اسامہ بن زید

ویکی شیعہ سے
(اسامہ بن زيد سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
اسامہ بن زید
معلومات
مکمل نام اسامہ بن زید
وجہ شہرت صحابی اور پیغمبر اکرمؐ کی طرف سے رومیوں کے ساتھ جنگ کیلئے بطور سپہ سالار انتخاب ہونا
پیدائش بعثت کے چوتھے سال
محل زندگی مدینہ اور شام
نسب بنی کلب بن قضاعہ
مشہوراقارب ام ایمن
شہادت/وفات 52ھ۔ق
مدفن مدینہ


اُسامہ بن زید، پیغمبر اکرمؐ کے صحابی تھے جنہوں نے بعض غزوات اور سریوں میں شرکت کی۔ ان کے والد زید بن حارثہ پیغمبر اکرمؐ کے آزاد کردہ غلام اور اسلام میں پہل کرنے والوں میں سے تھے۔

پیغمبر اکرمؐ نے اپنے آخری ایام میں رومیوں کے ساتھ جنگ کیلئے شام کی طرف ایک لشکر بھیجا جس کی کمان اسامہ کے سپرد کی حالانکہ اس وقت وہ عالم جوانی کے آغاز سے گزر رہے تھے۔ لیکن بعض صحابہ کی نافرمانی کی وجہ سے یہ لشکر آپؐ کی زندگی میں جنگ کیلئے روانہ نہ ہو سکا۔

حضرت علیؑ کے دور خلافت میں اسامہ ان معدود اصحاب میں سے تھے جنہوں نے آپؑ کی بیعت سے انکار کیا۔

سوانح حیات

ان کا تعلق بنی کلب بن قضاعہ[1] سے تھا ان کے والد زید بن حارثہ پیغمبر اکرمؐ کا آزاد کردہ غلام اور اسلام میں پہل کرنے والوں میں سے تھا جو رسول خداؐ کے منہ بولے بیٹے کے عنوان سے مشہور تھا۔[2] ‌ان کی والدہ ام ایمن نیز پیغمبر اکرمؐ کی آزاد کرده کنیز تھی۔[3]

چنانچہ پیغمبر اکرمؐ کی رحلت کے وقت ان کی عمر 19 سال ذکر کیا جاتا ہے اس بنا پر کہا جا سکتا ہے کہ وہ بعثت کے چوتھے سال متولد ہوئے ہیں۔[4] ان کی کنیت ابو یزید اور ابو خارجہ ذکر کی گئی ہے۔[5]

پیغمبر اکرم کا دور

اسامہ اور ان کے والدین ہجرت کے وقت مدینہ چلے گئے۔[6] چنانچہ جنگ بدر[7] اور جنگ احد[8] میں ان کی کمسنی کی وجہ سے پیغمبر اکرمؐ نے اسامہ کو جنگ میں شرکت کرنے سے منع کیا لیکن سنہ 7 ہجری قمری شعبان کے مہینے میں فدک کے علاقے میں لڑی گئی سریہ بشیر بن سعد[9] اور سنہ 8 ہجری قمری صفر کے مہینے میں لڑی گئی سریہ غالب بن عبداللہ لیثی میں انہوں نے شرکت کیا۔[10] اسی طرح اسامہ ان معدود جنگووں میں سے تھے جو غزوہ حنین کے سخت ترین حالات میں پیغمبر اکرمؐ سے جدا نہیں ہوئے۔[11]

بعض روایات کے مطابق واقعہ افک میں حضرت عایشہ پر لگائے گئے الزامات میں پیغمبر اکرمؐ نے حضرت علیؑ اور اسامہ سے مشورہ کیا۔[12] لیکن انہیں روایات میں آیا ہے کہ یہ واقعہ سنہ 5 ہجری قمری رمضان کے مہینے میں غزوہ مریسیع کے بعد پیش آیا[13] اس صورت میں اس واقعے کے وقت اسامہ اس عمر میں نہیں تھے کہ ان سے اس جیسے اہم واقعے میں مشورہ کیا جائے۔

سپہ سالاری

اسامہ سے مربوط مشہور واقعات میں سے ایک پیغمبر اکرمؐ کی طرف سے لشکر اسلام کی سپہ سالاری انہیں سونپنا ہے۔ حجۃ الوداع سے واپسی کے کچھ مدت بعد پیغمبر اکرمؐ نے مہاجرین اور انصار پر مشتمل اسلامی لشکر جس میں بڑے بڑے صحابہ شامل تھے، رومیوں کے ساتھ جنگ کیلئے روانہ فرمایا جس کی سپہ سالاری اسامہ کے سپرد کی۔ واقدی اس واقعے کی تأیید کرتے ہوئے کہتے ہیں: "تمام مہاجرین کو اس جنگ میں شرکت کرنے کی تاکید کی گئی تھی اور اس حکم سے کسی ایک کو بھی معاف نہیں کیا گیا تھا۔[14] بعض تاریخی منابع میں مہاجرین اور انصار کے بعض چیدہ چیدہ برزرگان کو بھی اس جنگ میں بھیجے جانے کا ذکر ملتا ہے۔ من جملہ ان شخصیات میں حضرت أبوبکر،[15] حضرت عمر،[16] عبد الرحمن بن عوف، ابو عبیدہ جراح اور سعد بن ابی وقاص ہیں۔[17]

اس حکم نامے کے ساتھ پیغمبر اکرمؐ بیمار ہو گئے اور اسی بیماری میں آپ اس دنیا سے رحلت فرما گئے۔ اسامہ نے مدینہ سے قریب "جُرف" نامی مقام پر پڑاؤ ڈالا لیکن صحابہ میں سے بعض بزرگان، پیغمبر اسلامؐ کی جانب سے ایک جوان کو اس طرح کا منصب سونپے جانے پر ناراض ہوگئے یوں لشکر گاہ کی طرف فوج بھیجنے کے عمل میں سستی آگئی یہاں تک کہ پیغمبر اکرمؐ کو بیماری کے باوجود ممبر پر جا کر اس امر پر مزید تاکید کرنا پڑا۔[18] واقدی[19] کے مطابق پیغمبر اکرمؐ کی طرف سے حکم دیئے جانے کے 14 دن بعد بھی اسلامی فوج اپنے مقصد کی طرف حرکت نہ کر سکی اور ظاہرا صحابہ پیغمبر اکرمؐ کی بیماری کو بہانہ بنا کر فوج میں شامل نہیں ہو رہے تھے۔ اسامہ کی والدہ ام ایمن سمیت بعض افراد نے پیغمر اکرم سے آپ کی صحت یابی تک لشکر بھیجنے میں تأخر کرنے کی درخواست کی، جسے آپ نے قبول نہیں فرمایا۔[20] پیغمبر اکرمؐ کی طرف سے بار بار لشکر اسامہ کی روانگی پر تاکید کے باوجود[21] اس لشکر میں شرکت کرنے پر مامور شخصیات نے پیغمبر اکرمؐ کی رحلت تک اس حکم کی تعمیل نہیں کی۔ لیکن حضرت ابوبکر کے خلیفہ منتخب ہونے کے بعد اس لشکر نے اپنے مقصد کی طرف حرکت کی۔

محبت پیغمبر اکرمؐ

بہت ساری احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ پیغمبر اکرمؐ اسامہ کو بہت زیادہ چاہتے تھے۔ چنانچہ کہا جاتا ہے کہ فتح مکہ کے موقع پر جب پیغمبر اکرمؐ خانہ کعبہ کے اندر تشریف لے گئے تو اسامہ بھی آپ کے ساتھ تھا۔[22] بعض حدیثی منابع میں مناقب اسامہ کے عنوان سے مستقل باب بھی موجود ہے۔[23] لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس قسم کے روایات کو پیغمبر اکرمؐ کی اہل بیتؑ یعنی حضرت علیؑ، حضرت فاطمہؑ اور امام حسنؑ اور حسینؑ کے ساتھ محبت کے مقابلے میں جعل کیا گیا ہے۔[24]

نقل حدیث

اسامہ پیغمبر اکرمؐ سے حدیث نقل کرنے والے راویوں میں سے ہیں۔ انہوں نے اپنے باپ زید بن حارثہ سے بھی احادیث نقل کی ہیں۔[25] اسی طرح انہوں نے ابو عثمان نہدی، عروۃ بن زبیر اور بعض تابعین سے بھی احادیث نقل کی ہیں۔[26]

حدیثی مآخذ میں مسند اسامہ کے نام سے ایک کتاب کا تذکرہ بھی ملتا ہے جسے تیسری صدی ہجری کے اہل سنت عالم دین محمد بن عبداللہ بَغوی مرتب کیا ہے۔ ابن ندیم نے بھی اپنی کتاب کتاب فہرست میں اس کتاب کا نام لیا ہے۔[27]

خلفاء کا دور

خلیفہ اول کا دور

جب ابوبکر خلیفہ منتخب ہوا اس نے اسامہ کو پیغمبر اکرمؐ کے زمانے میں محول شدہ کام کی تکمیل کیلئے بھیجا۔ لیکن انہوں نے حضرت عمر کو اس کام سے معاف کیا۔ اسی روایت میں آیا ہے کہ خلیفہ پیدل چل کر اسامہ کے لشکر کو روانہ کرنے کیلئے ان کے ساتھ ساتھ چل رہے تھے۔[28] اسامہشام کے مختلف علاقوں پر لشکر کشی کر کے کامیابی حاصل کرنے کے بعد 40 یا 60 دن بعد مدینہ آتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس جنگ میں وہ اپنے باپ کے قاتل کو بھی قتل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ ان کی کامیابی کی خبر نے مدینہ کے لوگوں کو خوشحال کیا جو عرب کے مختلف قبیلوں کے مرتد ہونے کی بنا پر خطرے کا احساس کر رہے تھے۔[29] اس کامیابی کے بعد ابوبکر نے جنگ ذی القصہ کے وقت جب خود مرتدوں کے ساتھ جنگ کرنے مدینہ سے باہر جا رہے تھے، اسامہ کو اپنا جانیشن مقرر کیا۔[30]

اسی طرح ایک غیر مشہور روایت کے مطابق جب خالد بن ولید کو مسیلمہ کذاب کے ساتھ جنگ کیلئے بھیجا گیا تو اس کے لشکر کے بائیں بازوں کی کمانڈ بھی اسامہ کے سپرد کی گئی تھی۔[31]

بعض مآخذ سے معلوم ہوتا ہے کہ شروع میں اسامہ ابوبکر کی خلافت کے حق میں نہیں تھا۔ یہ بات ابوبکر کی جانب سے خلافت پہنچنے کے بعد اسامہ کے نام لکھے گئے خط کے جواب میں اسامہ کے الفاظ سے عیاں ہے۔[32] لیکن اس خط کے بعض مضامین جو سقیفہ سے متعلق ایک کلامی مناظرے کی شکل اختیار کر گیا ہے اور خلافت سے متعلق اسامہ کی دیگر فعالیتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اس خط کے جعلی ہونے کا احتمال قوی نظر آتا ہے۔ یہاں تک کہ بعض روایات کے مطابق اسامہ پیغمبر اکرمؐ کی رحلت کے بعد ابوبکر کے حکم کا منتظر تھا۔[33]

خلیفہ دوم کا دور

حضرت عمر کے دور میں اسامہ کی زندگی کے بارے میں کوئی خاص معلومات موجود نہیں۔ صرف اتنا مشہور ہے کہ حضرت عمر نے اسامہ کے ساتھ پیغمبر اکرمؐ کی خاص محبت اور الفت کی بنا پر تحائف کی تقسیم میں اسامہ کے لئے دوسروں سے زیادہ حتی اپنے بیٹے عبداللہ سے بھی زیادہ حصہ مقرر کیا کرتے تھے۔[34]

خلیفہ سوم کا دور

حضرت عثمان کے دور میں اسامہ ان صحابیوں کے زمرے میں آتا ہے جنہیں خلیفہ نے با قاعده زمینیں اہدا کی تھیں۔[35] جب حضرت عثمان اور ان کے گورنروں کے خلاف مسلمانوں نے احتجاج کرنا شروع کیا تو اسامہ خلیفہ کے حکم سے بصرہ کے مسائل و مشکلات سے آگاہی کیلئے وہاں چلا گیا۔[36]

کہا جاتا ہے کہ جب مظاہرین نے عثمان پر عرصہ حیات تنگ کر دیا تو اسامہ نے عثمان کے قتل کئے جانے کی پیشن گوئی کرتے ہوئے حضرت علیؑ کو اس قتل کے الزام سے بچنے کیلئے مدینہ چھوڑنے کا مشورہ دیا تھا۔[37]

امام علی کا دور

جب حضرت علیؑ خللافت ظاہری پر پہنچے تو اسامہ نے بعض اصحاب جیسے سعد بن ابی وقاص، عبداللہ بن عمر اور محمد بن مسلمہ وغیرہ کے ساتھ آپؑ کی بیعت کرنے سے انکار کر دیا[38] جس کی بنا پر حضرت علیؑ نے ایک خطبے میں ان کی اس کارشکنی کی مزمت کی ہے۔[39] اگر چہ عمار بن یاسر مذکورہ اصحاب سے بیعت لینے پر مصر تھے لیکن امام عالی مقام نے انہیں اپنے حال پر چھوڑ دیا۔[40]

جنگ جمل سے کنارہ کشی

تاریخی منابع کے مطابق جب امیرالمومنین حضرت علیؑ نے جنگ جمل کا ارادہ کیا تو اسامہ نے اس جنگ سے کنارہ کشی اختیار کی چونکہ اس نے کسی بھی کلمہ گو مسلمان سے جنگ نہ کرنے کی قسم کھائی تھا۔[41] یہاں تک کہ کہا جاتا ہے کہ اس سلسلے میں اس نے امام کو جنگ میں جلد بازی کرنے سے خبردار کیا تھا۔[42] ان تمام واقعات کے باوجود اسامہ خود کو حضرت علیؑ کا مطیع اور دوستدار قرار دیتے ہوئے صرف جنگ میں شرکت کرنے سے انکار کرتا تھا۔[43]

وفات

ان کی تاریخ وقات کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض ان کی وفات کو معاویہ کے دور حکومت کے آخری سالوں یعنی سنہ 58 ہجری قمری یا سنہ 59 ہجری قمری میں قرار دیتے ہیں۔[44] لیکن چونکہ وفات کے وقت ان کی عمر 60 سال بتایا جاتا ہے[45] اور دوسری طرف سے ان کی ولادت کو بعثت کے چوتھے سال میں قرار دیتے ہیں، ان کی وفات تقریبا سنہ 51 ہجری قمری میں واقع ہونے کا امکان زیادہ ہے۔ ابن عبدالبر[46] سنہ 54 ہجری قمری کو ان کی تاریخ وفات قرار دیتے ہیں۔[47] ایک نادر حدیث میں ان کی وفات کو حضرت عثمان کے قتل کے بعد قرار دیتے ہیں جو بعض تاریخی شواہد کے ساتھ سازگاری نہیں رکھتی۔[48]

امام باقرؑ سے منقول ہے کہ امام حسن مجتبیؑ نے اسامہ کی تکفین فرمائی۔[49]

کلامی بحث

جیش اسامہ

اصل مضمون: جیش اسامہ

جیش اسامہ کلامی مآخذ میں بھی مورد استناد قرار پایا ہے۔ اس حوالے سے ہونے والے مباحث میں جن خاص موضوعات پر بحث واقع ہوئی ہے ان میں پیغمبر اکرمؐ کی طرف سے حضرت ابوبکر اور حضرت عمر سمیت بعض بڑے بڑے صحابہ کرام کو اسامہ کے لشکر میں شامل ہونے اور روم کے ساتھ جنگ میں شرکت کرنے پر تاکید فرمانا ہے۔ اسامہ سے متعلق پیغمبر اکرمؐ کا یا عمل باعث بنا کہ مختلف گروہوں اور افراد نے اس حوالے سے اسامہ کی شخصیت پر بحث کرنا شروع کیا مثلا جاحظ جو عقیدے کے اعتبار سے معتزلی تھا پیغمبر اکرمؐ کے اس کام کو اسامہ کی برتری اور فضیلت شمار کرتے ہیں[50] اور اس حوالے سے انہیں خلفاء کے ہم ردیف قرار دیتے ہیں۔[51] اسی طرح فاضل کی موجودگی میں مفضول کی امامت کے صحیح ہونے اور نہ ہونے کی بحث میں بھی اسامہ اور اس کی سپہ سالاری کو بطور مثال پیش کرتے ہیں۔[52] لیکن امامیہ ابوبکر اور دوسرے صحابہ کی جانب سے اسامہ کے لشکر میں شرکت نہ کرنے کو پیغمبر اکرمؐ کی نافرمانی تلقی کرتے ہیں۔[53] شیعہ منابع میں اس موضوع پر مستقل ابواب میں بحث و بررسی ہوئی ہے یہاں تک کہ گیارہویں صدی ہجری میں ایک شیعہ عالم دین نے اس موضوع پر ایک مستقل کتاب بھی لکھی ہے۔[54]

امام علی کی بیعت سے انکار

اسامہ کی جانب سے حضرت علیؑ کی بیعت سے انکار اور آپ کے دور میں واقع ہونے والے واقعات میں اسامہ کی غیر حاضری کی وجہ سے بعض افراد اسامہ اور اس کی ہم خیالوں کو ایک خاص فرقے سے منسوب کرتے ہیں۔[55] اہل حدیث، اسامہ اور دوسرے صحابہ جنہوں نے ان کے بقول فتنے سے دوری اختیار کی ہیں، کی ستائش کرتے ہیں۔[56] لیکن شیعہ علماء اور بعض معتزلہ ان کے اس کام پر تنقید اور سرزنش کرتے ہیں۔[57] البتہ ائمہ معصومین سے منسوب بعض احادیث میں آیا ہے کہ بعد میں اسامہ اپنے نظریے سے پلٹ گیا تھا اسلئے ان کے بارے میں سوائے نیکی کے کچھ نہ کہا جائے۔ یہاں تک کہ انہی احادیث میں آیا ہے کہ حضرت علیؑ نے بھی ان کی طرف سے آپؑ کا ساتھ نہ دینے میں اسے معذور قرار دیا اور مدینہ میں اپنے گورنر کو ان کے ساتھ اچھے برتاؤ اور تحائف عطا کرنے کی سفارش فرمائی۔[58]

اسامہ اور امام حسین

جب اسامہ بیمار ہو گیا تو امام حسینؑ ان کی عیادت کیلئے تشریف لے گئے تو اس موقع اسامہ نے ناراحتی کا اظہار کیا، امامؑ نے اس کی وجہ دریافت فرمائی تو اسامہ نے 60 ہزار دینار قرض کو اس پریشانی کی دلیل قرار دیا۔ امامؑ نے فرمایا: تمہارا قرض میں ادا کرونگا، اور امام نے ان کی وفات سے پہلے ان کا قرض ادا کر دیا۔[59]

شیعہ کتب رجال میں

اگر چہ اسامہ نے شروع میں حضرت علیؑ کی بیعت نہیں کی۔ لیکن بعد میں ان کا اپنے نظریات سے پلٹنے کی وجہ سے شیعہ علمائے رجال نے ان کی توثیق کی ہیں۔

ابن داوود ان کی مذمت کے بعد مدح کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ امام باقرؑ نے فرمایا: بتحقیق اسامہ ححضرت علیؑ کی طرف پلٹ آیا ہے پس اب نیکی کے سوا ان کے بارے میں کچھ نہ کہا جائے۔[60] علامہ حلی اپنی کتاب خلاصۃ الاقوال میں کہتے ہیں: اسامہ حضرت علیؑ کی طرف پلٹ آیا ہے اس لئے نیکی کے سوا ان کے بارے میں گفتگو کرنے کی ممانعت ہوئی ہے۔ لیکن علامہ حلی نقل حدیث میں ان کو ضعیف قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ میرے نزدیک اسامہ کے احادیث کے بارے میں توقف کرنا بہتر اور اولی ہے۔[61]

علامہ شوشتری اپنی کتاب قاموس الرجال میں انہیں ثقہ قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں: اسامہ کی حضرت علیؑ کی طرف پلٹ آنے اور ان سے متعلق سوائے نیکی کے کچھ نہ کہنے کے بارے میں ایک حدیث آئی ہے اور یہ ان کی حسن عاقبت کیلئے کافی ہے۔[62]

متعلقہ صفحات

حوالہ جات

  1. ابن قتیبۃ، المعارف، ۱۳۷۵ق، ص۱۴۴؛ ابن عبد البر، الإستیعاب، ۱۳۸۰ق، ج۱، ص۷۵؛ ابن حزم، جمہرۃ أنساب العرب، ۱۴۰۳ق، ص۴۵۹۔
  2. ابن حبیب، المحبر، ۱۳۶۱ق، ص۱۲۸؛ طبري، تاريخ الأمم والملوك، ۱۳۸۷ق، ج۳، ص۱۶۹۔
  3. رجوع کنید بہ: ابن سعد، الطبقات الکبری، دار صادر، ج۴، ص۶۱۔
  4. واقدی، المغازی، ۱۹۶۶م، ج۳، ص۱۱۲۵۔
  5. بخاری، التاریخ الکبیر، حیدرآباد دکن، ج۲، ص۲۰؛ بلاذری، انساب، مکتبۃ المثنی، ج۵، ص۷۷؛ ابن حبان، مشاہیر علماء الأمصار، ۱۳۷۹ق، ص۱۱؛ ابو نعیم اصفہانی، معرفۃ الصحابہ، ۱۴۰۸ق، ج۲، ص۱۸۱۔
  6. ابن سعد، الطبقات الکبری، دار صادر، ج۱، ص۲۳۸۔
  7. بلاذری، أنساب الأشراف، ۱۹۵۹م، ج۱، ص۸۸۔
  8. واقدی، المغازی، ۱۹۶۶ ع، ج۱، ص۲۱۶؛ ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ، دار المعرفۃ، ج۲، ص۶۶؛ بلاذری، أنساب الأشراف، ۱۹۵۹ق، ج۱، ص۳۱۶۔
  9. واقدی، المغازی، ۱۹۶۶م، ج۲، ص۷۲۳۔
  10. ابن سعد، الطبقات الکبری، دار صادر، ج۲، ص۱۲۶۔
  11. ابن سعد، الطبقات الکبری، دار صادر، ج۲، ص۱۵۱؛ طبري، تاريخ الأمم والملوك، ۱۳۸۷ق، ج۳، ص۷۴۔
  12. زہري، المغازي النبويہ، ۱۴۰۱ق، ص۱۱۹، واقدی، المغازی، ۱۹۶۶م، ج۲، ص۴۳۰؛ ابن ہشام، السیرۃ النبویہ، دار المعرفۃ، ج۲، ص۳۰۱؛ بخاری، صحیح، ۱۳۱۴ق، ج۳، ص۱۴۶-۱۴۷؛ طبري، تاريخ الأمم والملوك، ۱۳۸۷ق، ج۲، ص۶۱۵۔
  13. واقدی، المغازی، ۱۹۶۶م، ج۱، ص۴۰۴۔
  14. واقدی، المغازي، ۱۹۶۶ق، ج۳، ص۱۱۱۸۔
  15. ابن سعد، الطبقات الکبری، دار صادر، ج۲، ص۱۴۶؛ ابن سید الناس، عیون الأثر، ۱۴۱۴ق، ج۲، ص۳۵۰؛ ابن عساکر، تاریخ مدینۃ دمشق، ۱۴۱۵ق، ج۱۰، ص۱۳۹؛ بلاذری، أنساب الأشراف، ۱۹۵۹ق، ج۱، ص۱۶۹ و ۲۰۸۔
  16. ابن سعد، الطبقات الکبری، دار صادر، ج۲، ص۱۴۶؛ بلاذری، أنساب الأشراف، ۱۹۵۹ق، ج۱، ص۱۶۹ و ۲۰۸؛ واقدی، المغازي، ۱۹۶۶ق، ج۳، ص۱۱۱۸؛ طبری، تاريخ الأمم والملوك، ۱۳۸۷ق، ج۳، ص۲۲۶۔
  17. ابن عساكر، تاریخ مدینۃ دمشق، ۱۴۱۵ق، ج۲، ص۵۵؛ واقدي، المغازي، ۱۹۶۶ق، ج۳، ص۱۱۱۸؛ إبن سعد، طبقات الكبری، دار صادر، ج۲، ص۱۴۶۔
  18. واقدی، المغازی، ۱۹۶۶م، ج۳، ص۱۱۱۷؛ ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ، دار المعرفۃ، ج۲، ص۶۵۰۔
  19. واقدی، المغازی، ۱۹۶۶م، ج۳، ص۱۱۱۸۔
  20. واقدی، المغازي، ۱۹۶۶ق، ج۳، ص۱۱۱۹؛ ابن عساکر، تاریخ مدینۃ دمشق، ۱۴۱۵ق، ج۲، ص۵۶۔
  21. ابن سعد، الطبقات الکبری، دار صادر، ج۴، ص۴۵۔
  22. واقدی، المغازی، ۱۹۶۶م، ج۲، ص۸۳۴؛ ابن سعد، الطبقات الکبری، دار صادر، ج۴، ص۶۴؛ احمد بن حنبل، مسند، ۱۳۱۳ق، ج۵، ص۲۱۰۔
  23. ترمذی، سنن، ۱۴۰۱ق، ج۵، ص۶۷۸-۶۷۷؛ ابن ابی الشیبہ، المصنف، ۱۴۰۳ق، ج۱۲، ص۱۳۸۔
  24. رجوع کنید بہ: طبرانی، المعجم الکبیر، ۱۳۹۸ق، ج۱، ص۱۲۱؛ ابن عبد البر، الإستیعاب، ۱۳۸۰ق، ج۱، ص۷۶؛ ذہبي، سير أعلام النبلاء، ۱۴۰۵ق، ج۲، ص۴۹۸۔
  25. واقدی، المغازی، ۱۹۶۶ ع، ج۱، ص۱۳۵و۲۱۴؛ ابن أبي عاصم، الأحاد والمثاني، ۱۴۱۱ق، ج۱، ص۲۰۱-۱۹۹۔
  26. ذہبي، سير أعلام النبلاء، ۱۴۰۵ق، ج۲، ص۴۹۷و۵۰۷؛ مزّي، تہذيب الكمال، ۱۴۰۴ق، ج۲، ص۳۴۰-۳۳۸۔
  27. رجوع کنید بہ: احمد بن حنبل، مسند، ۱۳۱۳ق، ج۵، ص۱۹۹ بہ بعد؛ طبرانی، المعجم الکبیر، ۱۳۹۸ق، ج۱، ص۱۲۲ بہ بعد۔
  28. واقدی، المغازی، ۱۹۶۶م، ج۳، ص۱۱۲۲-۱۱۲۱؛ يعقوبي، التاریخ، ۱۳۷۹ق، ج۲، ص۱۲۷؛ طبري، تاريخ الأمم والملوك، ۱۳۸۷ق، ج۳، ص۲۲۳ بہ نقل از سیف بن عمر۔
  29. ابن سعد، الطبقات الکبری، دار صادر، ج۱، ص۱۹۱؛ يعقوبي، التاريخ، ۱۳۷۹ق، ج۲، ص۱۲۷؛ طبري، تاريخ الأمم والملوك، ۱۳۸۷ق، ج۳، ص۲۲۷۔
  30. طبري، تاريخ الأمم والملوك، ۱۳۸۷ق، ج۳، ص۲۴۷-۲۴۱۔
  31. ابن أعثم كوفي، الفتوح، ۱۳۸۸ق، ج۱، ص۳۲-۳۱۔
  32. سُدآبادی، المقنع فی الإمامۃ، ۱۴۱۴ق، ص۱۴۲-۱۴۳؛ ابن طاووس، اليقين في امرۃ اميرالمؤمنين، ۱۳۶۹ق، ص۹۵۔
  33. زہري، المغازي النبويہ، ۱۴۰۱ق، ص۱۷۴۔
  34. بلاذري، فتوح البلدان، ۱۹۵۶م، ج۳، ص۵۵۱؛ ابن عبدالبر، الإستیعاب، ۱۳۸۰ق، ج۱، ص۷۶؛ ابو نعيم اصفہاني، معرفۃ الصحابۃ، ۱۴۰۸ق، ج۲، ص۱۸۲۔
  35. بلاذري، أنساب الأشراف، ۱۳۹۴ق، ج۲، ص۳۳۵۔
  36. طبري، تاريخ الأمم والملوك، ۱۳۸۷ق، ج۴، ص۳۴۱، بہ نقل از سیف بن عمر۔
  37. بلاذري، أنساب الأشراف، مکتبۃ المثنی، ج۵، ص۷۷؛ ابن أعثم الكوفي، الفتوح، ۱۳۸۹ق، ج۲، ص۲۲۷۔
  38. طبري، تاريخ الأمم والملوك، ۱۳۸۷ق، ج۴، ص۴۳۱؛ مسعودي، مروج الذہب، ۱۹۷۰م، ج۳، ص۲۰۴؛ ہمچنین ببینید: ابن سعد، الطبقات الکبری، دار صادر، ج۳، ص۳۱۔
  39. شیخ مفید، الإرشاد، ۱۴۱۳ق، ج۱، ص۲۴۳-۲۴۴۔
  40. ابن أعثم الكوفي، الفتوح، ۱۳۸۹ق، ج۲، ص۲۵۶۔
  41. رجوع کنید بہ: بلاذري، أنساب الأشراف، ۱۳۹۴ق، ج۲، ص۲۰۸؛ دینوری، ص۱۴۳؛ شیخ مفید، الجمل، ۱۴۱۳ق، ص۹۶-۹۵۔
  42. شیخ مفید، الجمل، ۱۴۱۳ق، ص۲۴۰۔
  43. بلاذري، أنساب الأشراف، ۱۳۹۴ق، ج۲، ص۲۰۸؛ شیخ مفید، الجمل، ۱۴۱۳ق، ص۹۵۔
  44. ابن سعد، الطبقات الکبری، دار صادر، ج۴، ص۷۲؛ ابو نعیم اصفہانی، معرفۃ الصحابۃ، ۱۴۰۸ق، ج۲، ص۱۸۲؛ ابن عبد البر، الإستیعاب، ۱۳۸۰ق، ج۱، ص۷۵و۷۷؛ ابن اثیر، أسد الغابہ، ۱۲۸۵ق، ج۱، ص۶۶۔
  45. حاکم نیشابوری، المستدرک علی الصحیحین، ۱۳۴۲ق، ج۳، ص۵۹۶۔
  46. حاکم نیشابوری، المستدرک علی الصحیحین، ۱۳۴۲ق، ج۳، ص۵۹۶۔
  47. ابن أثير، أسد الغابۃ، ۱۲۸۵ق، ج۱، ص۶۶۔
  48. ابن حبان، مشاہير علماء الأمصار، ۱۳۷۹ق، ص۱۱؛ ابو نعیم اصفہانی، معرفۃ الصحابہ، ۱۴۰۸ق، ج۲، ص۱۸۲۔
  49. شیخ طوسی، إختيار معرفۃ الرجال، ۱۴۲۷ق، ج۱، ص۱۶۴۔
  50. جاحظ، العثمانیۃ، ۱۳۷۴ق، ص۱۴۷-۱۴۶۔
  51. جاحظ، العثمانیہ، ۱۳۷۴ق، ص۱۶۸-۱۶۷۔
  52. ناشی اکبر، مسائل الإمامہ، ۱۹۷۱ق، ص۵۱۔
  53. ابوالقاسم کوفی، الإستغاثۃ، ۱۳۸۶ق، ج۱، ص۲۶-۲۵؛ سید مرتضی، الشافي في الإمامہ، ۱۴۱۰ق، ج۴، ص۱۴۴۔
  54. آقا بزرگ طہرانی، الذريعہ إلی تصانیف الشیعہ، ۱۴۰۳ق، ج۵، ص۳۰۴۔
  55. ناشی اکبر، مسائل الإمامۃ، ۱۹۷۱ق، ص۱۶؛ نوبختی، فرق الشيعہ، ۱۹۳۱ق، ص۵۔
  56. خیاط، الإنتصار، ۱۳۴۴ق، ص۱۴۳ کہ نظر اہل حدیث را آوردہ؛ ابن عبدالبر، الإستیعاب، ۱۳۸۰ق، ج۱، ص۷۷ نقل قولی از وکیع؛ نیز ابن تیمیۃ، منہاج السنۃ النبويہ، ۱۳۲۲ق، ج۲، ص۱۷۸۔
  57. اسکافی، المعیار والموازنہ، ۱۴۰۲ق، ص۳۵-۳۴و۲۲و۲۱؛ شیخ مفید، الجمل، ۱۴۱۳ق، ۵۱و۹۴و۹۷۔
  58. برقی، رجال، ۱۳۴۲ش، ص۵۱-۵۰۔
  59. ابن شہر آشوب مازندرانی، المناقب، ۱۳۷۹ق، ج۴، ص۶۵۔
  60. ابن داود حلی، رجال ابن داود، ۱۳۸۳ق، ص۵۰-۵۱۔
  61. علامہ حلی، خلاصۃ الأقوال، ۱۳۸۱ش، ص۷۳۔
  62. شوشتری، قاموس الرجال، ۱۴۱۰ق، ج۱، ص۷۲۰۔

مآخذ

  • آقا بزرگ طہرانی، محمد محسن، الذریعہ الی تصانیف الشیعہ، بیروت، چاپ علی نقی منزوی و احمد منزوی، ۱۴۰۳ق/۱۹۸ ع
  • ابن ابی الشیبہ، عبداللہ، المصنف، بہ کوشش مختار احمد ندوی، بمبئی، ۱۴۰۳ق/۱۹۸۳ ع
  • ابن ابی عاصم، احمد، الآحاد و المثانی، بہ کوشش باسم فیصل احمد جوابرہ، ریاض، ۱۴۱۱ق/۱۹۹۱ ع
  • ابن اثیر، علی، أسد الغابہ، قاہرۃ، ۱۲۸۵ق۔
  • ابن اعثم کوفی، احمد، الفتوح، حیدر آباد دکن، ج۱، ۱۳۸۸ق/۱۹۶۸م، ج۲، ۱۳۸۹ق/۱۹۶۹ ع۔
  • ابن تیمیہ، احمد، منہاج السنۃ النبویہ، قاہرۃ، ۱۳۲۲ق۔
  • ابن حبان، محمد، مشاہیر علماء الأمصار، بہ کوشش م۔فلایش ہامر، قاہرۃ، ۱۳۷۹ق/۱۹۵۹ ع۔
  • ابن حبیب، محمد، المحبر، بہ کوشش ایلزہ لیختن شتیتر، حید رآباد دکن، ۱۳۶۱ق/۱۹۴۲ ع۔
  • ابن حزم، علی، جمہرۃ انساب العرب، بیروت، ۱۴۰۳ق/۱۹۸۳ ع۔
  • ابن داود حلی، رجال ابن داود، تہران، انتشارات دانشگاہ تہران، ۱۳۸۳ق۔
  • ابن سعد، محمد، الطبقات الکبری، بیروت، دار صادر۔
  • ابن سید الناس، محمد بن محمد، عيون الأثر، تحقیق ابراہیم محمد رمضان، بیروت، دار القلم، ۱۴۱۴ق/۱۹۹۳ق۔
  • ابن شاذان، فضل، ایضاح، بہ کوشش جلال الدین محدث ارموی، تہران، ۱۳۵۱ش۔
  • ابن شہر آشوب مازندرانی، محمد بن علی، مناقب آل أبی طالب(ع)، قم، مؤسسہ انتشارات علامہ، ۱۳۷۹ق۔
  • ابن طاووس، علی، الیقین فی امرۃ امیرالمومنین(ع)، نجف، ۱۳۶۹ق/۱۹۵۰ ع۔
  • ابن عبد البر، یوسف، الإستیعاب، بہ کوشش محمد بجاوی، قاہرہ، ۱۳۸۰ق/۱۹۶۰ ع۔
  • ابن عساکر، علی بن حسن، تاریخ مدينۃ دمشق و ذکر فضلہا و تسميۃ من حلہا من الأماثل أو اجتاز بنواحيہا من وارديہا وأہلہا، تحقیق علی شیری، بیروت، دار الفکر، ۱۴۱۵ق/۱۹۹۵ ع۔
  • ابن قتیبہ، عبداللہ، المعارف، بہ کوشش مصطفی سقا و دیگران، قاہرہ، ۱۳۷۵ق/۱۹۵۵ ع۔
  • ابن ہشام، عبد الملک، السیرۃ النبویہ، تصحیح ابراہیم ابیاری و مصطفی سقا و عبد الحفیظ شبلی، بیروت، دار المعرفۃ۔
  • ابو القاسم کوفی، علی، الاستغاثہ، نجف، ۱۳۸۶ق۔
  • ابو نعیم اصفہانی، احمد، معرفۃ الصحابہ، بہ کوشش محمد راضی بن حاج عثمان، ریاض، ۱۴۰۸ق/۱۹۸۸ ع۔
  • احمد بن حنبل، مسند، قاہرہ، ۱۳۱۳ق۔
  • اسکافی، محمد، المعیار و الموازنہ، بہ کوشش محمدباقر محمودی، بیروت، ۱۴۰۲ق/۱۹۸۱ ع۔
  • بخاری، اسماعیل، التاریخ الکبیر، حیدر آباد دکن، دائرۃ المعارف العثمانیہ، بی‌ تا۔
  • بخاری، اسماعیل، صحیح، بولاق، ۱۳۱۴ق۔
  • برقی، احمد، رجال، بہ کوشش جلال الدین محدث ارموی، تہران، ۱۳۴۲ش۔
  • بلاذری، احمد، انساب الاشراف، ج۱، بہ کوشش محمد حمید اللہ، قاہرہ، ۱۹۵۹ ع، ج۲، بہ کوشش محمد باقر محمودی، بیروت، ۱۳۹۴ق/۱۹۷۴ ع، ج۴ (۱)، بہ کوشش ماکس شلوسینگر، بیت المقدس، ۱۹۷۱ ع، ج۵، بغداد، مکتبۃ المثنی۔
  • بلاذری، احمد، فتوح البلدان، بہ کوشش صلاح الدین منجد، قاہرہ، ۱۹۵۶ ع۔
  • ترمذی، محمد، سنن، بہ کوشش ابراہیم عطہ عرض، استانبول، ۱۴۰۱ق/۱۹۸۱ ع۔
  • جاحظ، عمرو، العثمانیہ، بہ کوشش عبد السلام محمد ہارون، قاہرہ، ۱۳۷۴ق/۱۹۵۵ ع۔
  • حاکم نیشابوری، محمد، المستدرک علی الصحیحین، حیدر آباد دکن، ۱۳۴۲ق۔
  • خیاط، عبد الرحیم، الإنتصار، بہ کوشش نیبرگ، قاہرہ، ۱۳۴۴ق/۱۹۲۵ ع۔
  • دینوری، احمد، الاخبار الطوال، بہ کوشش عبد المنعم عامر، قاہرہ، ۱۳۷۹ق/۱۹۵۹ ع۔
  • ذہبی، احمد، سیر أعلام النبلاء، بہ کوشش شعیب ارنووط و دیگران، بیروت، ۱۴۰۵ق/۱۹۸۵ ع۔
  • زہری، محمد، المغازی النبویہ، بہ کوشش سہیل زکار، دمشق، ۱۴۰۱ق/۱۹۸۱ ع۔
  • سُدآبادی، عبیداللہ، المقنع فی الامامہ، بہ کوشش شاکر شبع، قم، ۱۴۱۴ق۔
  • سید مرتضی، علی، الشافی فی الامامہ، بہ کوشش عبد الزہراء حسینی خطیب، تہران، ۱۴۱۰ق۔
  • شوشتری، محمد تقی، قاموس الرجال، قم، دفتر انتشارات اسلامی، ۱۴۱۰ق۔
  • شیخ مفید، محمد بن محمد، الإرشاد في معرفۃ حجج اللہ علی العباد، قم، المؤتمر العالمي لألفيۃ الشيخ الفميد، ۱۴۱۳ق۔
  • شیخ مفید، محمد بن محمد، الجمل، بہ کوشش علی میر شریفی، قم، ۱۴۱۳ق۔
  • طبرانی، سلیمان، المعجم الکبیر، بہ کوشش حمدی عبد المجید سلفی، بغداد، ۱۳۹۸ق/۱۹۷۸ ع۔
  • طبری، محمد بن جریر، تاریخ الأمم و الملوک، تحقیق محمد أبو الفضل ابراہیم، بیروت، دار التراث، ۱۳۸۷ق/۱۹۶۷ ع۔
  • علامہ حلی، حسن بن یوسف، ترتیب خلاصۃ الأقوال في معرفۃ علم الرجال، مشہد، مجمع البحوث الإسلاميۃ، ۱۳۸۱ش/۱۴۲۳ق۔
  • علامہ حلی، حسن بن یوسف، رجال العلامہ الحلی، قم، دار الذخائر، ۱۴۱۱ق۔
  • شیخ طوسی، محمد بن حسن، إختیار معرفۃ الرجال، بہ تحقیق جواد قیومی اصفہانی، قم، مؤسسۃ النشر الإسلامي، ۱۴۲۷ق۔
  • مزّی، یوسف، تہذیب الکمال، بہ کوشش بشار عواد معروف، بیروت، ۱۴۰۴ق/۱۹۸۴ ع۔
  • مسعودی، علی بن حسین، مروج الذہب، بہ کوشش شارل پلا، بیروت، ۱۹۷۰ ع۔
  • ناشی اکبر، عبداللہ، مسائل الامامہ، بہ کوشش یوزف فان اس، بیروت، ۱۹۷۱ ع۔
  • نوبختی، حسن، فرق الشیعہ، بہ کوشش ہلموت ریتر، استانبول، ۱۹۳۱ ع۔
  • واقدی، محمد، المغازی، بہ کوشش مارسدن جونز، لندن، ۱۹۶۶ ع۔
  • یعقوبی، احمد، التاریخ، بیروت، ۱۳۷۹ق/۱۹۶۰ ع۔