"قصاص" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
م
م (مشروعیت قصاص کے دلائل)
(ایک ہی صارف کا 4 درمیانی نسخے نہیں دکھائے گئے)
سطر 1: سطر 1:
 
{{زیر تعمیر}}
 
{{زیر تعمیر}}
 
{{احکام}}
 
{{احکام}}
'''قِصاص''' اسلامی [[فقہ]] کی ایک اصطلاح ہے جس کے معنی عمدی جنایتوں میں مقابلہ بہ مثل کے ہیں۔ قصاص دو قسم قصاص نَفْس اور قصاص عضو میں تقسیم ہوتا ہے۔ قصاص کے حکم کو دین [[اسلام]] کے مسلّم [[احکام]] میں شمار کیا جاتا ہے اور [[قرآن]] کی متعدد [[آیات]]، [[متواتر]] احادیث اور  [[اجماع]] اس پر دلالت کرتی ہیں۔ غلام اور آزاد ہونے میں مساوی ہونا، دین کا ایک ہونا، [[بلوغ|بالغ]] ہونا اور [[عقل|عاقل]] ہونا قصاص کے تحقق کے شرائط میں سے ہیس۔ قصاص، [[دیہ]]، [[حد|حَدّ]] اور [[تعزیر]] [[جمہوری اسلامی ایران]] کے قانون مجازات اسلام کے چار اصلی مجازات میں سے ہیں۔
+
'''قِصاص''' اسلامی [[فقہ]] کی ایک اصطلاح ہے جس کے معنی عمدی جرائم میں جوابی کاروائی کو کہا جاتا ہے۔ قصاص دو قسم کے ہیں قصاص نَفْس اور قصاص عضو۔ قصاص کے حکم کو دین [[اسلام]] کے مسلّم [[احکام]] میں شمار کیا جاتا ہے اور [[قرآن]] کی متعدد [[آیات]]، [[متواتر]] احادیث اور  [[اجماع]] اس پر دلالت کرتی ہیں۔ غلام اور آزاد ہونے میں مساوی ہونا، دین کا ایک ہونا، [[بلوغ|بالغ]] ہونا اور [[عقل|عاقل]] ہونا قصاص کے تحقق کے شرائط میں سے ہیں۔ قصاص، [[دیہ]]، [[حد|حَدّ]] اور [[تعزیر]] [[جمہوری اسلامی ایران]] کے قانون مجازات اسلام کے چار اصلی مجازات میں سے ہیں۔
  
==جوابی کاروائی==<!--
+
==جوابی کاروائی==
مقابلہ بہ مثل در جنایات عمدی را قصاص می‌گویند۔<ref>مؤسسہ دایرۃ المعارف فقہ اسلامی، فرہنگ فقہ، ۱۳۹۵ش، ج۶، ص۵۹۷۔</ref> اگر کسی را کہ قتلی مترکب شدہ یا جراحتی بہ شخصی وارد کردہ است، بکشند یا ہمان جراحت را بہ او وارد کنند، او را قصاص کردہ‌اند۔<ref>نجفی، جواہر الکلام، ۱۴۰۴ق، ج۴۲، ص۷۔</ref> در کتاب‌ہای [[فقہ|فقہی]] و حقوقی، بہ فردی کہ جنایت را انجام دادہ است، جانی می‌گویند و آن را کہ مورد جنایت قرار گرفتہ است، مَجْنیٌّ‌علیہ می‌نامند۔<ref>نگاہ کنید بہ مؤسسہ دایرۃ المعارف فقہ اسلامی، فرہنگ فقہ، ۱۳۹۵ش، ج۶، ص۶۰۱؛ [http://www۔shora-gc۔ir/Portal/file/?10525/ghanoon-mojazat-eslami۔pdf سایت شورای نگہبان قانون اساسی، قانون مجازات اسلامی، مادہ ۴۰۰۔]</ref>
+
عمدی جرائم میں جوابی کاروائی کو قصاص کہا جاتا ہے۔<ref>مؤسسہ دایرۃ المعارف فقہ اسلامی، فرہنگ فقہ، ۱۳۹۵ش، ج۶، ص۵۹۷۔</ref> اگر کسی قاتل کو قتل یا کسی پر کوئی چوٹ لگانے والے پر وہی چوٹ لگا دی جائے تو اسے قصاص لینا کہے گا۔<ref>نجفی، جواہر الکلام، ۱۴۰۴ق، ج۴۲، ص۷۔</ref> [[فقہ|فقہی]] اور حقوقی کتابوں میں جرم انجام دینے والے کو مجرم اور جس پر یہ جنایت واقع ہوئی ہے اسے مَجْنیٌّ‌علیہ کہا جاتا ہے۔<ref> مؤسسہ دایرۃ المعارف فقہ اسلامی، فرہنگ فقہ، ۱۳۹۵ش، ج۶، ص۶۰۱؛ [http://www۔shora-gc۔ir/Portal/file/?10525/ghanoon-mojazat-eslami۔pdf سایت شورای نگہبان قانون اساسی، قانون مجازات اسلامی، مادہ ۴۰۰۔]</ref>
  
==دلایل مشروعیت قصاص==
+
==مشروعیت قصاص کے دلائل==
[[فقیہ|فقہا]] قصاص را از احکام مسلم فقہ اسلامی می‌دانند کہ [[آیات]] بسیار و روایات [[متواتر|متواتری]] آن را تأیید می‌کنند و بر آن [[اجماع]] وجود دارد۔<ref>نگاہ کنید بہ نجفی، جواہر الکلام، ۱۴۰۴ق، ج۴۲، ص۷۔</ref> برخی از دلایل [[قرآن|قرآنی]] قصاص بہ نقل از کتاب [[جواہر الکلام]] نوشتہ [[محمدحسن نجفی]] (صاحبْ‌جواہر) بہ شرح زیر است:<ref>نجفی، جواہر الکلام، ۱۴۰۴ق، ج۴۲، ص۷تا۹۔</ref>
+
[[فقیہ|فقہا]] قصاص کو اسلامی فقہ کے مسلم احکام میں شمار کرتے ہیں جس پر بہت ساری [[آیات]] اور [[متواتر]] احادیث دلالت کرتی ہیں اس کے علاوہ اس پر فقہاء کا [[اجماع]] بھی ہے۔<ref>نجفی، جواہر الکلام، ۱۴۰۴ق، ج۴۲، ص۷۔</ref> قصاص پر دلالت کرنے والی بعض [[قرآن|قرآنی]] دلائل [[محمدحسن نجفی]] صاجب جواہر کی کتاب [[جواہر الکلام]] کے مطابق درج ذیل ہیں:<ref>نجفی، جواہر الکلام، ۱۴۰۴ق، ج۴۲، ص۷تا۹۔</ref>
  
* '''وَ لَكُمْ فِي الْقِصاصِ حَياۃٌ يا أُولِي الْأَلْبابِ'''<ref>سورہ بقرہ، آیہ ۱۷۹۔</ref> (و اى خردمندان، شما را در قصاص زندگانى است)۔<ref>ترجمہ فولادوند۔</ref>
+
* <font color=green>{{حدیث|وَلَكُمْ فِي الْقِصَاصِ حَيَاةٌ يَا أُولِي الْأَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ|ترجمہ=اے صاحبانِ عقل! تمہارے لئے قصاص یعنی جان کے بدلے جان والے قانون میں زندگی ہے تاکہ تم (خون ریزی سے) بچتے رہو۔}}</font><ref>سورہ بقرہ، آیہ ۱۷۹۔</ref>  
  
'''كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصاصُ فِي الْقَتْلى‏ الْحُرُّ بِالْحُرِّ وَ الْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَ الْأُنْثى‏ بِالْأُنْثى‏'''<ref>سورہ بقرہ، آیہ ۱۷۸۔</ref> (حكم قصاص در مورد كشتگان، بر شما نوشتہ شدہ است: آزاد در برابر آزاد، و بردہ در برابر بردہ، و زن در برابر زن)۔<ref>ترجمہ فولادوند۔</ref>
+
<font color=green>{{حدیث|يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى ۖ الْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالْأُنثَىٰ بِالْأُنثَىٰ|ترجمہ=اے ایمان والو! ان کے بارے میں جو (ناحق قتل کر دیئے گئے ہوں) تم پر قصاص (خون کا بدلہ خون) لکھ دیا گیا ہے یعنی آزاد کے بدلے آزاد، غلام کے بدلے غلام اور عورت کے بدلے عورت۔}}</font><ref>سورہ بقرہ، آیہ ۱۷۸۔</ref>  
  
* '''وَ كَتَبْنا عَلَيْہِمْ فيہا أَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ وَ الْعَيْنَ بِالْعَيْنِ وَ الْأَنْفَ بِالْأَنْفِ وَ الْأُذُنَ بِالْأُذُنِ وَ السِّنَّ بِالسِّنِّ وَ الْجُرُوحَ قِصاصٌ فَمَنْ تَصَدَّقَ بِہِ فَہُوَ كَفَّارَۃٌ لَہُ'''<ref>سورہ مائدہ، آیہ ۴۵۔</ref> (و در [تورات‏] بر آنان مقرّر كرديم كہ جان در مقابل جان، و چشم در برابر چشم، و بينى در برابر بينى، و گوش در برابر گوش، و دندان در برابر دندان مى‏باشد و زخمہا [نيز بہ ہمان ترتيب‏] قصاصى دارند۔ و ہر كہ از آن [قصاص‏] درگذرد، پس آن، كفّارہ [گناہان‏] او خواہد بود)۔<ref>ترجمہ فولادوند۔</ref>
+
* <font color=green>{{حدیث|وَكَتَبْنَا عَلَيْهِمْ فِيهَا أَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ وَالْعَيْنَ بِالْعَيْنِ وَالْأَنفَ بِالْأَنفِ وَالْأُذُنَ بِالْأُذُنِ وَالسِّنَّ بِالسِّنِّ وَالْجُرُوحَ قِصَاصٌ فَمَن تَصَدَّقَ بِهِ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَّهُ|ترجمہ=اور ہم نے اس (توراۃ) میں ان (یہودیوں) پر یہ حکم لکھ دیا تھا کہ جان کا بدلہ جان ہے اور آنکھ کے بدلے آنکھ، ناک کے بدلے ناک اور کان کے بدلے کان اور دانت کے بدلے دانت اور زخموں میں بھی برابر کا بدلہ ہے۔ پھر جو (قصاص) معاف کر دے، تو وہ اس کے لئے کفارہ ہوگا}}</font><ref>سورہ مائدہ، آیہ ۴۵۔</ref>  
  
* '''والْحُرُماتُ قِصاصٌ فَمَنِ اعْتَدى‏ عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُوا عَلَيْہِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدى‏ عَلَيْكُمْ'''<ref>سورہ بقرہ، آیہ ۱۹۴۔</ref> (و [ہتك‏] حرمتہا قصاص دارد۔ پس ہر كس بر شما تعدّى كرد، ہمان گونہ كہ بر شما تعدّى كردہ، بر او تعدّى كنيد)۔<ref>ترجمہ فولادوند۔</ref>
+
* <font color=green>{{حدیث|وَالْحُرُمَاتُ قِصَاصٌ ۚ فَمَنِ اعْتَدَىٰ عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُوا عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدَىٰ عَلَيْكُمْ ۚ|ترجمہ=اور حرمتوں میں بھی قصاص (ادلا بدلا) ہے لہٰذا جو شخص تم پر زیادتی کرے تو تم بھی اس کے ساتھ اسی طرح زیادتی کرو جس طرح اس نے تم پر زیادتی کی ہے}}</font><ref>سورہ بقرہ، آیہ ۱۹۴۔</ref>  
  
==قصاص نفْس و قصاص عضو==
+
==قصاص نفْس اور قصاص عضو==<!--
 
قصاص بہ دو قسم قصاص نَفْس و قصاص عضو یا در اصطلاح فقہ، قصاص طَرَف تقسیم می‌شود۔ قصاصِ نَفْس، کشتن کسی است کہ بہ‌عمد، دیگری را بہ قتل رساندہ است۔<ref>مؤسسہ دایرۃ المعارف فقہ اسلامی، فرہنگ فقہ، ۱۳۹۵ش، ج۶، ص۶۰۵۔</ref> قصاص عضو یا طَرَف درخصوص آسیب‌ہای عمدی (بہ‌جز قتل) مانند قطع عضو مطرح می‌شود۔<ref>مؤسسہ دایرۃ المعارف فقہ اسلامی، فرہنگ فقہ، ۱۳۹۵ش، ج۶، ص۵۹۹۔</ref>
 
قصاص بہ دو قسم قصاص نَفْس و قصاص عضو یا در اصطلاح فقہ، قصاص طَرَف تقسیم می‌شود۔ قصاصِ نَفْس، کشتن کسی است کہ بہ‌عمد، دیگری را بہ قتل رساندہ است۔<ref>مؤسسہ دایرۃ المعارف فقہ اسلامی، فرہنگ فقہ، ۱۳۹۵ش، ج۶، ص۶۰۵۔</ref> قصاص عضو یا طَرَف درخصوص آسیب‌ہای عمدی (بہ‌جز قتل) مانند قطع عضو مطرح می‌شود۔<ref>مؤسسہ دایرۃ المعارف فقہ اسلامی، فرہنگ فقہ، ۱۳۹۵ش، ج۶، ص۵۹۹۔</ref>
  

نسخہ بمطابق 18:30, 10 نومبر 2018

مشہور احکام
توضیح المسائل2.png
نماز
واجب نمازیں یومیہ نمازیںنماز جمعہنماز عیدنماز آیاتنماز میت
مستحب نمازیں نماز تہجدنماز غفیلہنماز جعفر طیارنماز امام زمانہنماز استسقاءنماز شب قدرنماز وحشتنماز شکرنماز استغاثہدیگر نمازیں
دیگر عبادات
روزہخمسزکاتحججہاد
امر بالمعروف و نہی عن المنکرتولیتبری
احکام طہارت
وضوغسلتیممنجاساتمطہرات
مدنی احکام
وکالتوصیتضمانتکفالتارث
عائلی احکام
شادی بیاهمتعہتعَدُّدِ اَزواجنشوز
طلاقمہریہرضاعہمبستریاستمتاع
عدالتی احکام
قضاوتدیّتحدودقصاصتعزیر
اقتصادی احکام
خرید و فروخت (بیع)اجارہقرضسود
دیگر احکام
حجابصدقہنذرتقلیدکھانے پینے کے آدابوقفاعتکاف
متعلقہ موضوعات
بلوغفقہشرعی احکامتوضیح المسائل
واجبحراممستحبمباحمکروہ

قِصاص اسلامی فقہ کی ایک اصطلاح ہے جس کے معنی عمدی جرائم میں جوابی کاروائی کو کہا جاتا ہے۔ قصاص دو قسم کے ہیں قصاص نَفْس اور قصاص عضو۔ قصاص کے حکم کو دین اسلام کے مسلّم احکام میں شمار کیا جاتا ہے اور قرآن کی متعدد آیات، متواتر احادیث اور اجماع اس پر دلالت کرتی ہیں۔ غلام اور آزاد ہونے میں مساوی ہونا، دین کا ایک ہونا، بالغ ہونا اور عاقل ہونا قصاص کے تحقق کے شرائط میں سے ہیں۔ قصاص، دیہ، حَدّ اور تعزیر جمہوری اسلامی ایران کے قانون مجازات اسلام کے چار اصلی مجازات میں سے ہیں۔

جوابی کاروائی

عمدی جرائم میں جوابی کاروائی کو قصاص کہا جاتا ہے۔[1] اگر کسی قاتل کو قتل یا کسی پر کوئی چوٹ لگانے والے پر وہی چوٹ لگا دی جائے تو اسے قصاص لینا کہے گا۔[2] فقہی اور حقوقی کتابوں میں جرم انجام دینے والے کو مجرم اور جس پر یہ جنایت واقع ہوئی ہے اسے مَجْنیٌّ‌علیہ کہا جاتا ہے۔[3]

مشروعیت قصاص کے دلائل

فقہا قصاص کو اسلامی فقہ کے مسلم احکام میں شمار کرتے ہیں جس پر بہت ساری آیات اور متواتر احادیث دلالت کرتی ہیں اس کے علاوہ اس پر فقہاء کا اجماع بھی ہے۔[4] قصاص پر دلالت کرنے والی بعض قرآنی دلائل محمدحسن نجفی صاجب جواہر کی کتاب جواہر الکلام کے مطابق درج ذیل ہیں:[5]

  • وَلَكُمْ فِي الْقِصَاصِ حَيَاةٌ يَا أُولِي الْأَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ(:ترجمہ اے صاحبانِ عقل! تمہارے لئے قصاص یعنی جان کے بدلے جان والے قانون میں زندگی ہے تاکہ تم (خون ریزی سے) بچتے رہو۔)[6]
  • يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى ۖ الْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالْأُنثَىٰ بِالْأُنثَىٰ(:ترجمہ اے ایمان والو! ان کے بارے میں جو (ناحق قتل کر دیئے گئے ہوں) تم پر قصاص (خون کا بدلہ خون) لکھ دیا گیا ہے یعنی آزاد کے بدلے آزاد، غلام کے بدلے غلام اور عورت کے بدلے عورت۔)[7]
  • وَكَتَبْنَا عَلَيْهِمْ فِيهَا أَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ وَالْعَيْنَ بِالْعَيْنِ وَالْأَنفَ بِالْأَنفِ وَالْأُذُنَ بِالْأُذُنِ وَالسِّنَّ بِالسِّنِّ وَالْجُرُوحَ قِصَاصٌ فَمَن تَصَدَّقَ بِهِ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَّهُ(:ترجمہ اور ہم نے اس (توراۃ) میں ان (یہودیوں) پر یہ حکم لکھ دیا تھا کہ جان کا بدلہ جان ہے اور آنکھ کے بدلے آنکھ، ناک کے بدلے ناک اور کان کے بدلے کان اور دانت کے بدلے دانت اور زخموں میں بھی برابر کا بدلہ ہے۔ پھر جو (قصاص) معاف کر دے، تو وہ اس کے لئے کفارہ ہوگا)[8]
  • وَالْحُرُمَاتُ قِصَاصٌ ۚ فَمَنِ اعْتَدَىٰ عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُوا عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدَىٰ عَلَيْكُمْ ۚ(:ترجمہ اور حرمتوں میں بھی قصاص (ادلا بدلا) ہے لہٰذا جو شخص تم پر زیادتی کرے تو تم بھی اس کے ساتھ اسی طرح زیادتی کرو جس طرح اس نے تم پر زیادتی کی ہے)[9]

قصاص نفْس اور قصاص عضو

حوالہ جات

  1. مؤسسہ دایرۃ المعارف فقہ اسلامی، فرہنگ فقہ، ۱۳۹۵ش، ج۶، ص۵۹۷۔
  2. نجفی، جواہر الکلام، ۱۴۰۴ق، ج۴۲، ص۷۔
  3. مؤسسہ دایرۃ المعارف فقہ اسلامی، فرہنگ فقہ، ۱۳۹۵ش، ج۶، ص۶۰۱؛ سایت شورای نگہبان قانون اساسی، قانون مجازات اسلامی، مادہ ۴۰۰۔
  4. نجفی، جواہر الکلام، ۱۴۰۴ق، ج۴۲، ص۷۔
  5. نجفی، جواہر الکلام، ۱۴۰۴ق، ج۴۲، ص۷تا۹۔
  6. سورہ بقرہ، آیہ ۱۷۹۔
  7. سورہ بقرہ، آیہ ۱۷۸۔
  8. سورہ مائدہ، آیہ ۴۵۔
  9. سورہ بقرہ، آیہ ۱۹۴۔


مآخذ

سانچہ:حد و تعزیر