کوہ ثور

ویکی شیعہ سے
نظرثانی بتاریخ 18:47, 25 مئی 2018 از S.J.Mosavi (تبادلۂ خیال | شراکتیں)
(فرق) → پرانا نسخہ | حالیہ نظرثانی (فرق) | →اگلا اعادہ (فرق)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
غار ثور

کوہ ثَور شہر مکہ کا مشہور پہاڑ ہے۔ اس پہاڑ کی وجۂ شہرت اس میں واقع وہ غار ہے جہاں آغازِ ہجرت میں لیلۃ المبیت کو رسول اللہ(ص) نے مشرکین کے ہاتھوں سے بچنے کی غرض سے پناہ لی۔ مشرکین غار کے دہانے تک آئے مگر اللہ کی طرف کی غیبی امداد کے بدولت، آپ(ص) کو نہ پاسکے۔

کوہ ثور

کوہ ثور مکہ اور مسجد الحرام کے جنوب[1][2][3] میں، یمن کے راستے میں واقع ہے۔[4]

بعض مؤلفین نے اس کو "جبل اطخل" یا "ثور اطخل" کا نام دیا ہے، جبکہ دوسروں نے اس پہاڑ کو "ابو ثور" کا نام دیا ہے جو صحیح نظر نہیں آتا۔[5][6][7] بعید از قیاس نہیں ہے کہ اس پہاڑ کو ثور [بمعنی بیل] کا نام اس وجہ سے ہو کہ اس کی ہیئت ایک بیل کی سی ہے جس نے مکہ کے جنوب کی طرف رخ کیا ہے۔[8]

قدیم الایام میں لوگ دو کوہستانی راستوں سے کوہ ثور کی طرف جاتے تھے جن میں سے ایک راستہ دشوارگزار مگر مختصر جبکہ دوسرا آسان مگر طویل تھا۔ مکہ سے کوہ ثور تک کی مسافت راستے کے انتخاب پر منحصر تھی؛ اسی بنا پر اس راستے کو اختلاف کے ساتھ ایک فرسخ،[9] دو یا تین میل،[10][11] اور مکہ سے دو گھنٹوں کا راستہ[12] بیان کیا گیا ہے۔ آج مسجد الحرام سے کوہ ثور کا راستہ تین سے چار کلومیٹر ہے۔[13]

غار ثور

غار ثور پہاڑ کی چوٹی پر واقع ہے اور یہاں سے اطراف کی پہاڑوں کی نگرانی کی جاسکی ہے۔ ایک کھوکھلی چٹان یا پتھر کی مانند ہے اور الٹی کشتی سے مشابہت رکھتی ہے۔ زمین سے اس کی اونچائی 500 میٹر سے کچھ اوپر ہے اور پہاڑ پر چڑھنے کا راستہ بہت دشوار ہے جس کے لئے بہت زیادہ کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔[14][15][16]

غار ثور میں داخلے کے لئے دو راستے یا دراڑیں ہیں، ایک مغرب کی جانب ہے جو بہت تنگ ہے اور تقریبا غار کے فرش سے چسپاں ہے اور دوسرا مشرقی راستہ ہے جو کسی حد تک چوڑا ہے اور دعوی کیا گیا ہے کہ یہ راستہ رسول اللہ(ص) کے داخلے کے بعد اعجاز الہی کے نتیجے میں معرض وجود میں آیا ہے۔[17][18][19][20]

غار کی لمبائی 18 بالشت (Span)، اور درمیانی حصے کی چوڑائی 11 بالشت ہے۔[21] غار کی اندرونی اونچائی ایک انسان کے قد کے برابر اور پوری غار کا اندرونی رقبہ اڑھائی میٹر مربع ہے۔[22][23]

کچھ مؤرخین کے نزدیک غار ثور ـ جہاں رسول اللہ(ص) نے پناہ لی تھی ـ غار حراء کے ساتھ ـ جہاں رسول اللہ(ص) پر پہلی وحی نازل ہوئی ـ مشتبہ ہوئی ہے۔[24][25][26][27]

رسول خدا(ص) کا غار ثور میں پناہ لینا

خداوند متعال نے پیغمبر(ص) کو مشرکین کی طرف سے قتل کی سازش سے آگاہ فرمایا تو طے پایا کہ علی(ع) آپ(ص) کے بستر پر لیٹیں اور آپ(ص) خود رات کے وقت مکہ کو يثرب کی جانب، چھوڑ دیں۔ (دیکھئے: لیلۃ المبیترسول خدا(ص) مشرکین مکہ کی دسترس سے نکلنے کے لئے ـ جو آپ(ص) کی تلاش میں تھے ـ ابوبکر کو ساتھ لے کر غار ثور میں روپوش ہوئے اور تین دن اور تین رات وہیں مقیم رہے۔ قرآن کریم نے بھی مشرکین کی سازش، پیغمبراکرم(ص) کے مکہ میں اپنے گھر سے نکلنے اور جبل ثور میں واقع اس غار میں پناہ لینے کی طرف اشارہ کیا ہے۔[28][29][30]

اعجاز الٰہی

اس غار میں رسول اللہ(ص) کے مقیم ہوجانے کے بموجب متعدد معجزات رونما ہوئے، جیسے غار کے دہانے پر مکڑی کا جالا بنا جانا، دو جنگلی (وحشی) کبوتروں کا گھونسلا بنانا، اور ایک قول کی بنا پر رسول خدا(ص) کے سامنے ایک درخت کا اگ جانا۔

مشرکین رسول خدا(ص) کی تلاش میں غار ثور کے دہانے تک بھی آئے مگر خداوند متعال نے انہیں داخلے سے باز رکھا؛ اس طرح کہ قریشیوں نے دہانے پر مکڑی کے جالے اور گھونسلے میں کبوتر کے اںڈوں کو دیکھا تو اس نتیجے پر پہنچے کہ غار متروک اور خالی ہے اور اس میں کوئی داخل نہیں ہوا کیونکہ کسی کے آنے کی صورت میں جالا پھٹ جاتا اور کبوتر کے انڈے ٹوٹ جاتے اور کبوتر بھی وہاں نہ بیٹھا رہتا۔[31][32][33][34]

غار ثور سے لوگوں کا تبرک حاصل کرنا

کوہ ثور، رسول اللہ(ص) کے تین روزہ قیام سے اب تک مسلمانوں کے نزدیک مبارک اور بابرکت سمجھا جاتا ہے[35][36][37] اور اسی وقت سے سے حجاج کرام کی زیارت گاہ ہے۔[38][39]

اس کے باوجود کہ اس غار کے تنگ دہانے سے اندر داخل ہونا بہت دشوار ہے جس میں رسول اللہ(ص) داخل ہوئے تھے، غار جانے والے لوگوں کی کوشش ہوتی تھی کہ تبرک کے حصول کے لئے اس میں داخل ہوجائیں، اور اس طرح کئی لوگ شگاف کی تنگی کی وجہ سے اس میں پھنس کر محبوس ہو جاتے تھے۔[40][41][42][43] عوام کے درمیان غار ثور کی شگاف سے داخلے میں ناکام ہونے والے افراد کے بارے میں ایک نہایت بھونڈی اور نامعقول افواہ پھیلی ہوئی تھی۔ ابن جبیر لکھتے ہیں: زیادہ تر غار کے تنگ دہانے کی وجہ سے اس میں داخلے سے پرہیز کرتے ہیں، کیونکہ کہا جاتا ہے کہ جو وہاں سے داخل نہ ہوسکے، وہ حلال زادہ نہیں ہے۔[44][45][46][47][48]

سنہ 800 اور بقول دیگر 810ھ ق کو، حاکم وقت نے غار کا دہانہ وسیع کرنے کا اہتمام کیا تا کہ لوگ اس میں محبوس نہ ہوں۔[49][50][51] بعد کے زمانے میں، حاکم مکہ نے غار کے دہانے کو وسیع تر کردیا۔[52] آج کے زمانے میں دہانے کی اونچائی نیز غار کی چوڑائی تقریبا نصف میٹر ہے۔[53]

حوالہ جات

  1. ازرقی، اخبار مکة و۔۔۔، ج2، ص294۔
  2. حمیری، الروض المعطار، ص151۔
  3. بلادی، معالم مکة، ص27، 57۔
  4. ابن جُبَیر، رحلة، ص93۔
  5. ابن جُبَیر، رحلۃ، ص93۔
  6. فاسی، شفاء الغرام، ج1، ص450۔
  7. اسدی مکی، اخبارالکرام، ص212۔
  8. بلادی، معالم مکۃ، ص27۔
  9. ابن جُبَیر، رحلۃ، ص93، قس ص139 جنہوں نے یہ فاصلہ تین میل بیان کیا ہے۔
  10. فاسی، شفاء الغرام، ج1، ص450۔
  11. ابن ظہیرہ، الجامع اللطیف، ص300۔
  12. بَتَنُونی، الرحلۃ الحجازیۃ، ص128۔
  13. کردی، التاریخ القویم، ج1، جزء 2، ص384۔
  14. ابن جُبَیر، رحلۃ، ص139۔
  15. عیاشی، الرحلۃ العیاشیۃ، ج2، ص102-103۔
  16. رفعت باشا، مرآۃ الحرمین، ج1، ص61، 63۔
  17. ابن جُبَیر، رحلۃ، ص94، 139-140۔
  18. اسدی مکی، اخبارالکرام، ص213۔
  19. عیاشی، الرحلۃ العیاشیۃ، ج2، ص103۔
  20. رفعت باشا، مرآۃ الحرمین، ج1، ص62۔
  21. ابن جُبَیر، رحلۃ، ص140۔
  22. عیاشی، الرحلۃ العیاشیۃ، ج2، ص103۔
  23. بَتَنُونی، الرحلۃ الحجازیۃ، ص131۔
  24. ازرقی، اخبار مکۃ و۔۔۔، ج2، ص288۔
  25. فاسی، شفاء الغرام، ج1، ص448۔
  26. ابن ظہیرہ، الجامع اللطیف، ص299۔
  27. نہروالی، کتاب الاعلام، ص447 448۔
  28. سورہ توبہ، آیت 40۔
  29. طبری، جامع البیان، ذیل آیت۔
  30. نسفی، تفسیر القرآن الجلیل، ذیل آیت۔
  31. ابن سعد، الطبقات الکبری، قسم 1، ص154۔
  32. ابن جُبَیر، رحلۃ، ص93۔
  33. ابن کثیر، السیرۃ النبویۃ ج2، ص239241۔
  34. نہروالی، کتاب الاعلام، ص448449۔
  35. نهروالی، کتاب الاعلام، ص448۔
  36. کردی، التاریخ القویم، ج1، جزء 2، ص393۔
  37. بلادی، معالم مکة، ص57۔
  38. ابن جُبَیر، رحلة، ص93۔
  39. فاسی، شفاء الغرام، ج1، ص449۔
  40. ابن جُبَیر، رحلة، ص93، 139۔
  41. خلوصی، ص117۔
  42. قس ابن ظهیره، الجامع اللطیف، ص300۔
  43. نهروالی، کتاب الاعلام، ص450 451۔
  44. رجوع کریں: فاسی، شفاء الغرام، ج1، ص450۔
  45. ابن جُبَیر، رحلة، ص94۔
  46. نهروالی، کتاب الاعلام، ص451۔
  47. اسدی مکی، اخبارالکرام، 213۔
  48. بلادی، معالم مکة، ص27۔
  49. رجوع کنید به فاسی، شفاء الغرام، ج1، ص449450۔
  50. ابن ظهیره، الجامع اللطیف، ص300۔
  51. کردی، التاریخ القویم، ج1، جزء 2، ص395۔
  52. بَتَنُونی، الرحلة الحجازیة، ص131۔
  53. بَتَنُونی، الرحلة الحجازیة، ص131۔


مآخذ

  • ابن جُبَیر، محمد بن احمد الکنانی الأندلسی، رحلۃ ابن جبیر، بیروت، 1986ع‍
  • ابن سعد، طبقات، (لیدن).
  • ابن ظہیرہ، الجامع اللطیف فی فضل مکۃ و اہلہا و بناء البیت الشریف، چاپ علی عمر، قاہرہ، 1423ھ ق/ 2003ع‍‌۔
  • ابن کثیر، السیرۃ النبویۃ، چاپ مصطفی عبدالواحد، قاہرہ 13831386ھ ق / 1964-1966ع‍، چاپ افست بیروت، [بی تا].
  • ازرقی، محمد بن عبداللّہ، اخبار مکۃ و ماجاء فیہا من الآثار، چاپ رشدی صالح ملحس، بیروت، 1403ھ ق / 1983ع‍‌۔، چاپ افست قم، 1369ھ ش۔
  • اسدی مکی، احمد بن محمد، اخبارالکرام بأخبار المسجدالحرام، چاپ حافظ غلام مصطفی، بنارس، 1396ھ ق / 1976ع‍۔
  • بتنونی، محمد لبیب، الرحلۃ الحجازیۃ، قاہرہ، 1415ھ ق / 1995ع‍۔
  • بلادی، عاتق، معالم مکۃ التاریخیۃ و الاثریۃ، مکہ، 1400ھ ق / 1980ع‍۔
  • حمیری، محمد بن عبداللّہ، الروض المعطار فی خبرالاقطار، چاپ احسان عباس، بیروت، 1984ع‍۔
  • ابراہیم رفعت باشا، مرآۃ الحرمین، او، الرحلات الحجازیۃ و الحج و مشاعرہ الدینیۃ، بیروت، دارالمعرفہ، بی‌تا.
  • سہیلی، عبدالرحمان بن عبداللّہ، الروض الانف فی شرح السیرۃ النبویۃ لابن ہشام، چاپ عبدالرحمان وکیل، قاہرہ، 1387-1390ھ ق / 1967-1970ع‍، چاپ افست 1410ھ ق / 1990ع‍۔
  • طبری، جامع البیان في تفسیر آي القرآن.
  • عیاشی، عبداللّہ بن محمد، الرحلۃ العیاشیۃ (ماءالموائد) ، [فاس] 1316ھ ق، چاپ افست رباط، 1397ھ ق / 1977ع‍۔
  • فاسی، محمد بن احمد، شفاء الغرام بأخبار البلدالحرام، چاپ عمر عبدالسلام تدمری، بیروت، 1405ھ ق / 1985ع‍۔
  • کردی، محمد طاہر، التاریخ القویم لمکۃ و بیت اللّہ الکریم، بیروت، 1420ھ ق / 2000ع‍۔
  • نسفی، عبداللّہ بن محمد، تفسیر القرآن الجلیل، المسمی بمدارک التنزیل و حقائق التأویل، بیروت، دارالکتاب العربی، [بی تا].
  • نہروالی، محمد بن احمد، کتاب الاعلام باعلام بیت اللّہ الحرام، در اخبار مکۃ المشرفۃ، ج3، چاپ فردیناند ووستنفلد، گوتینگن، 1857ع‍، چاپ افست بیروت، 1964ع‍۔

بیرونی ربط