مسجد اقصیٰ

ویکی شیعہ سے
نظرثانی بتاریخ 18:53, 28 اپريل 2018 از Hakimi (تبادلۂ خیال | شراکتیں)
(فرق) → پرانا نسخہ | حالیہ نظرثانی (فرق) | →اگلا اعادہ (فرق)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

مسجد اقصیٰ [مسجد الاقصیٰ] بیت المقدس شہر میں واقع مسلمانوں کی مقدس مساجد میں سے ایک ہے۔ بعض روایات کی بنا پر رسول اکرم(ص) اس مقام سے معراج پر گئے ہیں۔

وجہ تسمیہ

مسجد اقصی عربی زبان میں دورترین مسجد کے معنا میں ہے اور اب اس مسجد کا مشہور نام بیت المقدس ہے ۔مسلمان اس جگہ رسول اکرم کے معراج پر جانے کی جگہ حوالے سے جانتے ہیں۔ یہ نام سورہ اسراء کی آیت سے لیا گیا ہے۔[1] این مسجد اس آیت کے نازل ہونے کے ۹۱ سال بعد ۶۲۱م میں بنائی گئی ۔ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ قرآن پاک میں اس لفظ کو مسجد کے عنوان سے نہیں بلکہ مسجد کے لغوی معنا بہت زیادہ دور عبادت کرنے کی جگہ کے معنا میں استعمال کیا گیا ہے۔

ِآجکل جس مشہور مسجد کو مسجد اقصی کہا جاتا ہے یہ ایک نئی اصطلاح ہے جبکہ قدیم مؤرخین جب مسجد اقصی کا نام لیتے تو اس سے رسول اکرم کی معراج کے وقت کا مشہور اور معروف حصہ مراد لیتے تھے جو اس حصاری دیوار پر بنائے جانے والے حفاظتی برج اور اس میں بنے ہوئے دروازوں اور صحن کے کچھ حسے یا مکمل حصے کیلئے بولا جاتا تھا۔[2]

موقعیت جغرافیایی و مختصات بنا

ٓآجکل مسجد اقصی حرم شریف کے صحن میں جنوب ک طرف مسجد صخرہ سے 500 میٹر کے فاصلے پر ہے ۔مسجد کی تعمیرات ۷۰۵ میلادی میں مکمل ہوئیں۔ ۸۸ میٹر طول و ۳۵ میٹ عرض پر مشتمل ہے ۔مسجد کی عمارت ۵۳ مرمری ستونوں اور مربع شکل کے ۴۹ پایوں پر بنائی گئی ہے۔[3]

تاریخچہ

جب عمر بن خطاب یروشلم کی فتح کے بعد یہاں آئے تو اسوقت مسجد اقصی اور دوسرے مذہبی مقامات موجود نہیں تھے ۔ اس نے صحن کے بلند مقام پر معابد کے کنارے مسجد بنوائی جو مسجد عمر کے نام مشیور ہوئی ۔[4]

عبدالملک بن مروان اموی خلیفے نے (۲۶- ۸۶ ه. ق) حرم میں دو معروف مسجدیں بنوائیں ان میں سے ایک مسجد اقصی تھی اس کے دروازوں پر سونے اور چاندی کے ورق چڑھائے گئے ۔ عبدالملک کے زمانے میں عبداللہ بن زبیر نے حج کے موقع پر حج سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اموی حاکم کے خلاف تشہیرات کرنے اور لوگوں سے بیعت لینے کا کام لیا۔اس نے مکہ میں لوگوں کے سامنے روز عرفہ اور منا کے دنوں میں اپنے خطبوں میں رسول اللہ کی عبد الملک کے جد حکم بن العاص پر لعنت یاد کروا کر شامیوں کو اپنے حق میں مائل کرتا رہا۔[5] اس کے جواب میں عبد الملک نے نے بھی حاجیوں کو حج پر جانے سے روک دیا اور زُہری نام کے درباری عالم کے فتوے کی مدد سے لوگوں کو بیت المقدس میں حج ادا کرنے اور مسجد اقصی کے صخرہ کے طواف پر ابھارا ۔[6]

جب صلیبیوں نے ۱۰۹۹م. میں بیت المقدس پر ناجائز قبضہ کیا اور اس کے ایک حصے کو کلیسا بنا دیا اور باقی حصے میں کچھ کو اپنے فوجیوں کی استراحتگاہ اور کچھ کو اپنی چیزوں کو ذخیرہ کرنے کیلئے گودام بنا دیا ۔ لیکن صلاح الدین ایوبی نے ان سے بیت المقدس کو واپس لے لیا اور مسجد کی مرمت کا اقدام کیا، محراب مسجد کو دوبارہ تعمیر کیا، اسکے گنبد پر تزئین و آرائش کا کام کیا اور معروف لکڑی کا منبر وہاں رکھوایا ۔[7]

حوالہ جات

  1. اسراء، ۱.
  2. حمیدی، ص۱۸۴ و ۱۸۵.
  3. حمیدی، ص۱۸۳.
  4. طبری، ج ۳، ص۱۰۶.
  5. اخبار مکہ، فاکہی، ج۱، ص۳۵۶؛ البدایہ و النہایہ، ج۸، ص۲۸۰.
  6. تاریخ یعقوبی، ج۲، ص۲۶۱؛ البدایہ و النہایہ، ج۸، ص۲۸۰؛ حیاة الحیوان، ج۲، ص۵۸.
  7. حمیدی، ص۱۸۳.


منابع

  • دانشنامہ جہان اسلام، ج۱، ذیل مدخل «بیت المقدَّس».
  • حمیدی، جعفر، تاریخ اورشلیم، امیرکبیر، تہران، دوم، ۱۳۸۱ش.