حسین بن روح نوبختی

ویکی شیعہ سے
(حسین بن روح سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
حسین بن روح کا مزار
انفرادی مشخصات
مکمل نام حسین بن روح نوبختی
کنیت ابوالقاسم
لقب نوبختی • قمی• روحی
دینی مشخصات
وجہ شہرت تیسرا نائب خاص امام زمانہ(ع)


ابو القاسم حسین بن روح نوبختی (متوفی 326ھ) امام زمانہ(عج) کے تیسرے نائب خاص، امام حسن عسکریؑ کے اصحاب اور بغداد میں محمد بن عثمان (دوسرے نائب خاص) کے قریبی معتمدین میں سے تھے۔ محمد بن عثمان نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں امام زمانہؑ کے حکم سے حسین بن روح کو اپنا جانشین مقرر کیا۔

نیابت کے ابتدائی دور میں حسین بن روح بنی عباس کے حکام کے یہاں ممتاز مقام و منصب کے حامل تھے۔ لیکن بعد میں ان کے تعلقات خراب ہو گئے یوں آپ کو کچھ مدت کیلئے مخفیانہ زندگی گزارنا پڑا اور آخر کار پانچ سال کیلئے زندان بھی جانا پڑا۔

حسین بن روح کے دوران نیابت کے اہم ترین واقعات میں سے ایک شلمغانی کا واقعہ ہے جو ان کا مورد اعتماد وکیل تھا لیکن گمراہی کا شکار ہوا۔ اس بنا پر امام زمانہؑ کی طرف سے ان کی مذمت میں توقیعات بھی صادر ہوئیں۔

بعض فقہی کتابوں کی تصنیف اور علمی مناظرات میں مختلف موضوعات پر عبور اور تسلط رکھنے کی بنا پر آپ کو علمی حلقوں میں ممتاز حیثیت حاصل تھی یہاں تک کہ بعض احادیث کی کتابوں میں کرامات بھی ان سے منسوب کی گئی ہیں۔

سوانح حیات

آپ کی تاریخ پیدایش کے حوالے سے کوئی دقیق معلومات دستیاب نہیں ہے۔ آپ کی کنیت ابوالقاسم جبکہ نوبختی، روحی[1] اور قمی[2] کے القاب سے ملقب ہیں۔ ایران کے شہر آبہ (ساوہ کے نزدیک) کی زبان بولنے اور وہاں کے باسیوں سے رفت و آمد کی وجہ سے آپ کو قمی کہا جاتا تھا۔[3] لیکن اکثر منابع میں آپ نوبختی کے نام سے مشہور ہیں۔ جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ آپ ماں کی طرف سے خاندان نوبختی سے تعلق رکھتا تھا اسلئے اس نام سے مشہور ہوئے ہیں۔[4] بعض مورخین کے مطابق آپ کا تعلق قم کے ایک قبیلہ بنی نوبخت سے تھا اور امام زمانہ کے پہلے نائب عثمان بن سعید کی نیابت کے دوران بغداد چلے گئے تھے۔[5]

امام حسن عسکری(ع) کے زمانے میں

ضریح حسین بن روح

آیا آپ امام حسن عسکری(ع) کے اصحاب میں سے بھی تھے یا نہیں اس بارے میں اختلاف نظر پایا جاتا ہے۔ ابن شہرآشوب نے المناقب میں آپ کو امام حسن عسکری(ع) کے اصحاب اور ساتھیوں میں سے قرار دیا ہے،[6] لیکن علم رجال کے دوسرے ماہرین نے اس حوالے سے کچھ نہیں کہا ہے۔ بعض مورخین کے مطابق اس بات کا صحیح ہونا مشکل نظر آتا ہے کیوں کہ امام حسن عسکری(ع) سن ۲۶۰ق میں شہید ہوئے ہیں جبکہ نوبختی سن ۳۲۶ق میں وفات پائی ہے۔[7]

ذاتی صفات

حسین بن روح اپنے زمانے کے داناترین اور عاقل‌ترین افراد میں سے تھے جو زمانے کے تقاضوں سے مکمل آشنائی رکھتے تھے اور مخالفین کے ساتھ معاشرت میں تقیہ سے کام لیتے تھے؛[8] یہاں تک کہ اپنے ایک غلام کو معاویہ کیلئے ناسزا کہنے کی وجہ سے برطرف کر دیا۔[9]

جاسم حسین، امام زمانہ(ع) کی غیبت کی سیاسی تاریخ نامی کتاب میں کہتے ہیں کہ حسین بن روح کی شخصی صفات، ذاتی مہارتیں اور استعدادات ہیں جس نے اسے امام زمانہ کی نیابت کا لائق بنایا تھا۔[10] محمد بن عثمان کی بیٹی ام کلثوم حسین بن روح کا اپنے والد کے ساتھ تعلقات کے بارے میں کہتے ہیں کہ حسین بن روح میرے والد محترم کے قریبی اور با اعتماد ساتھیوں میں سے تھے اور میرے والد محترم اپنی زندگی کی خصوصی مسائل پر بھی حسین بن روح کے ساتھ صلاح مشورے کیا کرتے تھے۔ [11]

"ابوسہل نوبختی" ان کی رازداری کے بارے میں کہتے ہیں کہ اگر وہ امام کو اپنے دامن کے نیچے چھپا رکھا ہو اور امام کی تلاش میں ان کے بدن کو قیچی سے کاٹ کر ٹکڑوں میں تبدیل کر دیا جائے تو بھی وہ امام کے بارے میں کسی کو نہیں بتائے گا۔[12]

وفات

حسین بن روح نوبختی 18 شعبان سن ۳۲۶ق کو اس دنیا سے وفات کر گئے۔ ان کی قبر بغداد کے نوبختیہ محلے کے عطاران یا شورجہ بازار میں واقع ہے جو اس وقت "مقام حسین بن روح" کے نام سے مشہور ہے جہاں پر شیعہ ان کی زیارت کیلئے جاتے جاتے ہیں۔[13]

امام زمانہ(ع) کی نیابت

امام زمانہ(ع) کے دوسرے نائب خاص محمد بن عثمان عمری کی وفات کے بعد سن ۳۰۵ق کو حسین بن روح امام کے تیسرے نائب خاص کے عہدے پر فائز ہوئے۔ اس سے پہلے آپ محمد بن عثمان کے با اعتماد اور قریبی ساتھیوں میں سے تھے اور مالی اور اقتصادی معاملات میں وہ محمد بن عثمان کے معاونین[14] اور بغداد میں ان کے دوسرے وکلاء کے ساتھ رابط بھی تھے۔[15]

امام زمانہ(ع) کی طرف حسین بن روح کی تائید
"ہم انہیں(حسین بن روح کو) جانتے ہیں، میری دعا ہے کہ خدا انہیں تمام اچھائیوں سے آگاہ فرمائے اور انہیں اپنے لطف و کرم سے خوش و خرم رکھے۔ ان کی درخواست سے آگاہ ہوں اور ان کو دی گئی ذمہ داری کو اچھی طرح نماٹانے کی امید ہے۔ وہ ہمارے پاس ایسے مقام و منزلت کے حامل ہیں جو ان کی خوشنودی کا باعث بنے گا۔ خدا ان پر اپنے فضل و کرم کی فراوانی مرحمت فرمائے۔"


اگرچہ محمد بن عثمان کے بغداد میں وکلاء کی تعداد تقریبا دس نفر تھے لیکن انہوں نے اپنی بیماری کے وقت حسین بن روح کو اپنا جانشین اور امام کا نائب مقرر کیا اور اپنی موت کے بعد شیعہ بزرگان سے ان کی اطاعت کرنے کی سفارش کی۔[16] چنانچہ علامہ مجلسی لکھتے ہیں کہ جس دن محمد بن عثمان اس دنیا سے رخصت کر گئے، حسین بن روح ان کے گھر میں تھے اور ان کے غلام نے ایک صندوقچہ حسین بن روح کے حوالے کیا جس میں ودایع امامت موجود تھیں۔[17] محمد بن عثمان کی وفات کے کچھ دن بعد یعنی 5 شوال سن ۳۰۵ق کو حسین بن روح کی تائید میں امام زمانہ(ع) کی پہلی توقیع صادر ہوئی۔ [18]

بعض تاریخی شواہد سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ شیعوں کے یہاں پہلے اور دوسرے نائب کی بنسبت حسین بن روح زیادہ معروف تھا اسی وجہ سے بعض شیعہ حضرات اپنے علاقے کے وکلاء کو نظر انداز کرتے ہوئے براہ راست حسین بن روح سے رابطے میں رہنے کی کوشش کرتے تھے۔[19]

وکلا اور کارگزاران

حسین بن روح نے بغداد میں دس وکلاء اور دوسرے اسلامی شہروں میں موجود اپنے وکلاء کے ذریعے امام زمانہ(ع) کی نیابت کے فرائض کو انجام دینا شروع کیا ان کے بعض وکلاء اور کارگزاران کے اسماء درج ذیل ہیں:

  • محمد بن نفیس، اہواز میں اور حسین بن روح کے نیابت کے دوران امام زمانہ کی پہلی توقیع ان کے توسط سے شایع ہوئی۔
  • جعفر بن احمد بن متیل
  • ابو عبد اللّہ کاتب
  • احمد بن متیل
  • احمد بن ابراہیم نوبختی
  • ابوسہل نوبختی
  • محمد بن حسن صیرفی، بلخ میں
  • محمد بن جعفر اسدی رازی، شہر ری میں
  • حسن بن علی وجناء نصیبی، نصیبین میں
  • [محمد بن ہمام اسکافی
  • قاسم بن علاء، آذربایجان میں
  • محمد بن علی شلمغانی جو بعد میں گمراہ ہوا اور وکالت کے عہدے سے معزول ہوا۔[20]

حکومت وقت کے یہاں ان کا مقام و مرتبہ

حسین بن روح، محمد بن عثمان کی نیابت کے دوران عباسی خلفاء کے دربار میں بلند مقام کا حامل تھا یوں حکومت کی طرف سے ان کی مالی تعاون بھی ہوتی تھی۔ [21] اسی طرح جس وقت انہوں نے خود امام زمانہ(ع) کی نیابت کا عہدہ سنبھالا پھر بھی "مقتدر عباسی" کی خلافت کے دوران عباسیوں کے یہاں ان کا نفوذ تھا اور وہ آپ کی نہایت احترام کیا کرتے تھے۔ حکومت وقت کے یہاں ان کے اس مقام و منزلت کی وجہ ایک تو نوبختی خاندان کے اثر و رسوخ تھی اور دوسری طرف سے "ابوالحسن علی بن محمد" کی وزارت میں موجود آل فرات کی وجہ سے تھا جو شیعوں کی حمایت کرتا تھا۔ [22] محمد بن عثمان کی بیٹی ام کلثوم کے بقول اس دوران آل فرات کی جانب سے حسین بن روح کے یہاں بعض اوقات مالی امداد بھی پہنچتی تھی۔[23] حاکم وقت کے یہاں ان کے مقام و منزلت کی ایک اور وجہ ان کا محتاطانہ رویہ بھی قابل غور ہے جس کی بنیاد پر آپ نے اپنے آپ کو قرامطہ جیسے گروہ کی مزاحمتی تحریکوں کا حصہ بننے سے دور رکھا۔[24]

لیکن "حامد بن عباس" کی بر سر اقتدار آنے کے بعد شیعہ مخالف کارندوں کی وجہ سے آپ کیلئے حاکم وقت کے دربار میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔[25]

حسین بن روح کی روپوشی

حسین بن روح منصب نیابت خاصہ سنبھالنے کے کچھ عرصے بعد روپوش ہونے پر مجبور ہوئے۔ ان کی اس روپوشی کی مدت کے بارے میں کوئی دقیق معلومات نہیں لیکن یہ احتمال دیا جاتا ہے کہ انہوں نے حامد بن عباس کی وزارت میں سن 306 ہجری سے 311 ہجری تک حکومت کی گرفت سے بچنے کیلئے روپوشی اختیار کی تھی۔ شیخ طوسی کے مطابق، حسین بن روح کی روپوشی کے دوران شلمغانی ان کے اور عوام کے درمیان رابطے کا کردار ادا کرتا تھا۔[26] لیکن شلمغانی کچھ عرصہ بعد حلول اور غلو کی طرف مائل ہوا اور حسین بن روح نے لوگوں کو اس کے ساتھ تعلق رکھنے سے منع کیا اور سنہ 312 میں امام زمانہ(عج) کی طرف سے توقیع صادر ہوئی جس میں اس پر لعن کیا گیا تھا۔[27]

نائب امام زمانہ(عج) قیدخانے میں

حسین بن روح نوبختی نے امام زمانہ(عج) کی نیابت خاصہ کے دوران اپنی بابرکت زندگی کے پانچ سال (سنہ 312 سے 317ہجری قمری تک) عباسی بادشاہ مقتدر باللہ کے قید خانے میں بسر کئے۔ شیعہ منابع میں آپ کی گرفتاری کے اسباب کا کوئی تذکرہ نہیں کیا گیا ہے لیکن تاریخی منابع میں اس حوالے سے دو قول موجود ہیں:

  1. برسر اقتدار حکومتی دیوان کو ٹیکس کی ادائیگی سے انکار
  2. قرامطہ کے ساتھ رابطہ جو اس وقت بحرین پر مسلط تھے۔[28]

بعض معاصر محققین کا کہنا ہے کہ انہیں امام زمانہ(ع) کی نیابت کی وجہ سے ملنے والی شہرت، شیعوں کا ان سے رابطہ، شیعوں کے درمیان ان کی مقبولیت اور اس دور میں شیعوں کو منظم اور فعال رکھنے میں ان کے کردار نیز شیعوں سے وجوہات کی جمع آوری اور ان کو امام زمانہ(ع) تک پہنچانے کی وجہ سے گرفتار کیا گیا تھا۔ قید خانے سے رہائی کے بعد عباسی حکومت میں نوبختی خاندان کے اثر و رسوخ کی وجہ سے پھر کسی میں ان کے لئے مزااحمت ایجاد کرنے کی جرأت پیدا نہیں ہوئی۔[29]

شلمغانی کا فتنہ

ابو جعفر محمد بن علی شَلْمَغانی المعروف بہ "ابن عَزاقِر" بغداد کے شیعہ علماء اور حسین بن روح کے قریبی ساتھیوں میں سے تھا۔ حسین بن روح نے امام زمانہ کی نیابت کے عہدے پر فائز ہونے کے بعد انہیں اپنا وکیل مقرر کیا اور شیعوں کے امور ان کے حوالے کی یہاں تک کہ حسین بن روح کی روپوشی اور زندانی کے دوران امام زمانہ(ع) سے صادر ہونے والی توقیعات شلمفانی کے ذریعے منتشر ہوتی تھیں۔[30] لیکن حسین بن روح کے زندانی کے عرصے میں انہوں نے موقع سے غلط فائدہ اٹھاتے ہوئے شروع میں اپنی نیابت کا اعلان کرتے ہوئی اپنے آپ کو "باب المہدی" معرفی کرنا شروع کیا بعد میں اپنی عقیدے سے منحرف اور گمراہ ہو گیا۔ جب حسین بن روح کو ان کی گمراہی کا پتہ چلا تو عباسی حکومت کے قید خانے سے خطوط کے ذریعے شیعیان اہل بیت کو ان کے ساتھ رابطہ رکھنے سے منع کیا اور سنہ 312 ہجری کو امام زمانہ(عج) کی طرف سے توقیع صادر ہوئی جس میں اس پر لعن کیا گیا تھا۔[31]

کرامات اور علمی مقام

حسین بن روح نے علم فقہ میں "التأدیب" نامی کتاب لکھی اور اسے نظر ثانی کیلئے قم کے حوزہ علمیہ بھیجی اور ان سے درخواست کی گئی تھی کہ ان کے مخالف نظریات کی نشاندہی کریں۔ قم کے علماء نے نظر ثانی کے بعد اس کتاب کے سوائے ایک مطلب کے سارے مضامین کی تائید کر کے ان کی طرف واپس بھیج دیئے۔[32]

انہوں نے اپنی نیابت کے دوران مختلف مناظرات میں بھی حصہ لیا جن کی تفصیل حدیثی منابع میں موجود ہے۔[33] ان مناظرات میں انہوں نے جو جوابات دئے ہیں اس سے دینی مسائل میں ان کی دقت نظری اور ان کی علمی مقام کا پتہ چلتا ہے۔[34]

ان سے احادیث بھی نقل ہوئی ہیں۔[35] شیخ طوسی نے زیارت رجبیہ کو حسین بن روح نوبختی سے نقل کی ہیں۔[36]

  • کرامات

بعض منابع میں حسین بن روح کی طرف بعض کرامات بھی منسوب کی گئی ہیں؛ اس سلسلے میں کہا جاتا ہے کہ آپ بعض اوقات مد مقابل کی شک و تردید کو دور کرنے اور اپنی حقانیت کو ثابت کرنے کیلئے بعض اسرار و رموز کو فاش اور بعض علامتوں کو آشکار کرتے تھے۔ علی بن بابویہ (شیخ صدوق کے والد محترم) کی طرف سے بیٹا ہونے کے لئے امام زمانہ سے دعا اور دوسرے موقع پر سفر حج میں اپنی ذمہ داری معلوم کرنے کیلئے امام زمانہ(ع) سے کی گئی درخواست پر مبنی خطوط،[37] احمد بن اسحاق قمی کی موت کے بارے میں خبر دینا،[38]محمد بن حسن صیرفی کو گمشدہ سونے کا پتہ بتانا[39] اور اس طرح کے دیگر واقعات جو اس حوالے سے نقل ہوئے ہیں، ان کی کرامات کے بعض نمونے ہیں۔

متعلقہ صفحات

حوالہ جات

  1. طوسی، الغیبۃ، ۱۴۱۱ق، ص۲۲۵.
  2. کشی، رجال کشی، ۱۳۴۸ش، ص۵۵۷.
  3. صدوق، کمال الدین، ۱۳۹۵ق، ج۲، ص۵۰۳-۵۰۴.، طوسی، الغیبۃ، ۱۴۱۱ق، ص۱۹۵.، اقبال آشتیانی، خاندان نوبختی، ۱۳۴۵ش، ص۲۱۴.
  4. اقبال آشتیانی، خاندان نوبختی، ۱۳۴۵ش، ص۲۱۴.
  5. جاسم حسین، تاریخ سیاسی غیبت امام دوازدہم، ۱۳۸۵ش، ص۱۹۲.
  6. ابن شہر آشوب، المناقب، ۱۳۷۹ق، ج۴، ۴۲۳.
  7. جاسم حسین، تاریخ سیاسی غیبت امام دوازدہم، ۱۳۸۵ش، ص۱۹۲.
  8. طوسی، الغیبہ، ۱۴۱۱ق، ص۱۱۲.
  9. طوسی، الغیبہ، ۱۴۱۱ق، ص۳۸۶.
  10. جاسم حسین، تاریخ سیاسی غیبت امام دوازدہم، ۱۳۸۵ش، ص۱۹۳و۱۹۴.
  11. طوسی، الغیبہ، ۱۴۱۱ق، ص۳۷۲.
  12. طوسی، الغیبہ، ۱۴۱۱ق، ص۳۹۱.
  13. طوسی، الغیبۃ، ۱۴۱۱ق، ص۲۳۸.
  14. جاسم حسین، تاریخ سیاسی غیبت امام دوازدہم، ۱۳۸۵ش، ص۱۹۲.، ذہبی، سیر اعلام النبلاء، ۱۴۱۳ق، ج۱۵، ص۲۲۲.
  15. صدوق، کمال الدین، ۱۳۹۵ق، ج۲، ص۵۰۱و۵۰۲.
  16. طوسی، الغیبہ، ۱۴۱۱ق، ص۳۷۱.
  17. مجلسی، بحار الانوار، ۱۴۰۳، ج۸۵، ص۲۱۱.
  18. طوسی، الغیبہ، ۱۴۱۱ق، ص۳۷۲.
  19. جاسم حسین، تاریخ سیاسی غیبت امام دوازدہم، ۱۳۸۵ش، ص۱۹۸.
  20. جاسم حسین، تاریخ سیاسی غیبت امام دوازدہم، ۱۳۸۵ش، ص۱۹۶.
  21. غفارزادہ، زندگانی نواب خاص امام زمان، ۱۳۷۵ش، ص۲۳۷.
  22. جاسم حسین، تاریخ سیاسی غیبت امام دوازدہم، ۱۳۸۵ش، ص۱۹۸.، جعفريان، حيات فكرى و سياسى ائمہ، ۱۳۸۱ش، ص۵۸۳.
  23. طوسی، الغیبۃ، ۱۴۱۱ق، ص۳۷۲.
  24. عظیم‌زادہ تہرانی، علل دستگیری حسین بن روح نوبختی، ۱۳۸۲ش.
  25. جعفريان، حيات فكرى و سياسى ائمہ، ۱۳۸۱ش، ص۵۸۳.
  26. الطوسی، الغیبۃ، ص303و 324۔
  27. طوسی، الغیبة، ص187، 252ـ253۔، طبرسی، اعلام الوری باعلام الهدی، ج2، ص290۔
  28. عظیم‌زادہ تہرانی، علل دستگیری حسین بن روح نوبختی، ۱۳۸۲ش.
  29. موسوی، کسائی، پژوہشی پیرامون زندگی سیاسی و فرہنگ نواب اربعہ، ۱۳۷۸ش.
  30. طوسی، الغیبۃ، ۱۴۱۱ق، ص۲۲۸، ۲۳۹، ۲۵۱و۲۵۲
  31. طوسی، الغیبۃ، ۱۴۱۱ق، ص۱۸۷، ۲۵۲و۲۵۳.
  32. امین، اعیان الشیعہ، ۱۴۲۱ق، ج۶، ص۲۲.
  33. طوسی، الغیبۃ، ۱۴۱۱ق، ص۳۲۴، ۳۷۳، ۳۷۸، ۳۸۸، ۳۹۰.، صدوق، کمال الدین، ۱۳۹۵ق، ۱۴۰۳ق، ج۲، ص۵۱۹.، مجلسی، بحار الانوار، ۱۴۰۳، ج۵۳، ص۱۹۲.
  34. صدر، تاریخ الغیبہ، ۱۴۱۲ق، ج۱، ص۴۸۳.
  35. خویی، معجم رجال الحدیث، ج۵، ص۲۳۶.
  36. طوسی، مصباح المتہجد، ۱۴۱۱ق، ص۸۲۱.
  37. نجاشی، رجال نجاشی، ۱۴۰۷ق، ص۲۶۱.، مجلسی، بحارالانوار، ۱۴۰۳ق، ج۵۱، ص۲۹۳.
  38. صدوق، کمال الدین، ۱۳۹۵ق، ج۲، ص۵۱۸و۵۱۹.
  39. مجلسی، بحار الانوار، ۱۴۰۳، ج۵۱، ص۳۴۲.


مآخذ

  • امین عاملی، سید محسن، اعیان الشیعۃ، بیروت، دارالتعارف، ۱۴۲۱ق.
  • صدوق، محمد بن علی، کمال الدین و تمام النعمۃ، تہران، اسلامیہ، ۱۳۹۵ق.
  • نجاشی، احمدبن علی، رجال النجاشی، چاپ موسی شبیری زنجانی، قم، ۱۴۰۷ق.
  • ابن شہر آشوب مازندرانی، محمد بن علی، مناقب آل ابی طالب، قم، علامہ، ۱۳۷۹ق.
  • طوسی، محمد بن حسن، رجال الکشی (اختیار معرفۃ الرجال)، مشہد، دانشگاہ مشہد، ۱۳۴۸ش.
  • طوسی، محمد بن حسن، الغیبۃ، قم، مؤسسۃ المعارف الاسلامیۃ، ۱۴۱۱ق.
  • طوسی، محمد بن حسن، مصباح المتہجد، بیروت، مؤسسہ فقہ الشیعۃ، ۱۴۱۱ق.
  • ذہبی، سیر أعلام النبلاء، إشراف وتخریج : شعیب الأرنؤوط، تحقیق: إبراہیم الزیبق، بیروت، مؤسسۃ الرسالۃ، ۱۴۱۳ق.
  • خویی، سیدابوالقاسم، معجم رجال الحدیث، بیروت، دارالزہراء، ۱۴۰۳ق.
  • صدر، سید محمد، تاریخ الغیبہ، بیروت، دارالتغارف، ۱۴۱۲ق.
  • اقبال آشتیانی، عباس، خاندان نوبختی، تہران، ۱۳۴۵ش.
  • جعفریان، رسول، حیات فکری و سیاسی امامان شیعہ، قم، انصاریان، ۱۳۸۱ش.
  • جاسم محمد حسین، تاریخ سیاسی غیبت امام دوازدہم، ترجمہ محمد تقی آیت‌اللہی، تہران، امیرکبیر، ۱۳۸۵ش.
  • غفارزادہ، علی، زندگانی نواب خاص امام زمان، قم، انتشارات نبوغ، ۱۳۷۹ش.
  • عظیم‌زادہ تہرانی، طاہرہ، علل دست‌گیری حسین بن روح نوبختی، تاریخ اسلام، بہار ۱۳۸۲ - شمارہ ۱۳.
  • موسوی، سید حسن؛ کسائی، نورالہ، پژوہشی پیرامون زندگی سیاسی و فرہنگ نواب اربعہ، دانشکدہ ادبیات و علوم انسانی دانشگاہ تہران، تابستان ۱۳۷۸ - شمارہ ۱۵۰.