مسجد جمکران

ویکی شیعہ سے
(جمکران سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

مسجد جمکران ، جو شیعوں کے بارہویں امام سے منسوب ہے؛ قم شہر کے مضافات میں واقع ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس مسجد کو چوتھی صدی میں حضرتؑ کے حکم پر تعمیر کیا گیا تھا۔ چودہویں صدی کے شیعہ محدث مرزا حسین نوری کے بقول، مسجد جمکران کی تعمیر امام زمانہؑ کے حکم پر ابو الحسن نامی ایک قمی عالم کے توسط سے عمل میں آئی۔ محدث نوری نے حسن بن مثلہ جمکرانی کی حضرت مہدیؑ کے ساتھ ہونے والی ایک ملاقات کا ذکر کیا ہے کہ جس میں امام زمانہؑ نے مسجد جمکران کی تعمیر کا حکم دیا۔ مرزا حسین نوری کے نزدیک یہ واقعہ سنہ ۳۷۳ھ یا ۳۹۳ھ کا ہے اور اس کیلئے شیخ صدوق کی کتاب مونس الحزین کا حوالہ دیا ہے۔ بعض معاصر محققین نے مسجد کی امام زمانہؑ کیساتھ نسبت میں تردید کا اظہار کیا ہے کہ جس کی دلیل شیعہ رجالی کتب اور اسی طرح شیخ صدوق کی دیگر تصنیفات میں اس واقعے کا مذکور نہ ہونا ہے۔ کچھ مذہبی رسومات جیسے شب برات کا جشن ، دعائے توسل اور دعائے ندبہ اس مسجد میں منعقد کی جاتی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ بدھ کی رات کو لوگوں کی مسجد جمکران میں حاضری پہلوی دور کے شیعہ عالم شیخ محمد تقی بافقی کے زمانے میں پررونق ہوئی؛ کیونکہ وہ کچھ طلاب کے ہمراہ بدھ کی رات کو مسجد جمکران میں عبادت کرتے تھے۔ مسجد جمکران کی مختلف ادوار میں مرمت اور تعمیر نو کی جاتی رہی ہے؛ اس کی تعمیر کے قدیمی ترین کتبے میں سنہ ۱۱۶۷ھ کا اشارہ ملتا ہے۔ ۱۳۵۷شمسی میں ایران کے اسلامی انقلاب کی کامیابی سے پہلے اس کی عمارت چھوٹی تھی تاہم انقلاب کے بعد اس میں بہت زیادہ توسیع کی گئی ہے۔ اس وقت مسجد جمکران بیرونی ایوانوں، اصلی صحن، شبستانوں، مسجد مقام اور دفاتر پر مشتمل ہے۔ مسجد جمکران کے مخصوص اعمال ذکر کیے گئے ہیں؛ منجملہ دو رکعت نماز تحیت مسجد اور دو رکعت نماز امام زمانہؑ ۔ محدث نوری نے ان اعمال کو امام زمانہؑ سے منسوب کیا ہے اور شیخ عباس قمی نے انہی سے نقل کرتے ہوئے اسے مفاتیح الجنان میں ذکر کیا ہے۔

محل وقوع اور نام

مسجد جمکران قم شہر کے اطراف میں اور حضرت معصومہؑ کے حرم [1] سے آٹھ کلومیٹر کے فاصلے پر ہے اور اس کی نسبت شیعوں کے بارہویں امام کی طرف ہے ۔ [2] جمکران کے دیہات سے نزدیکی کے باعث یہ مسجد جمکران کے نام سے مشہور ہے۔ [3] ماضی میں یہ مسجد ’’مسجد قدمگاہ‘‘ کے نام سے مشہور تھی؛[4] اس کی وجہ تسمیہ وہ سنگ مرمر تھا کہ جسے بارہویں امامؑ کی قدمگاہ قرار دیا جاتا تھا۔ [5] امام زمانہؑ [6] سے نسبت کی وجہ سے اس مسجد کو ’’مسجد صاحب الزمان‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ [7]

امام زمانہؑ سے انتساب

چودہویں صدی کے شیعہ محدث مرزا حسین نوری کی نقل کے مطابق مسجد جمکران چوتھی صدی ہجری میں امام زمانہؑ کے حکم پر ایک قمی عالم سید ابو الحسن کے توسط سے تعمیر ہوئی ۔ [8] محدث نوری نے حسن بن مثلہ جمکرانی سے نقل کیا ہے کہ وہ ماہ رمضان سنہ ۳۹۳ ھ کو امام کی خدمت میں پہنچا اور اس ملاقات میں امام زمانہؑ نے اس کے ذریعے حسن بن مسلم کو یہ پیغام بھیجا کہ آئندہ اس زمین(وہ زمین کہ جہاں بعد میں مسجد جمکران تعمیر کی گئی) پر کھیتی باڑی نہ کرے اور قمی عالم سید ابو الحسن سے کہے کہ حسن بن مسلم سے اس رقم کو دریافت کر کے اس مقام پر ایک مسجد تعمیر کرے کہ جو اس نے مذکورہ زمین پر چند سال تک کھیتی باڑی کر کے حاصل کی ہے۔ [9] اس بنیاد پر اس واقعے کے بعد سید ابو الحسن نے لکڑی کی چھت سے بنی ہوئی ایک مسجد اسی مقام پر تعمیر کی کہ جس کی حد بندی امام زمانہؑ نے فرمائی تھی ۔ [10]

حوالہ جات

  1. خان‌محمدی، «چاه عریضه جمکران؛ از خرافه تا واقعیت»، ص۱۶۲.
  2. نوری، جنة المأوی، ۱۴۲۷ق، ص۵۴-۵۸؛ نوری، نجم الثاقب، ۱۳۸۴ق، ج۲، ص۴۵۴-۴۵۸؛ نوری، کلمه طیبه، ۱۳۸۰ش، ص۶۸۲-۶۸۶.
  3. عرب، مدخل مسجد جمکران، ص۷۴۷.
  4. فیض قمی، گنجینه آثار قم، ۱۳۴۹ش، ج۲، ص۶۶۷، به نقل از دانشنامه جهان اسلام، مدخل مسجد جمکران، ص۷۴۷.
  5. ناصر الشریعه، تاریخ قم، ۱۳۸۳ش، ص۲۳۳.
  6. عرب، مدخل مسجد جمکران، ص۷۴۷.
  7. مدرسی طباطبائی، تربت پاکان، ۱۳۳۵ش، ج۲، ص۱۶۴.
  8. نوری، جنة المأوی، ۱۴۲۷ق، ص۵۴-۵۸.
  9. نوری، جنة المأوی، ۱۴۲۷ق، ص۵۴-۵۸.
  10. نوری، جنة المأوی، ۱۴۲۷ق، ص۵۴-۵۸؛ نوری، نجم الثاقب، ۱۳۸۴ق، ج۲، ص۴۵۴-۴۵۸؛ نوری، کلمه طیبه، ۱۳۸۰ش، ص۶۸۲-۶۸۶.