جواہر الکلام فی شرح شرائع الاسلام (کتاب)

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
جواہر الکلام فی شرح شرائع الاسلام
جواہر الکلام.jpg
مؤلف: شیخ محمد حسن نجفی(۱۲۶۶ ق)
زبان: عربی
موضوع: فقہ
ناشر: مؤسسۃ التاریخ العربی

جَواہرُ الْکَلام فی شَرْحِ شَرائعِ الْاسْلام یا جواہر الکلام فقہی کتاب ہے جو شیعہ فقیہ محمد حسن نجفی کی گرانقدر تالیف ہے اور وہ صاحب جواہر (متوفی ۱۲۶۶ ق) کے نام سے معروف ہیں۔ یہ کتاب محقق‌ حلّی‌ (متوفی ۶۷۶ ق) کی شرائع الاسلام کی ایک مبسوط شرح ہے اور فقہ کا ایک مکمل دورہ ہے۔ یہ کتاب نہایت وسیع مطالب پر مشتمل ہے نیز جوہر الکلام گذشتہ فقہاء کے نظریات اور ان کے استدلالات کو محققین کے سامنے پیش کرتی ہے ۔ اسی وجہ سے اسکے مؤلف کو لسان المشہور یا مشہور فقہا کا نمائندہ کہا جاتا ہے۔

مؤلف

اصل مضمون: محمد حسن نجفی

محمد حسن نجفی بن محمد باقر تیرھویں صدی ہجری کے شیعۂ فقہاء میں سے ہیں۔ وہ ۱۲۰۰ ق میں پیدا ہوئے اور ناصر الدین شاہ قاچار کی حکومت کے ابتدائی سالوں میں فوت ہوئے۔[1]

کتاب

جواہر الکلام (یا جواہر الکلام‌ فی‌ شرح‌ شرائع‌ الاسلام‌) شیعہ فقہ کا ایک جامع اور استدلالی شمار ہوتا ہے ۔یہ کتاب حقیقت میں محقق‌ حلّی‌ (متوفا ۶۷۶ق) کی کتاب شرائع‌ کی شرح ہے ۔ جواہر الکلام محمد باقر بہبہانی کی علمی تحریک کے بعد شیعہ کے علمی حوزوں کے علمی دریچوں کے کھلنے اور رشد علمی کے زمانے میں تالیف ہوئی ۔یہ کتاب نہایت وسعتوں پر مشتمل ہے اور فقہ کے تمام حصوں کی ابحاث کو شامل ہے ۔ محمد رضا مظفر معتقد ہے کہ جواہر الکلام وسعت بحث،مختلف نظریات کے شمول ، علما کے فقہی استدلالوں اور علمی باریک بینیوں کے لحاظ سے بے نظیر ہے۔[2]

سبب تالیف

مؤلف کے اپنے کہنے کے مطابق منقول ہے کہ ابتدائی طور پر وہ شرائع کی شرح نہیں لکھنا چاہتے تھے بلکہ ان کا قصد یہ تھا کہ اپنے ذاتی استعمال کیلئے مختلف فقہی ابحاث میں نوٹس لکھیں ۔.[3] انہوں نے کتاب کے مقدمے میں لکھا ہے کہ شرائع کے انتخاب کا سبب شرح و توضیح، جامعیت‌، دقت مطالب، رواں نثر ہے خاص طور پر فقہا کا اسے مورد توجہ قرار دینا ہے ۔محمد حسن نجفی کے اپنے کہنے کے مطابق فقہ دانوں کو شرائع کے فوائد اور مخفی دقیق نکات سے آشنا کرنا،اسکے مسائل کو واضح کرنا ،اسکے شارحین کے اشتباہات کی توضیح،مختلف فقہا کے نظریات کا بیان اور مختصر طور پر انکے استدلالات کو بیان کرنا اس کتاب کے اہداف میں سے ہے ۔[4]

تاریخچۂ تالیف

مشہور ہے کہ اس کتاب کی تالیف کا آغاز مؤلف نے ۲۵ سال کی عمر کیا ۔[5] اس بات کے پیش نظر اور ۱۲۶۲ق میں حدودا ستّر سال ہونے کے پیش نظر بعض گمان کرتے ہیں کہ اس کتاب کے آغاز کا سال ۱۲۱۷ق ہے ۔ ؛[6] اس بنا پر آقا بزرگ تہرانی معتقد ہیں کہ ۱۲۲۷ق سے کچھ عرصہ پہلے اسکی تالیف کا آغاز ہوا۔[7]

خصوصیات کتاب

اس کتاب کی چند ایک خصوصیات درج ذیل ہیں :

  • جواہر کی فصل‌ بندی‌ شرائع‌ الاسلام کی مانند ہے ۔عبادات‌، عقود، ایقاعات‌ او راحکام‌ اسکے عمومی چار حصے ہیں:[8]
  • مختلف اقوال کو نقل کرنا اور انکی تحلیل کرنا۔[9]
  • ایسے احکام کی توضیح اور تبیین‌ کہ جن میں کسی قسم کا مناقشہ نہیں تھا اور نہ ہی وہ اہم تھے [10]
  • علم اصول کے مبانی اور مباحث کی طرف زیادہ توجہ نہ کرنا صرف اشارے پر اکتفا کرنا۔[11]
  • احکام کے استنباط میں عقلی اور فلسفی باریک بینیوں پر تنقید کرنا۔[12]
  • مؤلف کے زمانے میں رائج روشوں اور عرف جیسے جدید مسائل کو بیان کرنا۔[13]
  • بہت زیادہ فقہی فروعات کا بیان ۔[14]

جواہر الکلام اور شہرت فتوائی

صاحب جواہر شہرت فتوائی کی بہت زیادہ اہمیت کے قائل تھے ۔جواہر میں ان کے اکثر نظریات و اقوال اجماع کے مطابق یا امامیہ فقہا کی مشہور رائے کے موافق ہے ۔اس لحاظ سے اسی مناسبت انہیں لسان المشہور یا مشہور فقہا کا نمائندہ کہتے ہیں ۔[15]

مخصوص فقہی آرا

جواہر الکلام میں انکی بعض مخصوص آرا درج ذیل ہیں :

فقہائے امامیہ میں مقام

جواہرالکلام‌ کچھ مخصوص خصوصیات کے پیش نظر شیعہ علما میں بہت زیاد مورد استقبال قرار پائی ۔بعض اسے فقہ کا بزرگ‌ترین‌ اثر شمار کرتے ہیں ۔[20] مرتضی مطہری اسے ایک نابغہ شخص کا اثر کہتے ہیں۔[21] بعض کے نزدیک کوئی شرعی احکام کے استنباط میں کوئی ایسا فقیہ نہیں جو اس کتاب سے بے نیاز ہو اور اس کے ہوتے ہوئے اسے کسی دوسری کتاب کی چنداں ضرورت نہیں ہے ۔[22]
جواہرالکلام‌ نے اس قدر شہرت‌ و مقبولیت‌ حاصل کی اس کے مصنف کا نام تحت الشعاع میں چلا گیا اور فقہا کی زبان اپنے نام کی بجائے صاحب جواہر کے نام سے معروف ہو گئے ہیں ۔اس کتاب کی تالیف کے بعد صاحب جواہر کے نظریات اور استدلال مختلف علمی حلقوں ،فقہی مقالوں اور فقہا کے مورد توجہ رہتے ہیں ۔[23]

شروحات اور حواشی

اسکی بہت سی شروحات اور متعدد تعلیقے اس کے مختلف حصوں پر لکھے گئے ہیں۔جن میں سے بعض کی طرف الذریعہ نے اشارہ کیا ہے مثلا :

  • الانصاف‌ فی‌ تحقیق‌ مسائل‌ الخلاف‌، اثر محمد طاہا نجف‌ تبریزی‌؛
  • بحرالجواہر، از علی بن‌ باقر بروجنی‌؛
  • الہدایہ الی‌المرام‌ من‌ مبہمات‌ جواہر الکلام‌، تحریر سیدمحمدباقر موسوی‌ ہمدانی‌ (قم‌ ۱۳۷۹ش‌).[24]

آیت اللہ بروجردی، ابوتراب خوانساری، عبداللّہ بہبہانی‌، ملا علی کنی، زین العابدین مازندرانی اور علی بن محمد مرعشی نے بھی اس پر حواشی لکھے ہیں ۔[25] [26]

جواہر سے متعلق تحقیقات

جواہر سے متعلق ہونے والی بعض تحقیقات درج ذیل ہیں :

  • فہرست کامل جواہر الکلام(تہران۱۳۲۲ش)، اثر: علی بن‌ زین‌ العابدین‌ مازندرانی‌؛[27]
  • البدر الزاہر فی تراجم اعلام کتاب الجواہر(قم۱۴۲۴ق)، تالیف ناصر کرمی. جواہر میں مذکور علما کے حالات زندگی لکھے گئے ہیں؛
  • معجم فقہ الجواہر(بیروت۱۴۱۹ق)؛
  • جواہرالکلام‌ فی‌ ثوبہ الجدید، تحقیق: مؤسسۂ دائره المعارف فقہ اسلامی.[28] یہ کتاب نو جلدوں میں ۱۳۹۲ش، میں چھپی ہے ۔[29]

مخطوطات

آقا بزرگ طہرانی،[30]، نے جواہر الکلام‌ کے اصلی نسخے کی تصحیح کی تھی جو ۴۴ جلدوں پر مشتمل تھا۔ اسکے مختلف خطی نسخے مختلف کتب خانوں جیسے نجف، قم، تہران‌، مشہد و ہمدان‌ میں موجود ہیں ۔[31]

طباعت

  • پہلی مرتبہ ۱۲۶۲ق میں رحلی ۶ جلدوں میں چاپ ہوئی اس وقت مؤلف زندہ تھے اور ۱۳۷۶ق تک ۲۴ مرتبہ چھپ چکی ہے ؛[32]
  • ۱۳۷۷شمسی اور ۱۳۹۸شمسی کے درمیان جواہر عباس‌ قوچانی‌، علی‌ آخوندی‌، محمود قوچانی‌ اور رضا استادی‌ کی تحقیق کے ساتھ ۴۳ جلدوں میں نجف‌ اور تہران‌ سے طبع ہوئی ؛
  • بڑی پندرہ جلدوں میں (بیروت‌ ۱۹۹۲م/۱۴۱۲ق) سے چھپی ؛
  • موسسہ نشر اسلامی نے تحقیقی صورت میں اسے چھاپا۔

حوالہ جات

  1. قمی، فوائد الرضویہ، ص۴۵۲.
  2. مظفر، محمدرضا، مقدمہ جواہر الكلام، ۱۹۸۱م، ج۱، ص۸-۱۴.
  3. حرزالدین‌، معارف الرجال، ج‌۲، ص‌۲۲۶؛ آل محبوبہ، ماضی‌ النجف‌ و حاضرہا، ج‌۲، ص‌۱۳۳.
  4. نجفی، جواہرالکلام‌، ص‌۲،۳.
  5. آقابزرگ‌ طہرانی‌، ج‌۵، ص‌۲۷۶.
  6. نجفی، جواہر الکلام‌ فی‌ ثوبہ الجدید، ج‌۱، ص۷۲.
  7. آقابزرگ‌ طہرانی‌، ج‌۵، ص‌۲۷۵،۲۷۶.
  8. رک: جواہر الکلام، ۱۹۸۱م.
  9. رک: ج‌۲، ص‌۱۱۴-۱۳۷؛ ج‌۷، ص‌۱۷۱-۱۷۹؛ ج‌۱۱، ص‌۱۵۱-۱۹۳؛
  10. رک: ج‌۲، ص‌۱۱۴-۱۳۷؛ ج‌۷، ص‌۱۷۱-۱۷۹؛ ج‌۱۱، ص‌۱۵۱-۱۹۳؛
  11. رک: ج‌ ۱، ص‌۱۰۷؛ ج‌ ۵، ص‌۲۱۵.
  12. رک: ج‌۷، ص‌۲۱۰؛ ج‌۸، ص‌۲۸۵و۲۸۹؛ ج‌۹، ص‌۴۰۰؛ ج‌۳۳، ص‌۵۶.
  13. رک: ج‌۴، ص‌۳۳۰؛ ج‌۶، ص‌۴۰، ج‌۱۵؛ ص‌۱۷۷، ج‌۳۶، ص‌۱۲۰.
  14. رک: جواہرالکلام‌ فی‌ ثوبہ الجدید، ج‌۱، ص‌۸۰؛ غفوری‌، «معرفي‌ ہاي اجمالي»، ص‌۹۵.
  15. خمینی‌ (امام)، کتاب‌ الخلل‌ فی‌الصّلوه، ص‌۱۳۹؛ جوادی‌ آملی‌، ج‌۳، ص‌۴؛ رک: حائری‌، ص‌۵۳۳.
  16. ج‌۴۰، ص‌۱۶، ۱۹.
  17. ج‌۲۲، ص‌۲۴۴.
  18. ج‌۴۱، ص‌۴۵.
  19. رک: بحرالعلوم‌، ص‌۲۱۲.
  20. آقا بزرگ‌ طہرانی‌،الذریعہ، ج‌۵، ص‌۲۷۶؛ نجفی‌، ۱۹۸۱، ج‌۱، ص‌۱۳.
  21. مطهری‌، ج‌۳، ص‌۸۱
  22. ر ک: جواہرالکلام‌ فی‌ ثوبہ الجدید، ج‌۱، ص‌۶۹-۷۲
  23. رک:‌ انصاری، مرتضی، فرائد الاصول، ج‌۳، ص‌۲۵۲؛ حکیم‌، ج‌۱، ص‌۴۶۱؛ طباطبائی‌ حکیم‌، ج‌۴، ص‌۹۹، ۱۰۱؛ فیاض‌، ج‌۲، ص‌۳۷۹.
  24. رک:آقابزرگ‌ طہرانی‌، ج‌۲، ص‌۳۹۷، ج‌۶، ص‌۵۸؛ حسینی‌ اشکوری‌، ج‌۱، ص‌۷۹-۸۰
  25. آقابزرگ‌ طہرانی‌، ج‌۶، ص‌۵۸؛ موسوعہ طبقات‌ الفقہاء، ج‌۱۴، قسم‌۱، ص‌۲۶۶، ۳۱۰، ۳۷۴، ۴۴۰؛ فاضل‌ لنکرانی‌، ج‌۱، مقدمہ، ص‌۲۲
  26. مزید معلومات کیلئے آقابزرگ‌ طہرانی‌، ج ۶، ص ۵۸؛ موسوعه طبقات‌الفقہاء، ج‌۱۳، ص‌۶۷۰، ج‌۱۴، قسم۱، ص‌۵۹۵، قسم‌۲، ص‌۷۶۶؛ موسوعہ مؤلفی‌ الامامیہ، ج‌۲، ص‌۳۲۷ کی طرف رجوع کریں۔
  27. آقابزرگ‌ طہرانی‌، ج‌۱۶، ص‌۳۸۳.
  28. رک: غفوری‌، ص‌۹۶.
  29. موسسہ دائرہ المعارف فقہ اسلامی.
  30. ج‌۵، ص‌۲۷۶.
  31. ر ک: آقا بزرگ‌ طہرانی‌، ج‌۱۳، ص‌۳۱۹-۳۲۰؛ استادی‌، ج‌۲، ص‌۱۹۷؛ ج‌۳، ص‌۷، ۱۰۸، ۱۱۰، ۱۳۲، ۱۴۶ ۱۴۷، ۲۴۲-۲۴۳؛ جواہرالکلام‌ فی‌ ثوبہ الجدید، ج‌۱، ص‌ ۷۵؛ نجفی‌، ۱۴۱۷، ج‌۱، مقدمہ، ص‌۳۳-۳۵.
  32. جواہرالکلام‌ فی‌ ثوبہ الجدید، ج ۱، ص۷۵.


منابع

  • آقا بزرگ طہرانی، الذریعہ الی تصانیف الشیعہ، چاپ علی نقی منزوی و احمد منزوی، بیروت ۱۴۰۳/۱۹۸۳
  • آل‌ محبوبہ، جعفر بن‌ باقر، ماضی‌ النجف‌ و حاضرہا، بیروت‌، ۱۴۰۶ق/ ۱۹۸۶ع
  • آملی، محمد تقی‌، مصباح‌ الہدی‌ فی‌ شرح‌ العروه الوثقی‌، تہران‌، ۱۳۸۰ق؛
  • استادی، رضا، فہرست‌ نسخہ ہای‌ خطی‌ کتابخانہ عمومی‌ حضرت‌ آیت اللّہ العظمی‌ گلپایگانی‌، ج‌ ۲ و ۳، قم‌، بی‌تا.
  • استرآبادی، محمد فاضل، «نگاہی‌ بہ کتاب‌ نفیس‌ جواہرالکلام‌»، فقہ اہل‌ بیت، سال‌۲، ش‌۸،زمستان‌ ۱۳۷۵ش.
  • انصاری، مرتضی، فرائد الاصول، قم‌، ۱۴۱۹ق.
  • انصاری، مرتضی، کتاب المکاسب، قم‌، ۱۳۷۸ش‌.
  • بحر العلوم، عز الدین، بحوث‌ فقہیہ، تقریرات‌ درس‌ آیت اللّہ حلّی‌،بیروت، ۱۴۱۵ق.
  • بروجردی، مرتضی، المستند فی‌ شرح‌ العروه الوثقی‌: کتاب‌ الصوم‌، تقریرات‌ درس‌ آیت اللّہ خوئی‌، در موسوعہ الامام‌الخوئی‌، ج‌۲۱-۲۲، قم‌، مؤسسہ احیاء آثار الامام‌ الخوئی‌، ۱۴۲۱ق/ ۲۰۰۰م.
  • التعریف‌ بمصادر الجواہر، قم‌: دفتر تبلیغات‌ اسلامی‌ حوزه علمیہ قم‌، ۱۳۷۸ش‌.
  • توحیدی، محمد علی‌، مصباح‌ الفقاہہ فی‌ المعاملات، تقریرات‌ درس‌ آیت اللّہ خوئی‌، قم‌، ۱۳۷۱ش‌.
  • جوادی آملی، عبداللّہ، کتاب‌ الصلوه، تقریرات‌ درس‌ آیت اللّہ محمد محقق‌ داماد، قم‌ ۱۴۱۶ق.
  • جواہر الکلام‌ فی‌ ثوبہ الجدید، ج‌۱، قم‌، مؤسسہ دائره معارف‌ الفقہ الاسلامی‌،۲۰۰۰ع/۱۴۲۱ق.
  • حائری، مرتضی، کتاب‌ الخمس‌، تحقیق‌ محمد حسین‌ امر اللہی‌، قم‌، ۱۴۱۸ق.
  • حرز الدین، محمد، معارف‌ الرجال‌ فی‌ تراجم‌ العلماء و الادباء، قم‌، ۱۴۰۵ق.
  • حسین، احمد، تراجم‌ الرجال‌، قم‌، ۱۴۱۴ق.
  • حسینی اشکوری، احمد، فہرست‌ نسخہ ہای‌ خطی‌ کتابخانہ عمومی‌ حضرت‌ آیت اللّہ العظمی‌ گلپایگانی، ج‌۱، قم‌، ۱۳۵۷ش‌.
  • حسینی عاملی، محمد جواد، مفتاح‌ الکرامہ فی‌ شرح‌ قواعد العلامہ، چاپ‌ افست‌، قم‌، مؤسسہ آل‌البیت‌، بی‌تا.
  • حکیم، عبد الصاحب، منتقی‌ الاصول‌، تقریرات‌ درس‌ آیت اللّہ روحانی‌، ج‌۱، قم‌ ۱۴۱۶ق.
  • خلخالی، رضا، المعتمد فی‌ شرح‌ المناسک‌، تقریرات‌ درس‌ آیت اللّہ خوئی‌، در موسوعہ الامام‌ الخوئی‌، ج‌۲۶-۲۹، قم‌، مؤسسہ احیاء آثار الامام‌ الخوئی‌، ۱۴۲۶ق/ ۱۹۹۹ق.
  • خمینی (امام)، روح اللہ، کتاب‌ الخلل‌ فی الصلّوہ، قم‌، بی‌تا.
  • خمینی (امام)، روح الله، کتاب‌ الطہاره، تہران، ۱۴۲۸ق.
  • خوانساری، محمد باقر بن زین‌ العابدین، روضات الجنات فی احوال العلماء و السادات، چاپ اسد اللہ اسماعیلیان، قم ۱۳۹۰-۱۳۹۲ق.
  • خوئی، ابو القاسم، مبانی تکملہ المنہاج‌، قم‌، ۱۳۹۶ق.
  • خوئی، محمد تقی‌، مبانی‌ العروه الوثقی‌، کتاب‌ النکاح‌، تقریرات‌ درس‌ آیت اللّہ خوئی‌، در موسوعہ الامام‌ الخوئی، ج‌۳۲، قم‌، مؤسسه احیاء آثار الامام‌ الخوئی‌، ۱۴۲۶ق/ ۱۹۹۹م.
  • سبزواری، عبدالاعلی‌، مہذب‌ الاحکام‌ فی‌ بیان‌ الحلال‌ و الحرام‌، قم‌، ۱۴۱۳ق ۱۴۱۶.
  • شہید اول، محمد بن‌ مکی‌، غایه المراد فی‌ شرح‌ نکت‌ الارشاد، قم‌، ۱۴۱۴-۱۴۲۱ق.
  • طباطبائی حکیم، محمد سعید، المحکم‌ فی‌ اصول‌ الفقہ، بیروت‌، ۱۹۹۴م/۱۴۱۴ق.
  • طباطبائی یزدی، محمد کاظم، حاشیہ المکاسب، قم‌، ۱۳۷۸ق.
  • طباطبائی یزدی، محمد کاظم، العروه الوثقی‌، بیروت‌، ۱۴۰۹ق.
  • غروی تبریزی، علی، التنقیح‌ فی‌ شرح‌ العروه الوثقی‌: کتاب‌ الطہاره، تقریرات‌ درس‌ آیت اللّہ خوئی‌، در موسوعہ الامام‌ الخوئی‌، ج‌۹، قم‌، مؤسسہ احیاء آثار الامام‌ الخوئی‌، ۱۹۹۹م/۱۴۲۶ق.
  • غفوری، خالد، «معرفي‌ ہاي اجمالي»، آینہ پژوہش‌، سال‌۱۲، ش‌۱ (فروردین‌-اردیبہشت‌ ۱۳۸۰ش).
  • فاضل لنکرانی، محمد، نہایہ التقریر، تقریرات‌ درس‌ آیت اللّہ حسین‌ طباطبائی‌ بروجردی‌، قم‌، بی‌تا.
  • فاضل ہندی، محمد بن حسن، کشف‌ اللثام، قم‌، ۱۴۱۶ق.
  • فیاض، محمد اسحاق، محاضرات‌ فی‌ اصول‌ الفقه‌، تقریرات‌ درس‌ آیت اللّه‌ خوئی‌، قم‌ ۱۴۱۰ق.
  • قمی، عباس، فوائد الرضویہ، بی‌جا، بینا.
  • کلانتری ارسنجانی، علی اکبر، «عرف‌ در مکتب‌ فقہی‌ صاحب‌ جواہر»، فقہ: کاوشی‌ نو در فقہ اسلامی‌، ش‌۲۴، تابستان‌ ۱۳۷۹.
  • کلباسی، ابو الہدی، سماء المقال‌ فی‌ علم‌ الرجال‌، چاپ‌ محمد حسینی‌ قزوینی‌، قم‌ ۱۴۱۹ق.
  • مامقانی، محمد حسن، غایۃ الا´مال فی‌ شرح‌ کتاب‌ المکاسب‌، قم‌، ۱۳۱۶ش.
  • مطہری، مرتضی، آشنائی‌ با علوم‌ اسلامی‌،ج‌۳: اصول‌ فقہ، فقہ، قم‌: صدرا، ۱۳۵۸ ش‌.
  • معجم‌ فقہ الجواہر، بیروت‌، الغدیر، ۱۴۱۷-۱۴۱۹ق/۱۹۹۶-۱۹۹۸م.
  • موسوعہ طبقات‌ الفقہاء، اشراف‌ جعفر سبحانی‌، قم‌، مؤسسہ الامام‌ الصادق‌، ۱۴۱۸-۱۴۲۴ق.
  • موسوعہ مؤلفی‌ الامامیہ، قم‌، مجمع‌ الفکر الاسلامی‌، ۱۳۷۸۱۳۷۹ش‌.
  • موسوی بجنوردی، حسن، القواعد الفقہیہ، چاپ‌ مہدی‌ مہریزی‌ و محمد حسین‌ درایتی‌، قم‌، ۱۳۷۷ش‌.
  • موسوی خلخالی، مرتضی، قاعده لاضرر، تقریرات‌ درس‌ آیت اللّہ ضیاءالدین‌ عراقی‌، چاپ‌ قاسم‌ حسینی‌ جلالی‌، قم‌، ۱۴۱۸ق.
  • نجفی، محمد حسن، جواہر الکلام‌ فی‌ شرح‌ شرائع‌ الاسلام‌، تحقیق: عباس قوچانی، بیروت: دار إحياء التراث العربی، ۱۹۸۱م.
  • نجفی، محمد حسن، جواہر الکلام‌ فی‌ شرح‌ شرائع‌ الاسلام‌، قم، ‌۱۴۱۷ق.
  • نجفی، محمد حسن، نجاة العباد، محشی‌ بہ حواشی‌ محمد کاظم‌ طباطبائی‌ یزدی‌ و اسماعیل‌ صدر موسوی‌، نجف‌، ۱۳۱۸ش.
  • نوری، حسین بن محمد، خاتمہ مستدرک‌ الوسائل‌، قم‌، ۱۴۱۵-۱۴۲۰ق.

بیرونی رابط