آل حمدان

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

شیعہ حکومتیں

نام حکومت


ادریسیون
طبرستان کے علویون
قرامطہ
یمن کے زیدیون
فاطمیون
آل بویہ
آل حمدان
بنی مزید
نزاری اسماعیلیون
بنو حمود
سربداران
مرعشیون
کیائی
صفویہ
عادل شاہی
قطب شاہی
نظام شاہی
مشعشعیون
اسلامی جمہوریہ ایران

عہد حکومت


172 - 363 ھ.ق
250 - 960 ھ.ق
261 - قرن 5 ھ.ق
284 - 1382 ھ.ق
297 - 567 ھ.ق
313 - 440 ھ.ق
293 - 394 ھ.ق
403 - 545 ھ.ق
488 - -- ھ.ق
407 - 450 ھ.ق
736 - 788 ھ.ق
760 - 990 ھ.ق
769 - 1000 ھ.ق
906 - 1135 ھ.ق
895 - 1097 ھ.ق
918 - 1098 ھ.ق
896 - 1007 ھ.ق
845 - 1150 ھ.ق
1357 - -- ھ.ش

بانی


ادریس بن عبداللہ(172-175ھ ق)
حسن بن زید(250-270ھ ق)
حمدان قرمط(261-394ھ ق)
یحیی بن حسین(284-298ھ ق)
عبیداللہ المہدی(297-322ھ ق)
عمادالدولہ علی(313-328ھ ق)
عبداللّہ بن حمدان(293-317ھ ق)
سند الدولہ(403-408)
حسن صباح(488-557)
علی بن حمود(407-408ھ ق)
عبدالرزاق باشتینی(736-738ھ ق)
میربزرگ(760-780ھ ق)
سید علی کیا(1367-1389ھ ق)
شاہ اسماعیل(906-930ھ ق)
یوسف عادل شاہ(895-916ھ ق)
قلی قطب شاہ(918-940ھ ق)
ملک احمد(896-914ھ ق)
سید محمد مشعشع(845-870ھ ق)
امام خمینی(1357-1368 ش)

آل حمدان، آل الحمدان (دوران حکومت 293 تا 394ھ‍/905 تا 1004ع‍) موصل اور حلب میں حکمرانی کرنے والے شیعہ خاندانوں میں سے ہیں۔ موصل میں حمدانیوں کی حکومت کے بانی ابو الہیجاء عبداللہ بن حمدان اور حکومت شام (حلب) کی حمدانی حکومت کے بانی ابو الحسن علی المعروف بہ سیف الدولہ تھے۔ آل حمدان کا اہم ترین کردار یہ تھا کہ انھوں نے رومیوں کے حملوں کے مقابلے میں اسلامی سرحدوں کی حفاظت کی۔ حمدانی دور کے بعض سکّوں پر اہل بیتؑ کے اسماء گرامی کندہ کرنا، ابوالہیجاء کے توسط سے حرم امیر المؤمنینؑ کے گرد مضبوط حصار اور آپؑ کی قبر شریف پر بڑے قبے کی تعمیر، آل حمدان کی دینی خدمات میں سے ہیں۔ حمدانیوں کے بنو تغلب، بنو عباس، فاطمیون اور قرامطہ سمیت دوسری حکومت کے ساتھ تعلقات تھے۔


حمدانی حکمران

موصل کی حمدانی حکومت:

فرمانروا دور حکومت
ابوالہیجاء عبداللہ 293ھ/905ع‍
ناصرالدولہ ابومحمد الحسن 317ھ‍/929ع‍
عضدالدولہ ابوتغلب فضل اللہ الغضنفر 358ھ‍/969ع‍
ابوطاہر ابراہیم 379ھ‍-389ھ‍/981ع‍-991ع‍
ابوعبداللہ الحسین 379ھ‍-389ھ‍/981ع‍-991ع‍

حلب کی حمدانی حکومت

فرمانروا دور حکومت
سیف الدولہ ابوالحسن علی 333ھ‍/945ع‍
سعدالدولہ ابوالمعالی شریف 356ھ‍/967ع‍
سعیدالدولہ ابوالفضایل سعید 381ھ‍/991ع‍
ابوالحسن علی 392ھ‍/1002ع‍
ابوالمعالی شریف 394ھ‍/1004ع‍

نسب

حمدانی اپنے قبیلے کو قبیلۂ تغلب سے منسوب کرتے ہیں اور اپنے آپ کو حَمْدان بن حَمدون بن حارث بن لقمان تغلبی کی اولاد[1]۔[2]۔[3]۔[4] [یا] احمدبن حمدون بن حارث بن منصورکی نسل قرار دیتے ہیں[5]۔[6]

حمدان بن حمدون تاریخ کی گذرگاہ میں

حمدان عباسی خلیفہ کی سپاہ میں

مروی ہے کہ حمدان بن حمدون پہلی بار سنہ 254 ہجری میں مساور بن عبدالحمید خارجی کے خلاف جنگ میں عباسی خلیفہ کے سپہ سالاروں میں سے ایک تھے۔[7]

حمدان اور ہارون کا اتحاد

سنہ 260 ہجری میں حمدان نے یحیی بن سلیمان کی سرکردگی میں موصل کی تحریک کو کچلنے کے لئے جانے والی اسحق بن ایوب تغلبی کی سپاہ کا ساتھ دیا۔ یہ سپاہ اپنی مہم میں ناکام رہی۔[8] سنہ 263 ہجری میں حمدان نے ہارون الشاری کا ساتھ دیا جو خوارج کی قیادت حاصل کرنے کے درپے تھا۔[9] سنہ 266 ہجری میں علی بن داؤد (قائد کبیر)، اسحق بن ایوب تغلبی اور اسحق بن کنداجیق کے ساتھ مل کر عباسی حکومت کے خلاف جنگ میں شریک ہوئے اور شکست کھانے کے بعد فرار ہوکر نیشابور چلے گئے۔[10] طبری نے اس جنگ میں حمدان کی شرکت کی طرف اشارہ نہیں کیا ہے۔[11] سنہ 267 ہجری میں حمدان نے اسحق بن ایوب کے ساتھ مل کر ربیعہ، تغلب اور بکر نامی قبائل کا لشکر تشکیل دیا اور کنداجیق کے مقابلے کے لئے عزیمت کی لیکن پھر بھی شکست کھا گئے اور فرار ہوکر نصیبین اور آمد چلے گئے۔[12]۔[13] سنہ 272 ہجری میں حمدان ہارون الشاری کے ساتھ متحد ہوئے۔ وہ مل کر موصل چلے گئے اور سنہ 279 ہجری میں بنو شیبان کے خلاف جنگ میں شریک ہوئے۔[14]۔[15]۔[16] سنہ 281 ہجری میں، عباسی خلیفہ معتضد نے حمدان اور ہارون الشاری کی سرکوبی کے لئے موصل کی طرف عزیمت کی۔ اور "قلعۂ ماردین" پر ـ جو حمدان کا ٹھکانہ تھا ـ قبضہ کیا اور اس کو تباہ کردیا۔ کچھ افراد کو حمدان کے تعاقب میں روانہ کیا ـ جو اپنے بیٹے حسین کو جانشین قرار دے کر فرار ہوگئے تھے ـ اور خود موصل کی طرف پلٹ گیا۔ معتضد نے موصل پہنچنے کے بعد حمدان کے نام خط لکھا اور ان سے کہا کہ خلیفہ کی اطاعت کریں لیکن حمدان نے انکار کیا اور قلعہ بند ہوئے حتی کہ کچھ عرصہ فرار اور خلیفہ کے تعاقب کے بعد سنہ 282 میں خلیفہ کی اطاعت قبول کرلی اور انہیں اپنے بیٹے حسین کی وساطت سے رہا کیا گیا۔[17]۔[18]۔[19]

اس کے بعد، مآخذ میں حمدان کا ذکر موجود نہیں ہے اور نظر یوں آتا ہے کہ وہ سیاسی سرگرمیوں سے دور رہے۔ ان کی وفات کی تاریخ بھی واضح نہیں ہے۔

حمدان کی اولاد

حمدان کے آٹھ بیٹے تھے جن میں مشہور ترین ابو علی حسین بن حمدان ہیں۔[20]۔[21]۔[22]

موصل کے حمدانی

ابوالہیجاء، موصل کی حمدانی حکومت کے مؤسس

موصل میں حمدانیوں کی حکومت کے بنی ابو الہیجاء عبداللہ بن حمدان تھے۔ وہ سنہ 293 ہجری میں موصل کے حاکم مقرر ہوئے۔[23] انہیں اپنی حکومت کے شروع میں ہَذْبانی کردوں کی بغاوت کا سامنا کرنا پڑا اور ان کے لشکر کو کردوں کے خلاف لڑتے ہوئے بھاری نقصانات سے دوچار ہونا پڑا؛ چنانچہ انھوں نے بغداد سے کمک مانگی اور سنہ 294 ہجری میں کمک پہنچتے ہیں انھوں نے کرد باغیوں کا تعاقب شروع کیا اور انہیں اطاعت گزاری پر مجبور کیا،[24]۔[25] لیکن چند سال بعد خلیفہ کے خلاف اقدام کی بنا پر معزول کئے گئے۔ خلیفہ کا حکمنامہ ابو الہیجاء کے شدید رد عمل کا سبب بنا؛ لیکن خلیفہ کی سپاہ کے مقابلے میں مزاحمت سے اجتناب کیا۔ انھوں نے امان مانگی اور عباسی خلیفہ کے لشکر کے ہمراہ بغداد پہنچے اور خلیفہ کی تکریم کے لائق ٹہرے۔ چند مہینے بعد انہیں موصل کی حکومت لوٹا دی گئی۔[26]۔[27]۔[28]۔[29] سنہ 303 ہجری میں حسین بن حمدان کی گرفتاری کے بعد ابو الہیجاء اور ان کے بھائی ابراہیم بھی گرفتار اور قید کرلئے گئے لیکن دو سال بعد ـ جبکہ حسین بدستور قیدخانے میں تھے ـ وہ دونوں رہا کئے گئے۔[30]۔[31] سنہ 307 میں ابو الہیجاء مؤنس خادم کے ہمراہ باغی سپہ سالار یوسف بن ابی ساج کے خلاف جنگ میں شریک ہوئے جو ابو ساج کی شکست پر منتج ہوئی۔[32]۔[33]۔[34] سنہ 308 ہجری میں خلیفہ نے انہیں خراسان اور دینور روانہ کیا اور ان کے بھائیوں ابو السرایا اور ابو العلاء کو خلعت بخشی۔[35]۔[36]۔[37]۔[38]

سنہ 309 ہجری میں ابو الہیجاء کو حجاج کے لئے راستہ پرامن بنانے کا فریضہ سونپا؛ وہ سنہ 312 تک اسی منصب پر فائز رہے؛ کیونکہ اسی سال قرمطیوں نے ابو طاہر جنابی کی سرکردگی میں حجاج کے قافلے پر حملہ کیا اور ابو الہیجاء ان کے خلاف لڑتے ہوئے ان کے ہاتھوں اسیر ہوئے لیکن کچھ عرصہ بعد قرمطیوں نے انہيں رہا کردیا۔[39]۔[40]۔[41]۔[42]

سنہ 314 ہجری کے وقائع میں ابو الہیجاء کو موصل کے حکمران کے طور پر یاد کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ انھوں نے اپنے بیٹے حسن ناصرالدولہ کو جانشین مقرر کیا لیکن ناصر الدولہ مخالفین کی سرکوبی میں ناکام رہے چنانچہ ابو الیہجاء نے خود جاکر مخالفین کو کچل دیا اور علاقے میں امن و سکون بحال کیا۔[43]۔[44]

سنہ 315 ہجری میں ابو الہیجاء اور ان کے بھائیوں نے عراق کا رخ کرنے والے قرمطی سالار ابوطاہر جنابی کے خلاف (عباسی دربار کے) مونس خادم کی لشکر کشی میں حصہ لیا۔ اس جنگ میں عباسی لشکر کو شکست ہوئی اور ابو الہیجاء کی تجویز پر دریائے زُبارہ/ زُبارا کا پل کاٹ دیا گیا تا کہ قرمطی بغداد میں داخل نہ ہوسکیں۔[45]۔[46]۔[47]

ابوالہیجاء کا قتل

سنہ 317 ہجری میں ابو الہیجاء نے مقتدر عباسی کو معزول کرنے اور قاہر عباسی کو بر سر اقتدار لانے کے لئے ہونے والے اقدامات میں شرکت کی لیکن آخر کار مقتدر عباسی کے حامیوں کے ہاتھوں مارے گئے۔[48]۔[49]۔[50]۔[51]

ابوالعلاء، ابوالہیجاء کے جانشین

ناصر الدولہ، والد کے قتل کے بعد، ان ہی کی عملداری (یعنی موصل اور چند چھوٹے شہروں) میں حاکم کے عنوان سے مقرر کئے گئے لیکن سنہ 318 ہجری میں انہیں "دیار ربیعہ"، "نصیبین"، "سنجار" اور چند دوسرے علاقوں کے کارگزار کے طور پر مقرر کیا گیا۔[52] کچھ ہی عرصہ بعد سنہ 318 ہجری میں مقتدر عباسی نے موصل اور دیار ربیعہ کی حکومت ابو الیہیجاء کے بھائی ابو العلاء سعید بن حمدان کے سپرد کردی۔[53]۔[54]

ابوالعلاء نے رومیوں کے خلاف جنگ و مزاحمت کا آغاز کیا۔ سب سے پہلے سمیساط کو رومیوں کے محاصرے سے نکالا اور شہر ملطیہ اور سرحدی علاقوں کو مسخر کیا اور بڑی تعداد میں رومی قیدیوں کو لے کر واپس آئے۔[55] ابوالعلاء سنہ 323 ہجری میں اپنے بھتیجے ناصر الدولہ کے ساتھ اختلافات کے نتیجے میں ـ جو ان کے درمیان جنگ پر منتج ہوئے ـ مارے گئے۔[56]۔[57]۔[58]

ناصر الدولہ کی حکومت

ابوالعلاء کے بعد، ناصر الدولہ نے موصل اور اس کے اطراف میں اپنے خاندان کی حکومت کی بنیادیں مضبوط کرنے کا اہتمام کیا؛ ان کی حکومت کا زمانہ عباسیوں اور آل بویہ کے درمیان شدید کشمکش کا زمانہ تھا چنانچہ انھوں نے سنہ 356 ہجری تک حکومت کی؛ اس سال ان کے ایک بیٹے ابو تغلب نے انہیں قید کرلیا اور آخر عمر تک قید میں رہے۔ ان کا انتقال سنہ 358 ہجری میں ہوا۔[59]۔[60]۔ ابو تغلب کا یہ اقدام ناصر الدولہ کے بیٹوں میں شدید اختلاف اور حمدانیوں کے اتحاد کے پارہ پارہ ہونے کا باعث ہوا۔[61]۔[62] اگرچہ ابو تغلب نے بھائیوں کو مغلوب کیا لیکن ان کا پورا دور اندرونی تنازعات اور آل بویہ کے ساتھ جنگوں میں گذرا۔ وہ سنہ 369 میں آل جراح کے ساتھ جنگ میں مارے گئے۔

طاقت کے احیاء کی کوشش

سنہ 379 ہجری میں آل حمدان نے "جزیرہ" کے علاقے میں اپنی طاقت اور اثر و رسوخ کو لوٹانے کی اخری کوششیں کیں۔ اس سال ناصر الدولہ کے دو بیٹوں ابو طاہر ابراہیم اور ابو عبداللہ حسین موصل چلے گئے اور موصل کے عوام کی مدد سے وہاں کے کارگزار "خواشاذ" کے خلاف جنگ لڑی۔ انھوں نے اس جنگ میں خواشاذ کو شکست دی اور موصل پر غلبہ پانے میں کامیاب ہوئے۔[63]۔[64] سنہ 380 ہجری میں حمدانیوں نے بنی عُقَیل کی مدد سے دیار بکر کے کردوں کو شکست دی جو باذ/ باد بن دوستک[65] کی سرکردگی میں متحد ہوئے تھے۔ باذ اس جنگ میں مارا گیا۔[66]۔[67]

موصلی حمدانیوں کا زوال

باذ کے قتل کے بعد اس کے بھانجے ابو علی حسن بن مروان نے ناصر الدولہ کے بیٹوں پر مسلسل جنگیں مسلط کیں۔ ان جنگوں میں ابو عبداللہ ابن مروانوں کے ہاتھوں اسیر ہوئے لیکن کچھ عرصہ بعد رہا ہوگئے اور مصر چلے گئے اور فاطمیون نے انہیں حلب کا حاکم قرار دیا۔ دوسری طرف سے ابو طاہر ابراہیم بھی ـ جو ابن مروان کے ہاتھ سے چھوٹ گئے تھے ـ نصیبین کے علاقے میں بنو عقیل کے سربراہ محمد بن المسیب (ابوذوّاد)، کے ہاتھوں گرفتار ہوئے اور مارے گئے۔ ان کے قتل کے ساتھ ہی موصل میں آل حمدان کی حکومت زوال پذیر ہوئی۔[68]۔[69]

شام کے بنو حمدان

شام میں حمدانیوں (بنو حمدان یا آل حمدان) کی حکمرانی کی تاریخ سنہ 333 ہجری کی طرف پلٹتی ہے۔ اس سال ناصر الدولہ کے بھائی سیف الدولہ نے شام پر قبضہ کرنے کے لئے بھائی ناصر الدولہ سے مدد مانگی[70] انھوں نے ابتداء میں حلب پر قبضہ کیا اور رفتہ رفتہ شام کے دوسرے علاقوں کو اپنے قلمرو میں شامل کرلیا اور اپنی حکومت کو استحکام بخشا۔ سنہ 356 ہجری میں سیف الدولہ کی وفات کے بعد ان کے بیٹے ابو المعالی نے حاجب ابو الحسن قرغُوَیہ کے تمہیدی اقدامات کے نتیجے میں، حکومت سنبھالی۔[71] ان کی حکومت کے ابتدائی مہینے اندرونی حساب بےباق کرنے میں صرف ہوئے۔ سنہ 357 ہجری میں ابو المعالی اور ان کے ماموں اور مشہور شاعر ابو فراس حمدانی کے درمیان تنازعہ جنگ پر منتج ہوا جس کے نتیجے میں ابو فراس مارے گئے۔[72]۔[73]۔[74] کچھ عرصہ بعد قرغُوَیہ نے بکجور یا بجکور نامی غلام کی مدد سے بغاوت کی اور محرم سنہ 358 ہجری میں حلب پر مسلط ہوا۔[75]۔[76] ابو المعالی حران کی طرف چلے گئے جبکہ ان کے انصار و اعوان منتشر ہوئے اور ان کے چچیرے ابو تغلب سے جا ملے۔[77]۔[78]۔[79] تاہم ابو المعالی نے حلب کے قریب معرۃ النعمان کے کارگزار کی مدد سے لشکر فراہم کیا اور حلب کی طرف روانہ ہوئے۔ قرغویہ نے رومیوں سے مدد مانگی اور جب رومی لشکر کے پہنچنے کی خبر ابو المعالی کو ملی تو انھوں نے مجبور ہوکر حلب کا محاصرہ ختم کیا اور معرۃ النعمان واپس چلے گئے۔[80]۔[81]

بکجور، حلب کا حکمران

سنہ 364 ہجری میں بکجور نے قرغویہ کے ساتھ اقتدار کی رسہ کشی کے نتیجے میں اختلافات نمایاں ہونے کے بعد قرغویہ کو گرفتار کیا اور خود حلب کا حکمران بن بیٹھا۔[82] کچھ عرصہ، ابو المعالی ـ جو حِمص میں تھے ـ بنو کلاب کی ایک جماعت کے ہمراہ عازم حلب ہوئے اور حلب کا محاصرہ کیا جو کئی مہینے جاری رہا اور آخر کار حلب کے عوام کی مدد سے سنہ 365 یا 366 ہجری میں حلب کو فتح کیا لیکن اس کے باوجود شہر کا قلعہ بکجور کے قبضے میں تھا حتی کہ سنہ 365 میں حمص کی حکمرانی کے عوض ہتھیار ڈال دیئے۔[83]۔[84] ان ہی ایام میں ابو المعالی رومیوں اور فاطمیوں کا خطرہ محسوس کرکے (آل بویہ کے حکمران) عضد الدولہ دیلمی کے ساتھ متحد ہوئے اور عباسی خلیفہ الطائع ـ جو آل بویہ کے زیر اثر تھا ـ نے ابو المعالی کو سعد الدولہ کا لقب دیا۔[85]۔[86]

بکجور کا قتل

سنہ 372 ہجری میں سعد الدولہ اور بکجور کے تعلقات خراب ہوئے جس کے بعد بکجور فاطمیوں سے جا ملا اور فاطمی خلیفہ العزیز باللہ کی جانب سے دمشق کا والی مقرر ہوا۔ وہ سنہ 378 میں اپنی ظالمانہ روش کی بنا پر معزول ہوا۔[87]۔[88] دمشق کی حکمرانی کھو دینے کے بعد بکجور نے ایک بار پھر سعد الدولہ کا دامن تھاما اور درخواست کی ان کی اطاعت گزاری کے عوض حمص کی حکومت ایک بار پھر اس کے حوالے کردیں لیکن اس کی درخواست بےسود تھی۔ اس نے سنہ 381 ہجری میں ایک بار پھر فاطمی خلافت کے دروازے پر دستک دی اور فاطمیوں کی مدد سے سعد الدولہ کے خلاف میدان کارزار میں اترا۔ اس جنگ میں سعد الدولہ نے رومیوں نیز بعض عرب قبائل کی مدد سے بکجور کو شکست دی اور بکجور گرفتار ہوکر سعد الدولہ کے حکم پر مار دیا گیا۔[89]۔[90]۔[91]

سعدالدولہ کی وفات

سعد الدولہ نے 25 سال حکومت کی اور ان کی حکومت کو اس عرصے میں اندرونی کشمکش، حمدانی قلمرو میں کئی علاقوں پر رومیوں کے قبضے اور فاطمیوں کی طرف سے مسلسل خطرات کا سامنا رہا۔ ان کا سنہ 381 ہجری میں انتقال ہوا اور شہر رقہ میں مدفون ہوئے۔[92]۔[93]۔[94] ان کے بعد ان کی وصیت کے مطابق ـ اور ان کے حاجب "لؤلؤ کبیر" کی کوششوں سے ـ ان کے کمسن بیٹے سعید یا سعد نے حکومت سنبھالی اور انھوں نے سعید الدولہ کا لقب اختیار کیا۔[95]۔[96]۔[97]

حلب کا محاصرہ

سنہ 381، میں فاطمی خلیفہ العزیز باللّہ نے آل حمدان کی حکمرانی کے خاتمے کی غرض سے اپنے ایک سپہ سالار "منجوتکین یا بنجوتکین" کو ایک لشکر جرار دے کر دمشق اور پھر حلب روانہ کیا۔ منجوتکین نے سنہ 381 میں دمشق کو فتح کیا اور اور سنہ 383 میں[98] حلب کا محاصرہ کیا۔ سعید الدولہ اور لؤلؤ کبیر نے اپنے حلیف سلطان روم باسیلیوس سے مدد مانگی اور خود شہر میں قلعہ بند ہوئے۔ منجوتکین کو رومی لشکر کے حلب کے قریب پہنچنے کی خبر ملی تو ان کے ساتھ لڑ پڑا اور رومیوں کو شدید شکست دی اور انطاکیہ کے نواح تک رومیوں کا تعاقب کیا۔[99]۔[100]۔[101] اس کامیابی کے باوجو، منجوتکین ـ جو جنگ اور حلب کے محاصرے کے دوران تھک گیا تھا ـ نے ـ لؤلؤ کبیر ـ سے بڑی بڑی رشوتیں وصول کرنے والے العزیز باللہ کے وزیر، ابوالحسن مغربی سمیت ان کے بعض درباریوں، کے کہنے پر حلب کا محاصرہ ختم کیا اور دمشق واپس چلا گیا۔[102]

فاطمی خلیفہ، منجوتکین کے اس اقدام پر غضبناک ہوئے اور ابو الحسن مغربی کو ـ جو اس پسپائی کا ذمہ دار ـ معزول کیا اور سنہ 384 میں ایک بار پھر منجوتکین کو ایک لشکر جرار کی سرکردگی میں حلب کے محاصر کے لئے روانہ کیا۔[103]۔[104] شہر حلب 13 مہینوں تک محاصرے میں رہا اور آخر کار لؤلؤ کبیر نے ایک بار پھر [[باسیلیوس سے مدد کی درخواست کی اور اس بار رومی بادشاہ نے خود ایک بڑا لشکر لے کر تیزرفتاری سے حلب کا رخ کیا۔[105]۔[106] منجوتکین نے لؤلؤ کی دھمکیاں اور لشکر روم کی حلب عزیمت کی خبریں سن کر، حلب کا محاصرہ ختم کیا اور دمشق پلٹ گیا۔[107]۔[108]

شامی حمدانیوں کا زوال

سعید الدولہ سنہ 392 یا 393 ہجری میں وفات پاگئے۔ ایک روایت کے مطابق سعید الدولہ اور ان کی بیوی ان کے سسر اور حاجب لؤلؤ کبیر کی ہدایت پر قتل ہوئے۔[109] منقول ہے کہ سعید الدولہ کی وفات کے ساتھ ہی شام میں آل حمدان کی حکومت زوال پذیر ہوئی۔[110]۔[111] حالانکہ لؤلؤ کبیر نے اس سے قبل سعید الدولہ کے دو کمسن بیٹوں ابوالحسن علی و ابوالمعالی شریف کو باپ کے جانشینوں کے عنوان سے مقرر کروایا تھا لیکن مؤرخین کا کہنا ہے کہ اس کا یہ عمل بھی در حقیقت ایک موقع پرستانہ اقدام تھا چنانچہ لؤلؤ نے ـ جو خود ہی حکومت کا انتظام چلا رہا تھا ـ موقع پاکر ان دونوں کو سعید الدولہ کے دوسرے افراد خاندان کے ہمراہ مصر روانہ کیا۔ اس نے سنہ 394 ہجری میں اپنے آپ کو حلب کا حکمران قرار دیا اور اپنے بیٹے ابو نصر منصور کے ہمراہ ایک ظالمانہ اور استبدادی روش کے تحت حکمرانی کا آغاز کیا۔[112]

سنہ 399 ہجری میں لؤلؤ کا انتقال ہوا اور حلب کے عوام نے ـ جو ابو نصر منصور کے مظالم سے تنگ آگئے تھے ـ ابو الہیجاء بن سعد الدولہ سے مدد مانگی جنہوں نے روم میں پناہ لی تھی۔ وہ سنہ 400 ہجری میں حلب کی طرف روانہ ہوئے لیکن بنو کلاب سمیت اپنی سپاہ میں شامل بعض عرب قبائل کی غداری نیز ابو نصر منصور کی فاطمیوں سے مدد کی درخواست کی بنا پر ناکام رہے اور قسطنطنیہ واپس چلے گئے اور وہیں انتقال کرگئے۔[113] سنہ 402 ہجری میں ابو المعالی بن سعید الدولہ نے حمدانیوں کی حکومت کے احیاء کی غرض سے ـ اس بار فاطمی لشکر کی سرکردگی میں ـ حلب کا رخ کیا لیکن انہیں معرۃ النعمان کے علاقے میں علاقے کے عرب قبائل کی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا اور کوئی کامیابی حاصل کئے بغیر مصر واپس چلے گئے اور لمحۂ وفات تک وہیں مقیم رہے۔[114] ان کے انتقال کے بعد شام پر حمدانیوں کا تسلط بھی اختتام پذیر ہوا۔

حمدانیوں کے خارجہ تعلقات

بنو تغلب کے ساتھ تعلقات

حمدانی حکومت کی تاریخ بتاتی ہے کہ انھوں نے سیاسی روابط کو منفعت پسندانہ اور غیر مستحکم بنیادوں پر استوار ہونا چاہئے۔ ان کا سب سے پہلا اقدام سنہ 263 ہجری میں "ہارون الشاری کے ساتھ "حمدان بن حمدن" کا اتحاد تھا جو کافی عرصے تک جاری تھا اور حمدان نے نہ صرف اپنی عسکری قوت بلکہ اپنی تشہیری قوت کو بھی خوارج کے لئے استعمال کیا۔[115] لیکن چونکہ یہ اتحاد فریقین کے سیاسی مفادات کی بنیاد پر تشکیل پایا تھا اور اس کا سرچشمہ بنو تغلب کے استقلال پسندانہ (اور آزادی خواہانہ) رجحانات تھے (اور جیسا کہ مضمون کے آغاز میں اشارہ ہوا، بنو حمدان بھی بنو تغلب میں شمار ہوتے تھے)،[116] بہت حساس موقع پر ختم ہوا اور ان کے دوستانہ تعلقات ـ تقریبا دو عشروں تک قائم تھے ـ دشمنی میں بدل گئے اور حسین بن حمدان عباسیوں کی طرف سے ان کا قلع قمع کرنے میں مصروف ہوا۔

قرامطہ کے ساتھ تعلقات

جیسا کہ سطور بالا میں اشارہ ہوا حمدانیوں کے قرامطہ کے ساتھ بھی غیر مستحکم تعلقات تھے؛ حتی حسین بن حمدان نے قرمطیوں کے خلاف متعدد فوجی کاروائیاں انجام دیں، لیکن حمدانیوں اور فاطمیوں کے درمیان تعلقات کی کشیدگی کے بعد قرمطیوں کو ـ فاطمیوں کے خلاف ـ حمدانیوں کی سیاسی اور عسکری حمایت حاصل ہوئی۔[117]

عباسیوں کے ساتھ تعلقات

تعلقات میں یہ عدم استحکام حمدانیوں کے عباسیوں کے تعلقات میں زیادہ نمایاں تھا۔ خلافت کے مرکز کے حالات و رجحانات اور دربار پر مسلط امراء کے ساتھ حمدانیوں کے تعلقات، ان تعلقات کے تعین میں کردار ادا کرتے تھے۔ عباسی خلیفہ کے دربار میں حسین بن حمدان کی حیثیت بہت اہم اور مستحکم تھی، اور ناصر الدولہ کو عباسی دربار نے "امیر الامراء" کا منصب عطا کیا تھا لیکن اس کے باوجود حمدانیوں کی روش ہمیشہ شورش اور استقلال پسندی اور خودمختاری کی طرف مائل تھی۔[118]۔[119]۔[120] اس کے باوجود روم شرق کے ساتھ ملنے والی سرحدوں کی سلامتی کے تحفظ نیز کرد اور علاقہ "جزیرہ" کے عرب قبائل کی دست اندازی سے عباسی قلمرو کی اندرونی سلامتی کے تحفظ[121]۔[122] جیسے مسائل عباسیوں مجبور کررہے تھے کہ وہ حمدانیوں کے ساتھ روادارانہ طرز سلوک اپنائے رکھیں۔

فاطمیوں کے ساتھ تعلقات

حمدانی حکومت ہمیشہ فاطمی خلافت کے ساتھ تعاون اور تفاہم کے خواہاں تھے لیکن فاطمی نے کبھی بھی ان کی خواہش کا چنداں خیر مقدم نہیں کیا وہ ان پر بےاعتماد تھے۔[123] حقیقت یہ ہے کہ فاطمی حمدانیوں کے مخالف محاذ میں کھڑے تھے (جیسا کہ مندرجہ بالا سطور میں اشارہ ہوا)۔ اس کے باوجود کہ کبھی کبھار حمدانی سیاسی تقاضوں کی بنیاد پر فاطمیوں سے مدد کی درخواست کیا کرتے تھے۔[124]۔[125] یہ روش آل حمدان کی حکومت کے آخر تک برقرار رہی۔ گوکہ خاندان حمدان کے بعض پسماندگان نے ـ شام میں حمدانی حکومت کے زوال کے بعد ـ مصر میں قیام کیا اور پانچویں صدی ہجری کے نصف دوئم میں ان ہی افراد کی اولاد میں سے ایک فرد، مستنصر فاطمی کے دور خلافت میں فاطمی دربار میں صاحب اقتدار ہوا اور طویل عرصے تک امور حکومت پر مسلط رہا اور مصر کے اہم ترین کارگزار کے عنوان سے پہچانا گیا۔[126]

اسلامی معاشرے میں حمدانیوں کا کردار

حمدانیوں کا اہم ترین کردار رومیوں کی یلغار کے مقابلے میں اسلامی مملکت کا تحفظ تھا اور حمدانی اسلامی سرزمینوں میں رومیوں کی وسعت پسندی کے مقابل اہم ترین رکاوٹ سمجھے جاتے تھے۔ اسی بنا پر ان کے حکومتی منشور میں ـ جو کہ عباسیوں کی جانب سے نافذ کیا گیا تھا ـ جہاد حمدانی حکمران کا اہم ترین فریضہ تھا۔[127] سب سے زیادہ طویل المدت جہاد سیف الدولہ نے سنہ 324 تا 356 ہجری کے دوران انجام دیا اور سیف الدولہ اس دوران رومیوں کے لئے خوفناک سپنے کی صورت اختیار کرگئے تھے،[128] لیکن سنہ 356 ہجری میں سیف الدولہ کا انتقال ہوا تو رومیوں نے حمدانیوں کے اندرونی انتشار اور سیف الدولہ کے جانشینوں کی کمزوری سے فائدہ اٹھا کر اپنی ناکامیوں کی تلافیوں کا آغاز کیا۔ روم شرقی کے ساتھ حمدانیوں کا ربط و تعلق جنگ ہی تک محدود نہ تھا بلکہ ان کے درمیان کچھ عرصے تک مصالحت بھی برقرار رہی اور اس دوران ان کے درمیان نہ صرف سیاسی اور تجارتی لین دین جاری رہا بلکہ دینی مکالمات کا سلسلہ بھی جاری تھا۔.[129]

انتظامی اور حکومتی ڈھانچہ

حمدانیوں کی موصل اور حلب میں دو مستقل امارتیں تھیں۔ یہ دو امارتیں، مشترکہ بنیادوں پر استوار ہوئی تھیں اور ان کے درمیان قریبی سیاسی، ثقافتی اور معاشی تعلقات تھے لیکن ان دونوں امارتوں کے بندوبست کی روشیں مستقل اور الگ الگ تھیں۔[130] حمدانی امیر وسیع اختیارات کا مالک ہوتا تھا، وہ نماز جمعہ منعقد کرتا تھا، جنگی اور عسکری معاملات کا بندوبست کرتا تھا، مالیہ جمع کرتا تھا، شکایات سنتا تھا، سکوں کے وزن اور معیار نیز پارچہ بافی اور کپڑوں پر بنائے جانے والے نقوق کی نگرانی کرتا تھا اور سرکاری حکام اور افسران کا احتساب کرتا تھا۔[131]

آل حمدان کا قلمرو کئی علاقوں میں تقسیم ہوا تھا اور ہر علاقے کا ایک والی ہوتا تھا اور والیوں کا انتخاب خاندان کے افراد یا غلامان خاص میں سے ہوتا تھا۔ ان کا حکومتی ڈھانچہ عسکری تھا اور حمدانی امراء اتنے سیاسی نہ تھے جتنے کہ وہ جنگجو تھے اور ان کے تسلط کا وسیلہ ان کا عظیم لشکر تھا۔[132] وزارت (یا وزارت عظمی) کا ادارہ بیک بوقت مالی، دیوانی اور سفارتی امور میں کردار ادا کرتا تھا۔ اس کے باوجود وزراء کے اختیارات محدود ہوتے تھے اور وہ زيادہ تر حمدانی امیر کے زیر تسلط ہوتے تھے۔[133] آل حمدان کے مشہور وزراء میں ابواسحق قَراریطی، ممحمد بن فَہد اَزْدَی، ابو محمد فیاضی نیز خاندان مغربی کے بعض افراد کی طرف اشارہ کیا جاسکتا ہے۔[134]۔[135] احتساب کا ادارہ اور (محتسب کا منصب) حمدانی حکومت کے دیگر انتظامی اداروں اور مناصب میں سے تھا۔[136]

نظام عدل

آل حمدان کے نظام عدل کے بارے میں کہا گیا ہے کہ ناصر الدولہ خود شکایات سنتے اور حدود کے نفاذ کی نگرانی کرتے تھے[137] جبکہ دوسرے حمدانی امراء قاضیوں کی تقرری کا خاص اور سنجیدہ اہتمام کرتے تھے۔[138]۔[139] چونکہ ابتداء میں حمدانی عملداری میں سنی مسلمانوں کی اکثریت تھی لہذا قاضی عام طور پر حنفی سنیوں میں سے منتخب کیا جاتا تھا۔ (گوکہ بعد میں ان کی حدود میں شیعہ آبادی میں اضافہ ہوا۔ (دیکھیں: اسی مضمون کا ذیلی موضوع "مذہب")؛ اگرچہ حمدانیوں کے دور کے آخری برسوں شیعہ قضات کی تقرری کے رجحان میں اضافہ ہوا۔[140]

معاشی نظام

حمدانیوں کا معاشی نظام عام طور پر خراج، مالیہ اور جزیہ کی وصولی نیز اموال اور املاک کی ضبطی پر استوار تھا جس کی وجہ سے ان کے خزانے میں بےتحاشا دولت جمع ہوجایا کرتی تھی۔ یہ دولت عام طور پر سنگ دلانہ روشوں کا ثمرہ تھی جس کی مثالیں بارہا مآخذ میں نقل ہوئی ہیں۔[141]۔[142]۔[143]۔[144] بایں ہمہ کہا گیا ہے کہ ان کی یہ روش حمدانیوں کو درپیش شدید مالی ضرورت کا نتیجہ تھی جو ان کی فوج میں شامل افراد کی تنخواہیں ادا کرنے کی وجہ سے پیش آئی تھی۔[145] مشرق سے مغرب کی طرف بیشتر تجارتی راستے حمدانیوں کے زیر نگیں علاقوں سے گذرتے تھے چنانجہ ان کا قلمرو اس حوالے سے بھی بہت اہم تھا[146] اور حلب، موصل اور رقہ کے پر رونق بازاروں کی توصیف مسلمان جغرافیہ دانوں کی تالیفات میں بوفور دیکھنے کو ملتی ہے۔ اس کاروباری گردش میں زرعی مصنوعات، کپڑے، شیشے کی مصنوعات، کاغذ وغیرہ سمیت تمام مصنوعات کی برآمدات بہت اہم تھیں اور ہر شہر اپنی خاص مصنوعات کے لئے مشہور تھا۔[147]۔[148]

ہنر اور فن تعمیر

موصل کے حمدانی دیدہ زیب محلات[149] مساجد اور ـ بالخصوص شیعہ اکابرین کے لئے ـ مزارات کی تعمیر کا خاص اہتمام کرتے تھے۔ حلب میں مشہد الدکہ نامی زیارتگاہ ان ہی مزارات میں سے ہے جو "محسن بن حسین بن علی علیہما اسلام سے منسوب ہے۔[150]۔[151] اور وہ عظیم کاروانسرا جس کو چھٹی صدی ہجری میں ابن جبیر نے موصل میں دیکھا تھا [152] اور جس کو بعد میں جامع یونس نبیؑ میں بدل دیا گیا تھا۔[153] حلب کی عسکری تنصیبات اگرچہ حمدانیوں سے صدیاں قبل تعمیر ہوئی تھیں لیکن سیف الدولہ اور ان کے بیٹے اور جانشین سعد الدولہ نے شہر کی فصیل (اور شہر پناہ) کی تعمیر نو اور فصیل پر حفاظتی برجوں میں اضافے کا خاص اہتمام کیا نیز حلب کے مشہور قلعے کی تعمیر نو کی اور اس میں وقت کے تقاضوں کے مطابق تبدیلیوں کا انتظآم کیا۔[154] شاندار محلات ـ منجملہ قصر الحلبہ ـ کی تعمیر اور حلب کی جامع مسجد کی تعمیر نو اور تبدیلیاں،[155]۔[156] فن تعمیر کی طرف حمدانیوں کی خصوصی توجہ کی دیگر مثالیں ہیں۔

موسیقی

موسیقی حمدانی دور کے فن و ہنر کے نمایاں تریں شعبوں میں شمار ہوتی تھی اور اس کی وجہ، ہر دوسری چیز سے زیادہ، امراء اور اکابرین کی ثروتمندی اور عیاشانہ طرز زندگی تھی۔[157]۔[158]۔[159] مشہور ترین مسلم موسیقی دان الفارابی، کو سیف الدولہ کی حمایت حاصل تھی۔[160] ابوالفرج اصفہانی نے اپنی کتاب الاغانی سیف الدولہ بطور تحفہ پیش کی اور اس کا انتساب ان کے نام لکھا[161] اور فضل اللہ عمری نے اپنی کتاب مسالک الابصار[162] میں لکھا ہے کہ "سقّارہ" نامی موسیقی دان سیف الدولہ کے دربار میں موجود تھا۔ حمدانی دور کے شعراء کے کلام میں بارہا "عود و مِزہَر" جیسے آلات موسیقی اور "عودیات، آلات طرب اور مُعلِنَۃُ الأَوتار" جیسی اصطلاحات سے استفادہ کیا گیا ہے اور یہ سب اس دور میں موسیقی کے رواج اور فروغ کی تائید کرتا ہے۔[163]۔[164]

علم و ادب

آل حمدان کے دور میں ادب اس قدر غنی ہوچکا تھا کا فیصل سامر[165] نے حمدانی حکومت کو جنگ اور شاعری کی حکومت کا لقب دیا ہے۔ حمدانی امراء (منجملہ سیف الدولہ، ابو فراس اور ناصر الدولہ کے تین بیٹے) نہ صرف خود ادباء اور شعراء کے زمرے میں شمار ہوتے تھے[166]، بلکہ ان کا دربار بھی ایسے ادیبوں اور شاعروں کی پر رونق حلقہ بنا ہوا تھا جو مختلف النوع رزمیہ، بزمیہ اور معمولی شاعری نیز مدح گویہ اور مرثیہ گوئی جیسی اصناف میں ہنرنمائی کرتے تھے۔ ابو تغلب کا دربار اور بالخصوص سیف الدولہ کا دربار پر رونق ترین محفل شعر و ادب کے عنوان سے مشہور تھا۔[167] ابو فراس کے علاوہ "مُتَنَبّی، سَری رفاء، بَبَّغا، صنوبری اور کشاجم" حمدانی دربار کے مشہور شعراء سمجھے جاتے ہیں۔[168]۔[169]۔[170] ادب میں سیف الدولہ کا چرچا اس قدر زیادہ تھا کہ بدیع الزمان ہمدانی، اپنی کتاب ‌المقامۃ الحمدانیۃ ان کو یاد کرتے ہیں۔[171]

لغت اور نحو

لغت اور نحو میں ابوعلی فارسی، ابن جنّی، ابن خالویہ، جیسے اکابرین، خطابت میں ابن نباتہ فارقی، لغت اور نحو میں ابوبکر خوارزمی جیسے مشاہیر کو حمدانی امراء کی مادی اور معنوی و اخلاقی حمایت حاصل تھی۔[172]۔[173]۔[174] آل حمدان کی حکومت علوم (اور سانس) کے دیگر شعبوں کو بھی خاص قسم کی توجہ دیتے تھے اور ان کے فروغ میں کردار ادا کرتے تھے۔ یہاں تک کہ علوم عقلیہ (منطق و فلسفہ اور کلام)، علم طب اور فلکیات کے نامی گرامی علماء ـ منجملہ ابو نصر فارابی، عیسی رَقّی، جابر بن منصور سُکری، ابو الحسین بن کشکرایا اور ابوالقاسم تَنّوخی ان کی حکومت کی حدود میں سکونت پذیر تھے۔[175]۔[176]۔[177]

مذہب

اس کے باوجود کہ آل حمدان ہمیشہ سنی حکمرانوں کے حلیف تھے، ان کا اپنا مذہب اعلانیہ طور پر شیعہ اثنا عشری تھا۔[178] کہا گیا ہے کہ سیف الدولہ نے سنہ 351 ہجری سے حلب کی آبادی کے ڈھانچے کو اہل تشیع کے حق میں بدلنے کے لئے اقدامات کئے۔[179] انھوں نے اپنے اس مقصد کے لئے بعض شیعہ اکابرین ـ منجملہ عمروبن حَمِق خُزاعی ـ کے مقابر کی تعمیر کا اہتمام کیا[180] اور بعض سکوں پر پنجتن علیہم السلام کے اسماء کندہ کئے۔[181] ابن حوقل کی روایت کے مطابق اہو الہیجاء حمدانی نے امام علیؑ کے حرم کے گرد مستحکم حصار اور قبر علیؑ پر ایک عظیم قبہ تعمیر کیا، جس کا اندرونی حصہ بیش قیمت قالینوں سے سجایا گیا تھا۔[182] ابن عدیم[183] نے لکھا ہے کہ سعد الدولہ نے اذان میں "حی علی خیر العمل، اور محمد و علی خیر البشر" جیسے جملوں کا اضافہ کیا۔ حمدانیوں کے تشیع کے واضح ترین جلوے اس دور کے شعراء کی شاعری میں نمایاں ہیں۔ ابو فراس حمدانی نے بارہا اہل بیتؑ کی مدح اور ان کے دشمنوں کی مذمت کی ہے۔[184]۔[185] اور دو دوسرے شاعروں نے بھی ـ جن کے نام "محمد بن احمد بن حمدان المعروف بہ ابوبکر بَلَدی" اور "علی بن عبداللہ ناشئ الاصغر" ہیں ـ اہل بیت کی شان میں بہت سے اشعار کہے ہیں۔[186]۔[187] مشہور ادیب "ابوبکر خوارزمی" بھی اپنے شیعہ رجحانات کا بر ملا اظہار کرتے تھے[188] اور مشہور عالم نحو اور ناصر الدولہ کے بیٹوں کے استاد " ابوالحسن علي بن محمد عدوی شمشاطي شمشاطی"، بھی شیعہ رجحانات رکھتے تھے[189] بعض مآخذ میں منقول ہے کہ ابو الحسن علی بن محمد عدوی شمشاطی (زندہ بسال 377 ہجری) اپنے زمانے کے شیعہ علماء، نحویین اور مفسرین میں سے تھے۔ وہ ناصر الدولہ کے بیٹوں ابو تغلب اور ان کے بھائی کے استاد تھے۔[190] بایں حال، حمدانی حکمران مذہبی مسامحت اور رواداری کی روش پر کاربند تھے اور [ان کی حدود میں نہ صرف مسلم فرقوں کو مکمل آزادی حاصل تھی بلکہ] ان کے زمانے میں موصل کے علاقوں میں لاتعداد گرجاگھروں کی موجودگی اس حقیقت کی عکاس ہے کہ حمدانی اہل کتاب کے لئے بھی مکمل آزادی عمل کے قائل تھے۔[191]

پاورقی حاشیے

  1. ابن ظافر ازدی، اخبار الدولة الحمدانیة، ص11۔
  2. ابن خلّکان، وفیات الاعیان، ج2، ص114۔
  3. مسعودی، مروج الذهب، ج5، ص151۔
  4. امین العاملی، اعیان الشیعه، ج6، ص227: حمدان بن حمدون بن حارث بن منصوربن لقمان۔
  5. صفدی، الوافي بالوفيات، ج12، ص89۔
  6. ابن حائک، صفة جزیرة العرب، ص246: ابن حائک کہتے ہیں کہ حمدانی بنو تغلب کے موالی تھے۔
  7. ابن اثیر، الکامل فی التاریخ، ج7، ص188۔
  8. ابن اثیر، الکامل ج7، ص270ـ271۔
  9. ابن خلدون، تاریخ، ج3، ص411۔
  10. ابن اثیر، الکامل، ج7، ص333ـ334۔
  11. طبری، تاریخ الامم والملوک، ج9، ص553
  12. طبری، تاریخ الامم والملوک، ج9، ص587۔
  13. ابن اثیر، الکامل، ج7، ص362۔
  14. ابن اثیر، الکامل في التاریخ، ج7، ص419، 453ـ454۔
  15. ابن خلدون، تاریخ ابن خلدون، ج3، ص420ـ421۔
  16. ابن تغری بردی، النجوم الزاهرة فی ملوک مصر و القاهرة، ج3، ص67۔
  17. طبری، تاریخ ج10، ص38ـ40، 43ـ44۔
  18. کتاب العیون و الحدائق، ج4، قسم 1، ص78ـ81۔
  19. ۔ابن جوزی، ج12، ص339ـ340۔
  20. ان کے دوسرے بیٹوں کے لئے رجوع کریں: اخبار الدولة الحمدانیة، ص12 اور پاورقی حاشیہ۔
  21. فیصل سامر، الدولة الحمدانیة، ج1، ص44۔
  22. شکعه، سیف الدولة الحمدانی: مملکة السیف و دولة الاقلام، ص35ـ43۔
  23. ابن اثیر، الکامل، ج7، ص538۔
  24. ابن اثیر، الکامل، ج7، ص538ـ539۔
  25. ابن خلدون، تاریخ، ج3، ص444ـ445۔
  26. صولی، اخبارالسنوات 295ـ315ھ‍، ص92۔
  27. ابن ظافر ازدی،اخبار الدولة الحمدانیة، ص12۔
  28. کبیسی، عصر الخلیفة المقتدر باللّه، ص521ـ523۔
  29. احمد عدوان، الدولة الحمدانیة، ص111ـ 112۔
  30. مسکویه، تجارب الأمم وتعاقب الهمم، ج5، ص92، 108۔
  31. نیز ابن ظافر ازدی،اخبار الدولة الحمدانیة، ص13۔
  32. صولی، اخبارالسنوات 295ـ315ھ‍، ص123۔
  33. قرطبی، صلة تاریخ الطبری، ص72۔
  34. مزید معلومات کے لئے رجوع کریں: العیون والحدائق ...، ج4، قسم 1، ص200ـ202۔
  35. ازدی، اخبار الدولة الحمدانیة، ج2، ص206۔
  36. مسکویه، تجارب الأمم و...، ج5، ص131۔
  37. کتاب العیون والحدائق، العیون والحدائق ...، ج4، قسم 1، ص207۔
  38. همدانی، تکملة تاریخ الطبری، ص215-217۔
  39. صابی، هلال بن مُحَسِّن الوزراء، او، تحفة الامراء فی تاریخ الوزراء، ص57۔
  40. ابن جوزی، المنتظم ...، ج13، ص199، 239ـ240۔
  41. ابن کثیر، البدایة والنهایة ج11، ص149ـ150۔
  42. ابن تغری بردی، النجوم الزاهرة...، ج3، ص211ـ212۔
  43. ابن اثیر، الکامل، ج8، ص163۔
  44. ابن خلدون، تاریخ، ج3، ص484: سنہ 314۔
  45. صولی، اخبارالسنوات 295ـ315ھ‍، ص157ـ158۔
  46. مسکویه، تجارب الأمم و...، ج5، ص250ـ 251۔
  47. ابن اثیر، الکامل، ج8، ص171ـ173۔
  48. قرطبی، صلة تاریخ الطبری، ص121ـ124۔
  49. مسکویه، تجارب الأمم و...، ج5، ص269ـ275۔
  50. قس حمزه اصفهانی، ص155ـ 156۔
  51. العیون و الحدائق، العیون والحدائق ...، ج4، قسم 1، ص242، 244ـ 247۔
  52. ابن اثیر، الکامل، ج8، ص214، 217۔
  53. همدانی، تکملة تاریخ الطبری،ص271۔
  54. ابن اثیر، الکامل، ج8، ص217۔
  55. ابن اثیر، الکامل، ج8، ص234ـ235۔
  56. ابن اثیر، الکامل، ج8، ص309۔
  57. ابوالفداء، ج1، جزء2، ص83۔
  58. قس ابن خلدون، تاریخ، ج3، ص497۔
  59. مسکویه، تجارب الأمم و...، ج6، ص277ـ278، 295۔
  60. ابن ظافر ازدی، اخبار الدولة الحمدانیة، ص19ـ20۔
  61. مسکویه، تجارب الأمم و...، ج6، ص277ـ278۔
  62. نیز دیکھیں: فیصل سامر، الدولة الحمدانیة، ج1، ص272ـ275۔
  63. ابوشجاع روذراوری، ص174ـ175۔
  64. نیز ابن ازرق، ص57۔
  65. ابوعبداللّه حسین بن دوشتک الملقب بہ باد؛ ابن خلدون، تاریخ، ج3، ص537۔
  66. ابوشجاع روذراوری، ص176ـ178۔
  67. ابن اثیر، الکامل، ج9، ص70ـ71۔
  68. ابن اثیر، الکامل، ج9، ص72۔
  69. احمد عدوان، الدولة الحمدانیة، ص208۔
  70. ابن عدیم، زبدة الحلب من تاریخ حلب، ج1، ص111ـ112۔
  71. ابن ظافر ازدی، اخبار الدولة الحمدانیة، ص47۔
  72. ابن ظافر ازدی، اخبار الدولة الحمدانیة، ص48۔
  73. ابن عدیم، زبدة الحلب...، ج1، ص156ـ157۔
  74. ذهبی، حوادث و وفیات 351ـ380ه.، ص31۔
  75. ابن عدیم، زبدة الحلب...، ج1، ص160ـ161۔
  76. قس ابن ظافر ازدی،اخبار الدولة الحمدانیة، ص48۔
  77. ابن ظافر ازدی، اخبار الدولة الحمدانیة، ص48۔
  78. ابن اثیر، الکامل، ج8، ص597ـ 598۔
  79. ابن عدیم، زبدة الحلب...، ج1، ص160۔
  80. ابن عدیم، زبدة الحلب...، ج1، ص161، 163، 169۔
  81. ابن ظافر ازدی، اخبار الدولة الحمدانیة، ص49۔
  82. ابن عدیم، زبدة الحلب...، ج1، ص170۔
  83. ابن اثیر، الکامل، ج8، ص683۔
  84. ابن عدیم، زبدة الحلب...، ج1، ص170ـ172۔
  85. انطاکی، تاریخ الانطاکی، ص187۔
  86. ابن عدیم، زبدة الحلب...، ج1، ص172ـ173۔
  87. ابن اثیر، الکامل، ج9، ص17ـ18، 58۔
  88. ابن عدیم، زبدة الحلب...، ج1، ص177ـ 178۔
  89. ابوشجاع روذراوری، ذیل کتاب تجارب الامم، ص209ـ214۔
  90. ابن ظافر ازدی، اخبار الدولة الحمدانیة، ص51 ـ53۔
  91. ابن عدیم، زبدة الحلب...، ج1، ص178ـ179۔
  92. ابن ظافر ازدی، اخبار الدولة الحمدانیة، ص54۔
  93. ابن اثیر، الکامل، ج9، ص88۔
  94. ابن عدیم، زبدة الحلب...، ج1، ص180ـ181۔
  95. ابوشجاع روذراوری، ذیل کتاب تجارب الامم، ص217۔
  96. ابن ظافر ازدی، اخبار الدولة الحمدانیة، ص55۔
  97. ابن عدیم، زبدة الحلب...، ج1، ص185۔
  98. ابن عدیم، زبدة الحلب...، ج1، ص186: 382۔
  99. ابوشجاع روذراوری، ذیل کتاب تجارب الامم، ص217ـ 219۔
  100. ابن ظافر ازدی، اخبار الدولة الحمدانیة، ص55ـ56۔
  101. ابن عدیم، زبدة الحلب...، ج1، ص186ـ 188۔
  102. ابوشجاع روذراوری، ذیل کتاب تجارب الامم، ص219۔
  103. ابوشجاع روذراوری، ذیل کتاب تجارب الامم، ص219ـ220۔
  104. ابن اثیر، الکامل، ج9، ص89۔
  105. ابن اثیر، الکامل، ج9، ص90۔
  106. ابن عدیم، زبدة الحلب...، ج1، ص189ـ 191۔
  107. ابوشجاع روذراوری، ذیل کتاب تجارب الامم، ص221۔
  108. ابن ظافر ازدی، اخبار الدولة الحمدانیة، ص57۔
  109. ابن عدیم، زبدة الحلب...، ج1، ص192۔
  110. ابن ظافر ازدی، اخبار الدولة الحمدانیة، ص58۔
  111. ابن خلّکان، وفیات الاعیان، ج3، ص406۔
  112. ابن عدیم، زبدة الحلب...، ج1، ص195۔
  113. ابن عدیم، زبدة الحلب...، ج1، ص198ـ200۔
  114. ابن عدیم، زبدة الحلب...، ج1، ص200۔
  115. طبری، تاریخ، ج10، ص37۔
  116. فیصل سامر، الدولة الحمدانیة، ج1، ص84ـ85۔
  117. ابن تغری بردی، النجوم الزاهرة، ج3، ص336۔
  118. بطور مثال: قرطبی، صلة تاریخ الطبری، ص44۔
  119. مسکویه، تجارب الأمم و...، ج6، ص207۔
  120. ابن اثیر، الکامل، ج8، ص92ـ93۔
  121. برای نمونه صابی، هلال بن مُحَسِّن الوزراء، ص185، 192ـ193۔
  122. نیز فیصل سامر، الدولة الحمدانیة، ج1، ص309۔
  123. مَقریزی، ج1، ص352۔
  124. برای نمونه مسکویه، تجارب الأمم و...، ج6، ص440ـ441، 449ـ450۔
  125. ابن قلانسی، تاریخ دمشق، ص50۔
  126. ابن تغری بردی، النجوم الزاهرة...، ج5، ص13ـ15، 21ـ22، 90ـ91۔
  127. صابی، هلال بن مُحَسِّن الوزراء،ص192ـ194۔
  128. فیصل سامر، الدولة الحمدانیة، ج2، ص152ـ190۔
  129. فیصل سامر، وہی ماخذ، ج2، ص202۔
  130. فیصل سامر، وہی ماخذ، ج1، ص311ـ 313۔
  131. صابی، الوزراء، ص185۔
  132. فیصل سامر، الدولة الحمدانیة، ج1، ص319۔
  133. فیصل سامر، وہی ماخذ، ج2، ص228۔
  134. مسکویه، تجارب الأمم و...، ج6، ص214۔
  135. ابن عدیم، زبدة الحلب...، ج1، ص152۔
  136. صابی، الوزراء، ص204۔
  137. مسکویه، تجارب الأمم و...، ج6، ص70۔
  138. مسکویه، وہی ماخذ، ج6، ص437ـ438۔
  139. ابن عدیم، زبدة الحلب...، ج1، ص112، 131، 152، 170، 181، 196، 199۔
  140. فیصل سامر، الدولة الحمدانیة، ج2، ص228ـ229، 232۔
  141. ابن خرداذبه، المسالک والممالک، ص94۔
  142. ابن حوقل، صورة الارض، ص211ـ214، 220۔
  143. ابوشجاع روذراوری، ص214ـ215۔
  144. ابن عدیم، زبدة الحلب...، ج1، ص112۔
  145. فیصل سامر، الدولة الحمدانیة، ج2، ص235ـ 236۔
  146. صابی، الوزراء، ص194ـ196۔
  147. ابن حوقل، صورة الارض، ص214ـ 215، 220ـ221، 227۔
  148. مقدسی، اَلْبَدْءُ وَ التّاریخ، ص138، 141، 145، 181۔
  149. فیصل سامر، الدولة الحمدانیة، ج1، ص350ـ351۔
  150. مقدسی، اَلْبَدْءُ وَالتّاریخ، ص146۔
  151. ابن شحنه، الدرالمنتخب فی تاریخ مملکة حلب، ص85ـ86۔
  152. ابن جبیر، رحلة ابن جبیر، ص189ـ190۔
  153. فیصل سامر، الدولة الحمدانیة، ج1، ص354۔
  154. ابن شداد، ج1، قسم 1، ص60، 81۔
  155. ابن عدیم، زبدة الحلب...، ج1، ص119۔
  156. ابن شداد، ج1، قسم 1، ص93، 104ـ 105۔
  157. کشاجم، دیوان، ص36ـ37، 70ـ71، 73، 107ـ108۔
  158. شابشتی، الدیارات، ص261ـ262۔
  159. ابن فضل اللّه عمری، مسالک الابصار فی ممالک الامصار، ج1، ص323۔
  160. ابن خلّکان، وفیات الاعیان، ج5، ص155ـ156۔
  161. یاقوت حموی، ج4، ص1707ـ1708۔
  162. فضل اللہ عمری، مسالک الابصار... سفر1، ص379ـ380۔
  163. برای نمونه کشاجم، دیوان، ص56، 65، 71ـ73، 83، 107ـ108۔
  164. وأواء دمشقی، دیوان، ص49۔
  165. فیصل سامر، الدولة الحمدانیة، ج2، ص265۔
  166. ثعالبی، یتیمة الدهر، ج1، ص53ـ119۔
  167. ثعالبی، وہی ماخذ، ج1، ص35ـ36۔
  168. تنوخی، نشوار المحاضرة و اخبار المذاکرة، ج1، ص103۔
  169. شابشتی، الدیارات، ص260۔
  170. ثعالبی، یتیمة الدهر، ج1، ص57، 139ـ140، 293ـ294، ج2، ص218ـ222۔
  171. همدانی، بدیع الزمان، ‌المقامة الحمدانیة، ص150ـ156۔
  172. ثعالبی، یتیمة الدهر، ج1، ص88، 137، ج4، ص223ـ227۔
  173. یاقوت حموی، ج3، ص1030ـ1031۔
  174. ابن خلّکان، وفیات الاعیان، ج2، ص80، 178، ج3، ص156، 246ـ248۔
  175. قفطی، تاریخ الحکماء، ص403، 429۔
  176. ابن ابی اصیبعه، عیون الانباء فی طبقات الاطباء، ص609ـ 610، 613ـ614۔
  177. ابن خلّکان، وفیات الاعیان، ج3، ص366، ج5، ص153۔
  178. ابوفراس حمدانی، ص337، 351ـ352۔
  179. طباخ، اعلام النبلاء بتاریخ حلب الشهباء، ج1، ص253۔
  180. خطیب عمری، منیة الادباء فی تاریخ الموصل الحدباء، ص146۔
  181. ابن ظافر ازدی، اخبار الدولة الحمدانیة، ص37۔
  182. ابن حوقل، صورة الارض، ص240۔
  183. ابن عدیم، زبدة الحلب...، ج1، ص172۔
  184. بطور مثال: ابو فراس حمدانی، دیوان، ص300ـ304، 337، 346ـ347، 351ـ352۔
  185. نیز کشاجم، دیوان، ص28ـ31، 108ـ114۔
  186. ابن خلّکان، وفیات الاعیان، ج3، ص369۔
  187. فیصل سامر، الدولة الحمدانیة، ج1، ص364۔
  188. بطور نمونہ: ، رسائل ابی بکر الخوارزمی، ص160ـ 172۔
  189. یاقوت حموی، ج4، ص1907ـ1908۔
  190. آقا بزرگ الطهرانی، الذريعة الی تصانیف الشیعة، ج16 ص48۔
  191. بطور مثال: شابشتی، الدیارات، ص176، 184ـ185، 218، 300ـ301۔


مآخذ

  • آقا بزرگ الطهرانی، محمد محسن، الذريعة الی تصانیف الشیعة،
  • ابن ابی اصیبعه، عیون الانباء فی طبقات الاطباء، چاپ نزار رضا، بیروت (1965ع‍).
  • ابن اثیر، علی بن محمد، الكامل في التاريخ۔
  • ابن ازرق، احمدبن‌علی بن‌الازرق، تاریخ الفارقی، چاپ بدوی عبداللطیف عوض، بیروت 1974عیسوی.
  • ابن تغری بردی، النجوم الزاهرة فی ملوک مصر و القاهرة، قاهره (1383) ـ 1392ہجری قمری/ (1963) ـ 1972عیسوی۔
  • ابن جوزی، المنتظم فی تاریخ الملوک و الامم، چاپ محمد عبدالقادر عطا و مصطفی عبدالقادر عطا، بیروت 1412ہجری قمری/1992عیسوی.
  • ابن حائک، صفة جزیرة العرب، چاپ محمدبن علی اکوع، بغداد 1989عیسوی.
  • ابن‌خلدون، تاریخ ابن خلدون.
  • ابن ظافر ازدی، اخبار الدولة الحمدانیة بالموصل و حلب و دیاربکر و الثغور، چاپ تمیمه رواف، (بی‌جا: بی‌تا.، بی‌تا.).
  • ابن کثیر، البدایة والنهایة فی التاریخ، (قاهره) 1351ـ1358ہجری قمری۔
  • اسماعیل بن علی ابوالفداء، المختصر فی اخبار البشر: تاریخ ابی الفداء، بیروت: دارالمعرفة للطباعة و النشر، بی‌تا.
  • ابوشجاع روذراوری، ذیل کتاب تجارب الامم، چاپ آمدروز، مصر 1334ہجری قمری/1916؛ چاپ افست بغداد، بی‌تا.
  • احمد عدوان، الدولة الحمدانیة، (لیبی) 1981عیسوی۔
  • یزیدبن محمد ازدی، تاریخ الموصل، چاپ احمد عبداللّه محمود، بیروت 1427ہجری قمری/2006عیسوی۔
  • امین العاملی، سید محسن، أعیان الشیعه۔
  • یحیی بن سعید انطاکی، تاریخ الانطاکی، المعروف بصلة تاریخ اوتیخا، چاپ عمر عبدالسلام تدمری، طرابلس 1990عیسوی۔
  • حمزة بن حسن حمزه اصفهانی، تاریخ سنی ملوک الارض و الانبیاء علیهم الصلاة والسلام، بیروت: دارمکتبة الحیاة، بی‌تا.
  • محمدبن احمد ذهبی، تاریخ الاسلام و وفیات المشاهیر و الاعلام، چاپ عمر عبدالسلام تدمری، حوادث و وفیات 351ـ380ھ‍، بیروت 1409ہجری قمری/1989 عیسوی۔
  • مصطفی شکعه، سیف الدولة الحمدانی: مملکة السیف و دولة الاقلام، قاهره 1420ہجری قمری/2000 عیسوی۔
  • صابی، هلال بن مُحَسِّن، الوزراء، او، تحفة الامراء فی تاریخ الوزراء، چاپ عبدالستار احمد فراج، (قاهره) 1958 عیسوی۔
  • صابی، ابراهیم بن هلال، المختار من رسائل ابی اسحق ابراهیم بن هلال ابن زهرون الصابی، چاپ شکیب ارسلان، بیروت، بی‌تا.
  • الصفدي، صلاح الدين خليل بن أيبك، الوافي بالوفيات، الناشر: دار إحياء التراث العربي، • سنة النشر: 2000عیسوی۔
  • محمدبن یحیی صولی، ما لَمْ ینشر من "‌اوراق‌" الصولی: اخبارالسنوات 295ـ315ھ‍، چاپ هلال ناجی، بیروت 1420ہجری قمری/2000 عیسوی۔
  • طبری، تاریخ الامم والملوک، (بیروت).
  • فیصل سامر، الدولة الحمدانیة فی الموصل و حلب، بغداد 1970ـ1973 عیسوی۔
  • عریب بن سعد قرطبی، صلة تاریخ الطبری، در ذیول تاریخ الطبری، چاپ محمد ابوالفضل ابراهیم، قاهره: دارالمعارف، 1977 عیسوی۔
  • حمدان کبیسی، عصر الخلیفة المقتدر باللّه: 295ـ320ہجری قمری/ 907ـ932م، دراسة فی احوال العراق الداخلیة، نجف 1394ہجری قمری/1974 عیسوی۔
  • مؤلف مجہول، کتاب العیون والحدائق فی اخبار الحقائق، ج4، قسم 1، چاپ عمر سعیدی، دمشق 1972 عیسوی۔
  • مسعودی، علی بن حسین، مروج الذهب (بیروت).
  • مسکویه، احمد بن محمد، تجارب الأمم وتعاقب الهمم۔
  • محمدبن عبدالملک همدانی، تکملة تاریخ الطبری، در ذیول تاریخ الطبری۔
  • ابن جبیر، اابوالحسين، محمد بن احمد، رحلة ابن جبیر، بیروت 1986 عیسوی۔
  • ابن حوقل، محمد بن علی بن حوقل، صورة الارض.
  • ابن خرداذبه، ابوالقاسم عُبیدالله بن عبدالله، المسالک والممالک۔
  • ابن خلّکان، احمد بن شهاب الدین محمد (یا بهاءالدین) بن ابراهیم بن ابی بکر، وفیات الاعیان۔
  • ابن شحنه، الدرالمنتخب فی تاریخ مملکة حلب، چاپ یوسف الیان سرکیس، بیروت 1909 عیسوی۔
  • ابن شداد، الاعلاق الخطیرة فی ذکر امراء الشام و الجزیرة، ج1، قسم 1، چاپ یحیی زکریا عبّاره، دمشق 1991 عیسوی۔
  • ابن ظافر ازدی، اخبار الدولة الحمدانیة بالموصل و حلب و دیار بکر و الثغور، چاپ تمیمه رواف، (بی‌جا: بی‌نا.، بی‌تا.).
  • ابن عدیم، زبدة الحلب من تاریخ حلب، چاپ سامی دهان، دمشق 1951ـ1968 عیسوی۔
  • ابن فضل اللّه عمری، مسالک الابصار فی ممالک الامصار، سفر1، چاپ عبداللّه سریحی، ابوظبی 1424ہجری قمری/2003 عیسوی۔
  • ابن قلانسی، تاریخ دمشق، چاپ سهیل زکار، دمشق 1403ہجری قمری/1983 عیسوی۔
  • ابوفراس حمدانی، دیوان، شرح خلیل دویهی، بیروت 1420ہجری قمری/1999 عیسوی۔
  • احمدبن حسین بدیع الزمان همدانی، مقامات ابی الفضل بدیع الزمان الهمدانی، و شرحها لمحمد عبده، بیروت 1889 عیسوی۔
  • محسن بن علی تنوخی، نشوار المحاضرة و اخبار المذاکرة، چاپ عبود شالجی، بیروت 1391ـ1393ہجری قمری/ 1972ـ1973 عیسوی۔
  • عبدالملک بن محمد ثعالبی، یتیمة الدهر، چاپ مفید محمد قمیحه، بیروت 1403ہجری قمری/1983 عیسوی۔
  • یاسین بن خیراللّه خطیب عمری، منیة الادباء فی تاریخ الموصل الحدباء، چاپ سعید دیوه جی، موصل 1374ہجری قمری/1955 عیسوی۔
  • محمدبن عباس خوارزمی، رسائل ابی بکر الخوارزمی، بیروت 1970 عیسوی۔
  • علی بن محمد شابشتی، الدیارات، چاپ کورکیس عوّاد، بیروت 1406ہجری قمری/1986 عیسوی۔
  • محمد راغب طباخ، اعلام النبلاء بتاریخ حلب الشهباء، چاپ محمد کمال، حلب 1408ـ1409ہجری قمری/ 1988ـ1989 عیسوی۔
  • طبری، تاریخ الامم والملوک، (بیروت).
  • فیصل سامر، الدولة الحمدانیة فی الموصل و حلب، بغداد 1970ـ1973 عیسوی۔
  • علی بن یوسف قفطی، تاریخ الحکماء، و هو مختصر الزوزنی المسمی بالمنتخبات الملتقطات من کتاب اخبار العلماء باخبار الحکماء، چاپ یولیوس لیپرت، لایپزیگ 1903 عیسوی۔
  • محمودبن حسین کشاجم، دیوان، چاپ خیریه محمد محفوظ، بغداد 1390ہجری قمری/1970 عیسوی۔
  • مقدسی، مطهر بن طاهر اَلْبَدْءُ وَ التّاریخ‏.
  • احمدبن علی مَقریزی، کتاب المواعظ و الاعتبار بذکر الخطط و الآثار، المعروف بالخطط المقریزیة، بولاق 1270ھ‍، چاپ افست بغداد (1970ع‍).
  • محمدبن احمد وأواء دمشقی، دیوان، چاپ سامی دهان، بیروت 1414ہجری قمری/ 1993 عیسوی۔
  • یاقوت حموی، معجم الادباء، چاپ احسان عباس، بیروت 1993 عیسوی۔
  • O. Codrington, A manual of Musalman numismatics, London 1904;
  • Stanley Lane-Poole, Catalogue of oriental coins in the British Museum, London 1875-1890, repr. Bologna 1967.

بیرونی ربط

مضمون کا ماخذ: دانشنامہ جہان اسلام