بے نقطہ خطبہ

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

شیعوں کے پہلے امام
حضرت علی علیہ السلام


حیات
واقعۂ غدیرلیلۃ المبیتیوم الدارمختصر زندگی نامہ


علمی ورثہ
نہج البلاغہغرر الحکم و درر الکلمخطبۂ شقشقیہبے الف خطبہبے نقطہ خطبہحرم


فضائل
فضائل اہل‌بیت، آیت ولایت • آیت اہل‌الذکر • آیت شراء • آیت اولی‌الامر • آیت تطہیر • آیت مباہلہ • آیت مودت • آیت صادقین-حدیث مدینۃالعلم • حدیث رایت • حدیث سفینہ • حدیث کساء • خطبہ غدیر • حدیث منزلت • حدیث یوم‌الدار • حدیث ولایتسدالابوابحدیث وصایت


اصحاب
عمار بن یاسرمالک اشترابوذر غفاریعبیداللہ بن ابی رافعحجر بن عدیدیگر افراد


بے نقطہ خطبہ، امام علی علیہ السلام کے ان مشہور خطبوں میں سے ایک ہے جو نہج البلاغہ میں ذکر نہیں ہوا ہے۔ اس خطبے کو امامؑ نے فی البداہہ ارشاد فرمایا ہے۔


سند

سید رضی نے اس خطبے کو نہج البلاغہ میں ذکر نہیں کیا ہے۔ لیکن محمدباقر محمودی نے مستدرک نہج البلاغہ میں مختلف اسناد کے ساتھ اس خطبے کو ذکر کیا ہے۔[1] مختلف مآخذ میں اس خطبے کے متن میں کچھ اختلاف بھی پایا جاتا ہے۔

یہ خطبہ بھی بے الف خطبہ کی طرح ایک ادبی معجزہ سمجھا جاتا ہے، امیر المومنین کے علمی اور فکری مرتبے کی حکایت کرتا ہے جو کہ اصحاب کی بات ختم ہوتے ہی فی البداہۃ آپ نے بیان کیا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ پیغمبر اکرمؐ کے بعض اصحاب بحث و گفتگو میں مشغول تھے اور کہہ رہے تھے کہ سب سے زیادہ استعمال ہونے والا لفظ الف ہے اور اسی بات پر امامؑ نے الف کے بغیر پورا خطبہ دیا اور اس کے بعد نقطے کے بغیر خطبہ دیا۔ اس خطبے کے زمان اور مکان کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ہے۔

یہ خطبہ توحید، نبوت،صفات الہی، اور رسول خداؐ کی سنت اور سیرت کے بارے میں ہے، اور لوگوں کو آپؐ کی اتباع کرنے، خود اندیشی اور خودسازی کی دعوت دیتا ہے۔

یہ نکتہ مدنظر رہے کہ "ۃ" چھوٹی تا پر آنے والے نقطے چونکہ وقف کے وقت نہیں پڑھے جاتے ہیں اس لئے اسے نقطے والا حرف نہیں کہا جاسکتا ہے۔

متن خطبہ

  • سید احمد سجادی نے اس خطبے پر کافی تحقیق کے بعد اس کا متن یوں پیش کیا ہے:[2]


خطبہ کا متنترجمہ
اَلْحَمْدُ للَّـهِ أَهْلِ الْحَمْدِ وَ مَأْوَاهُ، وَ لَهُ أَوْكَدُ الْحَمْدِ وَ أَحْلَاهُ، وَ أسعَدُ الْحَمْدِ وَ أَسْرَاهُ، وَ أَطْهَرُ الْحَمْدِ وَ أَسْمَاهُ، وَ أَکْرَمُ الْحَمْدِ وَ أَوْلَاهُ. الْوَاحِدِ الأَحَدِ الصَّمَدِ، لاوَالِدَ لَهُ وَ لاوَلَدَ.حمد کر تا ہوں میں اس کی جو ستایش اور حمد کا لایق ہے اور اسی کے لئے ہی سزاوار ہے واضح ترین اور شیرین ترین حمد، سعادتمند ترین اور سخاوت مند ترین حمد، سب سے پاک اور عالی حمد، بےنظیر اور شایستہ حمد، اس اللہ کے لیے جو یکتا اور بے نیاز ہے، اور نہ وہ کسی کا باپ ہے اور نہ کسی کا بیٹا۔
سَلَّطَ الْمُلُوكَ وَ أَعْدَاهَا، وَ أَهْلَكَ الْعُدَاةَ وَ أَدْحَاهَا. وَ أَوْصَلَ الْمَكَارِمَ وَ أَسْرَاهَا. وَ سَمَكَ السَّمَاءَ وَ عَلَّاهَا، وَ سَطَحَ الْمِهَادَ وَ طَحَاهَا، وَ وَطَّدَهَا وَ دَحَاهَا، وَ مَدَّهَا وَ سَوَّاهَا، وَ مَهَّدَهَا وَ وَطَّاهَا، وَ أَعْطَاكُمْ مَاءَهَا وَ مَرْعَاهَا، وَ أَحْكَمَ عَدَّ الأُمَمِ وَ أَحْصَاهَا، وَ عَدَّلَ الأَعْلَامَ وَ أَرْسَاهَا.ابادشاہوں کو مسلط کیا دشمنی کرنے پر آمادہ کیا، دشمنوں کو ہلاک کر کے کنارے لگا لیا۔ مکارم کو لوگوں تک پہنچایا اور انہیں شرف بخشا۔ آسمان کو اوپر لے گیا اور بلند کیا۔ زمین کو مسطح کیا اور پھیلایا، اسے پھیلا کر زندگی کے لیے ہموار کردیا اور تمہیں پانی اور سبزہ زار دیا۔ اور قوموں کو اس پر بسنے کے لیے معین کیا اور ان کی تعداد پر احاطہ کیا اور ہدایت کی بلند نشانیوں کو مقرر اور استوار کیا
اَلإلَهُ الأَوَّلُ لامُعَادِلَ لَهُ، وَ لارَادَّ لِحُکْمِهِ. لاإِلهَ إِلَّا هُوَ الْمَلِكُ السَّلامُ، الْمُصَوِّرُ الْعَلّامُ، الْحَاكِمُ الْوَدُودُ، الْمُطَهِّرُ الطَّاهِرُ، الْمَحْمُودُ أَمْرُهُ، الْمَعْمُورُ حَرَمُهُ، الْمَأْمُولُ كَرَمُهُ.وہ معبود ہے جس کا برابر کوئی نہیں اور نہ ان کے حکم ٹھکرانے والا کوئی ہے۔ اس کے علاوہ کوئی اور خدا نہیں، وہ بادشاہ، سلام، مصور، زیادہ عالم، مہربان حاکم، پاک اور پاک کرنے والا، جس کا حکم قابل ستایش، جس کی حرمت آباد اور جس کی سخاوت امیدوارکنندہ۔
عَلَّمَكُمْ كَلَامَهُ، وَ أَرَاكُمْ أَعْلَامَهُ، وَ حَصَّلَ لَكُمْ أَحْكَامَهُ، وَ حَلَّلَ حَلَالَهُ، وَ حَرَّمَ حَرَامَهُ.اس کا کلام (قرآن) تمہیں سکھایا اور اس کی نشانیاں تمہیں دکھایا، اس کے احکام تمہارے دسترس میں رکھا، جو روا تھا اسے حلال کردیا، جو ناروا تھا اسے حرام قرار دیا۔
وَ حَمَّلَ مُحَمَّداً الرِّسَالَة َ، رَسُولَهُ الْمُكَرَّمَ، الْمُسَوَّدَ الْمُسَدَّدَ، الطّـُهْرَ الْمُطَهَّرَ. أَسْعَدَ اللَّـهُ الأُمَّةَ لِعُلُوِّ مَحَلِّهِ، وَ سُمُوِّ سُؤْدَدِهِ، وَ سَدَادِ أَمْرِهِ، وَ كَمَالِ مُرَادِهِ. أَطْهَرُ وُلْدِ آدَمَ مَوْلُوداً، وَ أَسْطَعُهُمْ سُعُوداً، وَ أَطْوَلُهُمْ عَمُوداً، وَ أَرْوَاهُمْ عُوداً، وَ أَصَحُّهُمْ عُهُوداً، وَ أَکْرَمُهُمْ مُرْداً وَ كُهُولاً.رسالت کو بوجھ کو حضرت محمدؐ کے کاندھے پر رکھا وہی رسول قابل احترام ہے، پاک اور پاک کرنے والا ہے، اللہ نے اس امت کو ان کے بلند مرتبہ، دین کی استواری اور ان کی آرزو کامل ہونے کے ذریعے سے سعادت بخشا۔ وہ انسانوں میں پاکیزہ ترین ولادت والا اور درخشندہ ترین خوشبختی اور سعادت کا ستارہ ہے۔ وہ اپنوں میں سب سے زیادہ بلند مرتبہ اور اپنی نسل میں سب سے زیادہ حسین، وعدے کا سب سے پکا، نوجوانی اور بڑھاپے میں سب سے زیادہ کریم ہے۔
صَلاةُ اللَّـهِ لَهُ وَ لِآلِهِ الأَطْهَارِ، مُسَلَّمَةً وَ مُكَرَّرَةً مَعْدُودَةً، وَ لِآلِ وُدِّهِمُ الْكِرَامِ مُحَصَّلَةً مْرَدَّدَةً، مَا دَامَ لِلسَّمَاءِ أَمْرٌ مَرْسُومٌ، وَ حَدُّ مَعْلُومٌ.اللہ کا درود اور صلوات اس پر اس کی پاکیزہ آل پر ہو، خالص،اور مسلسل اور مکرر درود ان پر اور ان کی محبوب اور بزرگوار آل پر ، ایسا درود جو جاوید اور ہمیشہ کے لیے ہوجب تک کہ آسمان کے لیے کوئی حکم مرقوم ہو اور اس کی حد معلوم ہو۔
أَرْسَلَهُ رَحْمَةً لَكُمْ، وَ طَهَارَةً لأَعْمَالِكُمْ، وَ هُدُوءَ دَارِكُمْ، وَ دُحُورَ عَارِكُمْ، وَ صَلَاحَ أَحْوَالِكُمْ، وَ طَاعَةً للَّـهِ وَ رُسُلِهِ، وَ عِصْمَةً لَكُمْ وَ رَحْمَةً.اس کو بھیجا تاکہ تمہارے لیے رحمت ہو، تمہارے اعمال کی پاکیزگی، زندگی کی آرامش کا باعث بنے اور تمہارے کاموں کے ننگ و عار برطرف ہوجائے، تمہارے حال کی اصلاح، اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت اور تم اور رحمت کی حفاظت کا باعث بنے۔
إِسْمَعُوا لَهُ، وَ رَاعُوا أَمْرَهُ، وَ حَلِّلُوا مَا حَلَّلَ، وَ حَرِّمُوا مَا حَرَّمَ.ان کی بات کو سنو، اور حکم کی اطاعت کرو، جسے اس نے حلال کہا ہے اسے حلال جانو، اور جس چیز کو حرام کہا ہے اسے حرام جانو۔
وَ اعْمَدُوا - رَحِمَكُمُ اللَّـهُ - لِدَوَامِ الْعَمَلِ، وَ ادْحَرُوا الْحِرْصَ وَ اعْدِمُوا الْكَسَلَ. وَ ادْرُوا السَّلَامَةَ، وَ حِرَاسَةَ الْمُلْكِ وَ رَوْعَهَا، وَ هَلَعَ الصّدُورِ وَ حُلُولَ كَلِّهَا وَ هَمِّهَا.اللہ تم پر رحمت کرے! پیوستہ عمل کی کوشش کرو، لالچ کو اپنے سے دور کرو، سستی کو اپنے سے ختم کرو، سلامتی کا راز، حاکمیت کی حفاظت اور رعایت، اور جو دلوں کو تشویش پہنچاتا ہے اور پریشانی اور بےبسبی کا سبب بنتا ہے ان کو پہچان لو۔
هَلَكَ - وَ اللَّـهِ - أَهْلُ الإِصْرَارِ، وَ مَا وَلَدَ وَالِدٌ لِلإِسْرَارِ. كَمْ مُؤَمِّلٍ أَمَّلَ مَا أَهْلَكَهُ! وَ كَمْ مَالٍ وَ سِلَاحٍ أُعِدَّ صَارَ لِلأَعْدَاءِ عَدّ ُهُ وَ عَمَدُهُ!خدا کی قسم جو حرص اور طمع پر اصرار کرتے ہیں وہ ہلاک ہوگیے، کسی بھی باپ کو بیٹا پیدا ہوجائے تو وہ اسے نہیں چھپا سکتا ہے! کتنے آرزو رکھنے والوں کے لیے ان کی آروز ہلاک کا باعث بنی ہو، اور کتنے اسلحے اور مال جو تیار کیا تھا وہ دشمن کے ہوئے ہیں اور وہ اس مال اور اسلحے سے استفادہ نہیں کر سکا ہے۔
اَللَّـهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ وَ دَوَامُهُ، وَ الْمُلْكُ وَ كَمَالُهُ. لاإِلهَ إِلَّا هُوَ، وَسِعَ كُلَّ حِلْمٍ حِلْمُهُ، وَ سَدَّدَ كُلَّ حُکْمٍ حُکْمُهُ، وَ حَدَرَ كُلَّ عِلْمٍ عِلْمُهُ.اے اللہ ہمیشہ تمہارا حمد ہو، کامل بادشاہی تمہارے لیے ہے، تیرے سوا کوئی اللہ نہیں ہے، اس کی بردباری ہر کسی کی بردباری سے زیادہ وسیع اور اس کا حکم ہر کسی کے حکم سے مستحکم اور سچا، اس کا علم ہر صاحب علم کو زیر کرتا ہے۔
عَصَمَكُمْ وَ لَوَّاكُمْ، وَ دَوَامَ السَّلَامَةِ أَوْلَاكُمْ، وَ لِلطَّاعَةِ سَدَّدَكُمْ، وَ لِلإِسْلَامِ هَدَاكُمْ، وَ رَحِمَكُمْ وَ سَمِعَ دُعَاءَكُمْ، وَ طَهَّرَ أَعْمَالَكُمْ، وَ أَصْلَحَ أَحْوَالَكُمْ. اللہ تمہیں خطاوں سے حفاظت کرے اور گناہوں سے دور رکھے، ہمیشہ تمہیں سلامتی عطا کرے، اور اپنی اطاعت میں تمہیں ثابت قدم رکھے، اور اسلام کے احکام کی پیروی کی ہدایت کرے، اپنی رحمت میں ہمیں بھی شامل کرے، تمہاری دعا مستجاب، تمہارے اعمال پاکیزہ اور تمہاری حالات کو نیک قرار دے۔
وَ أَسْأَلُهُ لَكُمْ دَوَامَ السَّلَامَةِ، وَ كَمَالَ السَّعَادَةِ، وَ الآلَاءَ الدَّارَّةِ، وَ الأَحْوَالَ السَّارَّةِ؛ وَ الْحَمْدُ للَّـهِ وَحْدَهُ.ایک بار پھر اس سے تمہارے لیے ہمیشہ کی سلامتی، اور عالیترین سعادت مانگتا ہوں۔ اور اپنی نعمتوں کو تم پر ہمیشہ نازل کرے، تمہاری حالات کو خوشحالی کا باعث بنادے۔ اور حمد صرف اللہ کے لیے ہے۔

حوالہ جات

  1. محمودی، محمد باقر، نہج السعادۃ فی مستدرک نہج البلاغۃ، مصحح: آل طالب، عزیز، ج۱، ص۱۰۹ –۱۱۱، انتشارات وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی‌، تہران، چاپ اول، ۱۳۷۶ش.
  2. نہج السّعادۃ (در تکمیل و استدراک نہج البلاغہ)، محمد باقر محمودی، چاپ ۱۴۱۸ق: ج۱/ص۱۰۹-۱۱۱، منقول از کتاب “مجموعۃ ادبیۃ”، محمد بن عبد القاہر بن المَوصِلی الشَّہرزُوری؛ اسی طرح کتاب “دو شاہکار علوی”، محمد احسانی فر لنگرودی؛ و کتاب “تمامُ نہجِ البلاغۃ”، سید صادق موسوی، چاپ ۱۴۱۸ق: ص۳۳۵و۳۳۶. تحقیق، تطبیق متن و تصحیح ترجمہ، از سید احمد سجادی، ۲۱ رمضان ۱۴۳۴ق/ مرداد۱۳۹۲


منابع