ناصر کبیر

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
ناصر کبیر
حسن اطروش کا مقبرہ
کوائف
نام حسن بن علی بن حسن بن علی بن عُمر بن علی بن حسینؑ
لقب ناصر کبیر، ناصر اطروش، ناصر للحق۔
تاریخ/محل پیدائش تقریبا 230 ھ، مدینہ
اولاد احمد (صاحب الجیش) سردار سپاہ ناصر کبیر
مذہب شیعہ یا زیدیہ
تاریخ/محل دفن آمل (ایران)
حکومت
سمت حاکم طبرستان
سلسلہ علویان طبرستان
محدودہ طبرستان، دیلم و مشرقی گیلان کے بعض علاقے۔
آغاز 301 ھ
انجام 304 ھ
مرکز آمل (مازندران)
آثار باقی ماندہ کتاب الاحتساب و کتاب البساط۔
قبل از حسن بن قاسم
بعد از محمد بن زید (270-287 ھ)

ناصر کبیر (230۔304 ھ) تیسری صدی ہجری میں طبرستان کے تیسرے علوی حاکم اور امام زین العابدین کی اولاد میں سے ہیں۔ ان کا اصلی نام حسن بن علی اور لقب ناصر اطروش و ناصر للحق تھا۔ وہ ایک عادل فرمانرا تھے اور تاریخ طبری کے مطابق، اہل طبرستان ان کی حکومت کی طرح کسی اور حکومت کو عادلانہ نہیں مانتے ہیں۔ سید مرتضی نے ان کے علمی مرتبے، زہد و فقاہت کا ذکر کیا ہے۔

انہوں نے اہل طبرستان کو مسلمان اور شیعہ کرنے میں نہایت اہم کردار ادا کیا ہے۔ جب ناصر کبیر کی حکومت طبرستان کے علاوہ شمال ایران کے دوسرے علاقوں دیلم و مشرقی گیلان کے حصوں تک پھیل گئی تو انہوں نے اپنی حکومت کا مرکز آمل کو قرار دیا۔ علما و دانشمندان کی حمایت، سادات کو طبرستان میں بسنے کی دعوت اور مساجد کی تعمیر ان کے اہم اقدامات میں سے ہیں۔

ناصر کبیر زیدی مسلک تھے۔ حالانکہ افندی اصفہانی نے ریاض العلما میں ان کا شمار بزرگان امامیہ میں کیا ہے۔ ان کے بقول ناصر کبیر کی بعض تالیفات شیعہ امامیہ مذہب کے مطابق و بعض زیدی مسلک کے مطابق ہیں۔ امور حسبیہ کے بارے میں ان کی لکھی ہوئی کتاب الاحتساب اور اسی طرح سے علم کلام کی کتاب البساط اسی کی مثال ہیں۔ اسی طرح سے ان کی ایک فقہی تالیف بھی ہے جس کا جواب سید مرتضی نے کتاب مسائل الناصریات میں دیا ہے۔

سوانح حیات

حسن بن علی، معروف بہ ناصر کبیر و اطروش کا سلسلہ نسب تین واسطوں سے امام زین العابدینؑ کے فرزند عمر الاشرف سے ملتا ہے۔[1] وہ سید مرتضی علم الہدی اور سید رضی کے جد مادری ہیں۔[2]

ان کی ولادت ۲۳۰ ھ کے قریب مدینہ میں ہوئی۔[3] کوفہ اور دیگر شہروں کے مشایخ کے حضور نقل حدیث کرتے تھے۔ ناصر کبیر اور مذکورہ مشایخ نے ایک دوسرے سے روایت نقل کی ہے۔[4]

ناصر کبیر کے چار بیٹے تھے: ۱۔ محمد کا بچپن میں انتقال ہو گیا تھا۔ ۲۔ علی شاعر تھا۔ ۳۔ احمد امامی مذہب تھا جس کا لقب صاحب الجیش تھا۔ ۴۔ جعفر۔ البتہ تاریخی منابع کے مطابق، ناصر کبیر حسن بن قاسم کو جو ان کے چچا کے بیٹے اور امام حسن مجتبی کی اولاد میں سے تھے، اپنی اولاد پر ترجیح دیتے تھے۔[5] ان کے بیٹے احمد جن کا لقب صاحب الجیش تھا اور جو ان کی فوج کے سپہ سالار تھے، نے اپنے باپ کی بے توجہی کی وجہ ان کے مذہبی عقائد کو قرار دیا ہے۔ ناصر کبیر کے دوسرے فرزند علی نے زیدیوں کے نظریات کے رد میں قصیدہ نظم کیا تھا۔[6]

وفات و مقبرہ

علویان طبرستان کے علاقے

ناصر کبیر نے تین سال تین ماہ حکومت کے بعد 25 شعبان 304 ھ[7] میں آمل (ایران) میں وفات پائی۔[8] انہیں آمل میں قاسم بن علی کے گھر میں دفن کیا گیا۔[9]

ان کی قبر ہمیشہ زیدیوں کی توجہ کا مرکز رہی اور ابن اسفندیار نے آٹھویں صدی ہجری میں ان کے مزار کو زیارت گاہ و اہل زہد کے لئے محل سکونت کے طور پر پیش کیا ہے۔[10] ناصر کبیر نے شہر آمل میں ایک مدرسہ تعمیر کرایا تھا جو نویں صدی ہجری کے مورخ طہیر الدین مرعشی کے دور تک باقی تھا۔[11]

مقبرہ ناصر کبیر شہر آمل میں ساتویں صدی ہجری تک مع مدرسہ و کتب خانہ موجود تھا۔[12] نویں صدی ہجری میں حاکم مازندران سید علی مرعشی نے ایک بار پھر سے اس پر ایک بارگاہ تعمیر کرائی جو اب تک باقی ہے۔[13]

طبرستان پر حکومت و تبلیغ اسلام

ناصر اطروش کا مقبرہ و گنبد، مرمت سے پہلے

ناصر کبیر، حسن بن زید حسنی (250۔270 ھ) و محمد بن زید (270۔287 ھ) طبرستان کے پہلے و دوسرے حاکم کی حکومت کے دوران ان دونوں کی مدد کیا کرتے تھے۔ محمد بن زید کے قتل کے بعد انہوں نے ۱۴ سال تک گیلان و دیلم میں اسلام کی تبلیغ کی۔[14] ناصر کبیر نے ۳۰۱ ھ میں طبرستان میں علویوں کی تیسری حکومت قائم کی اور تیسرے حاکم بنے۔[15] انہوں نے طبرستان کے علاوہ دیلم و گیلان کے مشرقی علاقوں پر بھی حکومت کی۔[16] ان کی حکومت کا مرکز شہر آمل تھا۔[17] وہ ۳۰۴ ھ میں ۷۴ برس کی عمر میں اپنی وفات تک وہاں کے حاکم رہے۔[18]

ابن اسفندیار نے اپنی کتاب تاریخ طبرستان میں آخر عمر میں ناصر کبیر کے ترک حکومت کی خبر دی ہے اور نقل کیا ہے کہ ان کے ترک حکومت کے بعد بہت سے لوگوں نے ان کی طرف رجوع کیا تا کہ ان سے فقہ و حدیث میں استفادہ کر سکیں۔[19] اسی طرح سے ابن اثیر نے وفات کے وقت ان کی عمر ۷۹ سال ذکر کی ہے۔[20]

ان کے بعض اقدامات میں علما و دانشمندان کی حمایت، سادات کو طبرستان مین بسنے کی دعوت، قرآن کریم کی تعلیم، شعرا کی تشویق، مساجد کی تاسیس اور اسی طرح سے فقہ و حدیث و تفسیر قرآن کی تدریس جیسے امور ذکر ہوئے ہیں۔[21] تاریخی مصادر کے مطابق طبرستان کے لوگوں کے مسلمان اور شیعہ ہونے میں ناصر کبیر کا اہم کردار رہا ہے۔[22] اسی بنیاد پر دعوی کیا گیا ہے کہ ایک دن میں ۱۴ ہزار لوگ اس کے ہاتھ سے مسلمان ہوئے ہیں۔[23]

زیدی مسلک یا امامی مذہب

سید مرتضی نے جو چوتھی صدی ہجری[24] کے بزرگ ترین شیعہ علما میں سے اور ناصر کبیر، ماں کی طرف سے ان کے جد ہیں، اگر چہ ان کے علم و و زہد و فقاہت اور شمال میں اسلام کے فروغ کو ان کی کاوشوں کا نتیجہ قرار دیا ہے لیکن انہوں نے ان کے مسلک کا ذکر نہیں کیا ہے۔[25] البتہ محمد واعظ زادہ خراسانی کے مطابق، کتاب مسائل الناصریات جو سید مرتضی کی تالیف ہے جس میں سید نے ناصر کبیر کے آرائے فقہی پر حاشیے لگائے ہیں، اس کتاب سے ایک شیعہ امامی و زیدیہ عالم کے درمیان روح مفاہمت کا اندازہ ہے کہ جس کی بنیاد پر ناصر کبیر کے زیدیہ مذہب ہونے کا پتہ چلتا ہے۔[26] نجاشی نے جو پانچویں صدی ہجری کے ماہر رجال شیعہ علما میں سے ہیں، امامت پر ناصر کبیر کے اعتقاد کا تذکرہ کیا ہے اور امامت، فدک، خمس و شہادت جیسی کتابوں کی نسبت ان کی طرف دی ہے۔[27] نجاشی کے بقول، ناصر کبیر کی ایک کتاب شجرے و امام زمانہ تک فرزندان ائمہ کے سلسلہ میں بھی تھی۔[28]

افندی اصفہانی نے جو صفویہ دور کے علما میں سے ہیں، کتاب ریاض العلما و حیاض الفضلا میں ناصر کبیر کو بزرگ شیعہ امامی علما میں شمار کیا ہے اور ان کے مطابق، اس بات سے کہ وہ زیدیہ فرقے کے امام تھے، ان کے امامیہ مذہب ہونے میں کوئی تضاد نہیں ہے۔[29] حالانکہ افندی اصفہانی نے تصریح کی ہے کہ ناصر کبیر کی بعض تالیفات شیعہ امامیہ مذہب کے اعتبار سے ہیں تو بعض زیدیہ مسلک کی بنیاد پر ہیں۔[30]

امتیازات

تاریخی و رجالی مصادر نے ان کے حکومت کے عادلانہ ہونے اور اسی طرح سے ناصر کبیر کے فقہ و دیگر علوم سے آشنا ہونے کا ذکر ہوا ہے۔

عادل بادشاہ

ناصر اطروش یا ناصر کبیر کو عادل فرمانروا شمار کیا گیا ہے۔ ان کے معاصر مورخ طبری نے بھی اجرائے عدالت و حسن رفتار کی وجہ سے ان کی تعریف کی ہے اور کہا ہے کہ طبرستان کے لوگ کسی بھی حکومت کو ناصر کبیر کی حکومت کی طرح عادلانہ نہیں مانتے ہیں۔[31] ابو ریحان بیرونی نے تحریر کیا ہے کہ ناصر اطروش نے مکھیا و چودھری والے نظام اور مال و بیوی بچوں پر ان کی مالکیت کا خاتمہ کیا اور عوام میں سب کو ایک درجہ میں قرار دیا۔[32]

مقام علمی

سید مرتضی کے مطابق، ناصر کبیر کا علمی مرتبہ، زہد و فقاہت سب کے لئے عیاں تھا۔[33] وہ علما و فقہا کے ساتھ مناظرے اور اسی طرح سے مطالعہ حدیث کے لئے جلسات منعقد کیا کرتے تھے۔[34]

تالیفات و نظریات

کتاب الاحتساب

بعض منابع میں ناصر کبیر کی تالیفات کی تعداد تین سو زیادہ ذکر ہوئی ہے۔[35] ابن ندیم نے اپنی کتاب الفہرست میں ان کے دس سے زیادہ فقہی رسائل کا نام پیش کرنے کے بعد بعض زیدیوں کے دعوی کا ذکر کیا ہے جو ان کی تصنیفات کی تعداد ۱۰۰ تک مانتے ہیں۔[36] نجاشی نے بھی ان کی بعض کتابوں کے نام کا ذکر کیا ہے۔[37]

ان کی بعض کتب مندرجہ ذیل ہیں:

  • الاحتساب: اسلامی ریاستوں میں امور حسبیہ کے اجرا کے سلسلہ میں اولین کتاب میں سے ہے۔[38] جو کچھ انہوں نے اس کتاب میں ذکر کیا ہے اس کے مطابق، امام یا نمایدہ امام یعنی محتسب کو چاہئے کہ وہ کوچہ و بازار میں مردوں اور عورتوں کے اختلاط کو روکے۔[39] وہ اسی طرح سے پیغمبر اکرم (ص) کی روایت کی بنا پر زیارت قبور کو مباح اور میت پر عورتوں کے نوحے و جنازہ کے ساتھ ان کی ہمراہی کو جائز نہیں جانتے ہیں۔[40]
  • البساط: علم کلام کے موضوع پر کتاب ہے جس میں توحید، معرفت خداوند اور اسی طرح سے بندوں کے حق میں عدل خداوندی کے بارے میں بحث کی کئی ہے۔ یہ کتاب ناصر کبیر نے اپنے شاگردوں کے لئے تحریر کی تھی۔[41]

ناصر کبیر کی ایک فقہی کتاب بھی ہے جو مسائل الناصریات کے نام سے ایک مستقل کتاب ہے اور جس پر سید مرتضی نے ان کے نظریوں کے ساتھ اپنے فقہی نظریات کا ذکر کیا ہے۔[42]

سیمینار و ٹی وی سیریل

ٹی وی سیریل کا ایک منظر

سن 2013/2014 ء میں ناصر کبیر کی یاد میں ایران میں ایک بین الاقوامی کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس میں یمن، شام اور لبنان کے بعض مسلمان دانشوروں نے شرکت کی[43] اور اسی سلسلہ میں کانفرنس میں ناصر کبیر کے اوپر لکھے گئے مقالات کے مجموعہ کے طور پر ایک کتاب 'مجموعہ مقالات کانفرنس بین الاقوامی ناصر کبیر' کے عنوان سے شائع ہوئی۔ جس میں ان کی شخصیت، سوانح حیات، تالیفات و فقہی نظریات کے سلسلہ میں مقالات شامل تھے۔ اسی طرح سے اس کتاب میں مذہب زیدیہ اور زیدیہ و امامیہ مذہب میں موجود مشترکہ میراث پر مقالات بھی شائع ہوئے۔[44]

2012/2013 ء میں ایران کے صوبے مازندران کے ریاستی ٹی وی پر ناصر الحق کے نام سے ایک سیریل دکھایا گیا۔ جس میں طبرستان میں علویوں کے قیام و ناصر کبیر کے ذریعہ تشکیل حکومت کو 13 حصوں میں پیش کیا گیا ہے۔[45]

حوالہ جات

  1. سید مرتضی، مسائل الناصریات، ۱۴۱۷ق، ص۶۲-۶۳.
  2. سید مرتضی، مسائل الناصریات، ۱۴۱۷ق، ص۶۲-۶۳.
  3. بخاری، سر السلسلۃ العلویہ، ۱۳۸۱ق، ص۵۳؛ ناطق بالحق، الافادۃ فی تاریخ الائمۃ السادۃ، ۱۳۸۷ش، ص۵۰.
  4. اطروش، البساط، ۱۴۱۸ق، ص۵۶، ۵۸، ۶۵، ۷۲، ۷۵؛ شہاری، طبقات الزیدیہ الکبری، ۱۴۲۱ق، قسم ۳، ج۲، ص۱۱۱۳؛ ابن ابی الرجال، مطلع البدور و مجمع البحور، ۱۴۲۵ق، ج۲، ص۱۷۷.
  5. حکیمیان، علویان طبرستان، ۱۳۶۸ش، ص۹۷.
  6. حکیمیان، علویان طبرستان، ۱۳۶۸ش، ص۹۷.
  7. ناطق بالحق، الافادۃ فی تاریخ الائمۃ السادۃ، ۱۳۸۷ش، ص۶۱؛ محلی، الحدائق الوردیہ، ۱۴۲۳ق، ج۲، ص۷۸.
  8. صابی، المنتزع من الجزء الاول، ۱۹۸۷م، ص۳۳؛ اصفہانی، تاریخ سنی ملوک الارض، ۱۳۴۰ق، ص۱۷۵؛ ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، قاہرہ، ج۱، ص۳۲-.۳۳.
  9. دانش‌ پژوہ، «دو مشیخہ زیدی»، ص۱۸۵.
  10. ابن اسفندیار، تاریخ طبرستان، ۱۳۲۰ق، ج۱، ص۹۷.
  11. مرعشی، تاریخ طبرستان و رویان و مازندران، ۱۳۴۵ش، ص۱۴۸.
  12. یوسفی‌فر، «نقش موقوفات در شکل‌ دہی بہ فضاہای شہری»، ص۱۰۴.
  13. یوسفی‌ فر، «نقش موقوفات در شکل‌ دہی بہ فضاہای شہری»، ص۱۰۴.
  14. موسوی‌ نژاد، مجموعہ مقالات ہمایش بین‌ المللی ناصر کبیر، ۱۳۹۲ش، ص۲۹.
  15. موسوی‌ نژاد، مجموعہ مقالات ہمایش بین‌ المللی ناصر کبیر، ۱۳۹۲ش، ص۲۹.
  16. موسوی‌ نژاد، مجموعہ مقالات ہمایش بین‌ المللی ناصر کبیر، ۱۳۹۲ش، ص۲۹.
  17. موسوی‌ نژاد، مجموعہ مقالات ہمایش بین‌ المللی ناصر کبیر، ۱۳۹۲ش، ص۲۹.
  18. موسوی‌ نژاد، مجموعہ مقالات ہمایش بین‌ المللی ناصر کبیر، ۱۳۹۲ش، ص۲۹.
  19. ابن اسفندیار، تاریخ طبرستان، ص۲۷۵، بہ نقل از: موسوی‌ نژاد، مجموعہ مقالات ہمایش بین‌ المللی ناصر کبیر، ۱۳۹۲ش، ص۱۴۷.
  20. ابن اثیر، تاریخ کامل بزرگ اسلام و ایران، ج۱۳، ص۱۵۲، بہ نقل از: موسوی‌ نژاد، مجموعہ مقالات ہمایش بین‌ المللی ناصر کبیر، ۱۳۹۲ش، ص۱۴۷.
  21. موسوی‌ نژاد، مجموعہ مقالات ہمایش بین‌ المللی ناصر کبیر، ۱۳۹۲ش، ص۱۶۲-۱۶۳.
  22. موسوی‌ نژاد، مجموعہ مقالات ہمایش بین‌ المللی ناصر کبیر، ۱۳۹۲ش، ص۱۶۵-۱۶۶.
  23. مادلونگ، اخبار ائمۃ الزیدیہ، ص۲۱۳، بہ نقل از: موسوی‌ نژاد، مجموعہ مقالات ہمایش بین‌ المللی ناصر کبیر، ۱۳۹۲ش، ص۱۶۶.
  24. سید مرتضی، مسائل الناصریات، ۱۴۱۷ق، ص۷.
  25. سید مرتضی، مسائل الناصریات، ۱۴۱۷ق، ص۶۲-۶۴.
  26. سید مرتضی، مسائل الناصریات، ۱۴۱۷ق، ص۳۸.
  27. نجاشی، رجال النجاشی، ۱۴۱۸ق، ص ۵۷-۵۸.
  28. نجاشی، رجال النجاشی، ۱۴۱۸ق، ص ۵۷-۵۸.
  29. افندی اصفہانی، ریاض العلماء و حیاض الفضلاء، ج۱، ص۲۷۷.
  30. افندی اصفہانی، ریاض العلماء و حیاض الفضلاء، ج۱، ص۲۷۷.
  31. طبری، تاریخ طبری، بیروت، ج۱۰، ص۱۴۹.
  32. ابو ریحان بیرونی، الآثار الباقيہ، ۱۴۲۸ق، ص۲۶۸.
  33. سید مرتضی، مسائل الناصریات، ۱۴۱۷ق، ص۶۳.
  34. ناطق بالحق، الافادۃ فی تاریخ الائمۃ السادۃ، ۱۳۸۷ش، ص۵۶.
  35. اطروش، الإحتساب، ۱۴۲۳ق، مقدمہ، ص۱۵؛ حسنی مؤیدی، التحف شرح الزلف، ۱۴۱۷ق، ص۱۸۶.
  36. ابن ندیم، الفہرست، دار المعرفہ، ص۲۷۳-۲۷۴.
  37. نجاشی، رجال النجاشی، ۱۴۱۸ق، ص ۵۷-۵۸.
  38. جوکار، «عملکرد محتسب و بازتاب آن در برخی از متون ادب فارسی»، ص۲۷.
  39. فرمانیان، درس نامہ تاریخ و عقاید زیدیہ، ۱۳۸۹ش، ص۱۰۵.
  40. فرمانیان، درس نامہ تاریخ و عقاید زیدیہ، ۱۳۸۹ش، ص۱۰۵.
  41. شورمیج، «نقش و عملکرد ناصر کبیر در نشر اندیشہ شیعی در طبرستان»، ص۵۸.
  42. نگاہ کریں: سید مرتضی، مسائل الناصریات، ۱۴۱۷ق، ص۳۸-۳۹.
  43. «ہمایش بین المللی «ناصر کبیر» در محمود آباد».
  44. موسوی‌ نژاد، مجموعہ مقالات ہمایش بین‌ المللی ناصر کبیر، ۱۳۹۲ش، ص۱۴.
  45. «تلہ تئاتر ناصر الحق»؛ «تئاتر تلویزیونی ناصر الحق بر روی آنتن شبکہ تبرستان می رود».


مآخذ

  • ابن ابی الحدید، عبد الحمید بن ہبۃ اللہ، شرح نہج البلاغہ، تحقیق محمد ابو الفضل ابراہیم، قاہرہ، ۱۳۸۵-۱۳۸۷ق/۱۹۶۵-۱۹۶۷ء
  • ابن ابی الرجال، احمد بن صالح، مطلع البدور و مجمع البحور فی تراجم رجال الزیدیہ، تحقیق عبد الرقیب مطہر محمد حجر، صعدہ (یمن)، ۱۴۲۵ق/۲۰۰۴ء
  • ابن اثیر، علی بن ابی الکرم، الكامل في التاريخ، بیروت، دار الکتب العلمیہ، ۱۴۰۷ق/۱۹۸۷ء
  • ابن اسفندیار، محمد بن حسن، تاریخ طبرستان، تحقیق عباس اقبال آشتیانی، تہران، ۱۳۲۰ش
  • ابن ندیم، محمد بن اسحاق، الفہرست، بیروت، دار المعرفہ، بی‌ تا
  • ابو ریحان بیرونی، محمد بن احمد، الآثار الباقیۃ من القرون الخاليہ، قاہرہ، مکتبۃ الثقافۃ الدینیہ، ۱۴۲۸ق/۲۰۰۸ء
  • اطروش، حسن بن علی، الاحتساب، تحقیق عبد الکریم احمد جدبان، صعدہ (یمن)، ۱۴۲۳ق/۲۰۰۲ء
  • اطروش، حسن بن علی، البساط، تحقیق عبد الکریم احمد جدبان، صعدہ (یمن)، ۱۴۱۸ق/۱۹۹۷ء
  • افندی اصفہانی، عبداللہ بن عیسی، ریاض العلماء و حیاض الفضلاء، تحقیق احمد حسینی، قم، ۱۴۰۱ق
  • بخاری، سہل بن عبداللہ، سرّ السلسلۃ العلویہ، تحقیق محمد صادق بحر العلوم، نجف، ۱۳۸۱ق/۱۹۶۲ء
  • «تئاتر تلویزیونی ناصر الحق بر روی آنتن شبکہ طبرستان می‌ رود»، خبرگزاری مہر، تاریخ درج مطلب: ۱۲ دی ۱۳۹۱ش، تاریخ بازدید: ۱۲ بہمن ۱۳۹۷ش
  • «تلہ تئاتر ناصر الحق»، سایت صداوسیمای مرکز مازندران، تاریخ بازدید: ۱۲ بہمن ۱۳۹۷ش
  • جوکار، نجف، «عملکرد محتسب و بازتاب آن در برخی از متون ادب فارسی»، در مجلہ شناخت، ش۵۷، بہار ۱۳۸۷ش
  • حسنی مؤیدی، مجد الدین، التُّحَفُ شرح الزُّلَف، صنعا، ۱۴۱۷ق/۱۹۹۷ء
  • حکیمیان، ابو الفتح، علویان طبرستان، تہران، انتشارات الہام، ۱۳۶۸ش
  • اصفہانی، حمزۃ بن حسن، تاریخ سنی ملوک الارض و الانبیاء علیہم الصلوۃ و السلام، برلین، ۱۳۴۰ق
  • دانش‌ پژوہ، محمد تقی، «دو مشیخہ زیدی»، در نامہ مینوی، زیر نظر حبیب یغمائی و ایرج افشار، تہران، جاویدان، ۱۳۵۰ش
  • شورمیج، محمد، «نقش و عملکرد ناصر کبیر در نشر اندیشہ شیعی در طبرستان»، در مجلہ تاریخ فرہنگ و تمدن اسلامی، ش۲۶، بہار ۱۳۹۶ش
  • شہاری، ابراہیم بن قاسم، طبقات الزیدیۃ الکبری، قسم۳: بلوغ المراد الی معرفت الاسناد، تحقیق عبد السلام وجیہ، عمان، ۱۴۲۱ق/۲۰۰۱ء
  • صابی، ابراہیم بن ہلال، المنتزع من الجزء الاول من الکتاب المعروف بالتاجی فی اخبار الدولۃ الدیلمیہ، در اخبار ائمۃ الزیدیہ فی طبرستان و دیلمان و جیلان، تحقیق چاپ ویلفرد مادلونگ، بیروت، المعہد الالمانی للابحاث الشرقیہ، ۱۹۸۷ء
  • طبری، تاریخ الطبری: تاریخ الأمم والملوک، تحقیق محمد ابو الفضل ابراہیم، بیروت، بی‌ نا
  • سید مرتضی، علی بن حسین، مسائل الناصریات، تحقیق مرکز البحوث والدراسات العلمیہ، تہران، رابطۃ الثقافۃ والعلاقات الإسلامیہ، ۱۴۱۷ق/۱۹۹۷ء
  • فرمانیان، مہدی، و سید علی موسوی نژاد، زیدیہ: تاریخ و عقاید، قم، نشر ادیان، ۱۳۸۹ش
  • مُحَلِّی، حُمید بن احمد، الحدائق الوردیۃ فی مناقب ائمۃ الزیدیہ، تحقیق مرتضی بن زید المحطوری الحسنی، صنعا، مطبوعات مکتبۃ مرکز بدر، ۱۴۲۳ق/۲۰۰۲ء
  • مرعشی، ظہیر الدین بن نصیر الدین، تاریخ طبرستان و رویان و مازندران، تحقیق محمد حسین تسبیحی، تہران، ۱۳۴۵ش
  • موسوی‌ نژاد، سید علی، مجموعہ مقالات ہمایش بین‌المللی ناصر کبیر و رسالت علمای اسلام در جہان امروز با تکیہ بر آموزہ‌ہای نہج البلاغہ و صحیفہ سجادیہ، تہران، مجمع جہانی اہل بیت، ۱۳۹۲ش
  • ناطق بالحق، یحیی بن حسین، الافادۃ فی تاریخ الائمۃ السادۃ، تحقیق محمد کاظم رحمتی، تہران، ۱۳۸۷ش
  • نجاشی، احمد بن علی، رجال النجاشی، تحقیق سید موسی شبیری زنجانی، قم، مؤسسۃ النشر الإسلامی، ۱۴۱۸ق
  • «ہمایش بین‌المللی «ناصر کبیر» در محمود آباد»، سایت روزنامہ اطلاعات، تاریخ درج مطلب: ۱ بہمن ۱۳۹۲ش، تاریخ بازدید: ۱۲ بہمن ۱۳۹۷ش.
  • یوسفی‌ فر، شہرام، و معصومہ ید اللہ‌ پور، «نقش موقوفات در شکل‌دہی بہ فضاہای شہری»، در مجلہ وقف میراث جاویدان، ش۷۹ و ۸۰، پاییز و زمستان ۱۳۹۱ش.