"مبطلات روزہ" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
م
 
سطر 93: سطر 93:
 
[[en:Invalidators of Fasting]]
 
[[en:Invalidators of Fasting]]
 
[[fr:Muftirât]]
 
[[fr:Muftirât]]
 +
[[tr:Orucu Batıl Eden Şeyler]]
  
 
[[زمرہ:رمضان]]
 
[[زمرہ:رمضان]]
 
[[زمرہ:تصحیح شدہ مقالے]]
 
[[زمرہ:تصحیح شدہ مقالے]]

حالیہ نسخہ بمطابق 07:31, 23 مئی 2020

مشہور احکام
رساله عملیه.jpg
نماز
واجب نمازیں یومیہ نمازیںنماز جمعہنماز عیدنماز آیاتنماز میت
مستحب نمازیں نماز تہجدنماز غفیلہنماز جعفر طیارنماز امام زمانہنماز استسقاءنماز شب قدرنماز وحشتنماز شکرنماز استغاثہدیگر نمازیں
دیگر عبادات
روزہخمسزکاتحججہاد
امر بالمعروف و نہی عن المنکرتولیتبری
احکام طہارت
وضوغسلتیممنجاساتمطہرات
مدنی احکام
وکالتوصیتضمانتکفالتارث
عائلی احکام
شادی بیاهمتعہتعَدُّدِ اَزواجنشوز
طلاقمہریہرضاعہمبستریاستمتاع
عدالتی احکام
قضاوتدیّتحدودقصاصتعزیر
اقتصادی احکام
خرید و فروخت (بیع)اجارہقرضہسود
دیگر احکام
حجابصدقہنذرتقلیدکھانے پینے کے آدابوقفاعتکاف
متعلقہ موضوعات
بلوغفقہشرعی احکامتوضیح المسائل
واجبحراممستحبمباحمکروہ


مُبطِلات روزہ یا مُفْطِرات ان امور کو کہا جاتا ہے جن کی انجام دہی روزے کو باطل کرتی ہے۔ مبطلات روزہ میں سے اکثر جیسے کھانا، پینا، مباشرت، استمنا اور قے کرنا وغیرہ روزے کی حالت میں حرام ہیں؛ لیکن بعض مبطلات اگرچہ روزے کی بطلان کا سبب ہے لیکن ان کی انجام دہی جائز ہے جیسے ظہر کی اذان سے پہلے سفر کرنا۔

حیض اور نفاس کے علاوہ باقی مبطلات صرف اس وقت روزے کو باطل کرتی ہیں جب انہیں عمدا بجا لائے لیکن فراموشی یا بے اختیاری کی حالت میں روزہ باطل نہیں ہوتا۔

تعریف اور اقسام

مُبطِلات روزہ ان امور کو کہا جاتا ہے جن کی انجام دہی روزے کو باطل کرتی ہے۔ فقہی کتابوں میں انہیں "مُفطِرات" کے نام سے یاد کئے جاتے ہیں۔[1] مبطلات روزہ کا شرعی حکم مختلف ہے۔ ان میں سے بعض کی انجام دہی روزے کی حالت میں حرام اور ان سے اجتناب واجب ہے۔ جبکہ بعض کی انجام دہی روزے کی حالت میں حرام نہیں ہے اور ان کو انجام دینا جائز ہے اگرچہ ان کی انجام دہی سے روزہ باطل ہو جاتا ہے۔

وہ مبطلات جن کی انجام دہی روزے کی حالت میں جائز نہیں

فقہاء کے مطابق روزے کی حالت میں درج ذیل امور سے اجتناب ضروری ہے۔ البتہ ان میں سے بعض کے متعلق اختلاف پایا جاتا ہے:

  1. کھانا اور پینا
  2. مباشرت
  3. استمناء
  4. خدا، پیغمبر اکرمؐ اور ائمہ معصومینؑ کی طرف جھوٹی نسبت دینا
  5. غلیظ غبار کا حلق تک پہنچانا
  6. پورے سر کو پانی میں ڈبونا۔ بعض فقہاء اسے مبطلات روزہ میں سے قرار نہیں دیتے۔[2]
  7. اذان صبح تک جنابت اور حیض و نفاس کی حالت میں باقی رہنا۔ مجنب اور حیض و نفاس سے پاک ہونے والے پر ضروری ہے کہ اذان صبح سے پہلے غسل کرے اگر اذان صبح تک غسل نہ کرے تو اس کا روزہ باطل ہے۔
  8. مایع چیزوں کے ساتھ امالہ کرنا
  9. قے کرنا[3]
  10. روزہ باطل کرنے کی نیت کرنا۔[4]

درج بالا امور کو جان بوجھ کر انجام دینے کی صورت میں روزہ باطل ہو جاتا ہے لیکن فراموشی یا بے اختیاری کی حالت میں روزہ باطل نہیں ہوتا ہے۔[5]

وہ مبطلات جن کی انجام دہی روزے کی حالت میں جائز ہے

اذان ظہر سے پہلے سفر کرنا اور حیض یا نفاس کا خون دیکھنا اگرچہ روزے کی بطلان کا سبب ہیں لیکن ان سے اجتناب ضروری نہیں ہے یعنی روزے کی حالت میں بھی سفر کر سکتے ہیں۔[6]

کھانا اور پینا

فقہاء کے مطابق ماہ رمضان میں اگر جان بوجھ کر کوئی چیز کھائے یا پئے تو روزہ باطل ہو جاتا ہے لیکن اگر کوئی شخص بھول کر کوئی چیز کھائے یا پئے تو روزہ باطل نہیں ہوگا۔[7] بعض مراجع تقلید جیسے امام خمینی، آیت اللہ مکارم شیرازی، آیت اللہ بہجت اور آیت اللہ شبیری زنجانی تقویتی انجکشن لگانے کو روزے کی حالت میں بطور احتیاط جائز نہیں سمجھتے؛ لیکن دوسرے مجتہدین جیسے آیت اللہ خویی، آیت اللہ سیستانی، آیت اللہ تبریزی اور آیت اللہ صافی گلپایگانی کہتے ہیں کہ انجکشن چاہے تقویتی ہو یا غیر تقویتی روزے کو باطل نہیں کرتا ہے۔[8]

پیاس کی شدت

اکثر شیعہ فقہاء کے مطابق اگر روزہ‌دار کو بہت زیادہ پیاس لگے جو قابل برداشت نہ ہو تو پیاس کی شدت کو ختم کرنے کی حد تک پانی پی سکتا ہے۔[9] پیاس کی شدت کے باعث پانی پینے والے شخص کے بارے میں مجتہدین دو قسم کے فتوے دیتے ہیں: بعض مجتہدین جو اس حالت میں پانی پینے کو جائز سمجھتے ہیں وہ کہتے ہیں اس شخص کا روزہ باطل ہو جاتا ہے اس کے باوجود اس کو اذان مغرب تک مبطلات روزہ سے پرہیز کرنا چاہئے اور بعد میں قضا بھی رکھنا ضروری ہے۔[10] ان کے مقابلے میں بعض کہتے ہیں کہ اس حالت میں ضرورت کی حد تک پانی پینے کے باوجود اس کا روزہ صحیح ہے لہذا بعد میں قضا رکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔[11]

جنسی خواہشات

جنسی خواہشات روزے کو باطل کرتی ہیں:

جماع

جِماع یا مباشرت اگرچہ منی خارج نہ بھی ہو روزے کو باطل کرتی ہے۔ اس سلسلے میں قُبُل یا دُبُر (آگے اور پیچھے) میں کوئی فرق نہیں ہے اسی طرح اس حکم میں مرد اور عورت میں بھی کوئی فرق نہیں ہے۔[12]

استمناء

فقہاء استمناء (ایسا کام کرنا جس سے منی خارج ہو) کو بھی مبطلات روزہ میں سے قرار دیتے ہیں؛[13] البتہ فقہاء فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص منی خارج کرنے کی نیت کے بغیر ایسا کام کرے لیکن بغیر اختیار کے منی خارج ہو جائے تو اس کا روزہ‌ صحیح ہے۔[14]

اگر اپنی بیوی کے ساتھ ملاعبہ (چھیڑ چھاڑ) کی وجہ سے اچانک منی خارج ہو جائے تو روزہ باطل نہیں ہوتا؛ لیکن اگر کوئی شخص منی نکالنے کی قصد سے یا اس طرح اپنی بیوی کے ساتھ ملاعبہ کرے جس سے عموما منی خارج ہوتی ہے، اور منی بھی خارج ہو جائے تو اس کا روزہ باطل ہو جاتا ہے۔[15]

احتلام

احتلام (نیند میں منی خارج ہونا) روزے کے مبطلات میں سے نہیں ہے؛ لیکن اگر کسی شخص کو صبح کی اذان سے پہلے احتلام ہو جائے تو صبح کی اذان سے پہلے اس پر غسل جنابت کرنا واجب ہے۔[16] دن میں کسی وقت بھی احتلام ہونے کی صورت میں روزے کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑتا ہے۔[17]

گرد و غبار اور سگریٹ

اکثر فقہاء کے مطابق اگر گرد و غبار حلق تک پہچنے تو روزہ باطل ہو جاتا ہے۔[18] اس بنا پر سگریٹ اور حقہ پینے کو روزے کے مبطلات میں شمار کرتے ہیں۔[19] البتہ بعض فقہاء گرد و غبار کے حلق تک پہنچنے کو مبطلات روزہ میں شمار نہیں کرتے،[20] اس کے باوجود مذکورہ فقہاء بھی اس بات کے معتقد ہیں کہ احتیاط مستحب کے طور پر گرد و غبار اور سگریٹ نوشی وغیرہ سے روزہ باطل ہو جاتا ہے۔[21]

اسی طرح بعض فقہاء جو گرد و غبار کے حلق تک پہنچنے کو مبطلات روزہ میں شمار کرتے ہیں،[22] وہ فرماتے ہیں کہ روزہ دار کو احتیاط واجب کی بنا پر سگریٹ اور تمباکو سے پرہیز کرنا ضروری ہے۔[23]

جھوٹ بولنا

جھوٹ بولنا اور اس طرح کے دوسرے گناہ جیسے غنا، نامحرم کی طرف نگاہ کرنا اور حسد وغیرہ اگرچہ حرام‌ ہیں اور روزے کی حالت میں ان کے کی گناہ میں مزید اضافہ ہوتا ہے[24] لیکن ان کا اتکاب روزے کو باطل نہیں کرتی ہے۔[25] فقہاء کے مطابق صرف خدا، پیغمبر اسلامؐ اور ائمہ معصومینؑ کی طرف جھوٹی نسبت دینا روزے کی بطلان کا سبب بنتا ہے۔[26] فقہاء حضرت زہرا(س) اور دوسرے انبیاء اور ان کے جانشینوں کی طرف بھی جھوٹی نسبت دینے کو مبطلات روزہ میں شمار کرتے ہیں۔[27] محمدحسین کاشف‌ الغطاء خدا، پیغمبر اسلام اور ائمہ معصومین کی طرف جھوٹی نسبت دینے کو مبطلات روزہ میں شمار نہیں کرتے۔ آپ اس بات کے معتقد ہیں کہ یہ کام گناہان کبیرہ میں سے ہے اور دوسرے گناہوں کی طرح ماہ رمضان میں ان کے گناہوں میں اضافہ ہوتا ہے اس سے روزہ باطل نہیں ہوتا۔[28]

تیراکی، حمام اور غسل کرنا

بعض فقہاء پورے سر کو پانی میں ڈبونے کو روزے کے مبطلات میں سے قرار دیتے ہیں۔[29] اس بنا پر روزے کی حالت میں غسل ارتماسی صحیح نہیں ہے اور روزہ باطل ہونے کا موجب ہے۔[30] ان فقہاء کے مطابق اگر سر کا کچھ حصہ پانی سے باہر ہو تو روزہ صحیح ہے۔[31]

بعض دوسرے فقہاء روزے کی حالت میں سر کو پانی میں ڈبونے کو حرام قرار دیتے ہیں؛ لیکن اسے مبطلات روزہ میں شمار نہیں کرتے۔[32]

حوالہ جات

  1. ملاحظہ کریں: حلی، الجامع للشرایع، ۱۴۰۵ق، ص۱۵۵؛ کاشف‌الغطا، انوارالفقاہہ، ۱۴۲۲ق، ص۱۲۔
  2. ملاحظہ کریں: یزدی، العروۃ الوثقی، ۱۴۱۹ق، ج۳، ص۵۵۵، تعلیقات کاشف الغطاء، اصفہانی، آل‌یاسین و جواہری؛ نیز شبیری زنجانی، رسالہ توضیح السمائل، ص۳۰۵، مسئلہ ۱۶۱۷۔
  3. یزدی، العروۃ الوثقی، ۱۴۱۹ق، ج۳، ص۵۴۱-۵۷۶۔
  4. یزدی، العروۃ الوثقی، ۱۴۱۹ق، ج۳، ص۵۳۹۔
  5. یزدی، العروۃ الوثقی، ۱۴۱۹ق، ج۳، ص۵۴۱-۵۷۶۔
  6. یزدی، العروۃ الوثقی، ۱۴۱۹ق، ج۳، ص۶۲۴۔
  7. یزدی، العروۃ الوثقی، ۱۴۱۹ق، ج۳، ص۵۴۱-۵۴۳۔
  8. بنی‌ہاشمی خمینی، توضیح‌المسائل سیزدہ‌مرجع، ۱۴۲۴ق، ص۸۹۲، ۸۹۳۔
  9. حکیم، مستمسک العروۃ الوثقی، ۱۳۷۴ش، ج۸، ص۳۲۴؛ آملی، مصباح‌الہدی، ۱۳۸۰ق، ج۸، ص۱۴۰، خمینی، استفتائات، دفتر نشر اسلامی، ج۱، ص۳۲۱۔
  10. ملاحظہ کریں: آملی، مصباح‌الہدی، ۱۳۸۰ق، ج۸، ص۱۴۰؛ حکیم، مستمسک العروۃ الوثقی، ۱۳۷۴ش، ج۸، ص۳۲۴؛ سبزواری، مہذب الاحکام، ۱۴۱۳ق، ج۱۰، ص۱۳۲۔
  11. ملاحظہ کریں: شہید اول، الدروس الشرعیہ، ۱۴۱۷ق، ج۱، ص۲۷۶؛ حلی، منتہی‌المطلب، ۱۴۱۲ق، ج۹، ص۱۳۹؛ شیخ بہایی، التعلیقۃ علی الرسالۃ الصومیہ، ۱۴۲۷ق، ص۴۹-۵۰؛ اردبیلی، مجمع‌الفائدہ، ۱۴۰۳ق، ج۵، ص۳۲۵-۳۲۶؛ حکیم، مصباح‌المنہاج، ۱۴۲۵ق، ص۱۶۱؛ سبحانی، رسالہ توضیح‌المسائل، مؤسسہ امام صادق، مسئلہ ۱۲۵۶۔
  12. یزدی، العروۃ الوثقی، ۱۴۱۹ق، ج۳، ص۵۴۳۔
  13. یزدی، العروۃ الوثقی، ۱۴۱۹ق، ج۳، ص۵۴۶۔
  14. یزدی، العروۃ الوثقی، ۱۴۱۹ق، ج۳، ص۵۴۸۔
  15. بہجت، استفتائات، ۱۴۲۸ق، ج۲، ص۳۵۰؛ خمینی، استفتائات، ۱۴۲۲ق، ج۱، ص۳۰۷۔
  16. یزدی، العروۃ الوثقی، ۱۴۱۹ق، ج۳، ص۵۴۷۔
  17. یزدی،العروۃ الوثقی (مع تعلیقات الفاضل اللنکرانی)، مرکز فقہ الائمۃ الاطہار، ج۲، ص۲۳۔
  18. یزدی، العروۃ الوثقی، ۱۴۱۹ق، ج۳، ص۵۵۳-۵۵۴۔
  19. یزدی، العروۃ الوثقی، ۱۴۱۹ق، ج۳، ص۵۵۴۔
  20. ملاحظہ کریں:‌ شبیری، رسالہ توضیح المسائل، ۱۴۳۰ق، ص۳۲۹، مسئلہ ۱۵۸۱۔
  21. ملاحظہ کریں:‌ شبیری، رسالہ توضیح المسائل، ۱۴۳۰ق، ص۳۳۴، مسئلہ ۱۶۱۲ و ۱۶۱۴۔
  22. فاضل لنکرانی، توضیح المسائل، ۱۳۷۴ش، ج۱، ص۳۱۱، مسئلہ ۱۶۷۲۔
  23. فاضل لنکرانی، توضیح المسائل ۱۳۷۴ش، ج۱، ص۳۱۱، مسئلہ ۱۶۷۳۔
  24. کاشف‌الغطاء، العروۃ الوثقی، ۱۴۱۹ق، ج۳، ص۵۴۹۔
  25. ابن‌ادریس، سرائر، ۱۴۱۰ق، ج۱، ص۳۷۳-۳۷۴۔
  26. یزدی، العروۃ الوثقی، ۱۴۱۹ق، ج۳، ص۵۴۹۔
  27. ملاحظہ کریں: یزدی، العروۃ الوثقی، ۱۴۱۹ق، ج۳، ص۵۵۰۔
  28. کاشف‌الغطاء، العروۃ الوثقی، ۱۴۱۹ق، ج۳، ص۵۴۹۔
  29. یزدی، العروۃ الوثقی، ۱۴۱۹ق، ج۳، ص۵۵۵۔
  30. یزدی، العروۃ الوثقی، ۱۴۱۹ق، ج۳، ص۵۵۹، مسئلہ ۴۳۔
  31. یزدی، العروۃ الوثقی، ۱۴۱۹ق، ج۳، ص۵۵۶، مسئلہ ۳۳۔
  32. ملاحظہ کریں: یزدی، العروۃ الوثقی، ۱۴۱۹ق، ج۳، ص۵۵۵، تعلیقات کاشف الغطاء، اصفہانی، آل‌یاسین و جواہری؛ شبیری زنجانی، رسالہ توضیح‌السمائل، ص۳۰۵، مسئلہ ۱۶۱۷۔


مآخذ

  • ابن‌ادریس، محمد بن منصور، السرائر الحاوی لتحریر لفتاوی، قم، دفتر انتشارات اسلامی، چاپ دوم، ۱۴۱۰ق۔
  • آملی، محمدتقی، م‍ص‍ب‍اح‌ ال‍ہ‍دی‌ ف‍ی‌ ش‍رح‌ ال‍ع‍روہ‌ ال‍وث‍ق‍ی‌، تہران، نشر مؤلف، ۱۳۸۰ق۔
  • اردبیلی، احمد بن محمد، مجمع الفائدۃ و البرہان، قم، موسسۃ النشر الاسلامی، ۱۴۰۳ق۔
  • بہجت، محمدتقی، استفتائات، قم، دفتر حضرت آیت‌اللہ بہجت، چاپ اول، ۱۴۲۸ق۔
  • حکیم، سید محسن، مستمسک العروۃ الوثقی، قم، موسسۃ دار التفسیر، ۱۳۷۴ش۔
  • حکیم، سید محمدسعید، مصباح المنہاج کتاب الصوم، قم، دار الہلال، ۱۴۲۵ق۔
  • حلی، حسن بن یوسف، منتہی المطلب فی تحقیق المذہب، مشہد، مجمع البحوث الاسلامیہ، ‌۱۴۱۲ق۔
  • حلی، یحیی بن سعید، الجامع للشرائع، تصحیح جمعی از محققین تحت اشراف شیخ جعفر سبحانی، قم، موسسۃ سید الشہداء العلمیہ، ۱۴۰۵ق.
  • خمینی، سید روح‌اللہ، استفتائات، قم، دفتر انتشارات اسلامی، چاپ پنجم، ۱۴۲۲ق۔
  • خوئی، سید ابوالقاسم، العروۃ الوثقی مع التعلیقات، قم، موسسہ النشر الاسلامی، ۱۴۱۹ق۔
  • سبحانی، جعفر، توضیح المسائل، قم، مؤسسہ امام صادق(ع)، بی‌تا۔
  • سبزواری، سید عبدالاعلی، مہذب الاحکام، قم، موسسۃ المنار، ۱۴۱۳ق۔
  • سیستانی، سید علی، توضیح المسائل، مشہد، نشر ارسلان، ۱۳۸۶ش۔
  • شبیری زنجانی، سید موسی، رسالہ توضیح السمائل، قم۔
  • شہید اول، محمد بن مکی، الدروس الشرعیہ فی فقہ الامامیہ، قم، موسسہ النشر الاسلامی، ۱۴۱۷ق۔
  • شیخ بہایی، محمد بن حسین، التعلیقہ علی الرسالۃ الصومیۃ، قم، موسسہ عاشورا، ۱۴۲۷ق۔
  • فاضل لنکرانی، محمد،‌ توضیح المسائل، قم، چاپ ۱۱۴، ۱۴۲۶ق۔
  • کاشف‌الغطا، حسن، انوارالفقاہہ، نجف، مؤسسہ کاشف‌الغطا، چاپ اول، ۱۴۲۲ق۔
  • کاشف‌الغطاء، محمدحسین، العروۃ الوثقی مع التعلیقات، قم، مؤسسۃ النشر الاسلامی، ۱۴۱۹ق۔
  • مکارم شیرازی، ناصر، توضیح المسائل، قم، مدرسۃ الامام علی بن ابی‌طالب، ۱۳۷۸ش۔
  • یزدی، سید محمدکاظم، العروۃ الوثقی مع التعلیقات، قم، مؤسسۃ النشر الاسلامی، ۱۴۱۹ق۔
  • یزدی، سید محمدکاظم، العروۃ الوثقی، تعلیقات محمد فاضل موحدی لنکرانی، قم، مرکز فقہ الائمۃ الاطہار (علیہم‌السلام)، بی‌تا۔