"واقعہ حکمیت" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
م
م (Shamsoddin نے صفحہ حکمیت کو واقعہ حکمیت کی جانب منتقل کیا)
(4 صارفین 13 کے درمیانی نسخے نہیں دکھائے گئے)
سطر 1: سطر 1:
{{زیر تعمیر}}
 
 
'''حَکَمیّت''' [[جنگ صفین]] سے متعلق ایک تلخ تاریخی واقعہ ہے۔ اس واقعہ میں [[ابوموسی اشعری]]، [[کوفہ]] والوں ([[امام علی(ع)]] کے لشکریوں) اور [[عمرو بن عاص|عمرو عاص]]، [[شام]] والوں (معاویہ کے لشکریوں) کے نمائندہ کے طور پر [[اسلام|مسلمانوں]] کے درمیان اختلافات اور جنگ کے خاتمے کیلئے مذاکرات کئے اور یہ طے پایا کہ یہ دونوں قرآن کے مطابق فیصلہ کریں گے۔ حکمیت کی درخواست معاویہ اور عمرو عاص کی مکاری اور جنگ صفین میں شام کے لشکریوں کی شکست کے آثار نمودار ہونے کے بعد کی گئی۔ امام علی(ع) نے شروع سے اس کی مخالفت کی لیکن آپ کے لشکر میں موجود چند سادہ لوح افراد عمرو عاص کے مکر و فریب میں آکر اسے قبول کرنے پر اصرار کیا حتی امام(ع) کو قبول نہ کرنے کی صورت میں جان سے مار دینے کی دھمکی بھی دی گئی۔ آخر کار عمرو عاص کی مکاری رنگ لائی اور اس نے ابو موسی اشعری کو دھوکہ دے کر طے شدہ قرارداد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے معاویہ کو خلافت کا حقدار بنا دیا۔ یوں حکمیت کی داستان، امام علی(ع) کے لشکریوں میں بغاوت اور شامیوں کو حتمی شکست سے نجات دلانے کے ساتھ ختم ہوا۔
 
'''حَکَمیّت''' [[جنگ صفین]] سے متعلق ایک تلخ تاریخی واقعہ ہے۔ اس واقعہ میں [[ابوموسی اشعری]]، [[کوفہ]] والوں ([[امام علی(ع)]] کے لشکریوں) اور [[عمرو بن عاص|عمرو عاص]]، [[شام]] والوں (معاویہ کے لشکریوں) کے نمائندہ کے طور پر [[اسلام|مسلمانوں]] کے درمیان اختلافات اور جنگ کے خاتمے کیلئے مذاکرات کئے اور یہ طے پایا کہ یہ دونوں قرآن کے مطابق فیصلہ کریں گے۔ حکمیت کی درخواست معاویہ اور عمرو عاص کی مکاری اور جنگ صفین میں شام کے لشکریوں کی شکست کے آثار نمودار ہونے کے بعد کی گئی۔ امام علی(ع) نے شروع سے اس کی مخالفت کی لیکن آپ کے لشکر میں موجود چند سادہ لوح افراد عمرو عاص کے مکر و فریب میں آکر اسے قبول کرنے پر اصرار کیا حتی امام(ع) کو قبول نہ کرنے کی صورت میں جان سے مار دینے کی دھمکی بھی دی گئی۔ آخر کار عمرو عاص کی مکاری رنگ لائی اور اس نے ابو موسی اشعری کو دھوکہ دے کر طے شدہ قرارداد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے معاویہ کو خلافت کا حقدار بنا دیا۔ یوں حکمیت کی داستان، امام علی(ع) کے لشکریوں میں بغاوت اور شامیوں کو حتمی شکست سے نجات دلانے کے ساتھ ختم ہوا۔
  
سطر 17: سطر 16:
 
حکمیت کی تاریخ [[ماہ رمضان]] کے آخر (<small>یعنی آٹھ ماہ بعد </small>) تک موکول ہوا،<ref>ابن مزاحم، ص۵۰۴.</ref> اور شہر [[دومۃ الجندل]] کو حکمیت کی جگہ تعیین کی گئی۔<ref> شہیدی، ص۱۴۲.</ref>
 
حکمیت کی تاریخ [[ماہ رمضان]] کے آخر (<small>یعنی آٹھ ماہ بعد </small>) تک موکول ہوا،<ref>ابن مزاحم، ص۵۰۴.</ref> اور شہر [[دومۃ الجندل]] کو حکمیت کی جگہ تعیین کی گئی۔<ref> شہیدی، ص۱۴۲.</ref>
  
اس صلح نامے کا مفاد چنین تھا:<!--
+
'''اس صلح نامہ میں شامل اہم نکات :'''
*ہر دو گروہ بر داوری [[قرآن]] و مراجعہ بہ آن در موارد اختلاف رضایت می‌دہند.
+
* دونوں گروہ [[قرآن]] کے فیصلے کو قبول کرینگے اور ہر اختلافی موارد میں قرآن کی طرف رجوع کریں گے۔
*[[امام علی(ع)]] و پیروانش [[ابوموسی اشعری]] را بہ عنوان ناظر و داور برگزیدند و [[معاویہ]] و پیروانش [[عمرو بن عاص سہمی|عمرو عاص]] را.
+
*[[امام علی(ع)]] اور ان کی فوج نے [[ابوموسی اشعری]] کو جبکہ [[معاویہ]] اور اس کی فوج نے [[عمرو بن عاص سہمی|عمرو عاص]] کو اپنا اپنا نمائندہ منتخب کیا تھا۔
*اگر در مواردی داوری قرآن بہ کار نیاید، بہ سنت و سیرہ [[پیامبر(ص)|پیامبر (ص)]] مراجعہ خواہند کرد.
+
*اگر کسی جگہ قرآن سے کوئی فیصلہ لینا ممکن نہ ہو تو [[پیغمبر اکرم(ص)]] کی سنت کی طرف مراجعہ کریں گے۔
*بہ اختلاف دامن نمی‌زنند و از ہوی و ہوس پیروی نمی‌کنند.
+
*اختلاف کا شکار نہ ہونگے اور ہوا و ہوس کی پیروی نہیں کریں گے۔
*جان و مال و ناموس ہر دو داور تا ہنگامی کہ از حق فراتر نروند، محترم است.
+
*جب تک حق سے تجاوز نہ کرے دونوں نمائندوں کی جان، مال اور ناموس محترم ہیں۔
*اگر یکی از دو داور پیش از انجام وظیفہ بمیرد، امام آن گروہ، داور عادلی را بہ جای او بر می‌گزیند.
+
*اگر نمائندوں میں سے ایک اپنا وظیفہ انجام دینے سے پہلے مر جائے تو متعلقہ فریق کا سرپرست کسی اور عادل نمائندہ کو اس کی جگہ انتخاب کرے گا۔
*اگر یکی از پیشوایان پیش از داوری بمیرد، پیروان او می‌توانند فردی را بہ جای او برگزینند.
+
*اگر دونوں گروہ کے سرپرست فیصلہ ہونے سے پہلے وفات کر جائے تو ان کے ماننے والے کی اور کو اس کی جگہ انتخاب کرے گا۔
*اگر داوران بہ تعہد خود عمل نکنند، امت حق دارد از داوری آن‌ہا بیزاری جوید.
+
*اگر منتخب نمائندے اپنے وظیفے پر عمل نہ کرے تو امت کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ ان کے فیصلے کو رد کر دے۔
*از زمان نگارش پیمان حکمیت تا انقضای آن، جان و مال و ناموس مردم در امن و امان است.
+
*حکمیت کا میثاق لکھنے کے بعد سے جب تک اس کی مدت ختم  نہ ہو لوگوں کی جان، مال اور ناموس امن و امان میں ہونگے۔
*سلاح‌ہا تا پایان دورہ صلح باید بر زمین نہادہ شوند و راہ‌ہا امن گردند؛ و در این مورد، میان حاضر و غایب در این واقعہ، تفاوتی نیست.
+
*صلح نامہ کے اختتام تک کوئی ہتھیار نہیں اٹھائیں گے اور راستے پر امن ہونگے اور اس معاملے میں اس واقعہ میں حاضر افراد اور غیر حاضرین میں کوئی فرق نہیں ہو گا۔
*بر ہر دو داور لازم است در جایی میان [[عراق]] و [[شام]] اقامت کنند و جز کسانی کہ آنہا می‌خواہند، کسی در آن جا حاضر نشود.
+
*دونوں نمائندوں پر ضروری ہے کہ [[عراق]] اور [[شام]] کے درمیان کسی جگہ پر مقیم ہوں اور صرف ان افراد کے جنہیں وہ طلب کریں کسی اور کو وہاں جانے کی اجازت نہیں ہو گی۔
*اگر ہر دو داور بر طبق کتاب خدا و سنت پیامبر(ص) داوری نکنند، مسلمانان بہ نبرد خود ادامہ خواہند داد و ہیچ تعہدی میان طرفین نیست.<ref>طبری، ج۳، ص۱۰۳ - ۱۰۴.</ref>
+
*اگر دونوں نمائندے کتاب خدا اور سنت پیغمبر(ص) کے مطابق فیصلہ نہ کریں تو مسلمان جنگ جاری رکھیں گے اور دونوں گروہ کے درمیان کوئی پیمان نہیں ہے۔ <ref>طبری، ج۳، ص۱۰۳ - ۱۰۴.</ref>
  
==اقدامات و نصایح امام علی(ع) و یارانش==
+
==امام علی(ع) کے اقدامات اور نصیحتیں==
امام علی (ع) برای حکمیت، چہار صد نفر را بہ فرماندہی [[شریح بن ہانی]] ہمراہ ابو موسی اشعری اعزام کردہ و [[عبد اللہ بن عباس]] را بہ عنوان [[امام جماعت]] آنان ہمراہشان کرد. بہ علاوہ ابو موسی را نیز از ماہیت معاویہ آگاہ کردہ و نصایح فراوانی بہ او نمود.<ref>آبی ابوسعد، ج۱، ص۴۲۱.</ref>
+
امام علی (ع) نے حکمیت کیلئے [[شریح بن ہانی]] کی سربراہی میں 400 افراد کو ابو موسی اشعری کے ساتھ بھیجا اور [[عبد اللہ بن عباس]] کو بعنوان [[امام جماعت]] بھیجا۔ اس کے علاوہ ابوموسی اشعری کو معاویہ کی حقیقت سے آگاہ کیا اور بہت ساری نصیحتیں کیں۔<ref>آبی ابوسعد، ج۱، ص۴۲۱.</ref>
  
شریح قاضی از کسانی بود کہ بہ ابوموسی نسبت بہ عدم زیرکی ہشدار داد. وی بہ ابوموسی گوشزد کرد کہ اگر نتیجہ مذاکرہ شما خلافت علی(ع) باشد، شامیان در امانند؛ ولی اگر نتیجہ مذاکرہ تسلط معاویہ بر عراق باشد مردم عراق از ظلم او در امان نخواند بود.<ref>وقعۃصفین،ص:۵۳۴</ref> شریح گفت: ای ابو موسی تو را با برابر بدترین حریف مقابل کرد‌ہ‌اند. عراق را خوار و تباہ مکن. مبادا حق را بہ شام دہی و جانب آنہا را بگیری. مبادا عمرو تو را بفریبد. او را نیرنگ‌ہای گوناگون است کہ عقل در آن حیران ماند و آن ہمہ را زراندود کردہ است و بہ صورت‌نگاری آراستہ نماید. پس معاویۃ بن (ابوسفیان بن) حرب را در این ماجرا چون شیخ و پیشوایی بی‌رقیب و بی‌عیب قرار مدہ.<ref>وقعۃصفین،ص۵۳۴-۵۳۵</ref> [[احنف بن قیس]] نیز دست ابوموسی را گرفت بہ او گفت: «ای ابو موسی، اہمّیت این کار را دریاب و بدان کہ آن را پیامدہا است، و اگر تو عراق را تباہ كنی، دیگر عراقی نخواہد بود. او بہ ابوموسی پیشہاد داد کہ در ہیچ کاری حتی سلام دادن و مصافحہ کردن پیش قدم نشود. احنف گفت: مبادا بگذاری او تو را بر بالا دست مسند نشاند، زیرا این نیرنگ است، او را بہ تنہايی دیدار مکن.<ref>وقعۃصفین،ص۵۳۶-۵۳۷</ref>
+
[[قاضی شریح]] منجملہ ان افراد میں سے تھا جنہوں نے ابوموسی کی ہشناری اور زیرکی سے متعلق متنبہ کیا۔ انہوں نے ابوموسی سے تاکید کیا کہ اگر مذاکرات کا نتیجہ حضرت علی(ع) کے خلاف آجائے تو بھی شام والوں کو امان ہے لیکن اگر نتیجہ اس کے برعکس ہو تو عراق والے معاویہ کے شر سے امان میں نہیں رہیں گے۔<ref>وقعۃصفین،ص:۵۳۴</ref> قاضی شریح نے مزید کہا: اے ابو موسی تمہارا مد مقابل ایک بدترین حریف ہے پس عراق کو ذلیل و رسوا مت کرو۔ خبردار کہیں حق شام والوں کو نہ بیٹھو اور ان کی حمایت کریں۔ خبردار کہیں عمروعاص تمہیں دهوکہ نہ دے بیٹھے۔ عمروعاص بہت مکار آدمی ہے جس سے عقل حیران رہ جاتی ہے۔ .... پس ابوسفیان کے بیٹے کو خلافت کے میدان میں بلا منازع اور بے عیب بادشاہ قرار مت دو۔<ref>وقعۃصفین،ص۵۳۴-۵۳۵</ref> [[احنف بن قیس]] نے بھی ابوموسی اشعری کا ہاتھ تھام کر کہا: "اے ابو موسی! اس کام کی اہمّیت سے آگاہ ہو جاؤ! اور جان لو کہ اس کے نتائج بہت زیادہ ہیں۔ اگر تم نے عراق کو تباہ کیا تو پهر عراق کا کوئی نام و نشان باقی نہیں رہے گا۔ اس نے ابوموسی کو تجویز دیا کہ کسی کام میں حتی سلام کرنے میں عمروعاص سے پہل مت کرو۔احنف نے مزید کہا: خبردار اگر عمروعاص نے عزت و احترام سے تمہیں مقام دیا تو یقین مت کرو کیونکہ یہ مکر و فریب ہے اور تنہائی میں کبھی بھی اس سے ملاقات مت کرو۔<ref>وقعۃصفین،ص۵۳۶-۵۳۷</ref>
  
===شروع مذاکرہ===
+
===مذاکرات کا آغاز===
دو حَکَم، پیش خودشان تصمیم گرفتند کہ عمرو عاص، معاویہ را و ابوموسی، علی(ع) را عزل کند و انتخاب [[خلیفہ]] را بہ شورا واگذار کنند. عمرو عاص ابوموسی را در اعلام نتیجہ، بر خود مقدم کرد و ابتدا ابوموسی، علی(ع) را عزل کرد؛ ولی وقتی نوبت بہ عمرو بن عاص رسید، او بہ جای عزل معاویہ، عزل علی(ع) بہ دست ابوموسی را تأیید و معاویہ را بہ خلافت منصوب کرد. پس از آن درگیری بین دو نفر درگرفت و بہ ہم ناسزا گفتند.<ref>ابن مزاحم، وقعۃ صفین، ص۵۴۵</ref>
+
دونوں نمائندوں نے یہ فیصلہ کیا کہ عمرو عاص، معاویہ کو اور ابوموسی، حضرت علی(ع) کو خلافت سے عزل کریں گے اور [[خلیفہ]] کا انتخاب شوری کے سپرد کریں گے۔ عمرو عاص نے مذاکرات کے نتیجہ کے اعلان کرنے کیلئے ابوموسی کو خود پر مقدم کیا یوں ابوموسی نے حضرت علی(ع) کو خلافت سے عزل کیا لیکن جب عمرو بن عاص کی باری آئی تو وہ معاویہ کو عزل کرنے کی بجائے حضرت علی(ع) کو عزل کرنے کے ابوموسی کے فیصلے کی تأیید کی اور معاویہ کو خلافت پر منصوب کیا۔ اس کے بعد دونوں فریق کے درمیان جھگڑا فساد شروع ہو گیا اور ایک دوسرے کو ناسزا کہنے لگے۔<ref>ابن مزاحم، وقعۃ صفین، ص۵۴۵</ref>
  
==نتیجہ حکمیت ابوموسی==
+
==ابوموسی کی حکمیت کا نتیجہ==
[[ابوموسی اشعری]] نتیجہ حکمیت را بہ اینجا رسانید کہ ہر دو فرمانروا یعنی [[معاویہ]] و [[علی(ع)]] از [[خلافت]] برکنار شوند و ہیچ‌کدام فرمانروا نباشد. [[عمرو عاص]] نیز ـ بہ ظاہر ـ این امر را پذیرفت اما برای اجرایی‌کردن نقشہ‌ای کہ در سر داشت، ابوموسی را فریفت و او را برای اعلام نتیجہ بر خودش مقدم کرد. [[ابن عباس]] تلاش زیادی کرد تا ابتدا عمرو عاص نتیجہ را اعلام کند؛ اما ابوموسی بہ ہشدارہای ابن عباس توجہی نکرد و بہ او گفت: من و عمرو عاص توافق کردہ‏‌ایم.<ref>نک: ابن ابی‎‏الحدید، ج۲، ص۲۵۵.</ref>
+
[[ابوموسی اشعری]] نے حکمیت کو اس نتیجے پر پہنچایا کہ [[معاویہ]] اور [[علی(ع)]] دونوں کو [[خلافت]] سے برکنار کیا جائے اور ان میں سے کوئی ایک بھی خلیفہ نہ ہو۔ [[عمرو عاص]] نے بھی ـ بہ ظاہر ـ اس امر کو قبول کیا لیکن پہلے سے طے شدہ نقشے کے مطابق ابوموسی کو دھوکہ دیا اور نتیجہ سنانے کیلئے اسے اپنے اوپر مقدم کیا۔ [[ابن عباس]] نے عمرو عاص کے ذریعے پہلے نتیجے کا اعلان کروانے کیلئے کافی کوشش کیا لیکن ابوموسی نے ابن عباس کی تجاویز پر توجہ نہ دیا اور اس سے کہا میں اور عمروعاص نے موافت کی ہے۔ <ref>نک: ابن ابی‎‏الحدید، ج۲، ص۲۵۵.</ref>
  
ابوموسی بر بالای [[منبر]] رفت و گفت:‌ای مردم! برای این کہ [[مسلمانان]] روی آسایش ببینند و بینشان دودستگی نباشد، من و عمرو عاص توافق کردیم کہ علی و معاویہ را از خلافت برکنار کنیم تا خود مسلمانان شورایی تشکیل دہند و کسی را کہ استحقاق و شایستگی خلافت دارد انتخاب کنند؛ پس من ـ بہ نمایندگی از مردم [[حجاز]] و [[عراق]] ـ چنان‌کہ انگشتری‌ام را از دست خود خارج می‌کنم، علی را از خلافت برکنار می‌نمایم.<ref>نک: ہمان، ص۲۵۶.</ref> سپس از منبر پایین آمد و عمرو عاص بہ بالای منبر رفتہ، اعلام کرد: آنچہ ابوموسی گفت شنیدید. او، تنہا حق برکناری علی را داشت و من ہم او را در این مورد تأیید می‌کنم؛ اما من چنان‌کہ انگشتری‌ام را بہ دست می‌کنم خلافت را بہ معاویہ واگذار می‌نمایم؛ زیرا او علاوہ بر اینکہ شایستگی این مقام را دارد، ولیِّ دم و خونخواہ [[عثمان]] نیز است. در اینجا مجلس آشفتہ شد. ابوموسی از حیلہ عمرو عاص برآشفت و خطاب بہ او گفت: ای حیلہ‏‌گر فاسق! تو چون سگی ہستی كہ چہ آن را چوب بزنند یا رہایش سازند، پارس می‌کند.<ref> «قَد غَدَرتَ و فَجَرتَ و اِنَّما مَثَلُك مَثَلُ الكَلبِ ان تَحمِل عَلیہ یلہث او تَترُكہ یلہث». اشارہ دارد بہ آیہ ۱۷۶ سورہ اعراف.</ref> عمرو عاص ہم در پاسخ گفت: تو ہمچون خری ہستی کہ مشتی کتاب بارش کردہ‏ باشند.<ref> «اِنَّما مَثَلُكَ مَثَلُ الحِمارِ یحمِل اَسفاراً»(سورہ جمعہ، آیہ ۵).</ref> <ref> نک: ابن ابی ‏الحدید، ہمان.</ref>
+
ابوموسی [[منبر]] کے اوپر چلا گیا اور کہا:‌اے لوگو! [[اسلام|مسلمانوں]] کو آرام سکون پہنچانے اور انہیں ان کے درمیان تفرقہ اور اختلاف کو ختم کرنے کیلئے میں اور عمرو عاص نے یہ توافق کیا ہے کہ حضرت علی(ع) اور معاویہ دونوں کو خلافت سے برکنار کریں تاکہ مسلمان خود ایک شوری کو تشکیل دے کر کسی لایق اور با صلاحیت فرد کو اپنا خلیفہ منتخب کریں۔ لہذا میں ـ [[حجاز]] اور [[عراق]] کے لوگوں کی نمائندگی کرتے ہوئے ـ جس طرح میں اپنی انگوٹھی کو میری انگلی سے اتار رہا ہوں اسی طرح علی ابن ابی طالب کو بھی خلاف سے برکنار کرتا ہوں۔ <ref> ہمان، ص۲۵۶.</ref> یہ کہہ کر ابوموسی منبر سے نیچے آگیا اور عمرو عاص نے منبر پر جا کر یوں اعلان کیا: جو کچھ ابوموسی نے کہا وہ آپ لوگوں نے سنا۔ وہ صرف علی ابن ابی طالب کو خلافت سے برکنار کرنے کا حق رکھتا تھا اور اس کام میں میں بھی اس کی تائید کرتا ہوں لیکن میں جس طرح میری انگوٹھی کو میری انگی میں پہنا رہا ہوں اسی طرح معاویہ کو خلافت پر منصوب کرتا ہوں۔ کیونکہ وہ نہ صرف اس منصب کیلئے لایق اور صلاحیت رکھتا ہے [[عثمان]] کے خون کا بدلہ لینے والا بھی ہے۔ اس موقع پر مجلس درہم برہم ہو گیا۔ ابوموسی عمرو عاص کے مکر و فریب پر حیران رہ گیا اور اس سے مخاطب ہو کر کہا: اے مکار فاسق! تم اس کتے کی طرح ہو کہ اسے چاہے مارے یا نہ مارے بھونکتا رہتا ہے۔<ref> {{حدیث|«قَد غَدَرتَ و فَجَرتَ و اِنَّما مَثَلُك مَثَلُ الكَلبِ ان تَحمِل عَلیہ یلہث او تَترُكہ یلہث}} سورہ اعراف کی آیت نمبر ۱۷۶ کی طرف اشارہ ہے۔ </ref> عمرو عاص نے بھی ابوموسی کو جواب میں کہا: تم بھی اس گدے کی مانند ہو جس پر کتابوں کا بار لادا گیا ہو۔<ref> {{حدیث|«اِنَّما مَثَلُكَ مَثَلُ الحِمارِ یحمِل اَسفاراً»(سورہ جمعہ، آیہ ۵)}}</ref> <ref> ابن ابی ‏الحدید، ہمان.</ref>
  
بہ این ترتیب، بدون آنکہ سخن از [[قرآن]] و [[سنت]] [[پیامبر(ص)]] باشد، ماجرای حکمیت‏ منشا اختلاف دیگری در میان شام و عراق شد.<ref>ابن مزاحم، ص۵۴۵ و ہمچنین نک: شہیدی، ص۱۴۳ و ابن ابی ‏الحدید، ہمان.</ref> و مہم‏‌ترین نتیجہ حکمیت برای [[شام|شامیان]] این بود کہ آنان پس از ماجرای حکمیت، معاویہ را [[امیرالمؤمنین (لقب)|امیرالمؤمنین]] نامیدند.<ref>بلاذری، ج۲، ص۳۴۲.</ref>
+
یوں [[قرآن]] و [[سنت]] [[پیغمبر(ص)]] کا تذکرہ ہوئے بغیر حکمیت کی داستان عراق اور شام والوں کے درمیان ایک اور اختلاف کا سرچشمہ بن گیا۔<ref>ابن مزاحم، ص۵۴۵ و ہمچنین نک: شہیدی، ص۱۴۳ و ابن ابی ‏الحدید، ہمان.</ref> اور شام والوں کیلئے حکمیت کا سب سے اہم فائدہ یہ تھا انہوں نے حکمیت کے بعد معاویہ کو '''امیرالمؤمنین''' کا لقب دینے لگا۔<ref>بلاذری، ج۲، ص۳۴۲.</ref>
  
==پیدایش خوارج==
+
==خوارج کی پیدایش ==
 
{{اصلی|خوارج}}
 
{{اصلی|خوارج}}
گروہی از یاران امام از ہمان آغاز با حکمیت مخالفت کردند و آن را بہ منزلہ [[ارتداد|برگشت از دین]] و شک در ایمان شمردند.<ref>ابن مزاحم، وقعۃ صفین، ۱۳۸۲ق، ص ۴۸۴؛ بَلاذُری، جُمَل من انساب الاشراف، ج ۳، ص ۱۱۱-۱۱۲</ref> برخی نیز بعدا بہ استناد دو آیہ قرآن (مائدہ:۴۴؛ حجرات:۹) خواہان ادامہ جنگ با [[معاویہ]] شدند و پذیرش حکمیت را [[کفر]] دانستہ و از آن توبہ کردند. آنان از امام خواستند از این کفر توبہ کند و شروطی کہ با معاویہ نہادہ است، نقض کند. اما امام نقض حکمیت را نپذیرفت. پس از توقف جنگ و بازگشت امام بہ کوفہ و معاویہ بہ [[شام]]، مخالفان حکمیت از امام علی جدا شدند و بہ قریہ حروراء نزدیک [[کوفہ]] رفتند.<ref>ابن مزاحم، وقعۃ صفین، ۱۳۸۲ق، ص ۵۱۳-۵۱۴؛ بلاذری، جُمَل من انساب الاشراف، ج ۳، ص ۱۱۴، ۱۲۲؛ طبری، تاریخ، ج ۵، ص ۶۳، ۷۲، ۷۸؛ مسعودی، مروج، ج ۳، ص ۱۴۴</ref> بدین گونہ گروہی بہ نام خوارج ظہور کردند.
+
امام علی(ع) کے کچھ سپاہی شروع سے حکمیت کے مخالف تھے اور اسے دین سے [[مرتد|خارج]] ہونے اور ایمان میں شک کی نشانی خیال کرتے تھے۔ <ref>ابن مزاحم، وقعۃ صفین، ۱۳۸۲ق، ص ۴۸۴؛ بَلاذُری، جُمَل من انساب الاشراف، ج ۳، ص ۱۱۱-۱۱۲</ref> بعض افراد حکمیت کے بے نتیجہ ختم ہونے کے بعد قرآن کی دو آیتوں (مائدہ:۴۴؛ حجرات:۹) سے استناد کرتے ہوئے [[معاویہ]] کے ساتھ جنگ جاری رکھنے کا مطالبہ کرنے لگے اور حکمیت کو قبول کرنے کو [[کفر]] کا سبب قرار دیتے ہوئے اس سے توبہ کرنے لگے۔ انہوں نے امام علی(ع) سے بھی اس کفر سے توبہ کرنے اور معاویہ سے طے پانے والے شرائط کو توڑنے کا مطالبہ کیا۔ امام نے حکمیت کو کلعدم قرار دینے کے مطالبے کو تسلیم نہیں کیا اور جنگ بندی کے بعد امام کوفہ کی طرف اور معاویہ شام کی طرف روانہ ہو گئے۔ حکمیت کے مخالفین امام علی(ع) سے جدا ہوگئے اور [[کوفہ]] کے نزدیک کسی قریہ میں چلے گئے۔<ref>ابن مزاحم، وقعۃ صفین، ۱۳۸۲ق، ص ۵۱۳-۵۱۴؛ بلاذری، جُمَل من انساب الاشراف، ج ۳، ص ۱۱۴، ۱۲۲؛ طبری، تاریخ، ج ۵، ص ۶۳، ۷۲، ۷۸؛ مسعودی، مروج، ج ۳، ص ۱۴۴</ref> یوں خوارج کے نام سے ایک گروہ نے سر اٹھایا۔
-->
 
  
 
== حوالہ جات==
 
== حوالہ جات==
سطر 72: سطر 70:
 
{{پہلی صدی ہجری کے واقعات}}
 
{{پہلی صدی ہجری کے واقعات}}
 
{{امام علی علیہ السلام}}
 
{{امام علی علیہ السلام}}
 +
{{بنی امیہ}}
  
 
[[fa:حکمیت]]
 
[[fa:حکمیت]]
 
[[ar:التحكيم]]
 
[[ar:التحكيم]]
 
[[en:Hakamiyya]]
 
[[en:Hakamiyya]]
 +
[[fr:Arbitrage]]
 
[[id:Arbitrase]]
 
[[id:Arbitrase]]
  
 
[[زمرہ:امام علی]]
 
[[زمرہ:امام علی]]
[[زمرہ:ویکی شیعہ کے اہم مقالہ جات]]
+
[[زمرہ:ویکی شیعہ کے بنیادی مقالہ‌ جات]]
 +
[[زمرہ:جنگ صفین]]
 +
[[زمرہ:37 ہجری کے واقعات]]
 +
[[زمرہ:38 ہجری کے واقعات]]

نسخہ بمطابق 18:38, 3 فروری 2019

حَکَمیّت جنگ صفین سے متعلق ایک تلخ تاریخی واقعہ ہے۔ اس واقعہ میں ابوموسی اشعری، کوفہ والوں (امام علی(ع) کے لشکریوں) اور عمرو عاص، شام والوں (معاویہ کے لشکریوں) کے نمائندہ کے طور پر مسلمانوں کے درمیان اختلافات اور جنگ کے خاتمے کیلئے مذاکرات کئے اور یہ طے پایا کہ یہ دونوں قرآن کے مطابق فیصلہ کریں گے۔ حکمیت کی درخواست معاویہ اور عمرو عاص کی مکاری اور جنگ صفین میں شام کے لشکریوں کی شکست کے آثار نمودار ہونے کے بعد کی گئی۔ امام علی(ع) نے شروع سے اس کی مخالفت کی لیکن آپ کے لشکر میں موجود چند سادہ لوح افراد عمرو عاص کے مکر و فریب میں آکر اسے قبول کرنے پر اصرار کیا حتی امام(ع) کو قبول نہ کرنے کی صورت میں جان سے مار دینے کی دھمکی بھی دی گئی۔ آخر کار عمرو عاص کی مکاری رنگ لائی اور اس نے ابو موسی اشعری کو دھوکہ دے کر طے شدہ قرارداد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے معاویہ کو خلافت کا حقدار بنا دیا۔ یوں حکمیت کی داستان، امام علی(ع) کے لشکریوں میں بغاوت اور شامیوں کو حتمی شکست سے نجات دلانے کے ساتھ ختم ہوا۔

حکمیت کی حقیقت

تفصیلی مضمون: جنگ صفین

سنہ ۳۷ ہجری قمری میں امام علی(ع) اور معاویہ کے درمیان صفین کے مقام پر جنگ شروع ہوئی۔ دونوں لشکریوں کے درمیان کئی رورز تک سخط معرکہ آرائی کے بعد شامیوں میں شکست کے آثار نمودار ہونے لگے ایسے میں معاویہ نے ہمیشہ کی طرح عمرو عاص سے کسی چارہ جوئی اور مکاری کی درخواست کی۔ [1] یوں عمرو عاص کے حکم پر شامیوں نے قرآن‌‏ کو نیزوں پر بلند کیا اور یہ نعرہ لگانا شروع کیا کہ اے اہل عراق! ہمارے درمیان قرآن، خدا کی کتاب حاکم ہے۔ اسی طرح وہ یہ نعرہ بھی بلند کر رہے تھے کہ اے عربو! اپنی بیٹیوں اور بیویوں کی فکر کرو اگر آج تم مارے جاؤگے تو کل رومیوں، ترکوں اور ایرانیوں کے ساتھ کون لڑیں گے؟![2]

امام علی(ع) کی فوج میں شورش

جب عمرو عاص نے حیلہ بازی اور مکر و فریب سے قرآن کو نیزوں پر بلند کیا تو امام علی(ع) کی فوج دو گروہ میں تقسیم ہو گئی اور ایک گروہ یہ کہنے لگی کہ دشمن نے قرآن کی حکمیت کو قبول کیا ہے اب ہمیں جنگ کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ امام علی(ع) نے سختی سے ان کی باتوں کی مخالفت کی اور فرمایا یہ عمرو عاص کی فریب کاری اور دھوکہ دھی کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ لیکن امام کی فوج میں شامل چند سادہ لوح افراد منجملہ اشعث بن قیس اور اس کے خاندان کے اصرار پر امام(ع) نے معاویہ کو ایک خط کے ضمن میں یوں خطاب کرتے ہوئے کہ ہم جانتے ہیں کہ تم قرآن کے احکام پر عمل کرنی والا نہیں، حکمیت کو قبول فرمایا۔[3]

حکمیت کیلئے نمائندوں کی تعیین

اہل شام نے عمرو بن عاص کو حکمیت کیلئے اپنا نمائندہ مقرر کیا۔ جبکہ امام کی فوج میں نمائندہ تعیین کرنے کے حوالے سے شدید اختلاف پیدا ہوا۔ اشعث اور کئی دوسرے افراد جو بعد میں مارقین میں شامل ہو گئے، نے ابو موسی اشعری کو معرفی کیا جبکہ امام علی(ع) نے ابن عباس یا مالک اشتر کو معرفی فرمایا جسے اشعث اور اسکے حامیوں نے قبول نہیں کیا۔ مالک اشتر کو جنگ کا عقیدہ رکھنے کے بہانے سے جبکہ ابن عباس کو اس بہانے سے قبول نہیں کیا کہ چونکہ عمرو عاص قبیلہ مضری سے ہے پس اس کے مقابلے میں ایک یمنی قبیلہ سے تعلق رکھنے والا شخص جانا چاہئے۔[4]

حکمیت کا خاکہ

دونوں لشکروں سے نمائندہ تعیین ہونے کے بعد معاویہ نے عمرو عاص، ابو الاعور سلمی اور بعض دیگر افراد کو مذاکرات اور حکمیت کے شرائط تعیین کرنے کیلئے امام علی(ع) کے ہاں بھیجا اور انہوں نے امام علی (ع) اور آپ کی فوج سے صلح نامہ کے مفاد کے حوالے سے مذاکرات انجام دئے۔ یعقوبی کے مطابق صلح نامہ کے تدوین کے وقت امام علی(ع) کو "امیرالمؤمنین" کا لقب دینے کے حوالے سے دونوں لشکریوں کے نمائندوں میں اختلاف پیدا ہوا یوں اشعث اور ان کے حامیوں نے آپ(ع) کے نام سے اس لقب کو حذف کرنے کا مطالبہ کیا جبکہ مالک اشتر نے سختی سے اس کام کی مخالفت کی۔ [5]

حکمیت کی تاریخ ماہ رمضان کے آخر (یعنی آٹھ ماہ بعد ) تک موکول ہوا،[6] اور شہر دومۃ الجندل کو حکمیت کی جگہ تعیین کی گئی۔[7]

اس صلح نامہ میں شامل اہم نکات :

  • دونوں گروہ قرآن کے فیصلے کو قبول کرینگے اور ہر اختلافی موارد میں قرآن کی طرف رجوع کریں گے۔
  • امام علی(ع) اور ان کی فوج نے ابوموسی اشعری کو جبکہ معاویہ اور اس کی فوج نے عمرو عاص کو اپنا اپنا نمائندہ منتخب کیا تھا۔
  • اگر کسی جگہ قرآن سے کوئی فیصلہ لینا ممکن نہ ہو تو پیغمبر اکرم(ص) کی سنت کی طرف مراجعہ کریں گے۔
  • اختلاف کا شکار نہ ہونگے اور ہوا و ہوس کی پیروی نہیں کریں گے۔
  • جب تک حق سے تجاوز نہ کرے دونوں نمائندوں کی جان، مال اور ناموس محترم ہیں۔
  • اگر نمائندوں میں سے ایک اپنا وظیفہ انجام دینے سے پہلے مر جائے تو متعلقہ فریق کا سرپرست کسی اور عادل نمائندہ کو اس کی جگہ انتخاب کرے گا۔
  • اگر دونوں گروہ کے سرپرست فیصلہ ہونے سے پہلے وفات کر جائے تو ان کے ماننے والے کی اور کو اس کی جگہ انتخاب کرے گا۔
  • اگر منتخب نمائندے اپنے وظیفے پر عمل نہ کرے تو امت کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ ان کے فیصلے کو رد کر دے۔
  • حکمیت کا میثاق لکھنے کے بعد سے جب تک اس کی مدت ختم نہ ہو لوگوں کی جان، مال اور ناموس امن و امان میں ہونگے۔
  • صلح نامہ کے اختتام تک کوئی ہتھیار نہیں اٹھائیں گے اور راستے پر امن ہونگے اور اس معاملے میں اس واقعہ میں حاضر افراد اور غیر حاضرین میں کوئی فرق نہیں ہو گا۔
  • دونوں نمائندوں پر ضروری ہے کہ عراق اور شام کے درمیان کسی جگہ پر مقیم ہوں اور صرف ان افراد کے جنہیں وہ طلب کریں کسی اور کو وہاں جانے کی اجازت نہیں ہو گی۔
  • اگر دونوں نمائندے کتاب خدا اور سنت پیغمبر(ص) کے مطابق فیصلہ نہ کریں تو مسلمان جنگ جاری رکھیں گے اور دونوں گروہ کے درمیان کوئی پیمان نہیں ہے۔ [8]

امام علی(ع) کے اقدامات اور نصیحتیں

امام علی (ع) نے حکمیت کیلئے شریح بن ہانی کی سربراہی میں 400 افراد کو ابو موسی اشعری کے ساتھ بھیجا اور عبد اللہ بن عباس کو بعنوان امام جماعت بھیجا۔ اس کے علاوہ ابوموسی اشعری کو معاویہ کی حقیقت سے آگاہ کیا اور بہت ساری نصیحتیں کیں۔[9]

قاضی شریح منجملہ ان افراد میں سے تھا جنہوں نے ابوموسی کی ہشناری اور زیرکی سے متعلق متنبہ کیا۔ انہوں نے ابوموسی سے تاکید کیا کہ اگر مذاکرات کا نتیجہ حضرت علی(ع) کے خلاف آجائے تو بھی شام والوں کو امان ہے لیکن اگر نتیجہ اس کے برعکس ہو تو عراق والے معاویہ کے شر سے امان میں نہیں رہیں گے۔[10] قاضی شریح نے مزید کہا: اے ابو موسی تمہارا مد مقابل ایک بدترین حریف ہے پس عراق کو ذلیل و رسوا مت کرو۔ خبردار کہیں حق شام والوں کو نہ بیٹھو اور ان کی حمایت کریں۔ خبردار کہیں عمروعاص تمہیں دهوکہ نہ دے بیٹھے۔ عمروعاص بہت مکار آدمی ہے جس سے عقل حیران رہ جاتی ہے۔ .... پس ابوسفیان کے بیٹے کو خلافت کے میدان میں بلا منازع اور بے عیب بادشاہ قرار مت دو۔[11] احنف بن قیس نے بھی ابوموسی اشعری کا ہاتھ تھام کر کہا: "اے ابو موسی! اس کام کی اہمّیت سے آگاہ ہو جاؤ! اور جان لو کہ اس کے نتائج بہت زیادہ ہیں۔ اگر تم نے عراق کو تباہ کیا تو پهر عراق کا کوئی نام و نشان باقی نہیں رہے گا۔ اس نے ابوموسی کو تجویز دیا کہ کسی کام میں حتی سلام کرنے میں عمروعاص سے پہل مت کرو۔احنف نے مزید کہا: خبردار اگر عمروعاص نے عزت و احترام سے تمہیں مقام دیا تو یقین مت کرو کیونکہ یہ مکر و فریب ہے اور تنہائی میں کبھی بھی اس سے ملاقات مت کرو۔[12]

مذاکرات کا آغاز

دونوں نمائندوں نے یہ فیصلہ کیا کہ عمرو عاص، معاویہ کو اور ابوموسی، حضرت علی(ع) کو خلافت سے عزل کریں گے اور خلیفہ کا انتخاب شوری کے سپرد کریں گے۔ عمرو عاص نے مذاکرات کے نتیجہ کے اعلان کرنے کیلئے ابوموسی کو خود پر مقدم کیا یوں ابوموسی نے حضرت علی(ع) کو خلافت سے عزل کیا لیکن جب عمرو بن عاص کی باری آئی تو وہ معاویہ کو عزل کرنے کی بجائے حضرت علی(ع) کو عزل کرنے کے ابوموسی کے فیصلے کی تأیید کی اور معاویہ کو خلافت پر منصوب کیا۔ اس کے بعد دونوں فریق کے درمیان جھگڑا فساد شروع ہو گیا اور ایک دوسرے کو ناسزا کہنے لگے۔[13]

ابوموسی کی حکمیت کا نتیجہ

ابوموسی اشعری نے حکمیت کو اس نتیجے پر پہنچایا کہ معاویہ اور علی(ع) دونوں کو خلافت سے برکنار کیا جائے اور ان میں سے کوئی ایک بھی خلیفہ نہ ہو۔ عمرو عاص نے بھی ـ بہ ظاہر ـ اس امر کو قبول کیا لیکن پہلے سے طے شدہ نقشے کے مطابق ابوموسی کو دھوکہ دیا اور نتیجہ سنانے کیلئے اسے اپنے اوپر مقدم کیا۔ ابن عباس نے عمرو عاص کے ذریعے پہلے نتیجے کا اعلان کروانے کیلئے کافی کوشش کیا لیکن ابوموسی نے ابن عباس کی تجاویز پر توجہ نہ دیا اور اس سے کہا میں اور عمروعاص نے موافت کی ہے۔ [14]

ابوموسی منبر کے اوپر چلا گیا اور کہا:‌اے لوگو! مسلمانوں کو آرام سکون پہنچانے اور انہیں ان کے درمیان تفرقہ اور اختلاف کو ختم کرنے کیلئے میں اور عمرو عاص نے یہ توافق کیا ہے کہ حضرت علی(ع) اور معاویہ دونوں کو خلافت سے برکنار کریں تاکہ مسلمان خود ایک شوری کو تشکیل دے کر کسی لایق اور با صلاحیت فرد کو اپنا خلیفہ منتخب کریں۔ لہذا میں ـ حجاز اور عراق کے لوگوں کی نمائندگی کرتے ہوئے ـ جس طرح میں اپنی انگوٹھی کو میری انگلی سے اتار رہا ہوں اسی طرح علی ابن ابی طالب کو بھی خلاف سے برکنار کرتا ہوں۔ [15] یہ کہہ کر ابوموسی منبر سے نیچے آگیا اور عمرو عاص نے منبر پر جا کر یوں اعلان کیا: جو کچھ ابوموسی نے کہا وہ آپ لوگوں نے سنا۔ وہ صرف علی ابن ابی طالب کو خلافت سے برکنار کرنے کا حق رکھتا تھا اور اس کام میں میں بھی اس کی تائید کرتا ہوں لیکن میں جس طرح میری انگوٹھی کو میری انگی میں پہنا رہا ہوں اسی طرح معاویہ کو خلافت پر منصوب کرتا ہوں۔ کیونکہ وہ نہ صرف اس منصب کیلئے لایق اور صلاحیت رکھتا ہے عثمان کے خون کا بدلہ لینے والا بھی ہے۔ اس موقع پر مجلس درہم برہم ہو گیا۔ ابوموسی عمرو عاص کے مکر و فریب پر حیران رہ گیا اور اس سے مخاطب ہو کر کہا: اے مکار فاسق! تم اس کتے کی طرح ہو کہ اسے چاہے مارے یا نہ مارے بھونکتا رہتا ہے۔[16] عمرو عاص نے بھی ابوموسی کو جواب میں کہا: تم بھی اس گدے کی مانند ہو جس پر کتابوں کا بار لادا گیا ہو۔[17] [18]

یوں قرآن و سنت پیغمبر(ص) کا تذکرہ ہوئے بغیر حکمیت کی داستان عراق اور شام والوں کے درمیان ایک اور اختلاف کا سرچشمہ بن گیا۔[19] اور شام والوں کیلئے حکمیت کا سب سے اہم فائدہ یہ تھا انہوں نے حکمیت کے بعد معاویہ کو امیرالمؤمنین کا لقب دینے لگا۔[20]

خوارج کی پیدایش

تفصیلی مضمون: خوارج

امام علی(ع) کے کچھ سپاہی شروع سے حکمیت کے مخالف تھے اور اسے دین سے خارج ہونے اور ایمان میں شک کی نشانی خیال کرتے تھے۔ [21] بعض افراد حکمیت کے بے نتیجہ ختم ہونے کے بعد قرآن کی دو آیتوں (مائدہ:۴۴؛ حجرات:۹) سے استناد کرتے ہوئے معاویہ کے ساتھ جنگ جاری رکھنے کا مطالبہ کرنے لگے اور حکمیت کو قبول کرنے کو کفر کا سبب قرار دیتے ہوئے اس سے توبہ کرنے لگے۔ انہوں نے امام علی(ع) سے بھی اس کفر سے توبہ کرنے اور معاویہ سے طے پانے والے شرائط کو توڑنے کا مطالبہ کیا۔ امام نے حکمیت کو کلعدم قرار دینے کے مطالبے کو تسلیم نہیں کیا اور جنگ بندی کے بعد امام کوفہ کی طرف اور معاویہ شام کی طرف روانہ ہو گئے۔ حکمیت کے مخالفین امام علی(ع) سے جدا ہوگئے اور کوفہ کے نزدیک کسی قریہ میں چلے گئے۔[22] یوں خوارج کے نام سے ایک گروہ نے سر اٹھایا۔

حوالہ جات

  1. ابن ابی ‏الحدید، ج۲، ص۲۱۰.
  2. ابن مزاحم، ص ۴۷۸
  3. ابن مزاحم، ص ۴۹۰
  4. ابن اعثم، ج۳، ص۱۶۳.
  5. یعقوبی، تاریخ یعقوبی، ج۲، ص۱۸۹.
  6. ابن مزاحم، ص۵۰۴.
  7. شہیدی، ص۱۴۲.
  8. طبری، ج۳، ص۱۰۳ - ۱۰۴.
  9. آبی ابوسعد، ج۱، ص۴۲۱.
  10. وقعۃصفین،ص:۵۳۴
  11. وقعۃصفین،ص۵۳۴-۵۳۵
  12. وقعۃصفین،ص۵۳۶-۵۳۷
  13. ابن مزاحم، وقعۃ صفین، ص۵۴۵
  14. نک: ابن ابی‎‏الحدید، ج۲، ص۲۵۵.
  15. ہمان، ص۲۵۶.
  16. «قَد غَدَرتَ و فَجَرتَ و اِنَّما مَثَلُك مَثَلُ الكَلبِ ان تَحمِل عَلیہ یلہث او تَترُكہ یلہث سورہ اعراف کی آیت نمبر ۱۷۶ کی طرف اشارہ ہے۔
  17. «اِنَّما مَثَلُكَ مَثَلُ الحِمارِ یحمِل اَسفاراً»(سورہ جمعہ، آیہ ۵)
  18. ابن ابی ‏الحدید، ہمان.
  19. ابن مزاحم، ص۵۴۵ و ہمچنین نک: شہیدی، ص۱۴۳ و ابن ابی ‏الحدید، ہمان.
  20. بلاذری، ج۲، ص۳۴۲.
  21. ابن مزاحم، وقعۃ صفین، ۱۳۸۲ق، ص ۴۸۴؛ بَلاذُری، جُمَل من انساب الاشراف، ج ۳، ص ۱۱۱-۱۱۲
  22. ابن مزاحم، وقعۃ صفین، ۱۳۸۲ق، ص ۵۱۳-۵۱۴؛ بلاذری، جُمَل من انساب الاشراف، ج ۳، ص ۱۱۴، ۱۲۲؛ طبری، تاریخ، ج ۵، ص ۶۳، ۷۲، ۷۸؛ مسعودی، مروج، ج ۳، ص ۱۴۴


منابع

  • آبی ابوسعد، من نثر الدر، وزارۃ الثقافہ سوریہ، دمشق.
  • ابن ابی‏ الحدید، شرح نہج البلاغۃ تحقیق: محمد أبوالفضل إبراہیم، دار إحیاء الكتب العربیۃ، ۱۳۷۸ش - ۱۹۵۹م. (نسخہ موجود در نرم‏ افزار مکتبۃ اہل البیت، نسخہ ۲.۰)
  • ابن اعثم، الفتوح، دارالندوہ، بیروت.
  • ابن مزاحم، وقعۃ صفین، انتشارات بصیرتی، قم.
  • ابن مزاحم، نصر، وقعۃ صفین، قاہرہ، چاپ عبدالسلام محمد ہارون، ۱۳۸۲ق، چاپ افست قم ۱۴۰۴.
  • بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، تحقیق: محمدباقر محمودی، موسسہ اعلمی، بیروت.
  • بلاذری، احمد بن یحیی، جُمَل من انساب الاشراف، چاپ سہیل زکار و ریاض زرکلی، بیروت ۱۴۱۷/۱۹۹۷.
  • شہیدی، سیدجعفر، تاریخ تحلیلی اسلام، تا پایان امویان، مرکز نشر دانشگاہی، (چاپ ۴۶) تہران، ۱۳۹۰.
  • طبری، تاریخ طبری، موسسہ اعلمی، بیروت.
  • مسعودی، مروج الذہب، بیروت.
  • مطہر بن طاہر مقدسی، آفرینش و تاریخ، ترجمہ: محمد رضا شفیعی کدکنی، تہران، آگہ، چ اول، ۱۳۷۴.
  • یعقوبی، احمد، تاریخ یعقوبی، بیروت، دارصادر.