احصان

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
مشہور احکام
رساله عملیه.jpg
نماز
واجب نمازیں یومیہ نمازیںنماز جمعہنماز عیدنماز آیاتنماز میت
مستحب نمازیں نماز تہجدنماز غفیلہنماز جعفر طیارنماز امام زمانہنماز استسقاءنماز شب قدرنماز وحشتنماز شکرنماز استغاثہدیگر نمازیں
دیگر عبادات
روزہخمسزکاتحججہاد
امر بالمعروف و نہی عن المنکرتولیتبری
احکام طہارت
وضوغسلتیممنجاساتمطہرات
مدنی احکام
وکالتوصیتضمانتکفالتارث
عائلی احکام
شادی بیاهمتعہتعَدُّدِ اَزواجنشوز
طلاقمہریہرضاعہمبستریاستمتاع
عدالتی احکام
قضاوتدیّتحدودقصاصتعزیر
اقتصادی احکام
خرید و فروخت (بیع)اجارہقرضہسود
دیگر احکام
حجابصدقہنذرتقلیدکھانے پینے کے آدابوقفاعتکاف
متعلقہ موضوعات
بلوغفقہشرعی احکامتوضیح المسائل
واجبحراممستحبمباحمکروہ


اِحصان فقہی مصادر میں دو معانی کے لیے استعمال ہوا ہے؛ یعنی شادی شدہ اور پاکدامنی۔ شہادت اور حدود کے ابواب میں شادی شدہ کے معنی میں جبکہ لعان اور حدود کے ابواب میں دوسرے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ فقہی مصادر کے مطابق احصان کی وجہ سے بعض گناہوں کی سزا میں شدت آجاتی ہے زنائے محصنہ (شادی شدہ عورت یا مرد کا زنا) کی سزا سنگسار ہے اور پاک دامن شخص کو کوئی قذف کرے تو اس کی سزا 80 کوڑے ہیں۔ نیز احصان ثابت ہونے کے لیے کچھ خاص شرائط ہیں۔

معنی

«احصان» عربی لغت میں محفوظ رکھنے اور مصون رکھنے کے معنی میں ہے۔[1] اور فقہی اصطلاح میں اس کے دو معنی «شادی شدہ» اور «پاکدامنی» ہیں۔[2] فقہی مصادر میں پہلے معنی کو «احصان الرجم» اور دوسرے معنی کو «احصان القذف» نیز کہا گیا ہے۔[3]جس مرد اور عورت میں احصان کی شرائط پائی جائیں انہیں «مُحصَن» اور «محصَنہ» یا «ثیِّب» و «ثیِّبہ» کہا جاتا ہے۔[4] قرآن کریم میں «احصان» اور اس سے مشتق ہونے والے الفاظ مختلف معانی میں استعمال ہوئے ہیں، جیسے شادی شدہ ہونا،[5] پاکدامنی،[6] آزاد ہونا (غلام اور کنیز کے مقابلے میں)،[7] مسلمان ہونا اور بالغ ہونے.‌[نوٹ 1] کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔[8]

فقہ اسلامی میں زنا، مساحقہ، قذف، لعان[9] اور لواط کے ابواب میں «احصان» سے بحث ہوتی ہے اور ہر باب کے خاص شرائط ہیں۔

زنا اور لواط میں احصان

اسلامی فقہ کے مطابق زنا کے باب میں ہر بالغ، آزاد اور عاقل شخص جو شادی شدہ اور اور ہمبستری بھی ہے اور اس کی بیوی یا شوہر دسترس میں بھی ہو تو وہ محصن یا محصنہ ہے۔[10]ایسا شخص (مرد یا عورت) کسی اور سے زنا کرے تو اس کے اس فعل کو زنائے محصنہ کہا جاتا ہے۔[11]فقہی مصادر کے مطابق «احصان» کی وجہ سے زنا کی سزا میں شدت آجاتی ہے اور زنائے محصنہ کی سزا سنگسار ہے۔[12]

احصان کی وجہ سے لواط کی سزا میں بھی شدت آجاتی ہے اور اگر لواط کرنے والا محصن ہو تو مارا جائے گا اور اگر غیر محصن ہو تو اس کے لیے شرعی سزا صرف سو کوڑے ہیں۔[13]

احصان سے خروج

بعض فقہا کا کہنا ہے کہ بعض امور جیسے حیض، نفاس، مسافرت، قید، یا شریک حیات میں جماع کے مانع بیماریوں سے مرد یا عورت کو احصان سے خارج کیا جاسکتا ہے۔[14] اسی طرح مرد اور عورت اگر طلاق بائن کے ذریعے ایک دوسرے سے جدا ہوجائیں تو طلاق کے فوراً بعد احصان کے دائرے سے نکل جائیں گے؛ لیکن کیا طلاق رجعی کے ذریعے سے بھی احصان سے خارج ہوتے ہیں یا نہیں اس میں اختلاف نظر پایا جاتا ہے۔[15] بعض کا کہنا ہے کہ اگر شریک حیات (بیوی یا شوہر) مرتد فطری ہوجائے تو احصان سے خارج ہوتے ہیں۔[16]

قذف اور لعان میں احصان

  • فقہا نے باب قذف میں کہا ہے کہ ہر بالغ، عاقل، آزاد اور پاکدمن شخص میں «احصان» پایا جاتا ہے اور اگر کوئی ایسے شخص پر لواط یا زنا کی تہمت لگائے تو اس پر حد قذف جاری ہوگا جو کہ 80 کوڑے ہیں۔[17]
  • باب لعان میں فقہ اسلامی کے مطابق اگر کوئی مرد ادعا کرے کی اس کی بیوی (پاکدمن عورت) نے زنا کیا ہے، یا کہے کہ یہ بچہ میرا نہیں ہے اور اس بات پر کوئی گواہ بھی نہ لاسکے تو مرد اور عورت ایک دوسرے پر لعنت کریں گے اور ایک دوسرے سے یوں جدا ہونگے اور ایک دوسرے پر حرام ابدی ہونگے۔[18]

حوالہ جات

  1. فرہنگ دہخدا، کلمہ احصان کے ذیل میں
  2. ہاشمی شاہرودی، موسوعۃالفقہ الاسلامی طبقا لمذہب اہل البیت، ۱۴۲۳ق، ج۷، ص۱۱۱؛ دانشنامہ جہان اسلام، ۱۳۹۵ش، ج۲۱، مدخل زنا کے ذیل میں، ص۵۹۶.
  3. ہاشمی شاہرودی، محمود، موسوعۃالفقہ الاسلامی طبقا لمذہب اہل البیت، ۱۴۲۳ق، ج۷، ص۱۱۱.
  4. دانشنامہ جہان اسلام، ۱۳۹۵ش، ج۲۱، مدخل زنا کے ذیل میں، ص۵۹۶؛ ہاشمی شاہرودی، فرہنگ فقہ مطابق مذہب اہل بیت، ۱۳۸۲ش، ج۱، ص۳۰۷.
  5. سورہ نساء، آیہ ۲۴۔
  6. سورہ تحریم، آیہ۱۲۔
  7. سورہ مائدہ، آیہ۵.
  8. دایرۃالمعارف اسلامی، ۱۳۷۳ش، ج۶، لفظ احصان کے ذیل میں.
  9. ہاشمی شاہرودی، فرہنگ فقہ مطابق مذہب اہل بیت، ۱۳۸۲ش، ج۱، ص۳۰۷.
  10. رسالہ توضیح المسائل مراجع، ۱۳۷۲ش، ص۸۹۶.
  11. رسالہ توضیح المسائل مراجع، ۱۳۷۲ش، ص۸۹۶.
  12. موسوی اردبیلی، فقہ الحدود والتعزیرات، ۱۴۳۷ق، ج۱، ص۱۹۸.
  13. مجلسی، حدود و قصاص و دیات، ص۲۱؛ رسالہ توضیح المسائل مراجع، ۱۳۷۲ش، ص۸۹۷.
  14. منتظری، مجازات‌ہای اسلامی و حقوق بشر، ۱۴۲۹ق، ص۱۵۱؛ موسوی خمینی، ترجمہ تحریر الوسیلہ، ۱۴۲۵ق، ج۴، ص۱۷۷.
  15. موسوی اردبیلی، فقہ الحدود والتعزیرات، ۱۴۳۷ق، ج۱، ص۲۳۴.
  16. موسوی خمینی، ترجمه تحریر الوسیلہ، ۱۴۲۵ق، ج۴، ص۱۷۸.
  17. موسوی خمینی، ترجمہ تحریر الوسیلہ، ۱۴۲۵ق، ج۴، ص۲۳۹.
  18. شیخ بہائی، جامع عباسی، ۱۴۲۹ق، ص۷۳۱.
  1. فَإِذَا أُحْصِنَّ فَإِنْ أَتَيْنَ بِفَاحِشَةٍ فَعَلَيْهِنَّ نِصْفُ مَا عَلَى الْمُحْصَنَاتِ مِنَ الْعَذَابِ»: اس آیت میں کلمہ «اُحصنَ» کو مسلمانی کے معنی میں جبکہ بعض نے کنیزوں کا بالغ ہونے کے معنی میں استعمال کیا ہے۔

مآخذ

  • قرآن کریم
  • دانشنامہ بزرگ جہان اسلام،‌ تہران، مرکز دایرۃالمعارف بزرگ اسلامی، ۱۳۹۵ش.
  • دایرۃالمعارف بزرگ اسلامی،‌ تہران، مرکز دایرۃالمعارف بزرگ اسلامی، ۱۳۷۳ش.
  • دہخدا، علی اکبر، فرہنگ لغت، تہران، مؤسسہ لغت نامہ دہخدا، ۱۳۴۱ش.
  • رسالہ توضیح المسائل مراجع، قم، انتشارات تفکر، ۱۳۷۲ش.
  • شیخ بہائی (عاملی)، بہاءالدین، جامع عباسی، قم، دفتر انتشارات اسلامی، ۱۴۲۹ق.
  • قانون مجازات اسلامی مصوب ۱۳۹۲ در پرتو نظرات شورای نگہبان، تہران، پژوہشکدہ شورای نگہبان، ۱۳۹۲ش.
  • مجلسی، محمدباقر، حدود و قصاص و دیات، مؤسسہ نشر آثار اسلامی، تہران، چاپ اول، بی‌تا.
  • منتظری، حسین‌علی، مجازات‌ ہای اسلامی و حقوق بشر، قم، ارغوان دانش، ۱۴۲۹ق.
  • موسوی اردبیلی، سید عبدالکریم، فقہ الحدود والتعزیرات، قم، موسسۃالنشر الجامعہ للمفید، ۱۴۳۷ق.
  • موسوی خمینی، روح‌اللہ، ترجمہ تحریر الوسیلہ، قم، دفتر انتشارات اسلامی، ۱۴۲۵ق.
  • ہاشمی شاہرودی، محمود، فرہنگ فقہ مطابق مذہب اہل بیت، قم، مرکز دایرۃالمعارف فقہ اسلامی، ۱۳۸۲ش.
  • ہاشمی شاہرودی، محمود، موسوعۃالفقہ الاسلامی طبقا لمذہب اہل البیت، قم، مرکز دایرۃالمعارف فقہ اسلامی، ۱۴۲۳ق.