مندرجات کا رخ کریں

"عزاداری" کے نسخوں کے درمیان فرق

مکوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
imported>E.musavi
سطر 4: سطر 4:
تاریخ کی گزارش کے مطابق، چوتھی صدی کے آخر میں عزاداری کے معتقد اور مخالف گروہ کے درمیان اختلاف شروع ہوا. سنہ ٣٦٢ق، [[بغداد]] میں اعلانیہ طور پر کی گئی پہلی عزاداری کے دس سال بعد، [[محرم]] کے موقع پر، اختلاف شروع ہوا ابن اثیر نے الکامل میں لکھا ہے کہ اس عزاداری میں ١٧ ہزار کے قریب افراد کو آگ میں جلایا گیا اور ٣٠٠ دوکانیں اور ٣٣ مساجد خراب کی گئیں اور بہت زیادہ مال لوٹا گیا. <ref>مظاهری، «عزاداری»، در فرهنگ سوگ شیعی، ۱۳۹۵ش، ص ۳۴۶.</ref>بعض حکومتوں کا عزاداری کو روکنا (جیسے سلطان محمود غزنوی)، باعث بنا کہ اہل تشیع کی نگاہ میں عزاداری کو زیادہ اہمیت حاصل ہونے لگی. <ref>مظاهری، «عزاداری»، در فرهنگ سوگ شیعی، ۱۳۹۵ش، ص ۳۴۶ و ۳۴۷.</ref>
تاریخ کی گزارش کے مطابق، چوتھی صدی کے آخر میں عزاداری کے معتقد اور مخالف گروہ کے درمیان اختلاف شروع ہوا. سنہ ٣٦٢ق، [[بغداد]] میں اعلانیہ طور پر کی گئی پہلی عزاداری کے دس سال بعد، [[محرم]] کے موقع پر، اختلاف شروع ہوا ابن اثیر نے الکامل میں لکھا ہے کہ اس عزاداری میں ١٧ ہزار کے قریب افراد کو آگ میں جلایا گیا اور ٣٠٠ دوکانیں اور ٣٣ مساجد خراب کی گئیں اور بہت زیادہ مال لوٹا گیا. <ref>مظاهری، «عزاداری»، در فرهنگ سوگ شیعی، ۱۳۹۵ش، ص ۳۴۶.</ref>بعض حکومتوں کا عزاداری کو روکنا (جیسے سلطان محمود غزنوی)، باعث بنا کہ اہل تشیع کی نگاہ میں عزاداری کو زیادہ اہمیت حاصل ہونے لگی. <ref>مظاهری، «عزاداری»، در فرهنگ سوگ شیعی، ۱۳۹۵ش، ص ۳۴۶ و ۳۴۷.</ref>


==اہل سنت اور عزادای==
==اہل سنت اور عزاداری==
بعض ایران میں رہنے والے اہل سنت، بالخصوص شافعی مذہب نے پانچویں صدی کے بعد، عاشورا کی مجالس برپا کرنے میں شیعوں کی مدد کی اور حتی کہ خود الگ بھی عزاداری کا اہتمام کیا. اس طرح عزاداری میں اختلاف کم ہو گیا، یہاں تک کہ صفوی دور میں عزاداری زیادہ ہونے لگی اور ذکر مصیبت اور مجلس سے بڑھ کر خاص آداب اور تشریفات عزاداری میں اضافہ ہو گئے. یہی قاجار کے زمانے تک چلتا رہا. <ref> مظاهری، «عزاداری»، در فرهنگ سوگ شیعی، ۱۳۹۵ش، ص ۳۴۶ و ۳۴۷.</ref>
بعض ایران میں رہنے والے اہل سنت، بالخصوص شافعی مذہب نے پانچویں صدی کے بعد، عاشورا کی مجالس برپا کرنے میں شیعوں کی مدد کی اور حتی کہ خود الگ بھی عزاداری کا اہتمام کیا. اس طرح عزاداری میں اختلاف کم ہو گیا، یہاں تک کہ صفوی دور میں عزاداری زیادہ ہونے لگی اور ذکر مصیبت اور مجلس سے بڑھ کر خاص آداب اور تشریفات عزاداری میں اضافہ ہو گئے. یہی قاجار کے زمانے تک چلتا رہا. <ref> مظاهری، «عزاداری»، در فرهنگ سوگ شیعی، ۱۳۹۵ش، ص ۳۴۶ و ۳۴۷.</ref>


گمنام صارف