"واقعہ حکمیت" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
م (حکمیت کیلئے نمائندوں کی تعیین)
م
سطر 48: سطر 48:
 
{{اصلی|خوارج}}
 
{{اصلی|خوارج}}
 
گروہی از یاران امام از ہمان آغاز با حکمیت مخالفت کردند و آن را بہ منزلہ [[ارتداد|برگشت از دین]] و شک در ایمان شمردند.<ref>ابن مزاحم، وقعۃ صفین، ۱۳۸۲ق، ص ۴۸۴؛ بَلاذُری، جُمَل من انساب الاشراف، ج ۳، ص ۱۱۱-۱۱۲</ref> برخی نیز بعدا بہ استناد دو آیہ قرآن (مائدہ:۴۴؛ حجرات:۹) خواہان ادامہ جنگ با [[معاویہ]] شدند و پذیرش حکمیت را [[کفر]] دانستہ و از آن توبہ کردند. آنان از امام خواستند از این کفر توبہ کند و شروطی کہ با معاویہ نہادہ است، نقض کند. اما امام نقض حکمیت را نپذیرفت. پس از توقف جنگ و بازگشت امام بہ کوفہ و معاویہ بہ [[شام]]، مخالفان حکمیت از امام علی جدا شدند و بہ قریہ حروراء نزدیک [[کوفہ]] رفتند.<ref>ابن مزاحم، وقعۃ صفین، ۱۳۸۲ق، ص ۵۱۳-۵۱۴؛ بلاذری، جُمَل من انساب الاشراف، ج ۳، ص ۱۱۴، ۱۲۲؛ طبری، تاریخ، ج ۵، ص ۶۳، ۷۲، ۷۸؛ مسعودی، مروج، ج ۳، ص ۱۴۴</ref> بدین گونہ گروہی بہ نام خوارج ظہور کردند.
 
گروہی از یاران امام از ہمان آغاز با حکمیت مخالفت کردند و آن را بہ منزلہ [[ارتداد|برگشت از دین]] و شک در ایمان شمردند.<ref>ابن مزاحم، وقعۃ صفین، ۱۳۸۲ق، ص ۴۸۴؛ بَلاذُری، جُمَل من انساب الاشراف، ج ۳، ص ۱۱۱-۱۱۲</ref> برخی نیز بعدا بہ استناد دو آیہ قرآن (مائدہ:۴۴؛ حجرات:۹) خواہان ادامہ جنگ با [[معاویہ]] شدند و پذیرش حکمیت را [[کفر]] دانستہ و از آن توبہ کردند. آنان از امام خواستند از این کفر توبہ کند و شروطی کہ با معاویہ نہادہ است، نقض کند. اما امام نقض حکمیت را نپذیرفت. پس از توقف جنگ و بازگشت امام بہ کوفہ و معاویہ بہ [[شام]]، مخالفان حکمیت از امام علی جدا شدند و بہ قریہ حروراء نزدیک [[کوفہ]] رفتند.<ref>ابن مزاحم، وقعۃ صفین، ۱۳۸۲ق، ص ۵۱۳-۵۱۴؛ بلاذری، جُمَل من انساب الاشراف، ج ۳، ص ۱۱۴، ۱۲۲؛ طبری، تاریخ، ج ۵، ص ۶۳، ۷۲، ۷۸؛ مسعودی، مروج، ج ۳، ص ۱۴۴</ref> بدین گونہ گروہی بہ نام خوارج ظہور کردند.
 
+
-->
== پانویس ==
+
== حوالہ جات==
{{پانویس۲}}
+
{{حوالہ جات|2}}
  
 
== منابع ==
 
== منابع ==
{{منابع}}
+
{{ستون آ|2}}
 
* آبی ابوسعد، ''من نثر الدر''، وزارۃ الثقافہ سوریہ، دمشق.
 
* آبی ابوسعد، ''من نثر الدر''، وزارۃ الثقافہ سوریہ، دمشق.
 
* ابن ابی‏ الحدید، ''شرح نہج البلاغۃ'' تحقیق: محمد أبوالفضل إبراہیم، دار إحیاء الكتب العربیۃ، ۱۳۷۸ش - ۱۹۵۹م. (نسخہ موجود در نرم‏ افزار مکتبۃ اہل البیت، نسخہ ۲.۰)
 
* ابن ابی‏ الحدید، ''شرح نہج البلاغۃ'' تحقیق: محمد أبوالفضل إبراہیم، دار إحیاء الكتب العربیۃ، ۱۳۷۸ش - ۱۹۵۹م. (نسخہ موجود در نرم‏ افزار مکتبۃ اہل البیت، نسخہ ۲.۰)
سطر 66: سطر 66:
 
* مطہر بن طاہر مقدسی، آفرینش و تاریخ، ترجمہ: محمد رضا شفیعی کدکنی، تہران، آگہ، چ اول، ۱۳۷۴.
 
* مطہر بن طاہر مقدسی، آفرینش و تاریخ، ترجمہ: محمد رضا شفیعی کدکنی، تہران، آگہ، چ اول، ۱۳۷۴.
 
* یعقوبی، احمد، ''تاریخ یعقوبی''، بیروت، دارصادر.
 
* یعقوبی، احمد، ''تاریخ یعقوبی''، بیروت، دارصادر.
{{پایان}}
+
{{ستون خ}}
 +
 
 
{{صدر اسلام کے واقعات}}
 
{{صدر اسلام کے واقعات}}
 
{{امام علی (ع)}}
 
{{امام علی (ع)}}
-->
+
 
 
[[fa:حکمیت]]
 
[[fa:حکمیت]]
 
[[ar:التحكيم]]
 
[[ar:التحكيم]]

نسخہ بمطابق 17:32, 7 جنوری 2017

حَکَمیّت جنگ صفین سے متعلق ایک تلخ تاریخی واقعہ ہے۔ اس واقعہ میں ابوموسی اشعری، کوفہ والوں (امام علی(ع) کے لشکریوں) اور عمرو عاص، شام والوں (معاویہ کے لشکریوں) کے نمائندہ کے طور پر مسلمانوں کے درمیان اختلافات اور جنگ کے خاتمے کیلئے مذاکرات کئے اور یہ طے پایا کہ یہ دونوں قرآن کے مطابق فیصلہ کریں گے۔ حکمیت کی درخواست معاویہ اور عمرو عاص کی مکاری اور جنگ صفین میں شام کے لشکریوں کی شکست کے آثار نمودار ہونے کے بعد کی گئی۔ امام علی(ع) نے شروع سے اس کی مخالفت کی لیکن آپ کے لشکر میں موجود چند سادہ لوح افراد عمرو عاص کے مکر و فریب میں آکر اسے قبول کرنے پر اصرار کیا حتی امام(ع) کو قبول نہ کرنے کی صورت میں جان سے مار دینے کی دھمکی بھی دی گئی۔ آخر کار عمرو عاص کی مکاری رنگ لائی اور اس نے ابو موسی اشعری کو دھوکہ دے کر طے شدہ قرارداد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے معاویہ کو خلافت کا حقدار بنا دیا۔ یوں حکمیت کی داستان، امام علی(ع) کے لشکریوں میں بغاوت اور شامیوں کو حتمی شکست سے نجات دلانے کے ساتھ ختم ہوا۔

حکمیت کی حقیقت

تفصیلی مضمون: جنگ صفین

سنہ ۳۷ ہجری قمری میں امام علی(ع) اور معاویہ کے درمیان صفین کے مقام پر جنگ شروع ہوئی۔ دونوں لشکریوں کے درمیان کئی رورز تک سخط معرکہ آرائی کے بعد شامیوں میں شکست کے آثار نمودار ہونے لگے ایسے میں معاویہ نے ہمیشہ کی طرح عمرو عاص سے کسی چارہ جوئی اور مکاری کی درخواست کی۔ [1] یوں عمرو عاص کے حکم پر شامیوں نے قرآن‌‏ کو نیزوں پر بلند کیا اور یہ نعرہ لگانا شروع کیا کہ اے اہل عراق! ہمارے درمیان قرآن، خدا کی کتاب حاکم ہے۔ اسی طرح وہ یہ نعرہ بھی بلند کر رہے تھے کہ اے عربو! اپنی بیٹیوں اور بیویوں کی فکر کرو اگر آج تم مارے جاؤگے تو کل رومیوں، ترکوں اور ایرانیوں کے ساتھ کون لڑیں گے؟![2]

امام علی(ع) کی فوج میں شورش

جب عمرو عاص نے حیلہ بازی اور مکر و فریب سے قرآن کو نیزوں پر بلند کیا تو امام علی(ع) کی فوج دو گروہ میں تقسیم ہو گئی اور ایک گروہ یہ کہنے لگی کہ دشمن نے قرآن کی حکمیت کو قبول کیا ہے اب ہمیں جنگ کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ امام علی(ع) نے سختی سے ان کی باتوں کی مخالفت کی اور فرمایا یہ عمرو عاص کی فریب کاری اور دھوکہ دھی کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ لیکن امام کی فوج میں شامل چند سادہ لوح افراد منجملہ اشعث بن قیس اور اس کے خاندان کے اصرار پر امام(ع) نے معاویہ کو ایک خط کے ضمن میں یوں خطاب کرتے ہوئے کہ ہم جانتے ہیں کہ تم قرآن کے احکام پر عمل کرنی والا نہیں، حکمیت کو قبول فرمایا۔[3]

حکمیت کیلئے نمائندوں کی تعیین

اہل شام نے عمرو بن عاص کو حکمیت کیلئے اپنا نمائندہ مقرر کیا۔ جبکہ امام کی فوج میں نمائندہ تعیین کرنے کے حوالے سے شدید اختلاف پیدا ہوا۔ اشعث اور کئی دوسرے افراد جو بعد میں مارقین میں شامل ہو گئے، نے ابو موسی اشعری کو معرفی کیا جبکہ امام علی(ع) نے ابن عباس یا مالک اشتر کو معرفی فرمایا جسے اشعث اور اسکے حامیوں نے قبول نہیں کیا۔ مالک اشتر کو جنگ کا عقیدہ رکھنے کے بہانے سے جبکہ ابن عباس کو اس بہانے سے قبول نہیں کیا کہ چونکہ عمرو عاص قبیلہ مضری سے ہے پس اس کے مقابلے میں ایک یمنی قبیلہ سے تعلق رکھنے والا شخص جانا چاہئے۔[4]

حکمیت کا نقشہ

حوالہ جات

  1. ابن ابی ‏الحدید، ج۲، ص۲۱۰.
  2. ابن مزاحم، ص ۴۷۸
  3. ابن مزاحم، ص ۴۹۰
  4. ابن اعثم، ج۳، ص۱۶۳.


منابع

  • آبی ابوسعد، من نثر الدر، وزارۃ الثقافہ سوریہ، دمشق.
  • ابن ابی‏ الحدید، شرح نہج البلاغۃ تحقیق: محمد أبوالفضل إبراہیم، دار إحیاء الكتب العربیۃ، ۱۳۷۸ش - ۱۹۵۹م. (نسخہ موجود در نرم‏ افزار مکتبۃ اہل البیت، نسخہ ۲.۰)
  • ابن اعثم، الفتوح، دارالندوہ، بیروت.
  • ابن مزاحم، وقعۃ صفین، انتشارات بصیرتی، قم.
  • ابن مزاحم، نصر، وقعۃ صفین، قاہرہ، چاپ عبدالسلام محمد ہارون، ۱۳۸۲ق، چاپ افست قم ۱۴۰۴.
  • بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، تحقیق: محمدباقر محمودی، موسسہ اعلمی، بیروت.
  • بلاذری، احمد بن یحیی، جُمَل من انساب الاشراف، چاپ سہیل زکار و ریاض زرکلی، بیروت ۱۴۱۷/۱۹۹۷.
  • شہیدی، سیدجعفر، تاریخ تحلیلی اسلام، تا پایان امویان، مرکز نشر دانشگاہی، (چاپ ۴۶) تہران، ۱۳۹۰.
  • طبری، تاریخ طبری، موسسہ اعلمی، بیروت.
  • مسعودی، مروج الذہب، بیروت.
  • مطہر بن طاہر مقدسی، آفرینش و تاریخ، ترجمہ: محمد رضا شفیعی کدکنی، تہران، آگہ، چ اول، ۱۳۷۴.
  • یعقوبی، احمد، تاریخ یعقوبی، بیروت، دارصادر.

سانچہ:صدر اسلام کے واقعات سانچہ:امام علی (ع)