بزرگ تہرانی

ويکی شيعه سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش
بزرگ تہرانی
آقا بزرگ تهرانی.jpg
ذاتی معلومات
مکمل نام محمد محسن بن‌ علی تہرانی منزوی
تاریخ ولادت 11 ربیع الاول 1293 ھ ق
مولد تہران
مسکن تہران،نجف، کاظمین، سامرا
تاریخ وفات 13 ذی الحج 1379 ھ ق
مقام وفات نجف
علمی معلومات
اساتذہ آخوند ملا محمّد کاظم خراسانی، سید احمد حائری تہرانی،....
شاگرد الذریعة الی تصانیف الشیعة،توضیح الرشاد فی تاریخ حصر الاجتہاد،.....
اجازہ روایت از میرزاحسین نوری ،شیخ ‌عبدالوہاب شافعی، شیخ ‌محمدعلی ازہری ‌مالکی (رئیس مدرسین مسجدالحرام)،....
اجازہ روایت حاج‌آقا حسین بروجردی،شیخ ‌عبدالحسین امینی،...
سیاسی-سماجی فعالیت
بزرگ تہرانی اپنے بیٹوں کے ہمراہ

آقابزرگ تہرانی(۱۲۹۳-۱۳۸۹) کے نام سے معروف شیعہ عالم دین کا اصل نام محمد محسن بن‌ علی ‌بن‌ محمد رضا ‌بن‌ ‌محسن ‌بن‌ علی ‌اکبر بن باقر منزوی تہرانی تھا جو ایک فقیہ اور ماہر شیعہ کتاب‌شناس تھے ۔ انہوں نے بہت سے آثار چھوڑے مگر ان میں سے اہم ترین الذریعة الی تصانیف الشیعة، (شیعہ کتب و آثار کی معرفی کا نہایت ذخیم ذخیرہ) اور طبقات اعلام الشیعه،(تیرھویں اور چودھویں ہجری قمری کے شیعہ علما کے احوال اور آثار کا دائرۃ المعارف)ہیں۔

زندگی‌ نامہ

بزرگ تہرانی ۱۱ ربیع‌الاول ۱۲۹۳ ق کو ایران کے شہر تہران میں پیدا ہوئے۔ انکے والد اور داد اسی شہر کے علمائے دین میں سے تھے ۔ پردادا حاج‌ محسن تاجر تھے جنہوں نے منوچہر خان معتمدالدولہ گرجی کی معاونت سے ایران میں سب سے پہلا چاپ خانے کی سنگ بنیاد رکھی ۔آپ نے دو شادیاں کیں جن سے ۵ بیٹے اور ۴ بیٹیاں پیدا ہوئیں ۔ علی نقی منزوی اور احمد منزوی ان بیٹوں میں سے ہیں جنہوں نے الذریعہ کی تالیف میں باپ کی مدد کی ۔

تعلیمی سفر

ابتدائی تعلیمات کا آغاز مدرسہ دانگی پھر مدرسہ پامنار اور مدرسہ فخریہ (مروی) میں اسے جاری رکھا ۔عرب ادبیات شیخ‌ محمد حسین خراسانی اور شیخ ‌محمدباقر معزالدولہ کے پاس ، منطق مرزا محمد تقی کے پاس ، علم اصول سیدعبدالکریم مدرسی، سیدمحمدتقی گرکانی اور شیخ‌ علی ‌نور ایلکائی کے پاس پڑھا ۔ ریاضی کا کچھ حصہ مرزا ابراہیم زنجانی کے پاس پڑھا۔اسی طرح تاریخ ادبیات اور رجال حدیث کا علم حاصل کیا ۔۱۰ جمادی‌الثانی ۱۳۱۵ق. میں مزید تعلیم کے حصول کی لئے نجف گئے اور وہاں ۱۳۲۹ق. تک وہاں رہے ۔یہاں حاج ‌میرزا حسین نوری، شیخ‌ محمد طه نجف، سید مرتضی کشمیری، حاج‌ مرزاحسین میرزا خلیل، آخوند ملا محمّد کاظم خراسانی، سید احمد حائری تہرانی، مرزا محمدعلی چہاردہی، سید محمد کاظم یزدی اور شیخ الشریعہ اصفہانی کے دروس میں شرکت کی ۔

تدوین ذریعہ

طویل عرصے سے شیعہ مصنفین کے آثار کی فہرست کی ضرورت شدت سے محسوس ہو رہی تھی ۔ دوسرے مسلمان مذاہب نے اپنے مصنفین کے آثار کی فہرستیں مرتب کرتے رہے لیکن شیعہ آثار بے توجہی کا شکار ہو رہے تھے ۔ انہی سالوں میں عیسائی ادیب جرجی زیدان نے اپنی کتاب تاریخ آداب‌ اللغه‌ العربیه میں اسلامی معاشرے اور فرہنگ کی تشکیل میں تشیع کے کردار کو معمولی شمار کیا ۔یہ بات شیعہ فقہا پر گران گزری اور چند علما اکٹھے ہوئے ،ان میں سے تین علما نے شیعہ آثار کی معرفی اور اس مؤرخ کے اعتراض کے جواب دینے کا ارادہ کیا ۔ علوم اسلامی میں شیعوں کا کردار سید حسن صدر کے حوالے ہوا پس انہوں نے کتاب تأسیس‌ الشیعہ ‌الکرام لفنون ‌الاسلام اسی غرض سے لکھی ۔ شیخ ‌محمدحسین کاشف‌ الغطاء نے جرجی زیدان کی کتاب میں موجود غلطیوں اور لغزشوں کے بیان میں المراجعات‌ الریحانیہ کو لکھنا شروع کیا اور بزرگ تہرانی نے تألیف‌ الذریعہ کا عہدہ اپنے ذمہ لیا جس کا مکمل نام الذریعہ الی تصانیف الشیعہ ہے۔

وہ ۱۳۲۹ق.میں کاظمین گئے اور وہاں ذریعہ کی تدوین کی خاطر تحقیق و جستجو شروع کی ۔ کچھ مدت بعد سامرا گئے وہاں اس کام کو جاری رکھنے کے ساتھ ساتھ مرزا محمدتقی شیرازی کے درس خارج میں شرکت کی ۔ ۱۳۳۵ق. میں دوبارہ کاظمین واپس آ گئے دو سال یہاں رہنے کے بعد مرتبہ پھر سامرا چلے گئے ۔ ۱۳۵۴ق. میں نجف واپس لوٹ آئے اور یہاں اس کتاب کی چھپائی کیلئے مطبعه‌ السعاده کے نام سے چاپخانے کا سنگ بنیاد رکھا لیکن عراقی حکومت اس کام میں رکاوٹیں ڈالتی رہی یہانتک کہ شیخ‌ نے الذریعہ کی پہلی جلد مطبعہ ‌الغری سے چھپوائی لیکن حکومت عراق اس کتاب کے منتشر میں بھی رکاوٹ بنی یہاں تک کہ یہ کتاب چھ مہینے کی تاخیر سے منتشر ہوئی ۔

بزرگ تہرانی نے اس دائرۃ المعارف کی تدوین کیلئے بہت لمبے سفر کئے ۔جن میں عراق ، ایران ، شام ، فلسطین ، مصر ، حجاز نیز دیگر اور بہت سے عمومی کتابخانوں اور انہی ممالک کے خصوصی کتابخانوں کے دورے کئے ۔ذاتی طور پر انہوں ۶۲ کتابخانوں کو دیکھا نیز ان کے علاوہ دیگر بہت سے کتابخانوں کی فہرستوں کا مطالعہ کیا ۔

وفات

وی ایک طویل مدت تک بیمار رہ کر ۱۳ ذی‌الحج ۱۳۸۹ق، کو نجف میں فوت ہوئے اور اپنی وصیت کے مطابق اپنے ہی کتابخانے میں دفن ہوئے کہ جسے علما اور طلاب کے عمومی استفادے کیلئے وقف کیا تھا ۔

اجازۂ روایت

آقابزرگ تہرانی کے پاس مختلف مذاہب کے محدثین کے روایت نقل کرنے کے اجازت نامے موجود تھے ،مثلا:
  • میرزاحسین نوری
  • سید محمدعلی شاه ‌عبدالعظیمی
  • شیخ‌ علی خاقانی
  • شیخ ‌محمد صالح آل طعان بحرانی
  • شیخ‌ موسی کرمانشاہی
  • سید ابوتراب خوانساری
  • شیخ علی کاشف الغطاء
  • سید حسن صدر
  • شیخ ‌محمدعلی ازہری ‌مالکی (رئیس مدرسین مسجدالحرام)
  • شیخ ‌عبدالوہاب شافعی (امام جماعت مسجدالحرام)
  • شیخ ‌ابراہیم ‌بن ‌احمدالاحمدی (از فقهائے مدینہ)
  • شیخ ‌عبدالقادر طرابلسی (مدرس حرم شریف)
  • شیخ ‌عبدالرحمن علیش حنفی (مدرس‌ الازہر)
جن افراد کے پاس بزرگ تہرانی سے روایت نقل کرنے کے اجازت نامے موجود ہیں:

آثار

الذریعة الی تصانیف الشیعة اور طبقات‌ اعلام‌ الشیعه بزرگ تہرانی کے اہم ترین آثار میں سے ہیں۔ان میں سے ذریعہ ضخامت کے اعتبار سے ۲۶ جلدوں کو شامل ہے اور اس کی نویں جلد 4 جلدوں پر مشتمل ہے۔ یہ کتاب ۱۳۵۷-۱۳۹۷ق/۱۹۳۸-۱۹۷۷م میں نجف اور بیروت سے چھپ چکی ہے۔

نیز انکے علاوہ دیگر آثار درج ذیل ہیں :

  1. نوابغ‌ الرواه ‌فی ‌رابعه ‌امات، بیروت، دار الکتاب العربی، ۱۳۹۱ق/۱۹۷۱م
  2. الثقاه و العیون فی سادس القرون، بیروت، دارالکتاب العربی، ۱۳۹۲ق/۱۹۷۲م
  3. الضیاء اللامع فی عباقره ‌القرن ‌التاسع، دانشگاه تہران، ۱۳۶۲ش
  4. احیاء الداثر فی مآثر اهل‌ القرن ‌العاشر، دانشگاه تہران
  5. روضه النضره فی تراجم علماء المائه ‌الحادیه‌ عشره
  6. الکواکب‌ المنتشره فی ‌القرن ‌الثانی بعد العشره (خطی)
  7. الکرام ‌البرره فی‌ القرن‌ الثالث بعد العشره، نجف، ۱۳۷۳-۱۳۷۷ق/۱۹۵۴-۱۹۵۸م
  8. نقباء البشر فی القرن الرابع عشر، نجف، ۱۳۷۳ق
  9. مصفی المقال فی مصنفی علم‌ الرجال، تہران، ۱۳۳۷ش
  10. المشیخه، نجف، ۱۳۵۶ق/۱۹۳۸م
  11. هدیه الرازی الی المجدد الشیرازی، کربلا، ۱۳۸۳ق/۱۹۶۳م
  12. النقد اللطیف فی نفی التحریف عن القرآن الشریف (خطی)
  13. توضیح الرشاد فی تاریخ حصر الاجتہاد، قم، ۱۴۰۱ق/۱۹۸۱م
  14. تفنید قول العوام بقدم الکلام (خطی)
  15. ذیل المشیخه، نجف، ۱۳۵۵ق/۱۹۳۷م
  16. ضیاء المفازات فی طریق مشایخ ‌الاجازات، (خطی)
  17. اجازات الطوسی، نجف، ۱۳۷۶ق/۱۹۵۶م، (اسی طرح مقدمہ تفسیر‌التبیان چاپ ہوا ہے : بیروت، داراحیاء التراث‌ العربی)
  18. مستدرک کشف‌ الظنون: یا ذیل کشف‌ الظنون، تہران، مکتبہ الاسلامیہ و جعفری تبریزی ۱۳۸۷ق/۱۹۶۷م

لائبریری

بزرگ تہرانی ایک وسیع کتابخانے کے مالک تھے۔اس میں مختلف علوم کی ۵۰۰۰ جلد سے زیادہ کتابیں تھیں جن میں تاریخ، عمرانیات، عمومی فہرستیں ، خصوصی فہرستیں مختلف دائرة المعارف و... شامل ہیں ۔انکی ساری زندگی میں طلاب اور اہل مطالعہ تحریر و تحقیق میں اس کتابخانے سے فائدہ اٹھاتے رہے ۔ عمر کے آخری سالوں میں ضعیفی اور کہولت کے باوجود لائیبریری میں آنے والوں کی راہنمائی اور مدد کرتے رہتے ۔اس لائبریری کی تاسیس ۱۳۵۴ق. کو عمل میں آئی تھی۔اس بزرگ عالم دین نے اسے محفوظ اور پراکندگی سے بچانے کی خاطر ۱۳۷۵ق. میں اسے وقف کر دیا۔پھر ۱۳۸۰ق. میں اپنے وقف نامے میں تجدید نظر کرتے ہوئے اپنے ہاتھ سے لکھا کہ اگر اس کتابخانے کے متولیوں اور متصدیوں کیلئے اسکی حفاظت نہ رہے تو اس کتابخانے کو کتابخانۂ امیرالمؤمنین میں منتقل کر دیں ۔[1]

حوالہ جات

  1. حکیمی، محمدرضا، حماسہ غدیر، قم: دلیل ما، ۱۳۸۹، صص۳۱۵-۳۱۶.


منابع

  • تہرانی، آقابزرگ، تاریخ حصرالاجتہاد، قم، مطبعہ الخیام، ۱۴۰۱ق، صص ۵۵-۶۶؛
  • تہرانی، آقابزرگ، الذریعہ ۱/مقدمہ، ۱۲۹، ۳۰۸، ۲/۷۰، ۴۲۸، ۳/۷۱، ۴/۲۱۶، ۳۸۳، ۵/۸، ۷/۳۴، ۸/۸۶، ۸۷، ۱۰//۲۶، ۲۷، ۵۱، ۱۱/۳۰۴، ۱۳/۳۱، ۱۵/۱۲۷، ۱۲۸، ۱۳۰، ۱۴۶، ۲۰۲، ۱۸/۱۸، ۲۶۹، ۲۰/۸۲، ۱۵۱، ۲۱/۵۰۴، ۱۳۰، ۲۴/۱، ۱۱۵، ۲۷۱، ۲۷۸، ۳۱۵، ۲۵/۱۲۳، ۲۰۷، ۲۷۴.
  • تہرانی، آقابزرگ، طبقات اعلام‌الشیعہ، (القرن‌الرابع) ، بیروت، دارالکتاب‌العربی، ۱۹۷۱م، مقدمہ؛ حکیمی، #محمدرضا، شیخ‌آقابزرگ، تہرانی، تہران، دفتر نشر فرہنگ اسلامی صص ۳-۲۸.
  • خلیلی، جعفر، موسوعہ ‌العتبات ‌المقدسہ، بغداد، دارالتعارف، ۱۹۶۵م ۲/۲۶۱-۲۶۲.
  • زیدان، جرجی، تاریخ آداب ‌اللغۃ العربیہ، قاہره، دارالہلال، ۱۹۵۷م، ۲/۳۸۴.
  • عبدالرحیم، محمدعلی، شیخ ‌الباحثین ‌آغا بزرگ‌ الطهرانی، نجف، ۱۳۹۰ق.
  • مشار، خانبابا، فہرست چاپی عربی ص ۵۸، ۳۴۴، ۳۹۲، ۶۰۵، ۸۵۷.
  • منزوی، علینقی، «الذریعہ و آقابزرگ تہرانی» ، آینده، س ۶، شمـ ۳-۴، ۷-۸ (خرداد ـ تیر، مہر ـ آبان، ۱۳۵۹ش) صص ۲۴۷-۲۵۳، ۵۸۸-۵۹۶.

پیوند به بیرون