الارشاد فی معرفۃ حجج اللہ علی العباد (کتاب)

حوالہ جاتی اصول کی عدم رعایت
علاقائی تقاضوں سے غیر مماثل
غیر جامع
تلخیص کے محتاج
ویکی شیعہ سے
(الارشاد شیخ مفید سے رجوع مکرر)

مؤلفشیخ مفید (متوفٰی 413ھ)
مترجماردو ترجمہ تذکرۃ الاطہار سید صفدر حسین نجفی
مقام اشاعتبیروت
زبانعربی
موضوعتاریخ و سیرت ائمۂ اطہار
ناشردار المفید
تاریخ اشاعت1414 ہجری


الإرشاد في معرفۃ حُجَجِ اللہ عَلَى العِباد (411 ھ)، الارشاد کے نام سے معروف، کلامی و تاریخی کتاب ہے جو اہل بیتؑ کی تاریخ کے بارے میں عربی میں تالیف ہوئی ہے۔ اس کے مؤلف چوتھی اور پانچویں صدی ہجری کے برجستہ شیعہ عالم، فقیہ اور متکلم ابو عبد اللہ محمد بن محمد بن نعمان عكبرى بغدادى المعروف بہ شیخ مفید و ابن المعلم (متوفٰی 413 ہجرى) ہیں۔ یہ کتاب دو حصوں میں تقسیم کی جا سکتی ہے اور بڑا حصہ امام علیؑ کی سیرت و فضائل اور امام حسینؑ کی سوانح حیات کے لئے مختص کیا گیا ہے۔

کتاب کی اہمیت کے پیش نظر اس پر متعدد شرحیں لکھی گئی اور اس کے متعلق متعدد تحقیقات انجام پائی ہیں۔ سید ہاشم رسولی محلاتی نے اس کتاب کا فارسی، ڈاکٹر آئی اے کے ہوارڈ نے انگریزی اور سید صفدر حسین نجفی نے تذکرۃ الاطہار کے نام سے اردو میں ترجمہ کیا ہے۔

مؤلف کا مختصر تعارف

ابو عبداللہ محمد بن محمد بن نعمان عكبرى بغدادى المعروف بہ شیخ مفید و ابن المعلم ذوالقعدہ سنہ 336 ہجری میں بغداد سے 10 فرسخ کے فاصلے پر واقع علاقے میں پیدا ہوئے۔ سید مرتضی عَلَمُ الہُدی اور شیخ طوسی کے استاد تھے۔ علم کلام کے ماہر استاد تھے اور شیعہ کلامی مکتب ان کے زمانے میں عروج کو پہنچا۔ معتزلہ کے قاضی عبدالجبار اور اشاعرہ کے قاضی ابوبکر الباقلانی کے ساتھ ان کے مناظرات مشہور ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ انھوں نے نوجوانی میں علی بن عیسی معتزلی کے ساتھ مناظرہ کیا جس کے نتیجے میں علی بن عیسی نے انہیں "مفید" کا لقب دیا۔ تقریبا 200 کتب کو ان سے منسوب کیا گیا ہے جن میں [الارشاد سمیت] ارکان فی دعائم الدین، العیون والمحاسن، اصول الفقہ، الکلام فی وجوہ اعجاز القرآن، تاریخ الشریعہ، شامل ہیں۔ ان کی کئی کتب کا تعلق دیگر عقائد کے رد میں ہیں اور زیادہ تر کا تعلق شیعہ عقائد و احکام سے ہے۔ ان کا رسالہ المقنعہ نفیس، جامع اور مضبوط فقہی متن ہے جس پر شیخ طوسی نے شرح لکھی اور وہ شرح کتاب التہذیب کی شکل میں مرتب ہوئی جو کتب اربعہ میں سے ایک ہے۔ انھوں نے فقہ، اصول، اخلاق، حدیث، ولایت، امامت اور فلسفۂ سیاست اور امام زمانہ(عج) کی غیبت کے سلسلے میں قلم فرسائی کی ہے۔ شیخ مفید نے جمعہ 3 رمضان المبارک سنہ 413 ہجری 75 سال محنت و خدمت کے بعد بغداد میں وفات پائی اور ہزاروں افراد نے ان کے جنازے میں شرکت کی اور دوست اور دشمن نے ان کی نماز جنازہ میں شرکت کی۔ سید مرتضی نے نماز جنازہ کی امامت کی اور انہیں شہر کاظمین میں نویں امام معصوم امام جواد علیہ السلام کے حرم میں آپؑ کے پائینتی کی جانب سپرد خاک کیا گیا۔[1]

موضوع

كتاب "الإرشاد" ائمۂ اطہارؑ کی تاریخ حیات ہے جس کو شیخ مفید نے دستیاب روایات و احادیث کی بنیاد پر تالیف کیا ہے۔ شیخ مفید نے اس کتاب میں ائمۂ اطہارؑ اور ان کے اصحاب کے فضائل بھی بیان کئے ہیں۔

اہمیت اور اعتبار‏

كتاب الإرشاد معتبر ترین شیعہ کتب حدیث و سیرت میں شمار ہوتی ہے اور تاریخ ائمہ کے سلسلے میں اہم ترین ماخذ ہے اور بہت سے اہم شیعہ مآخذ نے اس کو اپنا ماخذ و مصدر قرار دیا ہے۔ یہ کتاب بحار الانوار کے مآخذ میں بھی شمار ہوتی ہے۔[2] یہ کتاب ائمہؑ کی فضیلت اور حالات زندگی کے بارے میں لکھی گئی شیعہ ابتدائی کتابوں اور مآخذ کے بارے میں بھی معلومات دینے کے لیے بہترین کتاب ہے۔ آقا بزرگ تہرانی، اس کتاب کے بارے میں الذریعہ الی تصانیف الشیعہ میں لکھتے ہیں: یہ کتاب بارہ اماموں کے بارے میں ہے اور شیخ مفید کے بعد جس نے بھی اس سلسلے میں کوئی کتاب لکھی ہے اسے مستند قرار دیا ہے۔[3]

تالیف کا محرک

شیخ مفید نے یہ کتاب ایک شیعہ فرد کی درخواست پر تالیف کی ہے۔ وہ کتاب کے آغاز میں لکھتے ہیں:

میں نے آپ کی درخواست پر ائمہ ہدی علیہم السلام کے نام، ان کی تاریخ و سیرت اور ان کی قبر و حرم کے مقامات کا ذکر کیا ہے۔ نیز ان ائمۂ معصومینؑ کی شان و منزلت میں وارد ہونے والی بعض احادیث کی طرف اشارہ کیا ہے تاکہ دین کے بارے میں آپ کا عقیدہ آگہی اور معرفت پر استوار ہو۔[4]

تاریخ تالیف

شيخ مفيد نے كتاب الإرشاد کو اپنی وفات سے دو سال قبل سنہ 411 ہجری میں مکمل کر لیا تھا۔[5]

اسلوب تالیف‏

شیخ مفید نے اس کتاب میں ایک تاریخی کتاب کا اسلوب اپنایا ہے اور تاریخی وقائع و حوادث بیان کئے ہیں لیکن ساتھ ہی یہ ایک کلامی اور عقیدتی کتاب بھی ہے کیونکہ اس میں بہت سے شیعہ عقائد بھی بیان ہوئے ہیں۔ نیز مؤلف نے اس کتاب میں کتب حدیث کی طرح، احادیث کو سند کے ساتھ نقل کیا ہے اور اس طرح انھوں نے اس کتاب کی اہمیت کو دو بالا کردیا ہے۔

شیخ مفید نے اپنی کتب کو ایک مقدمے اور ائمۂ اثنا عشرؑ کے عدد کے مطابق بارہ ابواب میں مرتب کیا ہے۔ کتاب کے بڑے حصے کا تعلق امیرالمؤمنینؑ سے ہے اور بعد ازاں باقی ائمہ اطہارؑ کی سیرت و حالات زندگی کو موضوع بحث بنایا ہے۔ ہر باب کے ذیل میں 3 سے 13 تک فصلیں قرار دی گئی ہیں جن میں مسلمانوں کے عام تاریخی مسائل، ہر امام کے اپنے تاریخی مسائل (ولادت، حالات زندگی اور شہادت)، فضائل، اصحاب، کلام اور خطبے، اولاد، ان کی زیارت کی فضیلت، کرامات و معجزات مناظرات کو بیان کیا گیا ہے۔

کتاب کے مندرجات

  • باب اول:
یہ باب ان موضوعات پر مشتمل ہے: علیؑ کون ہیں؟، امام علیؑ کے فضائل و مناقب کے سلسلے میں واردہ احادیث، حکمت آمیز اقوال و معجزات، امیرالمؤمنینؑ کے نمایاں آثار، آپؑ کی اولاد اور ان کی تعداد۔در باب اخبار و فضائل و مناقب و كلمات حكمت آميز و معجزات و آثار برجستہ على ؑ، پارہ ای از سخنان علیؑ، فرزندان على ؑ و تعداد آنان.
  • باب دوئم:
یہ باب امام حسنؑ کے حالات زندگی، آپؑ کے فرزندوں کے ناموں اور تعداد پر مشتمل ہے۔
  • باب سوئم:
یہ باب امام حسینؑ کے حالات زندگی اور آپؑ کے فضائل، زیارت اور ذکر مصائب پر مشتمل ہے۔
  • باب چہارم:
یہ باب امام سجادؑ، کی تاریخ ولادت، دلائل امامت، مدت زندگی، مدت خلافت، زمان وفات، سبب شہادت، مدفن، بعض روایات اور آپؑ کے فضائل نیز آپؑ کی اولاد کے اسماء اور تعداد، پر مشتمل ہے۔
  • باب پنجم شامل:
یہ باب امام باقرؑ، آپؑ کی تاريخ ولادت، دلائل امامت، مدت عمر و مدت خلافت، وقت وفات اور سبب شہادت، مدفن، آپؑ کے بھائیوں کے احوال، آپؑ کی اولاد اور ان کی تعداد وغیرہ پر مشتمل ہے۔
  • باب ششم:
یہ باب امام صادقؑ، کے حالات زندگی، تاريخ ولادت، دلائل امامت، نیز مدت عمر اور مدت خلافت، وقت وفات و سبب شہادت، مدفن، اولاد اور آپؑ کے بعض فضائل و اور آپؑ کی شان میں واردہ ارشادات اور حضرت صادقؑ کے بعض اقوال و احادیث، پر مشتمل ہے۔
  • باب ہفتم:
یہ باب امام کاظمؑ، کی اولاد، ان کے نام و تاریخ ولادت اور دلائل امامت، مدت عمر و مدت خلافت، وقت وفات، فضائل و مناقب اور کرامات اور دوسروں پر برتری کی دلیلوں، آپؑ کی مدت زندگی، وفات اور وفات کی کیفیت وفات کے سلسلے میں بعض روایات، مقام دفن، ہارون عباسی کے ہاتھوں آپؑ کی گرفتاری اور اسیری کے اسباب، آپؑ کی اولاد اور ان کی شان میں بعض روایات و احادیث، پر مشتمل ہے۔
  • باب ہشتم:
یہ باب امام رضاؑ کی حیات و سیرت، تاریخ ولادت، دلائل امامت، مدت عمر نیز مدت خلافت، وقت وفات و مرقد و حرم، اولاد اور ان کے سلسلے میں مختصر سی روایات، آپؑ کی بعض خصوصیات اور فضائل و مناقب، اسباب وفات اور اس کے سلسلے میں واردہ روایات و اخبار، پر مشتمل ہے۔
  • باب نہم:
یہ باب امام جوادؑ کی حیات و سیرت، تاريخ ولادت، دلائل امامت، مدت خلافت، مدت عمر، اسباب وفات، مقام دفن و مرقد، فرزندوں کی تعداد، آپؑ کے بعض فضائل اور متعلقہ اخبار و روایات، دلائل امامت، ـ بالخصوص وہ احادیث و روایات جن میں آپؑ اور آپؑ کے والد بزرگوار کا نام ذکر ہوا ہے، اور آپؑ کے مناقب اور دلائل و معجزات، پر مشتمل ہے۔
  • باب دہم:
یہ باب امام ہادیؑ کی حیات و سیرت، تاریخ ولادت، دلائل امامت تاريخ تولد و دلائل امامت، اخبار و فضائل، مدت خلافت مدت عمر اور اسباب وفات، مقام دفن اور مرقد، فرزندوں کی تعداد اور بعض متعلقہ اخبار و روایات، حضرت ہادیؑ کے براہین و اخبار و دلائل و بینات اور مدینہ سے روانگی اور سامرا میں ورود جیسے واقعات پر مشتمل ہے۔
  • باب یازدہم:
یہ باب امام عسکریؑ کی حیات و سیرت، تاریخ ولادت، دلائل امامت، آپؑ کی خلافت پر دلالت کرنے والی روایات بالخصوص آپؑ کے والد بزرگوار امام ہادیؑ کی طرف سے آپؑ کی امامت پر تصریح پر مبنی احادیث، مدت خلافت، آپؑ کی امامت، آپ کے فضائل و مناقب، اخبار اور معجزات، وفات، مرقد مطہر اور آپ کے فرزند ارجمند کے تعارف پر مشتمل ہے۔
  • بارہواں باب:
یہ باب حضرت مہدی(عج) کی تاریخ ولادت، دلائل امامت بعض اخیار اور آپ(عج) کی غیبت، ظہور، ظہور کے بعد آپ(عج) کی روش، آپ(عج) کی دولت الہیہ کی مدت، حضرت ولی عصر(عج) کے معجزات اور خوارق عادات، علائم ظہور، ایام ظہور کی مدت، آپ(عج) کی سیرت اور فرمانروائی کی سیرت اور بعض امور جو آپ(عج) کی عالمی حکومت عدل کے دوران ظاہر ہونگے؛ پر مشتمل ہے۔

قلمی نسخے‏

  1. آیت اللہ مرعشی نجفی لائیبریری میں سنہ 565ھ کو لکھا ہوا ایک قلمی نسخہ موجود ہے جس کو فضل اللہ راوندی کے سنہ566ھ کو لکھے ہوئے نسخے سے تقابل کیا گیا‏
  2. ایک نسخہ تہران میں واقع مجلس شورائے اسلامی (پارلیمنٹ) کے کتابخانے میں موجود ہے جو سنہ575 ہجری کو لکھی گئی ہے۔ اس کا تقابلی جائزہ مولانا امام ضیاء الدین کے نسخے سے کرایا گیا ہے۔
  3. ایک نسخہ سید حسین شیرازی کے کتب خانے میں میں موجود ہے جس کا تعلق ساتویں صدی سے ہے۔

ان قلمی نسخوں میں بہترین نسخہ اول الذکر نسخہ ہے جو تصیح شدہ بھی ہے اور اس کے متن پر اعراب گذاری ہوئی ہے۔

الارشاد کے بارے میں تحقیقات

اس کتاب کا بارہا ترجمہ ہوا ہے اور اس پر شرحیں اور تلخیصات لکھی گئی ہیں۔

تراجم

شرح و تلخیص

  • شرح الإرشاد، بقلم سید محمد باقر بن زین العابدین دستغیب حسینی شیرازی (متوفی بعد از 1092 ہجری)۔
  • شرح الإرشاد، (احتمالا بعنوان) التحفۃ السلیمانیۃ، مولف شیخ سلیمان کاشانی

[8]

حوالہ جات

  1. | شیخ مفید بحوالۂ لغت نامہ دِہخدا۔۔
  2. بحار الانوار، ج1، ص27۔
  3. الذریعۃ، ج1، ص510۔
  4. الارشاد، مقدمہ کتاب۔
  5. الارشاد، مقدمہ کتاب۔
  6. الذریعہ، ج3، ص442۔
  7. ۔| Great Shi'i Works: 'Kitab al-Irshad' by Al-Mufid۔
  8. گوکہ بعض منابع میں التحفۃ السلیمانیہ کو سلیمان صفوی کے حکم پر مسیحا کاشانی کے بقلم ہونے والے ترجمہ الارشاد کا عنوان قرار دیا ہے۔
  9. فہرست نسخہ ہای خطی، کتابخانہ آیت اللہ گلپایگانی، ج1، ص276. ج2، ص9. الذریعۃ، ج13، ص81. ج21، ص3۔

مآخذ

  • تہرانی، آقا بزرگ، الذریعۃ الی تصانیف الشیعۃ، بیروت، دار الاضواء، 1403 ق.
  • مجلسی، محمد باقر، بحار الانوار، بیروت، مؤسسۃ الوفاء، 1403 ق.
  • مفید، محمد، الارشاد فی معرفۃ حجج اللہ علی العباد، بیروت، مفید، 1414 ق.
  • فہرست نسخہ ہای خطی، کتابخانہ آیت اللہ گلپایگانی، قم، خیام، 1357 ش.
  • مرکز تحقیقات علوم اسلامی، نرم افزار سیرہ معصومان.