اشعریہ

ويکی شيعه سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش

اَشعری یا اشاعرہ اہل سنت کی کلامی جماعتوں میں سے ہے جس کی بنیاد ابو الحسن اشعری (260-324ہجری قمری) نے رکھی اسی بنا پر انہیں اشعری کہلاتے ہیں۔ ابوالحسن اشعری ابتداء میں خود معتزلی تھے لیکن آخر کار معتزلیوں کی انتہاپسندانہ عقلیت پسندی نیز اہل حدیث کی انتہاپسندانہ عقل گریزی (عقل کی نفی) کے درمیان ایک اعتدال پسندانہ راستہ نکالنے کا عزم کیا۔ ابوالحسن اشعری کے کام کا نتیجہ اہل حدیث کی آراء کو قبول کرنے اور ساتھ ہی ان کی ایک عقلی تشریح کی صورت میں برآمد ہوا اگرچہ وہ اہل حدیث کے بنیادی مشکلات ـ منجملہ "جبریت" ـ کا ازالہ نہ کرسکے۔

موجودہ زمانے میں اہل سنت کی اکثریت ـ کلامی مسائل میں ـ اشعری مکتب کے پیروکار ہیں۔ نامی گرامی اشعری علماء میں قاضی ابوبکر باقلانی، عبدالقاہر بغدادی، امام الحرمین جوینی، ابوحامد غزالی، فخر رازی، عضد الدین ایجی اور سعد الدین تفتازانی شامل ہیں اور ان کی اہم ترین کتابوں میں جوینی کی الشامل فی اصول الدین سید شریف جرجانی کی شرح المواقف، تفتازانی کی شرح المقاصد اور شرح العقائد النسفیہ اور فخرالدین رازی کی تفسیر کبیر شامل ہیں۔

اعتقادی اصول

اشعریوں کے اہم ترین عقائد حسب ذیل ہیں:

  • اللہ کی ذات اور صفات کے درمیان عدم وحدت؛
  • کائنات کے تمام امور بشمول انسانی افعال کا ارادہ خداوندی اور قضا و قدر کے دائرے میں شامل ہونا؛
  • انسان اپنے عمل کا خالق نہیں بلکہ اس کا اکتساب کرتا ہے؛
  • افعال کا حسن و قبح (اچھائی اور برائی) ان کی ذاتی نہیں بلکہ شرعی ہے؛
  • خداوند متعال کو روز قیامت ظاہری آنکھوں سے دیکھا جاسکتا ہے؛
  • کلام خدا قدیم ہے؛
  • خدا کی تمام خبری اوصاف درست ہیں بغیر اس کے کہ خدا کو مخلوقات سے تشبیہ دی جائے یا ان اوصاف کی کیفیت کا تعین کیا جائے۔

اہل سنت میں اشاعرہ کی منزلت

اہل سنت کو اعتقادی مسائل کے حوالے سے درج ذیل فرقوں میں بانٹا جاتا ہے:

قابل وضاحت ہے کہ اہل سنت کے فقہی مذاہب چار ہیں:

یہ بھی قابل ذکر ہے کہ ان چار فقہی مذاہب کے پیروکاروں میں کوئی بھی شخص کلامی اور اعتقادی لحاظ سے کسی بھی کلامی مذہب کا پیروکار ہوسکتا ہے۔

اشاعرہ کی فکری خصوصیات ـ جو انہیں اہل سنت کے دوسری کلامی جماعتوں سے الگ کردیتے ہیں ـ حسب ذیل ہیں:

  • اللہ کی صفات زائد ہیں اس کی ذات کی نسبت؛
  • انسان اپنے اختیاری افعال کی تخلیق میں کردار ادا نہیں کرتا اور صرف ان کا اکتساب کرتا ہے؛
  • اچھے افعال کی اچھائی اور برے افعال کی برائی کا ان افعال کی ذات سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ ان کی اچھائی اور برائی شرعی ہے؛ (یعنی کوئی فعل اپنی ذات میں اچھا ہے نہ ہی برا اور شریعت ان کی اچھائی یا برائی کا تعین کرتی ہے؛
  • خداوند متعال کو قیامت کے دن آنکھوں سے دیکھا جاسکتا ہے؛
  • فاسق شخص مؤمن (مسلمان) ہے؛
  • بغیر توبہ کے، گنہگار شخصیت کی مغفرت میں کوئی حرج نہیں ہے، (یعنی اگر خدا ایک گنہگار شخص کو بلا وجہ بخش دے تو اس میں کوئي عیب نہیں ہے) جس طرح کہ نیک خصال اور مؤمن شخص کو عذاب اور سزا سے دوچار کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے؛ (یعنی اگر خدا مؤمن کو عذاب میں مبتلا کرے تو یہ درست ہے!)؛
  • عالم زمانی (اور وقتی) لحاظ سے حادث ہے؛
  • کلام خدا قدیم ہے لیکن درحقیقت نفسی کلام ہے جو قدیم ہے نہ کہ لفظی کلام؛
  • اللہ کے افعال کسی غرض و غایت کے لئے نہیں ہیں!؛
  • کسی پر اگر ایسا عمل واجب کیا جائے جو اس کے بس سے خارج ہو تو اس میں کوئی عیب نہیں ہے؛ یعنی اصطلاحا "تکلیف ما لا یُطاق" جائز ہے؛
  • خدا کے لئے جھوٹ بولنا یا وعدہ خلافی کرنا جائز نہیں ہے؛
  • خدا کے خبری اوصاف قابل قبول ہیں (یعنی ہاتھ پاؤں اور چہرے وغیرہ کا مالک ہونا درست ہے) بغیر اس کے کہ اس کو مخلوقات سے تشبیہ دی جاسکے یا اس کے ان اوصاف کی کیفیت کا تعین کیا جاسکے۔

اشعریت کے فروغ کا تاریخی سفر

ابوالحسن اشعری کا مذہب وقت کے ساتھ ساتھ تبدیلیوں سے دوچار ہوا۔ ان کی آراء کو ابتداء میں علمائے اہل سنت کی طرف سے پذیرائی نہیں ملی لیکن ان کی مخالفتیں بےسود رہیں اور اشعری مکتب رفتہ رفتہ اہل سنت کے فکری حدود پر مسلط ہوا۔ ابوبکر باقلانی (متوفٰی 403 ہجری) پہلے شخص ہیں جو ابوالحسن اشعری کے بعد اٹھے۔ انھوں نے اشعری کی آراء و نظریات کو ـ جو اجمال کے ساتھ ان کی دو کتابوں "الابانہ" اور "اللمع" میں مندرج ہیں ـ مزید شرح و توضیح کے ساتھ بیان کیا اور انہیں ایک کلامی مکتب کی صورت میں منضبط کیا۔

لیکن اشعری مذہب کے فروغ میں سب سے بڑا کردار امام الحرمین جوینی (متوفٰی 478 ہجری) نے ادا کیا۔ خواجہ نظام الملک نے سنہ 459 میں بغداد کے مدرسۂ نظامیہ کی بنیاد رکھی تو جوینی کو تدریس کی دعوت دی۔ جوینی نے مجموعی طور پر 30 برس اشعری مکتب کی ترویج میں گذار دیئے [اور نظامیہ میں تدریس بھی ان تیس برسوں میں شامل ہے] اور چونکہ وہ [سرکاری طور پر] شیخ الاسلام اور امام مکہ و مدینہ بھی تھے چنانچہ ان کے نظریات کو پورے عالم اسلام میں احترام کے ساتھ پذیرائی ملی۔ جوینی کی کاوشوں کے واسطے سے مکتب اشعری کو وسیع سطح پر فروغ ملا حتی کہ سنی مکتب کے کلام کو استحکام ملا۔

جوینی نے اشعری کے افکار کو زیادہ عقلی اور استدلالی رنگ میں رنگ دیا اور فخر رازی (متوفٰی 696 ہجری) کے ظہور کے ساتھ اس مکتب کو فلسفی رنگ ڈھنگ ملا۔ فخر رازی نے مکتب اشعری کا دفاع و تحفظ کیا اور اس کو استحکام بخشا؛ ابن سینا کی فلسفی آراء کو تنقید کا نشانہ بنایا اور ان کے اصولوں میں تشکیک کردی۔ دوسری طرف سے امام محمد غزالی ـ جو جوینی کے شاگر تھے ـ ایک روحانی تحول و تبدیلی کے بموجب تصوف کی طرف مائل ہوئے اور اشعری کی آراء کی عرفانی تفسیر پیش کی۔ انھوں نے اپنی اہم کتاب "احیاء العلوم" کے ذریعے تصوف اور تسنن کے درمیان مستحکم رشتہ استوار کیا جبکہ یہ دونوں اس زمانے تک بیگانہ اور متضاد تھے۔ اشاعرہ کے درمیان مولانا روم (متوفٰی 672 ہجری) جیسی شخصیات کے ظہور کو غزالی کے تفکرات کا نتیجہ قرار دیا جاسکتا ہے۔[1]

سُبکی اپنی کتاب طبقات الشافعیہ[2] میں اشعری کے شاگردوں اور پیروکاروں کو پانچ طبقات میں تقسیم کرتے ہیں:

پہلا طبقہ (بلاواسطہ شاگرد):1۔ ابن مجاہد بصری، 2۔ ابوالحسن باہلی، 3۔ ابوالحسین بندار، 4۔ ابوبکر قفال شاشی۔

دوسرا طبقہ: 1۔ قاضی ابوبکر باقلانی، 2۔ ابواسحق اسفرائنی۔

تیسرا طبقہ: ابو محمد جوینی (ابوالمعالی جوینی کے والد)۔

چوتھا طبقہ چہارم: 1۔ امام الحرمین جوینی، 2۔ ابوالقاسم قشیری نیشابوری (جو مشہور صوفی تھے)۔

پانچواں طبقہ: 1۔ ابوحامد غزالی، 2۔ ابونصر بن ابی القاسم قشیری (تصوف میں مشہور رسالے کے مؤلف)۔

ابن عساکر چھٹے اور ساتویں طبقے میں فخر رازی اور کئی دیگر افراد کا ذکر کرتے ہیں جن کے نام سبکی کی فہرست میں مندرج نہیں ہوئے ہیں۔[3]

مذہب اشعری کے اکابرین

ابوالحسن اشعری، بحیثیت بانی

ابوالحسن اشعری معروف صحابی! ابو موسی اشعری کی نسل سے، اور مذہب اشعری کے بانی و مؤسس تھے جو سنہ 269 ہجری کو بصرہ میں پیدا ہوئے اور سنہ 324 ہجری میں بغداد میں انتقال کرگئے۔

وہ قبل ازاں بزرگ معتزلی عالم ابو علی جبائی کے درس میں حاضر ہوتے تھے؛ ایک دن انھوں نے اپنے استاد سے کچھ مسائل پوچھے جن پر استاد نے انہیں پاگل کہہ کر ٹال دیا۔ اشعری نے اپنے استاد کو جواب دینے میں بےبس پایا تو مکتب معتزلہ سے جدا ہوئے۔

ابن خلدون کے قول کے مطابق معتزلہ کے ساتھ خلق قرآن کے موضوع پر اختلاف ان کی جدائی کے اسباب میں سے ایک تھا۔[4] اشعری کے پیروکار اور حامی کہتے ہیں کہ انھوں نے خواب میں پیغمبر خدا(ص) کا دیدار کیا اور آپ(ص) نے انہیں نئی روش پر گامزن ہونے کی ہدایت کی چنانچہ وہ معتزلہ سے روگردان ہوئے۔[5]۔[6]

اشعری نے ایسے حالات میں اپنے مکتب کی بنیاد رکھی جب معتزلی مکتب جمود کا شکار ہوچکا تھا اور عباسی خلفاء نے انہیں مار بھگایا تھا؛ نیز معاشرے میں ان کو کوئی وسیع عوامی حمایت حاصل نہ تھی اور عوام انہیں بدگمانی کی نظر سے دیکھتے تھے کیونکہ ان کے افکار میں قرآن و حدیث سے بيگانگی اور فلسفۂ یونان کے نظری اور مکمل طور پر ذہنی مفاہیم بطور اتم دکھائی دیتے تھے۔[7]

اشعری فقہ میں (شافعی مذہب کے امام) محمد بن ادریس شافعی کے پیروکار ہیں۔[8] اشعری نے اس پس منظر کو مد نظر رکھ کر، جب فقہاء، محدثین، حشویہ اور حنابلہ کو دیکھا جو نصوص کے ظواہر پر رک کر جمود کا شکار ہوئے تھے اور متکلمین اور معتزلہ کو دیکھا جو عقل کے استعمال اور نصوص و منقولات سے بےاعتنائی میں زیادہ روی کرکے دوسری انتہا پر جمود میں مبتلا ہوچکے تھے؛ اور جب ان دو انتہاؤں پر موجود اصحاب حدیث و اصحاب اعتزال کے درمیان شدید ترین دشمنیوں کا مشاہدہ کیا؛ تو انہیں ان دو روشوں کو اکٹھا کرکے ایک درمیانہ راستہ نکالنے کی فکر لاحق ہوئی۔

اشعری کی اہم کتب:

  1. مقالات الاسلامیین: یہ کتاب اشعری کی اہم کتب میں سے ہے اور ملل و نحل کا ماخذ سمجھی جاتی ہے۔
  2. استحسان الخوض فی علم الکلام: یہ کتاب ان ظاہر پرستوں کے رد میں لکھی گئی ہے جو علم کلام اور عقلی استدلال کو حرام سمجھتے تھے۔
  3. الابانۃ عن اصول الدیانۃ: اس کتاب میں اشعری نقلی روش استعمال کرتے ہوئے اہل حدیث کے عقائد و آراء کی تائید کرتے ہیں؛ یہ کتاب بظاہر اشعری نے معتزلہ سے روگردانی کے آغاز میں لکھی ہے۔
  4. اللمع فی الرد علی اهل الزیغ والبدع: اس کتاب میں اشعری عقلی استدلال کی روش سے اپنے عقائد کے اثبات کی کوشش کرتے ہیں اور اہل حدیث کے عقائد و آراء کی طرف توجہ نہیں دیتے؛ یہ کتاب کافی شافی تدبر کے ساتھ لکھی گئی ہے اور کافی حد تک عمق اور گہرائی سے بہرہ ور ہے اور اشعری کی زندگی کے آخری برسوں میں تالیف ہوئی ہے۔

قاضی ابوبکر باقلانی

ابوبکر محمد بن طیب باقلانی بصرہ میں پیدا ہوئے اور سنہ 493ہجری میں بغداد میں وفات پاگئے۔[9] باقلانی فقہ میں مذہب مالکی کے پیرو تھے[10] اور انھوں نے علم کلام کا زیادہ تر حصہ اشعری کے دو شاگردوں مجاہد اور باہلی سے حاصل کیا۔[11]

باقلانی کا اہم کام یہ تھا کہ انھوں نے مذہب اشعری کے دلائل کو منطقی تشریح کے ساتھ بیان کیا۔ باقلانی نے عقل پر زیادہ سے زيادہ اعتماد کرکے اشعری روش کو معتزلی روش سے قریب تر کردیا۔ باقلانی کا خیال تھا کہ تمام تر اعتقادی مسائل کی گنجائش عقل میں موجود ہے اور فلسفی براہین اور منطقی قضایا دین میں داخل ہیں اور ایمانی عقائد کا اثبات عقلی دلیلوں سے ممکن ہے۔[12]

عبدالقاہر بغدادی

ابو منصور عبدالقاہر بن طاہر بغدادی نے نیشابور میں ابو اسحق اسفرائنی سے علم حاصل کیا اور سنہ 479 ہجری میں اسفرائن میں انتقال کرگئے۔[13] بغدادی نے اشعری کی آراء و نظریات کو منظم کیا اور ان ہی تشریح کرکے انہیں جمہورِ اہل سنت کے عقیدے عنوان سے متعارف کرانے کی کوشش کی۔ انھوں نے اپنی کتاب "الفَرقُ بَینَ الفِرَقِ" میں لکھا کہ مذہب اہل سنت والجماعت ـ یعنی وہی اشعری مذہب ـ درحقیقت صحابہ اور تابعین کا مذہب ہے۔ ان کے خیال میں صحابہ میں اہل سنت کے پہلے متکلم امام علی بن ابی طالب(ع) ہیں؛ کیونکہ آنجناب نے "وعد و وعید" کے سلسلے میں خوارج کے ساتھ اور "مشیت و استطاعت" کے موضوع پر قدریہ کے ساتھ مناظرے کئے۔[14]

بغدادی کی اہم ترین تالیفات میں (1)۔ "الفَرقُ بَینَ الفِرَقِ" (2)۔ اصول الدین۔

امام الحرمین جوینی

ابو المعالی عبدالملک بن عبدالله جوینی سنہ 419ہجری کو نیشابور کے نواح میں جوین کے مقام پر پیدا ہوئے۔[15] جوینی "امام الحرمین" کے عنوان سے مشہور ہیں؛ کیونکہ خراسان میں موجود اختلافات کے نتیجے میں وہاں سے ہجرت کرکے حجاز چلے گئے اور سنہ 447 سے 451 ہجری تک مکہ اور مدینہ میں مقیم رہے۔ وہ نظام الملک کے بر سر اقتدار آنے کے بعد خراسان پلٹ کر آئے اور آخر عمر تک نیشابور کے مدرسۂ نظامیہ میں تدریس میں مصروف رہے نیز اوقاف کے سرپرست مقرر کئے گئے اور شافعیہ کی زعامت سنبھالی۔ وہ سنہ 487ہجری میں نیشابور میں ہی انتقال کرگئے۔[16]

جوینی کو اشاعرہ کے بزرگوں کے افکار کے شارح کے طور پر جانا سکتا ہے۔ ان کی اہم ترین کتب کے نام درج ذیل ہیں:

  1. نہایۃ المطالب فی درایۃ المذاہب (یہ ان کی اہم ترین فقہی کتاب ہے اور فقہ شافعی کے درسی متون سے ماخوذ ہے)۔
  2. الشامل فی اصول الدین (یہ ان کی اہم ترین کلامی کاوش ہے اور اس کی تالیفات میں ممتاز حیثیت رکھتی ہے۔
  3. الارشاد الی قواطع الادلۃ فی اصول الاعتقاد۔

ابوحامد غزالی

محمد بن محمد بن احمد طوسی المعروف بہ ابو حامد غزالی سنہ 459 ہجری میں طوس میں پیدا ہوئے۔ وہ نیشابور میں امام الحرمین جوینی کے شاگرد تھے۔ سنل 484 ہجری میں نظامیۂ بغداد میں داخل ہوئے اور سنہ 488 ہجری تک وہاں تدریس میں مصروف رہے۔ انھوں نے غیر متوقعہ طور پر نظامیہ کو ترک کیا اور شام، حجاز اور بیت المقدس کا سفر کیا۔[17] لیکن سنہ 499 ہجری میں خراسان پلٹ کر آئے اور نظامیۂ نیشابور میں تدریس میں مصروف ہوئے۔ غزالی سنہ 695 ہجری میں طوس کے مقام پر انتقال کرگئے۔

غزالی نے ایک دس سال کا عرصہ روحانی بحران اور شک و تردد میں بسر کیا اور آخر کار تصوف کی طرف مائل ہوئے اور معتقد ہوئے کہ بہترین راستہ صوفیوں کا راستہ ہے۔ انھوں نے بعدازاں کتاب "احیاء علوم الدین" تالیف کی۔ غزالی عالم اسلام اور اسلامی تمدن و تہذیب کی مؤثر اور نمایاں شخصیات میں سے ایک ہیں۔

کہا گیا ہے کہ غزالی کی تالیفات و تصنیفات کی تعداد 50 تک پہنچتی ہیں جن میں سے اہم کتب درج ذیل ہیں:

  1. احیاء علوم الدین (یہ ان کی مشہورترین اور اہم ترین کتاب ہے)؛
  2. مقاصد الفلاسفہ؛
  3. تہافت الفلاسفہ؛
  4. المنقذ من الضلال؛
  5. کیمیای سعادت؛
  6. فضائح الباطنیه؛
  7. قواعد العقائد۔

فخر رازی

ابو عبداللہ محمد بن عمر المعروف بہ فخر رازی سنہ 543 ہجری میں ہرات میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے فقہ شافعی اپنے والد اور کمال الدین سمنانی سے اور فلسفہ، کلام اور اصول فقہ کو [[شہاب الدین سہروردی|شیخ اشراق کے استاد) مجدالدین جیلی سے سیکھ لیا۔

فخر رازی نے بہت سے شہروں کا سفر اختیار کیا؛ جدل اور مناظروں میں مصروف رہتے تھے اور انھوں نے مختلف فرقوں کے علماء سے مناظرے اور مباحثے کئے اور مناظرات میں ان کی شبہہ اندازی اس قدر شدید تھی کہ امام المشککین کے لقب سے مشہور ہوئے ہیں۔ وہ سنہ 696 ہجری میں ہرات میں انتقال کرگئے۔ وہ ابوالحسن اشعری کے برعکس عقل کو نقل پر ترجیح دیتے تھے اور جب عقل اور نقل میں تضاد و تعارض واقع ہوتا وہ عقل کو مقدم رکھتے تھے۔[18]

فخر رازی کے اہم آّثار درج ذیل ہیں:

  1. تفسیر الکبیر (یا مفاتیح الغیب؛ جو فخر رازی کی اہم ترین تالیف ہے)؛
  2. الاربعین فی اصول الدین؛
  3. المطالب العالیہ؛
  4. معالم اصول الدین؛
  5. الحکمۃ المشرقیۃ؛
  6. المباحث المشرقیہ۔

عضد الدین ایجی

عبدالرحمٰن بن احمد ایجی شیرازی مُلَقَّب بہ قاضی عضدالدین، سنہ 689 ہجری کو شیراز کے نواحی علاقے "ایج"، میں پیدا ہوئے اور سنہ 756 میں انتقال کرگئے۔

ایجی بھی فخر رازی کی طرح فلسفیانہ روش رکھتے تھے لیکن وہ فخر رازی کی نسبت اشعری مذہب کے زیادہ پابند ہیں اور فلسفے کو کلام پر غالب نہیں سمجھتے۔ ایجی نے اشعری کلام کو آخری شکل دی اور ان کے بعد اشعری تفکر زوال پذیر ہوا اور شرح نگاری اور حاشیہ نگاری کا دور شروع ہوا۔ ایجی کی مشہور ترین تالیف "المواقف" ہے۔[19] مواقف، اگرچہ ایک کلامی (اور اعتقادی) کتاب ہے مگر یہ مختلف النوع فلسفی اور منطقی مباحث پر بھی مشتمل ہے۔ اس کتاب پر بکثرت شروح لکھی گئی ہیں جن میں سب سے مشہور کتاب سید شریف جرجانی کی کتاب شرح المواقف ہے۔

سعد الدین تفتازانی

مسعود بن عمر سعدالدین تفتازانی سنہ 712ہجری کو خراسان کے علاقے "تفتازان" میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے علوم عقلیہ میں علامہ حلی کے شاگرد قطب الدین رازی اور قاضی عضد الدین ایجی کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیا اور اپنے دور میں خراسان کے مشہور ترین علماء کے زمرے میں شمار ہوتے تھے۔ وہ سنہ 791 ہجری کو سمرقند میں انتقال کرگئے۔[20]

تفتازانی کی بعض اہم کاوشیں حسب ذیل ہیں:

  1. شرح المقاصد،
  2. شرح العقائد النسفیہ۔

میر سید شریف جرجانی

میر سید شریف گرگانی / جرجانی استر آباد کے گاؤں "تاکو" میں پیدا ہوئے اور سنہ 816 ہجری کو شیراز میں انتقال کرگئے۔ وہ مشہور اشعری متکلمین میں سے ہیں اور تدبر اور فکر کی گہرائی کے حوالے سے تفتازانی پر فوقیت رکھتے ہیں۔ ایجی کی کتاب "المواقف" پر ان کی شرح "اشعری کلام" کے اہم ترین متون میں سے ایک ہے۔ وہ قطب الدین رازی کے شاگرد اور محقق دوانی کے اساتذہ میں سے ہیں ـ یعنی ان کے یہ استاد اور شاگرد شیعہ متکلمین میں سے ہیں۔[21]

علاء الدین قوشجی

علاء الدین علی بن محمد سمرقندی، المعروف بہ ملا علی قوشچی (قوشجی) (متوفٰی 879 ہجری) کا شمار حنبلی فقہاء اور بڑے اشعری متکلمین میں ہوتا تھا۔ انھوں نے (شیعہ عالم و فقیہ و متکلم) خواجہ نصیر الدین طوسی کی کتاب تجرید الاعتقاد پر شرح لکھی اور یہ شرح اشاعرہ کے عقائد و آراء کے مآخذ و مصادر میں سے ہے۔[22]

اشاعرہ کے نظری مباحث

عقل کی منزلت

مفصل مضمون: اشاعرہ اور عقلیت پسندی

اشعری کی رائے کے مطابق عقل و فہم سے فائدہ اٹھانا اور شرع کی تائید حاصل کرنا ضلالت نہیں بلکہ ایک ضرورت ہے؛ لیکن عقل سے استفادہ مطلق نہیں ہے بلکہ عقل نصّ (اور نقل) سے مقید و مشروط ہے ورنہ تو عقل راستہ کھو جائے گی۔ عقل اور نقل کے درمیان تضآد و تعارض کی ضورت میں اشعری نے نقل کی جانبداری کی ہے اور ان کا عقیدہ ہے کہ عقل کو نصّ کے تابع ہونا چاہئے؛ البتہ اشعری عمل میں اس میانہ روی اور اعتدال پسندی کے پابند نہیں ہیں؛ ان کی روش کبھی عقلیت پسندانہ ہے اور کبھی نقل پسندانہ؛ اگرچہ وہ اپنے تمام نظریات میں میانہ روی اور اعتدال کو محفوظ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔[23]

اگرچہ اشعری تحریک عقلیت پسندی اور تاویل سے پرہیز کے ساتھ شروع ہوئی لیکن اشعری کے آثار و تالیفات میں عقلیت پسندی کے نقوش کی موجودگی اور دوسری طرف سے اسلامی معاشرے میں عقلیت پسندی کے دور کے باقیماندہ اثرات نے اشعری کے پیروکاروں کی عقلیت پسندی اور تاویل کی طرف واپسی کے اسباب فراہم کئے اور باقلانی، جوینی، غزالی اور آخر کار فخر رازی نے عقلیت پسندی کی تجدید کا اہتمام کیا۔

خدا شناسی

مفصل مضمون: اشاعرہ اور خدا شناسی


اشاعرہ نے خدا شناسی کے مسائل کے سلسلے میں اسلامی مذاہب کے مقابلے میں خاص قسم کی آراء پیش کی ہیں۔

انھوں نے ابتداء میں وجود خدا کے اثبات کے سلسلے میں صرف نقلی براہین (کتاب و حدیث) سے استفادہ کیا لیکن آخرکار "عدلیہ" (خدا کو عادل جاننے والوں) کی طرح کی طرح تینوں ـ یعنی نقی، عقلی اور قلبی ـ روشوں سے استفادہ کیا۔

ذات خدا کی شناخت کے سلسلے میں امام الحرمین جوینی اور ابو حامد غزالی سمیت بعض افراد اللہ کی شناخت کے عدم امکان کے قائل ہوئے تاہم اکثریت کا قول و اعتقاد ہے کہ ذات کی شناخت (معرفت ذات) ایک ممکنہ امر ہے۔

وجہ (چہرے)، ید (ہاتھ) اور عرش پر متمکن ہونے وغیرہ جیسی صفات کے سلسلے میں ان کا عقیدہ ہے کہ خدا مستوی القامہ ہے اور عین (آنکھ)، وجہ (چہرے)، ید (ہاتھ) وغیرہ کا مالک ہے لیکن ان صفات کی کیفیت ہمارے لئے نامعلوم ہے اور ہمیں قبول کرنا پڑے گا کہ یہ صفات "بلا کیف" (= بےکیفیت]] ہیں اور ماننا پڑے گا کہ خدا کی صفات بنیادی طور پر انسان کی صفات سے مختلف ہیں۔


کلام الہی (قرآن) کے حدوث و قِدَم کے بارے میں معتزلہ کلام خدا کے حدوث کے قائل ہوئے ہیں؛ حشویہ اور حنابلہ نے انتہاپسندانہ رویہ اختیار کرکے کلام خدا کی اصوات (صداؤں) اور حروف ہی نہیں بلکہ اس کی جلد کے قدیم ہونے کے نظریئے پر اصرار کیا؛ اشعری نےکلام اللہ کو کلام لفظی اور کلام نفسی میں تقسیم کیا اور کلام لفظی کو حادث اور کلام نفسی کو قدیم قرار دیا۔

اللہ کی ذات کا مشاہدہ کرنے کے سلسلے میں معتزلہ نے رؤیت کی نفی کی اور اشاعرہ ابتداء میں "ان ہی دو آنکھوں کے ذریعے رؤیت" کے قائل ہوئے، بعد میں "رؤیت بغیر کیفیت کے"، (عرفانی کیفیات کے ساتھ) کے مرحلے پر پہنچے اور آخرکار "عرفانی کشف تامّ" کے قائل ہوئے۔

ذات خدا اور اس کی صفات سے ربط و تعلق کے سلسلے میں معتزلہ کا کہنا ہے کہ اللہ کی ذات اس کی حقیقی صفات کی نیابت کرتی ہے اور امامیہ فلاسفہ اور متکلمین کا عقیدہ ہے کہ اللہ کی ذات اور صفات عینی اور یگانہ ہیں (اور ان میں کوئی فاصلہ نہیں ہے اور صفات ذات سے اور ذات صفات سے جدا نہیں ہے) جبکہ اشاعرہ ابتداء ہی سے اللہ کی صفات حقیقی اور اس کی ذات کے درمیان دوگانگی اور صفات کے ذات پر عارض اور اضافہ ہونے کے نظریئے کے قائل اور مدافع ہیں؛ تاہم متاخر اشاعرہ اور ماتریدیہ کا عقیدہ ہے کہ صفات خدا نہ تو عین ذات ہیں اور نہ ہی غیر خدا!۔ (یعنی یہ ہے صفات ذات کا حصہ بھی نہیں ہیں اور اس سے جدا بھی نہیں ہیں)۔

بحث خلقت میں اشاعرہ کہتے ہیں کہ:

  1. یہ عالمی وقت اور زمان کے لحاظ سے حادث ہے سوائے ذات اللہ کے؛ (یعنی خدا کے سوا دوسرے موجودات وقت کے لحاظ سے حادث ہیں)۔
  2. وہ خلقت میں وسائط کی نفی کرتے ہیں اور کہتے ہیں خداوند متعال نے اپنی لامتناہی قوت سے مادی اور مجرد مخلوقات کو بلاواسطہ خلق کرتا ہے۔

عقلی حسن و قبحِ کا مسئلہ

اشاعرہ نے آشکارا عقلی حسن و قبح کے منکر ہیں۔[24] ابوالحسن اشعری اہل حدیث اور حنابلہ کی مانند، کہتے ہیں کہ عقل اس سے کہیں زیادہ عاجز و بےبس ہے کہ وہ حسن و قبح یا اصلح (زیادہ بہتر) اور غیر اصلح کا ادراک و تعین کرسکے۔ ان کے خیال میں عقلی حسن اور عقلی قبح کا قائل ہونا اللہ کی مشیت اور ارادے کو محدود بنانے کے مترادف ہے۔ چنانچہ اشاعرہ ـ اللہ کی مشیت مطلقہ کے تحفظ کی غرض سے ـ کہتے ہیں کہ حسن (اور اچھا) وہ ہے جس کا اعلان شارع نے کیا ہو اور قبیح وہ جس کا تعین اور اعلان اللہ کی جانب سے ہوا ہو۔

معتزلی لطف، اصلح کی رعایت، صالح اور نیک لوگوں کو انعام اور پاداش دینا، گنہگاروں کو کیفر دینا نیز "عدم تکلیف ما لا یُطاق[25] نیز وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے افعال کو غایت و غرض کے حامل معیاروں کے مطابق ہونا چاہئے۔

اشاعرہ معتزلی رائے پر شدید تنقید کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ انھوں نے اپنی عقل کو خدا پر حاکم قرار دیا ہے اور اس پر اپنا حکم نافذ کرتے ہیں اور یہ سب اللہ تعالی کی لامحدود آزادی اور اختیار سے ہمآہنگ نہیں ہے۔ خداوند متعال کے افعال پر کسی قسم کا وجود مترتب نہیں ہے۔ خداوند متعال جو چاہے انجام دیتا ہے اور جو بھی انجام دے نیک، درست، عینِ ثواب اور محضِ خیر ہے۔ انسان کے فعل کو عدل اور جور جیسی صفات سے متصف کیا جاسکتا ہے؛ جبکہ خدا کا فعل اس سے کہیں برتر و بالاتر ہے اور اس کے تمام افعال عدل کے زمرے میں آتے ہیں۔ (هرچه آن خسرو کند شیرین بود = جو کچھ وہ خسرو انجام دے وہ شیرین (میٹھا) ہی ہے)۔

اس حوالے سے تکلیف ما لا یطاق جائز ہے؛ لطف و اصلح کی رعایت خدا پر واجب نہیں ہے اور قیامت کے دن بھی خدا پر واجب نہیں ہے کہ حتمی طور پر نیک لوگوں کو جزا اور گنہگاروں کو سزا دے؛ یعنی وعد و وعید کا وفا کرنا بھی خدا پر واجب نہیں ہے۔[26]۔[27]۔[28]۔[29]۔[30]۔[31]۔[32]

ارادی افعال (نظریۂ کسب)

کیا انسان اپنے ارادی افعال میں آزاد ہے یا نہیں؟ بالفاظ دیگر کیا انسان خود اپنے ارادی افعال کا خالق ہے یا خداوند متعال ہی انسان کے ارادی افعال کا خالق بھی ہے؟ معتزلہ انسان کو اپنے کرداروں اور افعال و اعمال کا خالق بھی سمجھتے تھے؛ (نظریۂ تفویض = Theory of Devolution)۔

اور اہل ظاہر ـ یعنی اہل سنت اور جبریہ ـ نے انسان کے ارادی افعال کو اللہ کی مخلوق قرار دیا اور ان کی نسبت خدا کو دی؛ (نظریۂ جبر (جبریت) = Determinism )۔

ابوالحسن اشعری درمیانہ راستہ تلاش کرنے کے لئے "نظریۂ کسب (اکتسابیت = Theory of Acquisition) کے قائل ہوئے اور تفتازانی کے بقول،</ref>ج2 ص127۔</ref> انھوں نے (اشعری نے) اعلان کیا کہ خداوند متعال انسان کے ارادی افعال کا خالق ہے اور انسان ان کرداروں کا مکتسب ہے! کیونکہ اگر انسان اپنے افعال کی تخلیق پر قادر ہوتا دیگر مخلوقات کی تخلیق کی قوت سے بھی بہرہ ور ہوتا!![33]

اشعری نے کسب یا اکتساب کو خدا اور انسان کی قدرت کا اقتران قرار دیا اور کہا کہ ارادی فعل اس اقتران کے بعد وقوع پذیر ہوتا ہے۔[34]۔[35]۔[36] [[جامی کے بقول اشعری کی مراد یہ ہے کہ ارادی فعل کے وجود میں انسان کا اپنا کوئی کردار نہیں ہے بلکہ فعل اس کے وجود میں انجام پاتا ہے۔ اسی وجہ سے عادۃ اللہ کا سلسلہ انسان کے اندر قوت و اختیار کا موجب بنتا ہے اور اس کا ارادای فعل انجام پاتا ہے۔[37]

مکتب اشعریہ کے اکابرین میں سے ہر ایک نے اکتسابیت کے حق میں اظہار خیال کیا ہے اور اس کے دفاع کا اہتمام کیا ہے۔ مثال کے طور پر باقلانی اس نظریئے کی تشریح و تفسیر کرتے ہوئے کہتے ہیں: عمل و فعل کی ذات اللہ کی خلق کردہ ہے لیکن اس کا اچھا یا برا ہونا، انسان کی اپنی استطاعت کا ثمرہ ہے۔[38]۔۔[39]۔[40]۔[41] اور استطاعت سے مراد فعل کے کرنے یا ترک کرنے کی خاص قوت ہے جو ـ اشاعرہ کے بقول خداوند متعال فعل کے کرنے یا ترک کرنے کے عین وقت پر اس کو انسان کے اندر خلق کر دیتا ہے (یعنی پہلے سے یہ قوت موجود نہیں ہوتی)۔ کیونکہ اشعریوں کے بقول استطاعت عَرَض (Accident) ہے اور عرض دو اوقات میں میں باقی نہیں رہتا۔ چنانچہ اگر استطاعت فعل کے انجام دینے سے قبل معرض وجود میں آئے تو فعل ایک ایسی استطاعت کا معلول (Effect) ہوگا جو سرے سے موجود ہی نہیں تھی۔[42]۔[43]۔[44]

متعلقہ مآخذ

پاورقی حاشیے

  1. برنجکار، رضا، آشنایی با فرق و مذاهب اسلامی، اشاعره۔
  2. سبکی، طبقات الشافعیه، ج2، ص255۔
  3. ابن عساکر، تبیین کذب المفتری، ص258۔
  4. ابن خلدون؛ مقدمه، ج2، ص946
  5. ابن عساکر، وہی ماخذ، ص38و42و43۔
  6. عبدالوهاب سبکی، طبقات الشافعیه، ج2، ص245۔
  7. ولوی، تاریخ علم کلام و مذاهب اسلامی، ص459
  8. جلال محمد موسی، نشأة الاشعریه و تطورها، ص186۔
  9. ابن عساکر، تبیین کذب المفتری، ص221۔
  10. عبدالرحمن بدوی، تاریخ اندیشه‌های کلامی در اسلام، ج1، ص621۔
  11. ابن عساکر، تبیین کذب المفتری، ص217۔
  12. جلال محمد موسی، نشأة الاشعریة و تطورها، ص329۔
  13. سبکی، طبقات الشافعیه، ج3، ص238۔
  14. احمد محمود صبحی، فی علم الکلام، ج2، ص722۔
  15. جلال محمد موسی، نشأة الاشعریة وتطورها، ص371۔
  16. عبدالرحمن بدوی، تاریخ اندیشه‌های کلامی در اسلام، ج1، ص733۔
  17. عبدالحسین زرین کوب، فرار از مدرسه، ص245-248 (اس کتاب کا موضوع ابو حامد غزالی کی زندگی اور افکار، ہیں)؛
  18. رجوع کریں: اصغر دادبه، فخر رازی، ص232۔
  19. احمد محمودصبحی، فی علم الکلام، ج2، ص357۔
  20. جلال الدین سیوطی، بغیة الوعاة، ج2، ص285، بحوالہ از:جعفر سبحانی، بحوث فی الملل و النحل، ج2، ص361۔
  21. مجموعه مقالات فرق تسنن، ص504۔
  22. مجموعه مقالات فرق تسنن، ص504۔
  23. تفصیل کے لئے رجوع کریں: ابوالحسن اشعری، رسالۃ استحسان الخوض فی علم الکلام۔
  24. اشعریہ کا خیال ہے کہ کوئی بھی عمل اپنی ذات میں اچھا ہے نہ ہی برا؛ اور بعض اعمال کے اچھے اور برے سمجھنے کے بارے میں عقل کا فیصلہ معتبر نہیں ہے بلکہ اعمال کی اچھائی اور برائی کا تعین عقل نہیں بلکہ شرع، کرتی ہے۔
  25. تکلیف ما لا یطاق (ترکیب وصفی ) وہ ذمہ داری جس سے لوگ عاجز ہوں۔ (انجمن آرا)۔ وہ ذمہ داری جس کو برداشت نہ کیا جاسکے۔(یادداشت بخط مرحوم دهخدا): اور اگر ایسا ہو تو خدائے عادل کو ظالم قرار دینے کا شائبہ وجود میں آئے گا اور تکلیف ما لا یطاق کو جائز قرار دیا جائے گا۔(کتاب النقض ص 428)۔
  26. عبدالرزاق لاهیجی، گوهر مراد، ص348۔ ص 199۔
  27. شهرستانی، الملل، 1/191-192۔
  28. کلاتی، 392-393۔
  29. فخرالدین، البراهین، 1/246-247۔
  30. تفتازانی، 2/148- 149۔
  31. جرجانی، شرح، 8/181-183۔
  32. قوشجی، 373-374۔
  33. اشعری، مقالات، 218۔
  34. اللمع، 42۔
  35. جوینی، لمع...، 197۔
  36. جرجانی، شرح، 8/146، 233، 398۔
  37. جامی، الدرة الفاخرة، ج1، ص39۔
  38. باقلانی‌، التمهید، ج1، ص287۔
  39. علامة حلی، کشف، 239-249۔
  40. تفتازانی، 2/125- 127۔
  41. ابن رشد، «‌الکشف»، 121-122۔
  42. اشعری، اللمع، 54 - 55۔
  43. تفتازانی، 1/249۔
  44. کستلی، 119-129۔

مآخذ

  • ابن خلدون؛ مقدمه، ترجمه ­ی محمد پروین گنابادی، بنگاه ترجمه و نشر کتاب، تهران، 1352ہجری شمسی۔
  • ابن سعد، محمد، کتاب الطبقات الکبیر، به کوشش زاخاو و دیگران، لیدن، 1994- 1915عیسوی۔
  • ابن عساکر، علی، تبیین کذب المفتری، بیروت، 1394ہجری قمری /1984عیسوی۔
  • ابن قتیبه، عبدالله، تأویل مختلف الحدیث، بیروت، دارالجیل.
  • ابن ندیم، الفهرست.
  • احمد محمود صبحی، فی علم الکلام، دارالنهضة العربیه، بیروت، 1411ہجری قمری۔
  • اشعری، اللمع، به کوشش مکارتی، بیروت، 1953 عیسوی۔
  • اشعری، علی، مقالات الاسلامیین، به کوشش ریتر، ویسبادن، 1989 عیسوی۔
  • برنجکار، رضا، آشنایی با فرق و مذاهب اسلامی، موسسه فرهنگی طه، قم، 1378 ہجری شمسی۔
  • بغدادی، عبدالقاهر، الفرق بین الفرق، به کوشش محمد محیی الدین عبدالحمید، قاهره، مکتبة محمدعلی صبیح و اولاده.
  • تفتازانی، عمر، شرح المقاصد، چ سنگی، استانبول، 1395 ہجری قمری۔
  • جرجانی، شرح المواقف، به کوشش محمد بدرالدین نعسانی، قاهره، 1325ہجری قمری /1997 عیسوی۔
  • جعفر سبحانی، بحوث فی الملل و النحل، موسسه النشر الاسلامی، قم.
  • جلال محمد موسی، نشأة الاشعریه و تطورها، دار الکتاب اللبنانی، بیروت، 1982 عیسوی۔
  • جوینی، لمع الادلة، به کوشش فوقیه حسین محمود، قاهره، 1385ہجری قمری /1965 عیسوی۔
  • سبکی، عبد الوهاب بن علی، طبقات الشافعیه، دار احیاء الکتب العربیه، بیروت.
  • شهرستانی، عبدالکریم، الملل و النحل، به کوشش محمد کیلانی، بیروت، 1395 ہجری قمری / 1975 عیسوی۔
  • شهرستانی، نهایة الاقدام، به کوشش آلفرد گیوم، پاریس، 1934 عیسوی۔
  • صریفینی، ابراهیم، تاریخ نیسابور (منتخب السیاق عبدالغافر فارسی)، به کوشش محمد کاظم محمودی، قم، 1493ہجری قمری۔
  • عبدالحسین زرین کوب، فراز ز مدرسه، نشرام‍ی‍رک‍ب‍ی‍ر‏‫، چاپ دوازدهم 1392 ہجری شمسی۔
  • عبدالرحمن بدوی، تاریخ اندیشه‌های کلامی در اسلام، آستان قدس رضوی، مشهد، چاپ، 1374 ہجری شمسی۔.
  • علامة حلی، کشف المراد فی شرح تجرید الاعتقاد، قم، مکتبة المصطفوی.
  • فخرالدین رازی، محمد، البراهین، به کوشش محمدباقر سبزواری، تهران، 1341 ہجری شمسی۔
  • قوشجی، علی، شرح تجرید الاعتقاد، چ سنگی.
  • کستلی، مصطفی، حاشیة علی شرح العقائد، استانبول، 1319 ہجری شمسی۔
  • کلاتی، یوسف، لباب العقول، به کوشش فوقیه حسین محمود، قاهره، 1977 عیسوی۔
  • لاهیجی، عبدالرزاق، گوهر مراد، به کوشش زین العابدین قربانی، تهران، 1372ہجری شمسی۔
  • مقدسی، محمد، احسن التقاسیم، بیروت، 1498 ہجری قمری /1987 عیسوی۔
  • ولوی، علی محمد؛ تاریخ علم کلام و مذاهب اسلامی، موسسه انتشارات بعثت، تهران، 1367 ہجری شمسی۔
  • فرمانیان، مهدی، آشنایی با فرق تشیع و تسنن، انتشارات دانشگاه ادیان و مذاهب.
  • فرمانیان، مهدی، مجموعه مقالات فرق تسنن، نشر ادیان، 1386 ہجری شمسی۔
  • عبدالرحمان ‌جامی‌، الدرة الفاخرة، به‌ کوشش‌ نیکولاهیر و علی‌ موسوی‌ بهبهانی‌، تهران‌، 1358ہجری شمسی۔
  • محمد باقلانی‌، التمهید، به‌ کوشش‌ مکارتی‌، بیروت‌، 1957عیسوی۔

پیوند به بیرون

‘‘http://ur.wikishia.net/index.php?title=اشعریہ&oldid=57873’’ مستعادہ منجانب