توحید مفضل (کتاب)

ويکی شيعه سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش

توحید مفضَّل یا کتاب فَکِّر: کتابٌ فی بدء الخلق و الحثّ علی الاعتبار کے نام سے حضرت امام صادق علیہ السلام کی ایک طویل حدیث پر مشتمل کتاب ہے جسے آپ نے چار حصوں میں مفضل بن عمر جعفی کو املا کروایا ۔اس حدیث میں حکمت، خدا کی معرفت اور خلقت کے اسرار و رموز بیان کئے ہیں ۔

مؤلف


مشہور ہے کہ یہ کتاب امام جعفر صادق علیہ السلام نے اپنے ایک بزرگ اور جانی پہچانی شخصیت مفضل بن عمر جعفی کو املا کروائی۔

اس میں کسی قسم کا اختلاف موجود نہیں کہ یہ کتاب امام جعفر صادق کی لکھی ہوئی نہیں ہے ۔البتہ اس میں اختلاف ہے کہ اسے امام نے اپنے صحابی کو املا کروایا یا اس صحابی کی اپنی تالیف ہے اور اسے امام جعفر صادق کی طرف منسوب کیا ہے ۔اکثر شیعہ علما مفضَّل بن عمر جُعْفی کو امام صادق(ع) اور امام کاظم(ع) کے خاص اصحاب میں سے شمار کرتے ہیں۔[1] ان میں سے کچھ علما نے اسکی تضعیف کرنے والے علما کے نظریے کو رد کرتے ہوئے اسکی تائید اور توثیق پر دلیل قائم کی ہے ۔ [2] اور کہا ہے کہ یہ کتاب امام جعفر صادق علیہ السلام نے اسے املا کروائی ہے ۔ [3] بعض علما نے نیز تصریح کی ہے کہ اِہلیلَجہ، معرفت خدا میں امام صادق(ع) سے منسوب ایک اور اثر ہے جسے امام نے خود اپنے دست مبارک سے لکھا اور اسے مفضل کے سپرد کیا لیکن توحید مفضّل امام نے اسے املا کروائی ہے ۔ [4]

البتہ نجاشی،[5] نے اس اثر کو مفضل کی طرف نسبت دی ہے اور اشارہ کیا ہے کہ اس کے آثار قابل اعتبار نہیں ہیں نیز کہا کہ بعض اسے غالیانِ خطّابی شمار کرتے ہیں۔

متن کتاب

اگر مان لیا جائے کہ یہ کتاب امام صادق علیہ السلام کی املا شدہ حدیث پر مشتمل ہے تو بھی اس سوال کی گنجائش موجود ہے کہ اس وقت موجود اس کتاب کا متن وہی متن مفضل ہے یا نہیں؟

توحید مفضّل کا نام سید بن طاووس کی کتب کی فہرست میں آیا ہے ۔ [6] اس سے متعلق توضیحات کی بنا پر [7] ہمارے ہاتھوں میں موجود وہی کتاب موجود ہے نیز مذکور ہے کہ ابھی تک کسی عالم دین کی طرف سے اس میں کسی قسم کے تغیر و تبدل یا تحریف بیان نہیں ہوئی ہے۔نہ ہی ابھی تک کسی نے اس بات کا ادعا ہی کیا ہے کہ موجودہ توحید مفضل وہی امام صادق سے روایت شدہ ہی ہے اور اس کتاب کے نقل اور ترجمے میں ان علما کی سیرت سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس میں کسی قسم کی تحریف یا تغیر و تبدل کا اعتقاد نہیں رکھتے ہیں۔

سبب تالیف

مفضل بن عمر جعفی نے اسکی تالیف کو یوں بیان کیا ہے  :

ایک دن میں عصر کے وقت مدینہ کی مسجد میں حضرت رسول خدا(ص) کی قبر اطہر کے پاس بیٹھا ہوا تھا اور میں آںحضرت کے مقام و منزلت میں مشغول تھا کہ اچانک ابن ابو العوجاء اور اسکے ساتھی وہاں آئے اور انہوں نے باہمی بات چیت شروع کی ۔
انہوں نے رسول گرامی کی ذات اقدس کو ایک ایسے زیرک فلسفی کے نام سے یاد کیا کہ جس نے اپنا نام دنیا میں باقی رکھا اور کہا کہ اس جہان کا کوئی خدا اور خالق نہیں بلکہ تمام چیزیں خود بخود وجود میں آیئیں اور ازل سے ہیں اور اسی طرح باقی رہیں گیں۔
میں یہ سن کر اپنے غصے پر قابو نہ رکھ سکا ،میں نے انہیں کہا :اے دشمنان خدا کیا کافر ہو گئے ہو؟! انہوں نے جواب دیا :اگر تم امام جعفر صادق کے اصحاب میں سے ہو تو وہ ایسے گفتگو نہیں کرتا ہے ۔
میں انکے پاس سے اٹھ کر امام صادق(ع) کے پاس چلا گیا اور میں نے ان سے واقعہ بیان کیا۔آپ نے فرمایا: کل صبح کاغذ اور قلم کے ساتھ آنا تا کہ میں تمہارے لئے اس جہان کی خلقت کے متعلق خدا کے اسرار بیان کروں ۔پس اگلے روز میں امام کی خدمت میں گیا ۔امام نے چار نشستوں میں میرے سامنے یہ حدیث بیان کی اور میں نے اسے تحریر کیا ۔

تعارف کتاب

امام صادق(ع) کتاب کو چار دنوں میں صبح سے ظہر تک مفضل کو املا کروایا ۔آپ نے اس کتاب میں نہایت شگفتہ بیان کے ساتھ اس جہان کی خلقت اور خدا کے خالق اور حکیم کو ثابت کیا ۔

شیعہ کی ابحاث اعتقادی میں توحید مفضل ارزشمند اور معتبر کتاب سمجھی جاتی ہے ۔ توحید مفضل کی علمائے تشیع کے نزدیک خاص اہمیت کے پیش نظر سید بن طاووس، نے اس کتاب کو سفر میں اپنے ہمراہ رکھنے اور اس میں غور و حوض کی تاکید اور توصیہ کیا ہے ۔ [8]

مضامین کتاب

  • امام صادق(ع) ابتدا میں جہان ہستی کے طریقۂ خلقت سے عدم واقفیت اور اسباب سے لا علمی کو وجود خدا کے انکار یا شک کا سبب قرار دیتے ہیں ۔پھر تخلیق جہان ،انسان اور اسکے اعضائے بدن کی خلقت کو حواس پنجگانہ اور انسانی نظام ہضم کی مانند بیان کرتے ہیں اور ان کے ذریعے خلق کرنے والے کی قدرت حکمت اور علم پر استدلال کرتے ہیں
  • امام(ع) دوسری نشست میں گھوڑے،ہاتھی،زرافہ، بندر،کتے، مرغ، چمگادڑ، بھڑ،شہد کی مکھی، ٹڈی، چیونٹی اور مچھلی جیسے حیوانات کی دنیا کی تخلیق میں موجود حیرت انگیز پہلؤں پر روشنی ڈالتے ہیں ۔ بیان شگفتی‌های جهان حیوانات، مانند اسب، فیل، زرافه، میمون، سگ، مرغ، خفاش، زنبور عسل، ملخ، مورچه و ماهی می‌پردازد.
  • تیسری نشست میں زمین و آسمان کی تعجب آور پہلو بیان کرتے ہیں جیسے آسمان کا رنگ،خورشید کا طلوع و غروب،سال کے موسم،آسمان میں سورج ، چاند اور ستاروں کی تیز حرکت،سردی اور گرمی کی پیدائش،آواز کی ایجاد کی کیفیت ۔
  • چوتھی نشست میں موت و حیات کی حقیقت ، خلقت انسان کی علت، اس جہان کی پہچان و معرفت کے طریقوں کا بیان اور جہان کے حقائق ،حس و عقل کے درمیان فرق کے ساتھ مخصوص ہے ۔

غیر مشہور حصہ

آقا بزرگ طہرانی نے الذریعہ[9] میں اس نکتے کی طرف اشارہ کیا ہے کہ توحید مفضل کا ملکوت اعلا کے احوال پر مشتمل حصہ سید ابن طاؤس کے زمانے میں مشہور نہیں تھا ،[10] بزرگ تہرانی کے معاصرین میں سے سید مرزاابوالقاسم ذہبی نے اسے پایا اور توحید مفضل کو اس غیر مشہور حصے سمیت اپنی کتاب تباشیرالحکمہ میں ذکر کیا ہے ۔

خطی نسخہ جات

توحید مفضل کے بہت سے خطی نسخے موجود ہیں ان میں سے کچھ خطی نسخے ایران کے شہر مشہد کے کتابخانۂ آستان قدس رضوی،تہران کے کتابخانۂ ملی اور قم کے کتابخانۂ آیت الله مرعشی نجفی میں موجود ہیں جبکہ کچھ اور نسخے عراق میں موجود ہیں [11]

ظایری طور پر قدیمی ترین خطی نسخہ ۱۰۵۶ق سے متعلق ہے جو عبدالرزاق جیلانی کا لکھا ہوا ہے اور قم کے کتابخانۂ آیت الله گلپایگانی میں محفوظ ہے ۔[12]

توحید مفضل پہلی مرتبہ ۱۲۸۷ش میں ایران میں چھپی. اسکے بعد ابھی تک اسکا متن ،ترجمے اور اس پر متعدد شرحیں مصر، عراق اور ایران سے چھپ چکی ہیں ۔[13]

ترجمہ فارسی

اسکا فارسی زبان میں پہلا ترجمہ قم میں مقیم شیخ فخرالدین ترکستانی نے ۱۰۶۵ق میں کیا ۔اسی طرح محمدباقر مجلسی نے بھی اسے فارسی زبان میں ترجمہ کیا اور اس پر شرح لکھی اور اسے بحارالانوار[14] میں ذکر کیا ہے ۔

دیگر علما نے بھی اسکے ترجمے ، شرحیں اور اس پر تحقیقیں لکھیں کچھ علما نے اسے شعری صورت میں نظم کیا ۔[15]

بیرونی روابط

حوالہ جات

  1. کلینی، ج۲، ص۹۲ ؛ شیخ مفید، ج۲، ص۲۰۸ ؛ شیخ طوسی، ج۱، ص۲۱۰ ؛ ابن شہرآشوب، ج۴، ص۲۱۹
  2. مامقانی، ج ۳، ص ۲۳۸ ـ ۲۴۲
  3. ابن طاووس، الامان، ج ۱، ص ۵۰ ؛ تستری، ج ۱۴، ص ۱۴۳
  4. آقا بزرگ طہرانی، الذریعہ، ج ۴، ص ۴۸۲
  5. نجاشی، ج ۱، ص ۴۱۶
  6. کولبرگ، ج ۱، ص ۳۶۱ ـ ۳۶۲
  7. ابن طاووس، الامان، ج ۱، ص ۹۱
  8. ابن طاووس، الامان، ج ۱، ص ۹۱
  9. ج ۴، ص ۴۸۲ ـ ۴۸۳
  10. ابن طاووس، الامان، ج ۱، ص ۹۱
  11. حسینی اشکوری، ج ۱، ص ۱۴۴ ؛ فکرت، ج ۱، ص ۱۵۰
  12. عرب زاده، ج ۱، ص ۱۹۷
  13. آقابزرگ طہرانی، الذریعہ، ج ۴، ص۹۱، ۴۸۲ ـ ۴۸۳ ؛ آقابزرگ طہرانی، مصنفات، ج ۲، ص ۱۶۷ ؛ فاضل، ج ۳، ص ۱۵۱۵
  14. مجلسی، ج ۳، ص ۵۷ ـ ۱۵۱
  15. آقابزرگ طہرانی، الذریعہ، ج۴، ص۹۱ ؛ فکرت، ج ۱، ص ۱۵۰ ؛ حسینی اشکوری، ج ۱، ص ۱۳۱


منابع

  • آقابزرگ طہرانی، الذریعہ الی تصانیف الشیعہ، چاپ علی نقی منزوی و احمد منزوی، بیروت، ۱۴۰۳ق.
  • آقابزرگ طہرانی، مصنفات شیعہ: ترجمہ و تلخیص الذریعۃ الی تصانیف الشیعہ، ج ۲، محمد آصف فکرت، مشہد، ۱۳۷۳ش.
  • ابن شہرآشوب، مناقب آل ابی طالب، چاپ ہاشم رسولی محلاتی، قم.
  • ابن طاووس، الامان من اخطار الاسفار و الازمان، قم، ۱۴۰۹ق.
  • ابن طاووس، کشف المحجۃ لثمرة المهجۃ، چاپ محمد حسون، قم، ۱۳۷۵ ش.
  • انوار، عبدالله، فہرست نسخ خطی کتابخانہ ملی، تہران، ۱۳۴۳ـ ۱۳۵۸ش.
  • تستری، محمدتقی، قاموس الرجال، ملحقات، تہران، مکتبہ الصدر.
  • حسینی اشکوری، احمد، فہرست نسخہ ہای خطی کتابخانہ عمومی حضرت آیة اللّه العظمی مرعشی نجفی مدّظلّہ العالی، قم، ۱۳۵۴ـ۱۳۷۶ش.
  • شیخ طوسی، کتاب الغیبہ، تہران، ۱۳۹۸ق.
  • شیخ مفید، الارشاد فی معرفۃ حجج اللّه علی العباد، با ترجمہ و شرح هاشم رسولی محلاتی، تہران، ۱۳۴۶ش.
  • عرب زاده، ابوالفضل، فہرست نسخہ ہای خطی کتابخانہ آیۃ اللّه العظمی گلپایگانی (قدس سره)، قم، ۱۳۷۸ش.
  • فاضل، محمود، فہرست نسخه های خطی کتابخانہ جامع گوہرشاد مشہد، مشہد، ۱۳۶۳ـ۱۳۶۷ش.
  • فکرت، محمدآصف، فہرست الفبائی کتب خطی کتابخانہ مرکزی آستان قدس رضوی، مشہد، ۱۳۶۹ش.
  • کولبرگ، اتان، کتابخانہ ابن طاووس و احوال و آثار او، ترجمہ علی قرائی و رسول جعفریان، قم، ۱۳۷۱ش.
  • کلینی، الکافی، تصحیح علی اکبر غفاری، دارالکتب الاسلامیہ، تہران.
  • مامقانی، عبدالله، تنقیح المقال فی علم الرجال، چاپ سنگی، نجف، ۱۳۴۹ـ۱۳۵۲ق
  • مجلسی، محمدباقر، بحارالانوار، موسسہ الوفاء، بیروت.
  • مفضّل بن عمر، توحید مفضّل، ترجمہ محمدباقر مجلسی، چاپ باقر بیدہندی، تہران، ۱۳۷۹ش.
  • نجاشی، احمد، فہرست اسماء مصنّفی الشیعہ المشتہر ب رجال النجاشی، چاپ موسی شبیری زنجانی، قم، ۱۴۰۷ق.