رحمت نازل کرتا ہے اور اسے خوار و ذلیل نہیں فرماتاہے۔
  • بندہ جتنا بھی گستاخ اور نافرما ہوے خدا اسے ناامید نہیں فرماتا ہے۔
  • خدا قلیل کام کو قبول کرتا ہے اور اس کے عوض کثیر اجر و ثواب عطا فرماتاہے۔
  • خدا سزا اور عقاب کرنے میں جلدی نہیں فرماتا ہے۔
  • بندگان خدا کی حاجتیں خدا کے لطف و کرم کی انتہا تک پہنچنے سے پہلے پوری ہو کر واپس لوٹ آتی ہیں۔
  • خدا کے مقابلے میں ہر بڑا، چھوٹا ہے اور ہر شریف اور باعزت اس کے مقابلے میں بے مقدار ہے۔
  • جو بھی غیر خدا سے لو لگائے گا وہ ناامید ہو گا اگر اپنی حاجتیں خدا کے علاوہ کسی اور کے پاس لے جائے تو نقصان اٹھائے گا۔
  • خداوند کی رزق و روزی کا دسترخوان اس بندے کیلئے بھی آمادہ ہے جو اس کی نافرمانی کرتا ہے۔
  • خدا کی تربیت کا انداز، اپنے بندوں پر نیکی‌ اور احسان کرنا اور خلافکاروں پر مہربانی کرنا ہے یہاں تک کہ خدا کا اس طرح سے مہلت دینا بندوں کو اور مغرور بناتا ہے اور توبہ نہیں کرتا ہے۔
  • ناامیدی اس بندے کا مقدر ہے جو خدا کی درگاہ سے خالی ہاتھ واپس آئے۔
  • بدترین بدتختی اس کا مقدر ہے جو خدا کی دی ہوئی مہلت سے فریب کھاتا ہے۔
  • خدا کا عقاب‌کرنے میں جلدی کرنا اس کی کمزوری کی وجہ سے نہیں ہے اور نہ اس کی سستی اور غفلت کی وجہ سے ہے بلکہ اس لئے ہے کہ اس کی دلیل واضح اور اشکار ہو اور خدا کا لطف و کرم کاملتر ہو جائے۔

شرحیں

اس دعا کی شرحیں درج ذیل ہیں:

فارسی شرحیں

  • دیار عاشقان مؤلف حسین انصاریان، جلد ۷، صفحہ ۴۹۷ تا ۵۱۵.
  • شہود و شناخت مؤلف محمدحسن ممدوحی کرمانشاہی، جلد ۴، صفحہ ۲۸ (بہ صورت مختصر).
  • شرح صحیفہ سجادیہ مؤلف محمدعلی مدرسی چہاردہی.

عربی شرحیں

ادبی شرحیں

ایسی کتابیں جن میں دعاوں کے الفاظ کی توضیح اور ان کے معانی بیان کی گئی ہیں:

  • تعلیقات علی الصحیفہ السجادیہ مؤلف محمد بن مرتضی فیض کاشانی.
  • حل لغات الصحیفہ السجادیہ مؤلف محمدباقر شفیع حسینی.
  • شرح الصحیفہ السجادیہ مؤلف عزالدین جزائری.

دعا کا متن اور ترجمہ

دعائے مکارم الاخلاق
ترجمہ
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّ‌حْمَـٰنِ الرَّ‌حِيمِ
دُعَاؤُهُ فِي عِيدِ الْفِطْرِ وَ الْجُمُعَةِ

يَا مَنْ يَرْحَمُ مَنْ لَا يَرْحَمُهُ الْعِبَادُ وَ يَا مَنْ يَقْبَلُ مَنْ لَا تَقْبَلُهُ الْبِلَادُ وَ يَا مَنْ لَا يَحْتَقِرُ أَهْلَ الْحَاجَةِ إِلَيْهِ وَ يَا مَنْ لَا يُخَيِّبُ الْمُلِحِّينَ عَلَيْهِ . وَ يَا مَنْ لَا يَجْبَهُ بِالرَّدِّ أَهْلَ الدَّالَّةِ عَلَيْهِ وَ يَا مَنْ يَجْتَبِي صَغِيرَ مَا يُتْحَفُ بِهِ ، وَ يَشْكُرُ يَسِيرَ مَا يُعْمَلُ لَهُ . وَ يَا مَنْ يَشْكُرُ عَلَى الْقَلِيلِ وَ يُجَازِي بِالْجَلِيلِ وَ يَا مَنْ يَدْنُو إِلَى مَنْ دَنَا مِنْهُ . وَ يَا مَنْ يَدْعُو إِلَى نَفْسِهِ مَنْ أَدْبَرَ عَنْهُ . وَ يَا مَنْ لَا يُغَيِّرُ النِّعْمَةَ ، وَ لَا يُبَادِرُ بِالنَّقِمَةِ . وَ يَا مَنْ يُثْمِرُ الْحَسَنَةَ حَتَّى يُنْمِيَهَا ، وَ يَتَجَاوَزُ عَنِ السَّيِّئَةِ حَتَّى يُعَفِّيَهَا . انْصَرَفَتِ الْآمَالُ دُونَ مَدَى كَرَمِكَ بِالْحَاجَاتِ ، وَ امْتَلَأَتْ بِفَيْضِ جُودِكَ أَوْعِيَةُ الطَّلِبَاتِ ، وَ تَفَسَّخَتْ دُونَ بُلُوغِ نَعْتِكَ الصِّفَاتُ ، فَلَكَ الْعُلُوُّ الْأَعْلَى فَوْقَ كُلِّ عَالٍ ، وَ الْجَلَالُ الْأَمْجَدُ فَوْقَ كُلِّ جَلَالٍ . كُلُّ جَلِيلٍ عِنْدَكَ صَغِيرٌ ، وَ كُلُّ شَرِيفٍ فِي جَنْبِ شَرَفِكَ حَقِيرٌ ، خَابَ الْوَافِدُونَ عَلَى غَيْرِكَ ، وَ خَسِرَ الْمُتَعَرِّضُونَ إِلَّا لَكَ ، وَ ضَاعَ الْمُلِمُّونَ إِلَّا بِكَ ، وَ أَجْدَبَ الْمُنْتَجِعُونَ إِلَّا مَنِ انْتَجَعَ فَضْلَكَ بَابُكَ مَفْتُوحٌ لِلرَّاغِبِينَ ، وَ جُودُكَ مُبَاحٌ لِلسَّائِلِينَ ، وَ إِغَاثَتُكَ قَرِيبَةٌ مِنَ الْمُسْتَغِيثِينَ . لَا يَخِيبُ مِنْكَ الْآمِلُونَ ، وَ لَا يَيْأَسُ مِنْ عَطَائِكَ الْمُتَعَرِّضُونَ ، وَ لا يَشْقَى بِنَقِمَتِكَ الْمُسْتَغْفِرُونَ . رِزْقُكَ مَبْسُوطٌ لِمَنْ عَصَاكَ ، وَ حِلْمُكَ مُعْتَرِضٌ لِمَنْ نَاوَاكَ ، عَادَتُكَ الْإِحْسَانُ إِلَى الْمُسِيئِينَ ، وَ سُنَّتُكَ الْإِبْقَاءُ عَلَى الْمُعْتَدِينَ حَتَّى لَقَدْ غَرَّتْهُمْ أَنَاتُكَ عَنِ الرُّجُوعِ ، وَ صَدَّهُمْ إِمْهَالُكَ عَنِ النُّزُوعِ . وَ إِنَّمَا تَأَنَّيْتَ بِهِمْ لِيَفِيئُوا إِلَى أَمْرِكَ ، وَ أَمْهَلْتَهُمْ ثِقَةً بِدَوَامِ مُلْكِكَ ، فَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ السَّعَادَةِ خَتَمْتَ لَهُ بِهَا ، وَ مَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الشَّقَاوَةِ خَذَلْتَهُ لَهَا . كُلُّهُمْ صَائِرُونَ ، إِلَى حُكْمِكَ ، وَ أَمُورُهُمْ آئِلَةٌ إِلَى أَمْرِكَ ، لَمْ يَهِنْ عَلَى طُولِ مُدَّتِهِمْ سُلْطَانُكَ ، وَ لَمْ يَدْحَضْ لِتَرْكِ مُعَاجَلَتِهِمْ بُرْهَانُكَ . حُجَّتُكَ قَائِمَةٌ لَا تُدْحَضُ ، وَ سُلْطَانُكَ ثَابِتٌ لَا يَزُولُ ، فَالْوَيْلُ الدَّائِمُ لِمَنْ جَنَحَ عَنْكَ ، وَ الْخَيْبَةُ الْخَاذِلَةُ لِمَنْ خَابَ مِنْكَ ، وَ الشَّقَاءُ الْأَشْقَى لِمَنِ اغْتَرَّ بِكَ . مَا أَكْثَرَ تَصَرُّفَهُ فِي عَذَابِكَ ، وَ مَا أَطْوَلَ تَرَدُّدَهُ فِي عِقَابِكَ ، وَ مَا أَبْعَدَ غَايَتَهُ مِنَ الْفَرَجِ ، وَ مَا أَقْنَطَهُ مِنْ سُهُولَةِ الْمَخْرَجِ عَدْلًا مِنْ قَضَائِكَ لَا تَجُورُ فِيهِ ، وَ إِنْصَافاً مِنْ حُكْمِكَ لَا تَحِيفُ عَلَيْهِ . فَقَدْ ظَاهَرْتَ الْحُجَجَ ، وَ أَبْلَيْتَ الْأَعْذَارَ ، وَ قَدْ تَقَدَّمْتَ بِالْوَعِيدِ ، وَ تَلَطَّفْتَ فِي التَّرْغِيبِ ، وَ ضَرَبْتَ الْأَمْثَالَ ، وَ أَطَلْتَ الْإِمْهَالَ ، وَ أَخَّرْتَ وَ أَنْتَ مُسْتَطِيعٌ لِلمُعَاجَلَةِ ، وَ تَأَنَّيْتَ وَ أَنْتَ مَلِيءٌ بِالْمُبَادَرَةِ لَمْ تَكُنْ أَنَاتُكَ عَجْزاً ، وَ لَا إِمْهَالُكَ وَهْناً ، وَ لَا إِمْسَاكُكَ غَفْلَةً ، وَ لَا انْتِظَارُكَ مُدَارَاةً ، بَلْ لِتَكُونَ حُجَّتُكَ أَبْلَغَ ، وَ كَرَمُكَ أَكْمَلَ ، وَ إِحْسَانُكَ أَوْفَى ، وَ نِعْمَتُكَ أَتَمَّ ، كُلُّ ذَلِكَ كَانَ وَ لَمْ تَزَلْ ، وَ هُوَ كَائِنٌ وَ لَا تَزَالُ . حُجَّتُكَ أَجَلُّ مِنْ أَنْ تُوصَفَ بِكُلِّهَا ، وَ مَجْدُكَ أَرْفَعُ مِنْ أَنْ يُحَدَّ بِكُنْهِهِ ، وَ نِعْمَتُكَ أَكْثَرُ مِنْ أَنْ تُحْصَى بِأَسْرِهَا ، وَ إِحْسَانُكَ أَكْثَرُ مِنْ أَنْ تُشْكَرَ عَلَى أَقَلِّهِ وَ قَدْ قَصَّرَ بِيَ السُّكُوتُ عَنْ تَحْمِيدِكَ ، وَ فَهَّهَنِيَ الْإِمْسَاكُ عَنْ تَمْجِيدِكَ ، وَ قُصَارَايَ الْإِقْرَارُ بِالْحُسُورِ ، لَا رَغْبَةً يَا إِلَهِي بَلْ عَجْزاً . فَهَا أَنَا ذَا أَؤُمُّكَ بِالْوِفَادَةِ ، وَ أَسْأَلُكَ حُسْنَ الرِّفَادَةِ ، فَصَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ ، وَ اسْمَعْ نَجْوَايَ ، وَ اسْتَجِبْ دُعَائِي ، وَ لَا تَخْتِمْ يَوْمِي بِخَيْبَتِي ، وَ لَا تَجْبَهْنِي بِالرَّدِّ فِي مَسْأَلَتِي ، وَ أَكْرِمْ مِنْ عِنْدِكَ مُنْصَرَفِي ، وَ إِلَيْكَ مُنْقَلَبِي ، إِنَّكَ غَيْرُ ضَائِقٍ بِمَا تُرِيدُ ، وَ لَا عَاجِزٍ عَمَّا تُسْأَلُ ، وَ أَنْتَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، وَ لَا حَوْلَ وَ لَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ .

عیدین اور جمعہ کی دعا

اور جمعہ کے دن بھی یہ دعا پڑھتے اے وہ جو ایسے شخص پر رحم کرتا ہے جس پر بندے رحم نہیں کرتے ۔ اے وہ جو ایسے (گنہگار ) کو قبول کرتا ہے جسے کوئی قطعہ زمین ( اس کے گناہوں کے باعث) قبول نہیں کرتا۔ اے وہ جو اپنے حاجت مند کو حقیر نہیں سمجھتا۔ اے وہ جو گڑگڑانے والوں کو ناکام نہیں پھیرتا ۔ اے وہ جو نازش بے جا کرنے والوں کو ٹھکراتا نہیں ۔ اے وہ جو چھوٹے سے چھوٹے تحفہ کو بھی پسندیدگی کی نظروں سے دیکھتا ہے اورجو معمولی سے معمولی عمل اس کے لیے بجا لایا گیا ہو اس کی جزا دیتا ہے۔ اے وہ جو اس سے قریب ہو وہ اس سے قریب ہوتا ہے اے وہ کہ جو اس سے رو گردانی کرے اسے اپنی طرف بلاتا ہے اور وہ جو نعمت کو بدلتا نہیں اور نہ سزا دینے میں جلدی کرتا ہے۔ اے وہ جو نیکی کے نہال کو بار آور کرتا ہے تا کہ اسے بڑھا دے اور گناہوں سے درگزر کرتا ہے تا کہ انہیں نا پید کر دے ۔ امیدیں تیری سرحد کرم چھونے سے پہلے کامران ہو کر پلٹ آئیں اور طلب و آرزو کے ساغر تیرے فیضان جود سے چھلک اٹھے اورصفتیں تیرے کمال ذات کی منزل تک پہنچنے سے درماندہ ہو کر منتشر ہو گئیں اس لیے کہ بلند ترین رفعت جو ہر کنگرہ بلند سے بالا تر ہے اور بزرگ ترین عظمت جو ہر عظمت سے بلند تر ہے تیرے لیے مخصوص ہے۔بزرگ تیری شرف کے مقابلہ میں حقیر ہے جنہوں نے تیرے غیر کا رخ کیا وہ ناکام ہوئے جنہوں نے تیرے سوا دوسروں سے طلب کیا وہ نقصان میں رہے۔ جنہوں نے تیرے سوا دوسروں کے ہاں منزل کی وہ تباہ ہوئے ، جو تیرے فضل کے بجائے دوسروں سے رزق ونعمت کے طلب گار ہوئے وہ قحط ومصیبت سے دو چار ہوئے تیرا دروازہ طلبگاروں کے لیے وا ہے اور تیرا جودو کرم سائلوں کے لیے عام ہے ۔ تیری فریاد رسی داد خواہوں سے نزدیک ہے، امیدوار تجھ سے محروم نہیں رہتے اورطلب گار تیری عطا و بخشش سے مایوس نہیں ہوتے اور مغفرت چاہنے والے پر تیرے عذاب کی بد بختی نہیں آتی ۔ تیرا خوان نعمت ان کے لیے بھی بچھا ہوا ہے جو تیری نافرمانی کرتے ہیں اورتیری بردباری ان کے بھی آڑے آتی ہے جو تجھ سے دشمنی رکھتے ہیں۔ بروں سے نیکی کرنا تیری روش اورسرکشوں پر مہربانی کرنا تیرا طریقہ ہے یہاں تک کہ نرمی وحلم نے انہیں (حق کی طرف ) رجوع ہونے سے غافل کر دیا اور تیری دی ہوئی مہلت نے انہیں اجتناب معاصی سے روک دیا ۔ حالانکہ تو نے ان سے نرمی اس لیے کی تھی کہ وہ تیرے فرمان کی طرف پلٹ آئیں اور مہلت اس لیے دی تھی کہ تجھے اپنے تسلط واقتدار کے دوام پر اعتماد تھا کہ ( جب چاہے انہیں اپنی گرفت میں لے سکتا ہے ) اب جو خوش نصیب تھا اس کا خاتمہ بھی خوش نصیبی پر کیا ۔ اور جو بد نصیب تھا اسے ناکام رکھا ۔( وہ خوش نصیب ہوں یا بد نصیب ) سب کے سب تیر ے حکم کی طرف پلٹنے والے ہیں اور ان کا مآل تیرے امر سے وابستہ ہے ان کی طویل مدت مہلت سے تیری دلیل وحجت میں کمزوری رونما نہیں ہوتی ۔ (جیسے اس شخص کی دلیل کمزور ہوجاتی ہے جو اپنے حق کے حاصل کرنے میں تاخیر کرے ) اور فوری گرفت کو نظر انداز کرنے سے تیری حجت وبرہان باطل نہیں قرار پائی( کہ یہ کہا جائے کہ اگر اس کے پاس ان کے خلاف دلیل وبرہان ہوتی تو وہ مہلت کیوں دیتا )تیری حجت برقرار ہے جو باطل نہیں ہو سکتی اور تیری دلیل محکم ہے جو زائل نہیں ہو سکتی لہذا دائمی حسرت واندو اسی شخص کے لیے ہے جو تجھ سے روگردان ہوا اور رسوا کن نامرادی اسی کے لیے ہے جو تیرے ہاں سے محروم رہا اور بد ترین بدبختی اسی کے لۓ ہے جس نے تیری (چشم پوشی سے )فریب کھایا ۔ ایسا شخص کس قدر تیرے عذاب میں الٹے پلٹے کھاتا اور کتنا طویل زمانہ تیرے عقاب میں گردش کرتا رہے گا ۔ اوراس کی رہائی کا مرحلہ کتنی دور اوربآسانی نجات حاصل کرنے سے کتنا مایوس ہوگا۔ یہ تیرا فیصلہ از روئے عدل ہے جس میں ذرا بھی ظلم نہیں کرتا ۔ اور تیرا یہ حکم مبنی بر انصاف ہے جس میں اس پر زیادتی نہیں کرتا ۔ اس لیے کہ تو نے پے در پے دلیلیں قائم اور قابل قبول حجتیں آشکارا کر دیں ہیں اور پہلے سے ڈرانے والی چیزوں کے ذریعہ آگاہ کر دیا ہے اور لطف ومہربانی سے (آخرت کی ) ترغیب دلائی ہے اورطرح طرح کی مثالیں بیان کی ہیں مہلت کی مدت بڑھا دی ہے اور (عذاب میں ) تاخیر سے کام لیا ہے حالانکہ توفوری گرفت پر اختیار رکھتا تھا۔ اورنرمی ومدارات سے کام لیا ہے باوجودیکہ تو تعجیل کرنے پر قادر تھا ۔ یہ نرم روی ، عاجزی کی بنا پر اور مہلت دہی کمزوری کی وجہ سے نہ تھی اور نہ عذاب میں توقف کرنا غفلت وبے خبری کے باعث اور نہ تاخیر کرنا نرمی وملاطفت کی بنا پر تھا ۔ بلکہ یہ اس لیے تھا کہ تیری حجت ہر طرح سے پوری ہو ۔ تیرا کرم کامل تر ، تیرا احسان فراواں ، اور تیری نعمت تمام تر ہو یہ تمام چیزیں تھیں اور رہیں گی ، درآنحالیکہ تو ہمیشہ سے ہے اورہمیشہ رہے گا۔ تیری حجت اس سے بالا تر ہے کہ اس کے تمام گوشوں کو پوری طرح بیان کیا جا سکے اورتیری عزت وبزرگی اس سے بلند تر ہے کہ اس کی کنہ وحقیقت کی حدیں قائم کی جائیں اورتیری نعمتیں اس سے فزوں تر ہیں کہ ان سب کا شمار ہو سکے اور تیرے احسانات اس سے کہیں زیادہ تر ہیں کہ ان میں کے ادنے احسان پر بھی تیرا شکریہ ادا کیا جا سکے ۔ (میں تیری حمد وسپاس سے عاجز اوردرماندہ ہوں ۔ گویا) خاموشی نے تیری پے در پے حمد سپاس سے مجھے ناتواں کر دیا ہے اور توقف نے تیری تمجید و ستائش سے مجھے گنگ کر دیا ہے اور اس سلسلہ میری توانائی کی حد یہ ہے کہ اپنی درماندگی کا اعتراف کروں ۔ یہ بے رغبتی کی وجہ سے نہیں ہے۔ اے میرے معبود! بلکہ عجز وناتوانائی کی بنا پر ہے۔ اچھا تو میں اب تیری بارگاہ میں حاضر ہونے کا قصد کرتا ہوں اور تجھ سے حسن اعانت کا خواستگار ہوں ۔ تو محمد اوران کی آل پر رحمت نازل فرما اور میری راز ونیاز کی باتوں کو سن اور میری دعا کو شرف قبولیت بخش اور میرے دن کو ناکامی کے ساتھ ختم نہ کر اور میرے سوال میں مجھے ٹھکرا نہ دے ۔ اور اپنی بارگاہ سے پلٹے اور پھر پلٹ کر آنے کو عزت واحترام سے ہمکنار فرما۔ اس لیے کہ تجھے تیرے ارادہ میں کوئی دشواری حائل نہیں ہوتی اور جو چیز تجھ سے طلب کی جائے ا س کے دینے سے عاجز نہیں ہوتا ۔ اور تو ہرچیز پر قادر ہے اور قوت وطاقت نہیں سوا اللہ کے سہارے کے جو بلند مرتبہ وعظیم ہے ۔

مآخذ

  • انصاریان، حسین، دیار عاشقان: تفسیر جامع صحیفہ سجادیہ، چ۱، تہران: پیام آزادی، ۱۳۷۳ش.
  • جزائری، عزالدین، شرح الصحیفہ السجادیہ، بیروت: دارالتعارف للمطبوعات، ۱۴۰۲ق.
  • حسینی مدنی، سید علیخان، ریاض السالکین فی شرح صحیفۃ سیدالساجدین، قم: مؤسسہ النشر الاسلامی، ۱۴۰۹ق.
  • شفیع حسینی، محمدباقر، حل لغات الصحیفہ السجادیہ، مشہد: تاسوعا، ۱۴۲۰ق.
  • فضل‌اللہ، سید محمدحسین، آفاق الروح، ۲ج، بیروت: دارالمالک، ۱۴۲۰ق.
  • فیض کاشانی، محمدبن مرتضی، تعلیقات علی الصحیفہ السجادیہ، تہران: مؤسسہ البحوث و التحقیقات الثقافیہ، ۱۴۰۷ق.
  • مدرسی چہاردہی، محمدعلی، شرح صحیفہ سجادیہ، چ۱، تہران: مرتضوی، ۱۳۷۹ش.
  • مغنیہ، محمدجواد، فی ظلال الصحیفہ السجادیہ، چ۴، قم: دار الکتاب الاسلامی، ۱۴۲۸ق.
  • ممدوحی کرمانشاہی، حسن، شہود و شناخت: ترجمہ و شرح صحیفہ سجادیہ، با مقدمہ آیت‌اللہ جوادی آملی، چ۲، قم: بوستان کتاب، ۱۳۸۵ش.